আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৭৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حالتِ ارتداد میں چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضاء واجب ہے
(٣٧٩٦) (ا) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جو نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی اسے یاد آئے پڑھ لے اس کا کفارہ یہی ہے۔

(ب) حضرت قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی } [طٰہ : ١٤] ” میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔ “
(۳۷۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا، لاَ کَفَّارَۃَ لَہَا إِلاَّ ذَلِکَ))۔ قَالَ قَتَادَۃُ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی} [طٰہ:۱۴]

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہُدْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ ہَمَّامٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۹۷۔ ومسلم ۶۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سہو سے آدمی کی نماز باطل نہیں ہوتی
(٣٧٩٧) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تو ایک بشر ہوں میں بھی تمہاری طرح بھول جاتا ہوں، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو وہ غور و فکر کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو اس پر نماز مکمل کرلے اور (آخر میں) دو سجدے کرلے۔
(۳۷۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ وَأَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَأَیُّکُمْ شَکَّ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَنْظُرْ أَحْرَی ذَلِکَ إِلَی الصَّوَابِ فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ وَیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سہو سے آدمی کی نماز باطل نہیں ہوتی
(٣٧٩٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر اس کو (نماز کے متعلق) شک میں مبتلا کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ لہٰذا جب تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی صورت واقع ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔
(۳۷۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ یُصَلِّی جَائَ ہُ الشَّیْطَانُ فَلَبَسَ عَلَیْہِ حَتَّی لاَ یَدْرِی کَمْ صَلَّی ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ ذَلِکَ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۲۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سہو سے آدمی کی نماز باطل نہیں ہوتی
(٣٧٩٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جائے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کے لیے گوز کی آواز ہوتی ہے اتنی دور بھاگتا ہے کہ اس کو آواز سنائی نہ دے۔ پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے اور جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت ختم ہوجاتی ہے تو پھر پلٹ آتا ہے اور نمازی کے دل میں خیالات ڈالتا ہے حتیٰ کہ کہتا ہے : فلاں چیز یاد کرو، جو باتیں اس کو یاد نہیں ہوتی وہ یاد دلاتا ہے۔ اس وقت آدمی کو یہ پتا نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تین یا چار۔ (جب یہ صورت پیش آئے) تو نمازی بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔
(۳۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا نُودِیَ بِالصَّلاَۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ لَہُ ضُرَاطٌ حَتَّی لاَ یَسْمَعَ النِّدَائَ ، فَإِذَا قُضِیَ النِّدَائُ أَقْبَلَ ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِہَا أَدْبَرَ ، فَإِذَا قُضِیَ التَّثْوِیبُ أَقْبَلَ حَتَّی یَخْطِرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَبَیْنَ نَفْسِہِ حَتَّی یَقُولُ: اذْکُرْ کَذَا اذْکُرْ کَذَا لِمَا لَمْ یَکُنْ یَذْکُرُ ، فَإِذَا لَمْ یَدْرِ أَحَدُکُمْ صَلَّی ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَۃَ عَنْ ہِشَامٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۲۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٠) حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔ اگر وہ پانچ رکعتیں ہوں گئی ہوں تو دو سجدے اس کو جفت بنادیں گے اور اگر اس نے پوری چار پڑھی لی تھیں تو یہ (دو سجدے) شیطان کے لیے باعثِ ذلت ہوں گے۔
(۳۸۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْعَقَبِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ ، فَلَمْ یَدْرِ کَمْ صَلَّی ثَلاَثًا أَمْ أَرْبَعًا؟ فَلْیَطْرَحِ الشَّکَّ وَلْیَبْنِ عَلَی مَا اسْتَیْقَنَ ، وَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ، فَإِنْ کَانَ ہِیَ خَمْسًا کَانَتَا شَفْعًا ، وَإِنْ صَلَّی تَمَامَ الأَرْبَعِ کَانَتَا تَرْغِیمًا لِلشَّیْطَانِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَلَفٍ عَنْ مُوسَی بْنِ دَاوُدَ۔

[صحیحح۔ اخرجہ احمد ۳/ ۷۲/ ۱۱۲۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠١) حضرت عطاء بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تین یا چار تو وہ ایک رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔ اگر پڑھی جانے والی رکعت پانچویں ہوگی تو وہ ان دو سجدوں سے جفت بن جائے گی اور اگر پڑھی جانے والی رکعت چوتھی ہوگی تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔
(۳۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَدَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَہُمْ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَلاَ یَدْرِی کَمْ صَلَّی ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا؟ فَلْیَقُمْ فَلْیُصَلِّ رَکْعَۃً ، ثُمَّ لِیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ السَّلاَمِ ، فَإِنْ کَانَتِ الرَّکْعَۃُ الَّتِی صَلَّی خَامِسَۃً شَفَعَہَا بِہَاتِینِ السَّجْدَتَیْنِ ، وَإِنْ کَانَتْ رَابِعَۃً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِیمٌ لِلشَّیْطَانِ))۔ إِلاَّ أَنَّ ہِشَامًا بَلَغَ بِہِ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ۔

ہَکَذَا رَوَاہُ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عَمِّہِ ابْنِ وَہْبٍ فَجَعَلَ الْوَصْلَ لِدَوُادَ بْنِ قَیْسٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٢) ایک دوسری سند سے یہی حدیث حضرت ابوسعید خدری (رض) سے منقول ہے۔
(۳۸۰۲) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّی قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ، وَرِوَایَۃُ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ کَأَنَّہَا أَصَحُّ، وَقَدْ وَصَلَ الْحَدِیثَ جَمَاعَۃٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَعَ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ وَہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح۔ وتقدم برقم ۳۸۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٣) حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے تین رکعتیں ادا کی ہیں یا چار تو اس کو چاہیے کہ وہ نماز مکمل کرے اور ایک رکعت مزید پڑھ لے۔ پھر اس کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ اگر اس کی پانچ رکعتیں ہوگئیں تو ان سجدوں کی وجہ سے اس کی نماز جفت ہوجائے گی اور اگر اس کی چار رکعتیں ہوگئیں تو وہ دو سجدے شیطان کے لیے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔
(۳۸۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا لَمْ یَدْرِ أَحَدُکُمْ ثَلاَثًا صَلَّی أَمْ أَرْبَعًا؟ فَلْیُتِمَّ وَلْیُصَلِّ رَکْعَۃً ثُمَّ یَسْجُدُ بَعْدَ ذَلِکَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَإِنْ کَانَتْ صَلاَتُہُ خَمْسًا شُفِعَتْ صَلاَتُہُ ، وَإِنْ کَانَتْ أَرْبَعًا کَانَتَا تَرْغِیمًا لِلشَّیْطَانِ))۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ وَفُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْصُولاً۔

[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انھوں نے کہا : اے ابن عباس ! کیا آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کا کوئی مسئلہ سنا ہے اس شخص کے بارے میں جو اپنی نماز میں بھول جائے اسے پتا نہ چلے کہ اس نے نماز میں کوئی زیادتی کی ہے یا کمی کی ہے جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا تھا ؟ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! کیا آپ نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں ! اللہ کی قسم ! میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں کچھ نہیں سنا اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں میں نے پوچھا ہے۔ اچانک حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) تشریف لائے تو انھوں نے فرمایا : تم کس مسئلہ میں پھنسے ہوئے ہو ؟ تو حضرت عمر (رض) نے ان کے سامنے وہ بات رکھ دی کہ میں نے اس نوجوان سے فلاں فلاں مسئلہ کے بارے میں پوچھا لیکن مجھے اس کے پاس سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : لیکن میرے پاس اس بارے میں علم ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سنا ہوا ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ تو ہمارے نزدیک منصف اور پسندیدہ شخصیت ہیں تو آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا سنا ہے ؟ تو حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اگر اس کو ایک اور دو رکعتوں میں شک ہوجائے تو ایک کو شمار کرے اور جب اسے دو یا تین میں شک ہوجائے تو ان کو دو سمجھے اور اگر تین اور چار (رکعتوں) میں شک پڑجائے تو انھیں تین بنا دے، جب وہم زیادہ میں ہو۔ سلام سے پہلے دو سجدے کرلے پھر سلام پھیر دے۔
(۳۸۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ وَسَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ فَرَّقَہُمَا فِی مَوْضِعَیْنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ ہَلْ سَمِعْتَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الرَّجُلِ إِذَا نَسِیَ صَلاَتَہُ فَلَمْ یَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ مَا أَمَرَ بِہِ فِیہِ؟ قُلْتُ: وَمَا سَمِعْتَ أَنْتَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا فِی ذَلِکَ؟ قَالَ: لاَ وَاللَّہِ مَا سَمِعْتُ مِنْہُ فِیہِ شَیْئًا ، وَلاَ سَأَلْتُ عَنْہُ إِذْ جَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِیمَا أَنْتُمَا؟ فَأَخْبَرَہُ عُمَرُ فَقَالَ: سَأَلْتُ ہَذَا الْفَتَی عَنْ کَذَا وَکَذَا فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَہُ عِلْمًا۔ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَکِنْ عِنْدِی لَقَدْ سَمِعْتُ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ عِنْدَنَا الْعَدْلُ الرِّضَا ، فَمَاذَا سَمِعْتَ؟ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَشَکَّ فِی الْوَاحِدَۃِ وَالثِّنْتَیْنِ فَلْیَجْعَلْہُمَا وَاحِدَۃً ، وَإِذَا شَکَّ فِی الاِثْنَتَیْنِ وَالثَّلاَثِ فَلْیَجْعَلْہَا اثْنَتَیْنِ ، وَإِذَا شَکَّ فِی الثَّلاَثِ وَالأَرْبَعِ فَلْیَجْعَلْہَا ثَلاَثًا ، حَتَّی یَکُونَ الْوَہَمُ فِی الزِّیَادَۃِ یَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ثُمَّ یُسَلِّمَ))۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ۔

وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ کَمَا۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ احمد ۱۶۵۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٥) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ہم سیدنا عمر (رض) کے پاس مذاکرہ کر رہے تھے کہ اگر کوئی نماز میں بھول جائے اور اسے یہ بھی یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی (رکعت) نماز پڑھی ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں نے کہا کہ میں نے تو اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ نہیں سنا۔ سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) تشریف لائے۔ تو انھوں نے کہا : کس مسئلہ میں (پریشان) ہو ؟ ہم نے کہا : اگر آدمی اپنی نماز میں بھول جائے اور اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی جب نماز میں بھول جائے اور اسے پتا نہ چلے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں، تین پڑھی ہیں یا چار پڑھی ہیں تو وہ زیادہ کو شمار کرے اور سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔
(۳۸۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو عُبَیْدَۃَ السَّقَطِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَکْحُولٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَتَذَاکَرْنَا الرَّجُلَ یَسْہُو فِی صَلاَتِہِ ، فَلَمْ یَدْرِ کَمْ صَلَّی؟ قَالَ فَقُلْتُ: مَا سَمِعْتُ فِی ذَلِکَ شَیْئًا۔ قَالَ: فَبَیْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ جَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فَیْمَ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: الرَّجُلُ یَسْہُو فِی صَلاَتِہِ فَلاَ یَدْرِی کَمْ صَلَّی؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا سَہَا الرَّجُلُ فَلَمْ یَدْرِ ثِنْتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْیَجْعَلِ السَّہْوَ فِی الزِّیَادَۃِ وَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ))۔ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَلَقِیتُ حُسَیْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَذَاکَرْتُہُ ہَذَا الْحَدِیثَ فَقَالَ لِی: ہَلْ أَسْنَدَہُ لِکَ؟ قُلْتُ: لاَ۔ قَالَ: لَکِنْ حَدَّثَنِی مَکْحُولٌ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ ہَذَا الْحَدِیثِ۔

وَرَوَاہُ الْمُحَارِبِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ ابْنِ عُلَیَّۃَ فَصَارَ وَصْلُ الْحَدِیثِ لِحُسَیْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ - وَہُوَ ضَعِیفٌ - إِلاَّ أَنَّ لَہُ شَاہِدًا مِنْ حَدِیثِ مَکْحُولٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٦) ایک دوسری سند سے یہ حدیث حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے بھی منقول ہے۔
(۳۸۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْرُوفُ بِأَبِی الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ سَیْفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَاقِدٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَکْحُولٍ فَذَکَرَہُ نَحْوَ رِوَایَۃِ ابْنِ إِسْحَاقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

وَرُوِیَ أَیْضًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ مَکْحُولٍ کَذَلِکَ مَوْصُولاً۔

وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ وقد تقد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس نماز کے کسی مسئلہ کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ اس دوران حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اور انھوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور سنائیے۔ انھوں نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں کسی کمی کا شک ہوجائے تو وہ نماز کو اس ترتیب پر پڑھے کہ شک زیادہ میں ہوجائے۔
(۳۸۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْمَکِّیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کُنْتُ أُذَاکِرُ عُمَرَ شَیْئًا مِنَ الصَّلاَۃِ ، فَأَتَی عَلَیْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: أَلاَ أُحَدِّثُکُمَا حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قُلْنَا: بَلَی۔ قَالَ: أَشْہَدُ شَہَادَۃَ اللَّہِ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِی شَکٍّ مِنَ النُّقْصَانِ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُصَلِّ حَتَّی یَکُونَ فِی شَکٍّ مِنَ الزِّیَادَۃِ))۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَکِّیِّ ، وَرَوَاہُ أَیْضًا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ بَحْرِ بْنِ کَثِیرٍ السَّقَّائِ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

[صحیح لغیرہ۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٨) حضرت انس (رض) سے روایت کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی نماز کے متعلق شک پڑجائے تو اسے معلوم نہ ہو کہ دو پڑھی ہیں یا تین تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے۔
(۳۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ فِی الْفَوَائِدِ الْکَبِیرِ لأَبِی الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلَمْ یَدْرِ اثْنَتَیْنِ صَلَّی أَوْ ثَلاَثًا، فَلْیُلْقِ الشَّکَ وَلْیَبْنِ عَلَی الْیَقِینِ))۔

جَعْفَرُ ہَذَا ہُوَ ابْنُ عَوْنٍ ، وَکَذَا کَانَ فِی الأَصْلِ سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح لغیرہ۔ وقد تقدم الکلام علیہ فی رقم ۳۸۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨٠٩) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اسے یاد ہی نہ رہے کہ کتنی رکعتیں ہوئی ہیں تین یا چار ؟ تو وہ ایک رکعت ادا کرے، اس کے رکوع اور سجود کو اچھی طرح کرے پھر (آخر میں) دو سجدے کرے۔
(۳۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُکْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِی وَغَیْرُہُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَلاَ یَدْرِی کَمْ صَلَّی ثَلاَثًا أَمْ أَرْبَعًا؟ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَۃً یُحْسِنُ رُکُوعَہَا وَسُجُودَہَا ، ثُمَّ یَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ))۔

رُوَاتُہُ ثِقَاتٌ۔ وَقَدْ وَقَفَہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ فِی الْمُوَطَّإِ۔ [منکر۔ اخرجہ ابن خزیمۃ ۱۰۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨١٠) حضرت سالم بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے : جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو جو وہ اپنی نماز سے جو بھول گیا اس پر سوچ بچار کر کے اپنی نماز کو مکمل کرے اور پھر آخر میں بیٹھے بیٹھے ہی (سلام سے پہلے) دو سجدے کرلے۔
(۳۸۱۰) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ: إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَتَوَخَّ الَّذِی یَظُنُّ أَنَّہُ نَسِیَ مِنْ صَلاَتِہِ فَلْیُصَلِّہِ ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۲۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨١١) حضرت نافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) سے جب نماز میں نسیان کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے : اپنی نماز میں سے جس پر اسے یقین ہو اسی پر بنا کرتے ہوئے نماز پڑھ لے۔
(۳۸۱۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ النِّسْیَانِ فِی الصَّلاَۃِ یَقُولُ: لِیَتَوَخَّ أَحَدُکُمُ الَّذِی یَظُنُّ أَنَّہُ نَسِیَ مِنْ صَلاَتِہِ فَلْیُصَلِّہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۲۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کی رکعتوں میں شک ہوجانے کا بیان کہ تین ہوئیں یا چار ؟
(٣٨١٢) عطاء بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) اور کعب احبار سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس کو اپنی نماز میں شک پڑجائے اور اسے پتہ ہی نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعات ادا کی ہیں، تین یا چار تو ان دونوں نے فرمایا کہ وہ کھڑا ہو کر ایک رکعت مزید پڑھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔
(۳۸۱۲) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَفِیفِ بْنِ عَمْرٍو السَّہْمِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَکَعْبَ الأَحْبَارِ عَنِ الَّذِی یَشُکُّ فِی صَلاَتِہِ فَلاَ یَدْرِی أَثَلاَثًا صَلَّی أَمْ أَرْبَعًا فَکِلاَہُمَا قَالَ: فَلْیَقُمْ فَلْیُصَلِّ رَکْعَۃً أُخْرَی وَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ إِذَا صَلَّی۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۲۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کمی کی صورت میں سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے کرنا چاہیے
(٣٨١٣) حضرت عبداللہ بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بعض نمازوں کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے بغیر کھڑے ہوگئی اور نمازی بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑے ہوگئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کرلی تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(۳۸۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَیْنَۃَ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ یَجْلِسْ ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ وَنَظَرْنَا تَسْلِیمَہُ کَبَّرَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَہْوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِیمِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کمی کی صورت میں سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے کرنا چاہیے
(٣٨١٤) حضرت عبداللہ بن بحینہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دن کی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں بعد نہیں بیٹھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے اختتام کے قریب پہنچے تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(۳۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہُرْمُزَ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ ، فَقَامَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَلَمْ یَجْلِسْ ، فَلَمَّا کَانَ فِی آخِرِ صَلاَتِہِ انْتَظَرْنَا تَسْلِیمَہُ - أَیْ أَنْ یُسَلِّمَ - فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ۔

[صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کمی کی صورت میں سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے کرنا چاہیے
(٣٨١٥) (ا) حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام محمد بن یوسف (رح) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابوسفیان (رض) نے انھیں نماز پڑھائی تو بھول گئے۔ آپ نے قعدہ کرنا تھا مگر نہیں کیا۔ جب وہ نماز کے آخری قعدے میں تھے تو سلام سے پہلے دو سجدے کیے پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) نے بھی کیا ہے۔

(ج) امام ابوداؤد سجستانی (رح) نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر (رض) بھی جب دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہوگئے تھے تو انھوں نے بھی اسی طرح سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے تھے اور یہ امام زہری (رح) کا قول ہے۔
(۳۸۱۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْجُہَنِیُّ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ عَنِ الْعَجْلاَنِ مَوْلَی فَاطِمَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ یُوسُفَ مَوْلَی عُثْمَانَ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِہِمْ ، فَنَسِیَ فَقَامَ وَعَلَیْہِ جُلُوسٌ فَلَمْ یَجْلِسْ ، فَلَمَّا کَانَ فِی آخِرِ صَلاَتِہِ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ السَّلاَمِ ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَنَعَ۔ قَالَ أَبِی: وَہُوَ رَأْیِی۔

قَالَ الشَّیْخُ وَکَذَلِکَ فَعَلَہُ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ الْجُہَنِیُّ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ: وَکَذَلِکَ سَجَدَہُمَا ابْنُ الزُّبَیْرِ وَقَامَ مِنْ ثِنْتَیْنِ قَبْلَ التَّسْلِیمِ۔ وَہُوَ قَوْلُ الزُّہْرِیِّ۔

قَالَ الشَّیْخُ: قَدِ اخْتُلِفَ فِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۷۷۳]
tahqiq

তাহকীক: