আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৩৮৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کے سلام کے بعد کرنے کا بیان اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سجدہ سہو کے منسوخ ہونے کا قول
(٣٨٣٦) (ا) حضرت عبداللہ بن بحینہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی دو رکعتوں میں بیٹھے بغیر ہی کھڑے ہوگئے اور اپنی نماز جاری رکھی۔ جب آپ نے اپنی نماز مکمل کی تو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔
(ب) زہری (رح) کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام سے پہلے بھی سجدہ سہو کیا ہے اور بعد میں بھی اور دونوں میں جو آخری عمل ہے وہ سلام سے قبل کا ہے۔
(ج) ایک دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دوران نماز بھولنے والا واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور احکام میں پختگی اور مضبوطی وضاحت کے بعد آتی ہو۔
(د) اور جو قول ہمیں زہری (رض) کے واسطے سے اس معنی میں پہنچا ہے اگر اسی طرح ہو تو ٹھیک ہے ورنہ یہ ہوسکتا ہے کہ زہری نے جو قصہ بیان کیا ہے اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سہو کے سجدوں کا ذکر نہیں ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذوالیدین یا ذوالشمالین (رض) والے دن سہو کے دو سجدے نہیں ہیں۔ اس بارے میں ہم ذکر کریں گے۔ ان شاء اللہ
اور اس کے علاوہ بھی سہو کے دو سجدے ابو سلمہ بن سیرین اور ابو سفیان (رض) سے ابوہریرہ (رض) کے واسطے سے ذی الیدین (رض) والے دن کے ثابت ہیں اور زہری (رح) سے ان کا جو فتویٰ مشہور ہے وہ سلام کے پہلے سہو کے سجدے کرنے کے متعلقہ ہے۔
(ب) زہری (رح) کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام سے پہلے بھی سجدہ سہو کیا ہے اور بعد میں بھی اور دونوں میں جو آخری عمل ہے وہ سلام سے قبل کا ہے۔
(ج) ایک دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دوران نماز بھولنے والا واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور احکام میں پختگی اور مضبوطی وضاحت کے بعد آتی ہو۔
(د) اور جو قول ہمیں زہری (رض) کے واسطے سے اس معنی میں پہنچا ہے اگر اسی طرح ہو تو ٹھیک ہے ورنہ یہ ہوسکتا ہے کہ زہری نے جو قصہ بیان کیا ہے اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سہو کے سجدوں کا ذکر نہیں ہے اور وہ سمجھتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذوالیدین یا ذوالشمالین (رض) والے دن سہو کے دو سجدے نہیں ہیں۔ اس بارے میں ہم ذکر کریں گے۔ ان شاء اللہ
اور اس کے علاوہ بھی سہو کے دو سجدے ابو سلمہ بن سیرین اور ابو سفیان (رض) سے ابوہریرہ (رض) کے واسطے سے ذی الیدین (رض) والے دن کے ثابت ہیں اور زہری (رح) سے ان کا جو فتویٰ مشہور ہے وہ سلام کے پہلے سہو کے سجدے کرنے کے متعلقہ ہے۔
(۳۸۳۶) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارِ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَامَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ قَبْلَ أَنْ یَجْلِسَ ، فَمَضَی فِی صَلاَتِہِ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِیمَہُ کَبَّرَ ، فَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَسَلَّمَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجِہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنِ الأَعْرَجِ ، فَہُو حَدِیثٌ ثَابِتٌ لاَ یَشُکُّ حَدِیثِیٌّ فِی ثُبُوتِہِ۔
وَالأَعْرَجُ ہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ مِنْ ثِقَاۃِ الْمَدَنِیِّینَ ، وَعَبْدُ اللَّہِ ابْنُ بُحَیْنَۃَ ہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَالِکِ بْنِ الْقِشْبِ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَ ۃَ ، وَأُمُّہُ بُحَیْنَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ
ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمَدِینِیِّ ، قَالَ الْبُخَارِیُّ رَوَیَ عَنْہُ ابْنُہُ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ۔ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا الْبُخَارِیُّ فَذَکَرَہُ عَنْ عَلِیٍّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ: ابْنُ بُحَیْنَۃَ مَعْرُوفٌ بِصُحْبَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ رَوَی ہَذَا غَیْرُہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُوَافِقًا لِرِوَایَۃِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ۔
قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ، وَرُوِّینَاہُ فِیمَا مَضَی عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَاہُ
وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: سَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبْلَ السَّلاَمِ وَبَعْدَہُ وَآخِرُ الأَمْرَیْنِ قَبْلَ السَّلاَمِ
