আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৩৮৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو بھول کر کوئی رکن چھوڑ دے تو اس رکن کو لوٹائے اور نماز کو اپنی ترتیب پر لے آئے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ترتیب کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور مالک بن حویرث (رض) کی حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ترتیب کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور مالک بن حویرث (رض) کی حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔
(٣٨٥٦) مالک بن حویرث (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔
(۳۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانُ الْمَرَادِیُّ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو سُلَیْمَانَ: مَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((صَلُّوا کَمَا رَأَیْتُمُونِی أُصَلِّی ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ، وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۳۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو بھول کر کوئی رکن چھوڑ دے تو اس رکن کو لوٹائے اور نماز کو اپنی ترتیب پر لے آئے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ترتیب کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور مالک بن حویرث (رض) کی حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ترتیب کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور مالک بن حویرث (رض) کی حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔
(٣٨٥٧) رفاعہ بن رافع سے منقول ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اس نے نماز پڑھی۔ جب نماز مکمل کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر لوگوں کو سلام کیا : آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : جا دوبارہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ چلا گیا اور جا کر نماز پڑھی تو ہم اس کی نماز کی طرف دھیان کرنے لگے ہمیں اس کی نماز میں کوئی عیب سمجھ نہ آیا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کیا اور لوگوں کو سلام کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا دوبارہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ انھوں نے یہ بات دو بار یا تین بار ذکر کی تو اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے نہیں معلوم کہ آپ میری نماز سے کون سا عیب بتا رہے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کرے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے، اپنے چہرے کو دھوئے، دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، سر کا مسح کرے اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔ پھر (نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت) تکبیر کہے، اللہ کی حمدوثنا بیان کرے اور قرآن پڑھے جتنا اللہ نے اسے حکم دیا۔ پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی اپنی جگہ برابر ہوجائیں پھر کہے ” سمع اللہ لمن حمدہ “ اور سیدھا کھڑا ہوجائے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اصل جگہ پر آجائے۔ پھر اپنی کمر کو بالکل سیدھا کرلے اس کے بعد تکبیر کہہ کر سجدہ کرلے تو اپنی جبین کو زمین پر ٹکا لے حتیٰ کہ اس کے جوڑ برابر ہوجائیں پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھائے اور اپنے مقعد پر برابر ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی کمر سیدھی رکھے۔
تو انھوں نے نماز کو اس طرح بیان کیا حتیٰ کہ وہ اس سے فارغ ہوجائے پھر فرمایا : تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک ہرگز مکمل نہ ہوگی جب تک کہ اس طرح نہ کرے۔
تو انھوں نے نماز کو اس طرح بیان کیا حتیٰ کہ وہ اس سے فارغ ہوجائے پھر فرمایا : تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک ہرگز مکمل نہ ہوگی جب تک کہ اس طرح نہ کرے۔
(۳۸۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمِّہِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ: أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَعَلَی الْقَوْمِ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَعَلَیْکَ ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّی ، فَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلاَتَہُ لاَ نَدْرِی مَا یَعِیبُ مِنْہَا ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَعَلَی الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ وَذَکَرَ ذَلِکَ إِمَّا مَرَّتَیْنِ وَإِمَّا ثَلاَثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِی مَا عِبْتَ عَلَیَّ مِنْ صَلاَتِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّہَا لاَ تَتِمُّ صَلاَۃُ أَحَدِکُمْ حَتَّی یُسْبِغَ الْوُضُوئَ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ تَعَالَی ، یَغْسِلُ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ، وَیَمْسَحُ بِرَأْسِہِ وَرِجْلَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ، ثُمَّ یُکَبِّرُ وَیَحْمَدُ اللَّہَ وَیُمَجِّدَہُ ، وَیَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّہُ لَہُ فِیہِ ، ثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَرْکَعُ ، وَیَضَعُ کَفَّیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ حَتَّی تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُہُ فَیَسْتَوِی ، ثُمَّ یَقُولُ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، وَیَسْتَوِی قَائِمًا حَتَّی یَأْخُذَ کُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَہُ ، ثُمَّ یُقِیمُ صُلْبَہُ ، ثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَسْجُدُ فَیُمَکِّنُ جَبْہَتَہُ مِنَ الأَرْضِ حَتَّی تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُہُ ، وَیَسْتَوِی ثُمَّ یُکَبِّرُ فَیَرْفَعُ رَأْسَہُ ، وَیَسْتَوِی قَاعِدًا عَلَی مِقْعَدَتِہِ ، وَیُقِیمُ صُلْبَہُ))۔ فَوَصَفَ الصَّلاَۃَ ہَکَذَا حَتَّی فَرَغَ ثُمَّ قَالَ : ((لاَ تَتِمُّ صَلاَۃُ أَحَدِکُمْ حَتَّی یَفْعَلَ ذَلِکَ))۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۶۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے کسی رکن میں شک پڑجانے کا بیان
(٣٨٥٨) (ا) حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں کمی کوتاہی کے بارے میں شک ہوجائے تو وہ اس طرح نماز پڑھے کہ شک پر زیادتی ہو۔
(ب) اس کے ہم معنی ابوسعید خدری، ابن عمر، انس بن مالک (رح) کی حدیث گزر چکی ہے۔
(ب) اس کے ہم معنی ابوسعید خدری، ابن عمر، انس بن مالک (رح) کی حدیث گزر چکی ہے۔
(۳۸۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ عَلَی شَکٍّ مِنْ صَلاَتِہِ فِی النُّقْصَانِ فَلْیُصَلِّ حَتَّی یَکُونَ عَلَی الشَّکِّ مِنَ الزِّیَادَۃِ))۔
وَقَدْ مَضَی مَعْنَاہُ فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔[ضعیف۔ البزار]
وَقَدْ مَضَی مَعْنَاہُ فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔[ضعیف۔ البزار]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس کو نماز میں کئی مرتبہ سہو ہوا ہو تو سہو کے صرف دو سجدے کافی ہیں
(٣٨٥٩) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوپہر کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ میرا غالب گمان ہے کہ انھوں نے ظہر کا نام لیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے غصے کی حالت میں ایک لکڑی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ حجاج نے غصہ کی حالت کا ذکر نہیں کیا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس لکڑی پر رکھا ہوا تھا۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے۔ وہ دونوں بھی آپ کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ لوگ جلدی جلدی نکلے تو کہنے لگے : کیا نماز کم ہوگئی ؟ کیا نماز کم ہوگئی ؟ لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالیدین کہا کرتے تھے، ذوالیدین نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ میں بھولا اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے تو اس نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ اے اللہ کے رسول ! بلکہ آپ بھول گئے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی پھر سجدہ کیا اور تکبیر کہی پھر معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
(ب) بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی اور فرمایا : پھر آپ نے سلام پھیرا پھر تکبیر کہی۔
(ب) بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی اور فرمایا : پھر آپ نے سلام پھیرا پھر تکبیر کہی۔
(۳۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَجَّاجٌ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ - وَأَکْبَرُ ظَنِّی أَنَّہُ قَالَ الظُّہْرَ - فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، وَقَامَ إِلَی خَشَبَۃٍ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَہُوَ غَضْبَانُ - وَلَمْ یَذْکُرْ حَجَّاجٌ وَہُوَ غَضْبَانُ - فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہَا وَفِی الْقَوْمِ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَہَابَاہُ أَنْ یُکَلِّمَاہُ ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ؟ وَفِی النَّاسِ رَجُلٌ کَانَ یَدْعُوہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِذِی الْیَدَیْنِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَسِیتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ؟ فَقَالَ : ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاَۃُ))۔ فَقَالَ: بَلَی نَسِیتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ : صَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ؟ ۔ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ کَبَّرَ ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَہُ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ۔ وَاللَّفْظُ لِسُلَیْمَانَ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَأَکْثَرُ ظَنِّی الْعَصْرَ وَقَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۱۴۔ ۷۱۵۔ ۴۸۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَأَکْثَرُ ظَنِّی الْعَصْرَ وَقَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۱۴۔ ۷۱۵۔ ۴۸۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس کو نماز میں کئی مرتبہ سہو ہوا ہو تو سہو کے صرف دو سجدے کافی ہیں
(٣٨٦٠) (ا) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سہو کے دو سجدے ہر کمی اور زیادتی سے کفایت کر جاتے ہیں۔
(ب) ابن عبدان کی حدیث میں ہے : ہر کمی اور زیادتی کے لیے سہو کے دو سجدے ہیں۔
(ب) ابن عبدان کی حدیث میں ہے : ہر کمی اور زیادتی کے لیے سہو کے دو سجدے ہیں۔
(۳۸۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا حَکِیمُ بْنُ نَافِعٍ الرَّقِّیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنِ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا التَّرْجُمَانِیُّ حَدَّثَنَا حَکِیمُ بْنُ نَافِعٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((سَجْدَتَا السَّہْوِ تَجْزِیَانِ مِنْ کُلِّ زِیَادَۃٍ وَنُقْصَانٍ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْمَالِینِیِّ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ: سَجْدَتَا السَّہْوِ لِکُلِّ زِیَادَۃٍ وَنُقْصَانٍ۔ وَہَذَا الْحَدِیثُ یُعَدَّ فِی أَفْرَادِ حَکِیمِ بْنِ نَافِعٍ الرَّقِّیِّ۔ (ج)وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یُوَثِّقُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابویعلی: ۴۵۹۲۔ ۴۶۸۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنِ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا التَّرْجُمَانِیُّ حَدَّثَنَا حَکِیمُ بْنُ نَافِعٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((سَجْدَتَا السَّہْوِ تَجْزِیَانِ مِنْ کُلِّ زِیَادَۃٍ وَنُقْصَانٍ))۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْمَالِینِیِّ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ: سَجْدَتَا السَّہْوِ لِکُلِّ زِیَادَۃٍ وَنُقْصَانٍ۔ وَہَذَا الْحَدِیثُ یُعَدَّ فِی أَفْرَادِ حَکِیمِ بْنِ نَافِعٍ الرَّقِّیِّ۔ (ج)وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یُوَثِّقُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابویعلی: ۴۵۹۲۔ ۴۶۸۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تکبیر چھوٹنے پر سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں
(٣٨٦١) ابن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کو مکمل نہیں کرتے تھے۔
(ب) ہمارے نزدیک اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کہنا بھول گئے۔ اس لیے آپ نے سجدہ نہ کیا۔
(ب) ہمارے نزدیک اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کہنا بھول گئے۔ اس لیے آپ نے سجدہ نہ کیا۔
(۳۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَکَانَ لاَ یُتِمُّ التَّکْبِیرَ۔
وَہَذَا عِنْدَنَا مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- سَہَا عَنْہُ فَلَمْ یَسْجُدْ لَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الطیالسی ۱۲۷۸]
وَہَذَا عِنْدَنَا مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- سَہَا عَنْہُ فَلَمْ یَسْجُدْ لَہُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الطیالسی ۱۲۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قراءت بھول جانے کا بیان
(٣٨٦٢) (ا) ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی تو اس میں قرات نہ کی ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا : آپ نے قراءت نہیں کی تو انھوں نے فرمایا : رکوع و سجود کیے تھے ؟ اس نے کہا : بہت اچھے۔ انھوں نے فرمایا : تو پھر