وَذَکَرَہُ أَیْضًا فِی رِوَایَۃِ حَرْمَلَۃَ إِلاَّ أَنَّ قَوْلَ الزُّہْرِیِّ مُنْقَطِعٌ لَمْ یُسْنِدْہُ إِلَی أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ۔ (ج) وَمُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ غَیْرُ قَوِیٍّ۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ صَلاَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَسَہْوَہُ ثُمَّ قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَکَانَ ذَلِکَ قَبْلَ بَدْرٍ ثُمَّ اسْتَحْکَمَتِ الأُمُورُ بَعْدُ۔
وَہَذَا الَّذِی بَلَغَنَا عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی ہَذَا الْمَعْنَی إِلاَّ أَنَّ الَّذِی حَدَّثَ الزُّہْرِیَّ بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ لَمْ یَذْکُرْ لَہُ سُجُودَ السَّہْوِ ، وَکَانَ یَزْعُمُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمْ یَسْجُدْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ یَوْمَ ذِی الْیَدَیْنِ أَوْ ذِی الشِّمَالَیْنِ عَلَی مَا نَذْکُرُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
وَقَدْ أَثْبَتَ غَیْرُہُ سَجْدَتَیْہِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَابْنِ سِیرِینَ وَأَبِی سُفْیَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَوْمَ ذِی الْیَدَیْنِ ، وَمَشْہُورٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَتْوَاہُ بِسِجُودِ السَّہْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۸۱۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجِہٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنِ الأَعْرَجِ ، فَہُو حَدِیثٌ ثَابِتٌ لاَ یَشُکُّ حَدِیثِیٌّ فِی ثُبُوتِہِ۔
وَالأَعْرَجُ ہُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ مِنْ ثِقَاۃِ الْمَدَنِیِّینَ ، وَعَبْدُ اللَّہِ ابْنُ بُحَیْنَۃَ ہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَالِکِ بْنِ الْقِشْبِ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَ ۃَ ، وَأُمُّہُ بُحَیْنَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ
ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمَدِینِیِّ ، قَالَ الْبُخَارِیُّ رَوَیَ عَنْہُ ابْنُہُ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ۔ أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا الْبُخَارِیُّ فَذَکَرَہُ عَنْ عَلِیٍّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْقَدِیمِ: ابْنُ بُحَیْنَۃَ مَعْرُوفٌ بِصُحْبَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ رَوَی ہَذَا غَیْرُہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُوَافِقًا لِرِوَایَۃِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ۔
قَالَ الشَّیْخُ قَدْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ، وَرُوِّینَاہُ فِیمَا مَضَی عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَاہُ
وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: سَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَبْلَ السَّلاَمِ وَبَعْدَہُ وَآخِرُ الأَمْرَیْنِ قَبْلَ السَّلاَمِ
وَذَکَرَہُ أَیْضًا فِی رِوَایَۃِ حَرْمَلَۃَ إِلاَّ أَنَّ قَوْلَ الزُّہْرِیِّ مُنْقَطِعٌ لَمْ یُسْنِدْہُ إِلَی أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ۔ (ج) وَمُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ غَیْرُ قَوِیٍّ۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ صَلاَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَسَہْوَہُ ثُمَّ قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَکَانَ ذَلِکَ قَبْلَ بَدْرٍ ثُمَّ اسْتَحْکَمَتِ الأُمُورُ بَعْدُ۔
وَہَذَا الَّذِی بَلَغَنَا عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی ہَذَا الْمَعْنَی إِلاَّ أَنَّ الَّذِی حَدَّثَ الزُّہْرِیَّ بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ لَمْ یَذْکُرْ لَہُ سُجُودَ السَّہْوِ ، وَکَانَ یَزْعُمُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمْ یَسْجُدْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ یَوْمَ ذِی الْیَدَیْنِ أَوْ ذِی الشِّمَالَیْنِ عَلَی مَا نَذْکُرُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
وَقَدْ أَثْبَتَ غَیْرُہُ سَجْدَتَیْہِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَابْنِ سِیرِینَ وَأَبِی سُفْیَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَوْمَ ذِی الْیَدَیْنِ ، وَمَشْہُورٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَتْوَاہُ بِسِجُودِ السَّہْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۸۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کے سلام کے بعد کرنے کا بیان اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سجدہ سہو کے منسوخ ہونے کا قول
(٣٨٣٧) حضرت محمد بن مہاجر (رح) اپنے بھائی حضرت عمرو بن مہاجر دمشقی (رح) سے روایت کرتے کہ امام زہری (رح) نے حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) سے کہا : سہو کے دو سجدے سلام سے پہلے ہیں۔
(۳۸۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ: عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ مُسْہِرٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ أَخِیہِ عَمْرِو بْنِ مُہَاجِرٍ الدِّمَشْقِیِّ أَنَّ الزُّہْرِیَّ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ: السَّجْدَتَانِ قَبْلَ السَّلاَمِ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن عبدالبر فی الاستذکار ۱/ ۵۲۴]
[صحیح۔ اخرجہ ابن عبدالبر فی الاستذکار ۱/ ۵۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پانچ رکعتیں پڑھنے کا حکم
(٣٨٣٨) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیسے یا وہ کون سا اضافہ ؟ عرض کیا گیا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیییا فرمایا : فارغ ہونے کے بعد۔
(ب) امام بخاری (رح) نے یہ حدیث اپنی صحیح میں حضرت ابو ولید (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور یہ اس لیے کہ انھوں نے سلام کے بعد ہی ذکر کیا ہے۔
(ب) امام بخاری (رح) نے یہ حدیث اپنی صحیح میں حضرت ابو ولید (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور یہ اس لیے کہ انھوں نے سلام کے بعد ہی ذکر کیا ہے۔
(۳۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی الظُّہْرَ خَمْسًا فَقِیلَ لَہُ: أَزِیدَ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ : ((مَا ذَاکَ؟))۔ فَقَالُوا: صَلَّیْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ ، وَقَالَ مَرَّۃً بَعْدَ مَا فَرَغَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَقَالَ: سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ ، وَہَذَا لأَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْہُ إِلاَّ بَعْدَ التَّسْلِیمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۲۲۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَقَالَ: سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ ، وَہَذَا لأَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْہُ إِلاَّ بَعْدَ التَّسْلِیمِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۲۲۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پانچ رکعتیں پڑھنے کا حکم
(٣٨٣٩) ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا : کیا نماز میں کوئی اضافہ ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیسے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : آپ نے پانچ رکعتیں ادا کی ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو سجدے کیے۔
(۳۸۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ قَالَ: صَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- الظُّہْرَ خَمْسًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قِیلَ: أَزِیدَ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ : ((وَمَا ذَاکَ؟))۔ قَالُوا: صَلَّیْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پانچ رکعتیں پڑھنے کا حکم
(٣٨٤٠) (ا) حضرت ابراہیم بن سوید (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ (رض) نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، جب انھوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا : اے ابوشبل ! آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے کہا : نہیں میں نے تو ایسے نہیں کیا، لوگوں نے کہا : کیوں نہیں بلکہ آپ نے اسی طرح کیا ہے۔ حضرت ابراہیم بن سوید (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں کے ایک طرف تھا اور میں اس وقت بچہ تھا، میں نے کہا : جناب ! آپ نے واقعی پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ وہ بولے : اوئے کالے ! تو بھی ایسے ہی کہہ رہا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! انھوں نے دوبارہ قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ پھر فرمایا : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پانچ رکعتیں نماز پڑھائی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو لوگوں کو تشویش ہوئی، کسی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ، صحابہ (رض) نے عرض کیا : آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس پھرے اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا : میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو دوسجدے کرلیا کرے۔
(ب) یہ جریر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم (رح) نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے مگر وہاں الفاظ قدرے مختلف ہیں، وہاں یہ ہے کہ ” جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرلے۔ “ اس کو حضرت ابن نمیر (رح) نے روایت کیا ہے۔
(ب) یہ جریر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم (رح) نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے مگر وہاں الفاظ قدرے مختلف ہیں، وہاں یہ ہے کہ ” جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرلے۔ “ اس کو حضرت ابن نمیر (رح) نے روایت کیا ہے۔
(۳۸۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیَّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ النَّخَعِیِّ الأَعْوَرِ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا عَلْقَمَۃُ الظُّہْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ: یَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ قَالَ: کَلاَّ مَا فَعَلْتُ۔ قَالُوا: بَلَی۔ قَالَ: وَکُنْتُ فِی نَاحِیَۃِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلاَمٌ فَقُلْتُ: بَلَی قَدْ صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ فَقَالَ: وَأَنْتَ أَیْضًا یَا أَعْوَرُ تَقُولُ؟ قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ۔ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَمْسًا ، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَیْنَہُمْ فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ زِیدَ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالُوا: فَقَدْ صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ ، أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِیَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ جَرِیرٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ عُثْمَانَ إِلاَّ أَنَّہُ جَعَلَ قَوْلَہُ : فَإِذَا نَسِیَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ۔ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ وَقَدْ رَوَاہُ شَیْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ کَمَا کَتَبْتُہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا عَلْقَمَۃُ الظُّہْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ: یَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ قَالَ: کَلاَّ مَا فَعَلْتُ۔ قَالُوا: بَلَی۔ قَالَ: وَکُنْتُ فِی نَاحِیَۃِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلاَمٌ فَقُلْتُ: بَلَی قَدْ صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ فَقَالَ: وَأَنْتَ أَیْضًا یَا أَعْوَرُ تَقُولُ؟ قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ۔ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَمْسًا ، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَیْنَہُمْ فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ زِیدَ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالُوا: فَقَدْ صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ ، أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِیَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ جَرِیرٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ عُثْمَانَ إِلاَّ أَنَّہُ جَعَلَ قَوْلَہُ : فَإِذَا نَسِیَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ۔ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ وَقَدْ رَوَاہُ شَیْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ کَمَا کَتَبْتُہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پانچ رکعتیں پڑھنے کا حکم
(٣٨٤١) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دن کی کوئی نماز پڑھائی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے پھرے تو صحابہ (رض) نے کہا : ای اللہ کے رسول ! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہاری طرح انسان ہوں جس طرح تم یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں اور جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔
(۳۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّہْشَلِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ ، فَلَمَّا انْفَتَلَ قَالُوا: صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ قَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَذْکُرُ کَمَا تَذْکُرُونَ ، وَأَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ))۔ ثُمَّ أَقْبَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ النَّہْشَلِیِّ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی بَکْرٍ النَّہْشَلِیِّ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پانچ رکعتیں پڑھنے کا حکم
(٣٨٤٢) (ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام اور کلام کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین ہوگیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں : یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ (رح) کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی (رح) سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی (رح) کی روایت حضرت علقمہ (رح) سے پھر حضرت اسود (رح) کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے منقول ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین ہوگیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں : یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ (رح) کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی (رح) سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی (رح) کی روایت حضرت علقمہ (رح) سے پھر حضرت اسود (رح) کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے منقول ہے۔
(۳۸۴۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْکَلاَمِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَذَلِکَ أَنَّہُ إِنَّمَا ذَکَرَ السَّہْوَ بَعْدَ الْکَلاَمِ فَسَأَلَ، فَلَمَّا اسْتَیْقَنَ أَنَّہُ قَدْ سَہَا سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی حَدِیثِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ یَزِیدَ النَّخَعِیِّ ثُمَّ فِی رِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ النَّخَعِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ ثُمَّ فِی رِوَایَۃِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ وقد تم قبلہ وبرقم ۳۸۳۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَذَلِکَ أَنَّہُ إِنَّمَا ذَکَرَ السَّہْوَ بَعْدَ الْکَلاَمِ فَسَأَلَ، فَلَمَّا اسْتَیْقَنَ أَنَّہُ قَدْ سَہَا سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی حَدِیثِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ یَزِیدَ النَّخَعِیِّ ثُمَّ فِی رِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ النَّخَعِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ ثُمَّ فِی رِوَایَۃِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ وقد تم قبلہ وبرقم ۳۸۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پانچ رکعتیں پڑھنے کا حکم
(٣٨٤٣) (ا) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو اس میں کمی یا زیادتی کی۔ حضرت ابراہیم (رح) کہتے ہیں : یہ وہم (کمی یا بیشی کے بارے میں) میری طرف سے ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کوئی چیز زیادہ ہوگئی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی انسان ہوں تمہاری طرح بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو اس کو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلینے چاہئیں، پھر رسول اللہ واپس مڑے اور دو سجدے کیے۔
(۳۸۴۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاہِیمَ: وَالْوَہَمُ مِنِّی - فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَزِیدَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئٌ؟ فَقَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِیَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ))۔ ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ۔
وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَفِی حَدِیثِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ سُجُودَہُ کَانَ بَعْدَ قَوْلِہِ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ
وَقَدْ مَضَی فِی رِوَایَۃِ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- سَجَدَ أَوَّلاً ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ وَقَالَ مَا قَالَ۔
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْبَابِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ مِثْلُ ذَلِکَ ، وَہُوَ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ صَحِیحًا مِنْ رِوَایَۃِ مَنْ تَرَکَ التَّرْتِیبَ فِی حِکَایَتِہِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ۔
وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَفِی حَدِیثِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ سُجُودَہُ کَانَ بَعْدَ قَوْلِہِ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ
وَقَدْ مَضَی فِی رِوَایَۃِ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- سَجَدَ أَوَّلاً ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ وَقَالَ مَا قَالَ۔
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْبَابِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ مِثْلُ ذَلِکَ ، وَہُوَ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ صَحِیحًا مِنْ رِوَایَۃِ مَنْ تَرَکَ التَّرْتِیبَ فِی حِکَایَتِہِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بھول کر دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیے بغیر کھڑا ہوجائے اور پھر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے اور بعد میں سجدہ سہو کرلے
(٣٨٤٤) (ب) اسود (رح) کی روایت جو عبداللہ (رض) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سجدے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کے بعد تھے۔ ” انما انا بشر۔۔۔“
(ج) ابراہیم (رح) سے منقول منصور (رح) کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے سجدہ کیا ، پھر سلام پھیرا پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :
(د) اس باب میں ابراہیم بن سوید (رح) سے بواسطہ علقمہ (رض) اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔
(ج) ابراہیم (رح) سے منقول منصور (رح) کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے سجدہ کیا ، پھر سلام پھیرا پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :
(د) اس باب میں ابراہیم بن سوید (رح) سے بواسطہ علقمہ (رض) اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔
(۳۸۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا جَابِرٌ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُبَیْلٍ الأَحْمَسِیُّ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا قَامَ الإِمَامُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ ، فَإِنْ ذَکَرَ قَبْلَ أَنْ یَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْیَجْلِسْ ، وَإِنِ اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلاَ یَجْلِسْ ، وَیَسْجُدُ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ))۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بھول کر دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیے بغیر کھڑا ہوجائے اور پھر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے اور بعد میں سجدہ سہو کرلے
(٣٨٤٥) مغیرہ بن شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امام دو رکعتوں کے بعد (بغیر تشہد پڑھے بھول کر) کھڑا ہوجائے تو اگر اسے سیدھا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا ہے تو نہ بیٹھے اور (دونوں صورتوں میں) سہو کے دو سجدے کرلے۔
(۳۸۴۵) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ فَنَہَضَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ ، فَجَلَسَ فَلَمَّا فَرَغَ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ وَسَجَدْنَا مَعَہُ۔
وَہَذَا عِنْدَنَا عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَنْتَصِبْ قَائِمًا۔
وَرُوِّینَا عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّہُ تَحَرَّکَ لِلْقِیَامِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ فَسَبَّحُوا بِہِ ، فَجَلَسَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ وَہُوَ جَالِسٌ۔ [ضعیف۔ مدارہ علی جابر الجعفی]
وَہَذَا عِنْدَنَا عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَنْتَصِبْ قَائِمًا۔
وَرُوِّینَا عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّہُ تَحَرَّکَ لِلْقِیَامِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ فَسَبَّحُوا بِہِ ، فَجَلَسَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ وَہُوَ جَالِسٌ۔ [ضعیف۔ مدارہ علی جابر الجعفی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہ بیٹھے بلکہ آخر میں سہو کے سجدے کرلے
(٣٨٤٦) (ا) عامر (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر (رض) کے پیچھے نماز پڑھی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر سیدھے کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے سبحان اللہ کہا تو وہ بیٹھ گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہونے لگے تو انھوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور ہم نے بھی ان کے ساتھ سجدے کیے۔
(ب) ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوئے ہوں گے۔ ہمیں یحییٰ بن سعید (رح) سے سیدنا انس بن مالک (رض) کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے لگے تھے تو لوگ سبحان اللہ کہنے لگ گئے تو وہ بیٹھ گئے ، پھر (آخر میں) انھوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوئے ہوں گے۔ ہمیں یحییٰ بن سعید (رح) سے سیدنا انس بن مالک (رض) کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے لگے تھے تو لوگ سبحان اللہ کہنے لگ گئے تو وہ بیٹھ گئے ، پھر (آخر میں) انھوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔
(۳۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی خَالِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِیُّ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ یَجْلِسْ ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ وَنَظَرْنَا تَسْلِیمَہُ کَبَّرَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِیمِ ثُمَّ سَلَّمَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ ابْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِیُّ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ یَجْلِسْ ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ وَنَظَرْنَا تَسْلِیمَہُ کَبَّرَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِیمِ ثُمَّ سَلَّمَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ ابْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہ بیٹھے بلکہ آخر میں سہو کے سجدے کرلے
(٣٨٤٧) حضرت عبداللہ بن بحینہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کسی نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے بغیر کھڑے ہوگئے (تشہد نہیں پڑھا) نمازی بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی کھڑے ہوگئے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کرلی تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(۳۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الأَعْرَجِ عَنِ ابْنَ بُحَیْنَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ فِی اثْنَتَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ ، فَلَمْ یَجْلِسْ فِیہَا ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۸۱۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۸۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہ بیٹھے بلکہ آخر میں سہو کے سجدے کرلے
(٣٨٤٨) حضرت عبداللہ بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول کر دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیے بغیر کھڑے ہوگئے تو اپنی نماز جاری رکھی، جب اپنی نماز کے اختتام کے قریب تھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(۳۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَیْنَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ فِی الشَّفْعِ الَّذِی یُرِیدُ أَنْ یَجْلِسَ فِی صَلاَتِہِ فَمَضَی فِی صَلاَتِہِ فَلَمَّا کَانَ فِی آخِرِ الصَّلاَۃِ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ۔
وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ۔
وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہ بیٹھے بلکہ آخر میں سہو کے سجدے کرلے
(٣٨٤٩) (ا) حضرت عامر (رح) سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد بیٹھے بغیر سیدھے کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے سبحان اللہ کہا، وہ نہ بیٹھے۔ پھر جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کیے، پھر فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
(ب) سلام سے پہلے سجدہ کرنے کے بارے میں سیدنا ابن بحینہ (رح) کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم
(ب) سلام سے پہلے سجدہ کرنے کے بارے میں سیدنا ابن بحینہ (رح) کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم
(۳۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُوالأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَقَامَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ ، فَسَبَّحُوا بِہِ فَلَمْ یَجْلِسْ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ ، ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَصْنَعُ ذَلِکَ۔ وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ الْمَسْعُودِیِّ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ مِثْلَہُ ، وَحَدِیثُ ابْنِ بُحَیْنَۃَ فِی السُّجُودِ قَبْلَ السَّلاَمِ أَصَحُّ مِنْ ذَلِکَ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم برقم ۳۸۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہ بیٹھے بلکہ آخر میں سہو کے سجدے کرلے
(٣٨٥٠) (ا) حضرت قیس بن ابوحازم (رح) بیان کرتے ہیں : ہمیں حضرت سعد بن ابو وقاص (رض) نے نماز پڑھائی تو وہ دو رکعتوں کے بعد فوراً سیدھے کھڑے ہوگئے۔ لوگ سبحان اللہ کہنے لگے، لیکن انھوں نے اپنی نماز جاری رکھی، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا : میں نے اسی طرح کیا ہے، جس طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا ہے۔
(ب) یہ روایت حضرت یحییٰ بن یحییٰ (رح) نے حضرت ابو معاویہ (رض) سے نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا، انھوں نے نماز سے سلام پھیرتے وقت سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) یہ روایت حضرت یحییٰ بن یحییٰ (رح) نے حضرت ابو معاویہ (رض) سے نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا، انھوں نے نماز سے سلام پھیرتے وقت سہو کے دو سجدے کیے۔
(۳۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ فَنَہَضَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ ، فَسَبَّحَ بِہِ النَّاسُ فَمَضَی فِی صَلاَتِہِ ، ثُمَّ قَالَ حِینَ انْصَرَفَ: صَنَعَتُ کَمَا رَأَیْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَنَعَ۔وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ یَحْیَی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَزَادَ فِیہِ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ حِینَ انْصَرَفَ۔ [منکر۔ مرفوع والموقوف وہو الصحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہ بیٹھے بلکہ آخر میں سہو کے سجدے کرلے
(٣٨٥١) ایک اور سند سے اس کے بمعنی روایت مروی ہے۔
(۳۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ فَذَکَرَ بِمَعْنَاہُ۔ (ت) وَرَوَاہُ بَیَانٌ عَنْ قَیْسٍ فَوَقَفَہُ عَلَی سَعْدٍ۔ [منکر۔ تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص بھول کر سیدھا کھڑا ہوجائے تو دوبارہ نہ بیٹھے بلکہ آخر میں سہو کے سجدے کرلے
(٣٨٥٢) حضرت عبدالرحمن بن شماسہ (رح) بیان کرتے ہیں : ہمیں حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) نے نماز پڑھائی انھیں بیٹھنا تھا لیکن وہ کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے کہا : سبحان اللہ، سبحان اللہ ! تو وہ نہ بیٹھے اور کھڑے رہے۔ جب وہ نماز کے آخر میں تھے تو انھوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا : میں نے تمہیں ابھی ابھی سبحان اللہ کہتے سنا ہے تاکہ میں بیٹھ جاؤں لیکن سنت طریقہ وہی ہے جو میں نے کیا۔
اس بارے میں صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے روایت کیا گیا ہے اور جو ہم نے ذکر کردیا، یہی کافی ہے۔ وباللہ التوفیق
اس بارے میں صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے روایت کیا گیا ہے اور جو ہم نے ذکر کردیا، یہی کافی ہے۔ وباللہ التوفیق
(۳۸۵۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا إِدْرِیسُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُمَاسَۃَ الْمَہْرِیَّ یَقُولُ: صَلَّی بِنَا عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ الْجُہَنِیُّ ، فَقَامَ وَعَلَیْہِ جُلُوسٌ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّہِ سُبْحَانَ اللَّہِ۔ فَلَمْ یَجْلِسْ وَمَضَی عَلَی قِیَامِہِ ، فَلَمَّا کَانَ فِی آخِرِ صَلاَتِہِ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُکُمْ آنِفًا تَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّہِ لِکَیْمَا أَجْلِسَ ، لَکِنِ السُّنَّۃُ الَّذِی صَنَعْتُ۔
وَرُوِّینَا ذَلِکَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ ، وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن]
وَرُوِّینَا ذَلِکَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ ، وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پہلی رکعت میں بیٹھ جانے کا حکم
(٣٨٥٣) سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معمولی سا اوپر اٹھنے پر سجدہ سہو نہیں پڑتا بلکہ بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہونے سے یا کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ جانے سے سہو کا سجدہ لازم آتا ہے۔
(۳۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمُطَّوَعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْعَنْسِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ سَہْوَ فِی وَثْبَۃِ الصَّلاَۃِ إِلاَّ قِیَامٌ عَنْ جُلُوسٍ، أَوْ جُلُوسٌ عَنْ قِیَامٍ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ الدَّارِمِیِّ وَفِی حَدِیثِ الآمُلِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ وَہَذَا حَدِیثٌ یَنْفَرِدُ بِہِ أَبُو بَکْرٍ الْعَنْسِیُّ۔ (ج) وَہُوَ مَجْہُولٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۱/ ۳۷۸/ ۲]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْعَنْسِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((لاَ سَہْوَ فِی وَثْبَۃِ الصَّلاَۃِ إِلاَّ قِیَامٌ عَنْ جُلُوسٍ، أَوْ جُلُوسٌ عَنْ قِیَامٍ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ الدَّارِمِیِّ وَفِی حَدِیثِ الآمُلِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ وَہَذَا حَدِیثٌ یَنْفَرِدُ بِہِ أَبُو بَکْرٍ الْعَنْسِیُّ۔ (ج) وَہُوَ مَجْہُولٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۱/ ۳۷۸/ ۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پہلی رکعت میں بیٹھ جانے کا حکم
(٣٨٥٤) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں : سہو تب ہوتا ہے جب جہاں بیٹھنا چاہے وہاں کھڑا ہوجائے اور جہاں کھڑا ہونا تھا وہاں بیٹھ جائے یا دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے، لہٰذا وہ اپنی نماز سے فارغ ہوتے وقت بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرے ان میں تشہد پڑھے اور سلام پھیر لے۔
(۳۸۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثَنِی خُصَیْفٌ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: السَّہْوُ إِذَا قَامَ فِیمَا یُجْلَسُ فِیہِ ، أَوْ قَعَدَ فِیمَا یُقَامُ فِیہِ أَوْ سَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، فَإِنَّہُ یَفْرَغُ مِنْ صَلاَتِہِ وَیَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ یَتَشَہَّدُ فِیہِمَا وَیُسَلِّمُ۔
[ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۳۴۹۱]
[ضعیف۔ اخرجہ عبدالرزاق ۳۴۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بھول کر پہلی رکعت میں بیٹھ جانے کا حکم
(٣٨٥٥) ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سیدنا انس (رض) نے نماز پڑھائی تو جہاں انھیں بیٹھنا چاہیے تھا وہاں وہ کھڑے ہوگئے اور جہاں کھڑے ہونا تھا وہاں بیٹھ گئے تو انھوں نے سجدے کیے اور انھوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ وہ ایسا ہی کرتے تھے۔
(۳۸۵۵) أَخْبَرَنَا الإِمَامُ الْفَقِیہُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ: صَلَّی بِنَا أَنَسٌ فَقَامَ فِیمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَقْعُدَ وَقَعَدَ فِیمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَقُومَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، وَحَدَّثَ عَنْ أَصْحَابِہِ أَنَّہُمْ کَانُوا یَفْعَلُونَ ذَلِکَ۔
[حسن۔ اخرجہ ابن الجعد فی مسندہ ۱۳۷۲]
[حسن۔ اخرجہ ابن الجعد فی مسندہ ۱۳۷۲]
তাহকীক: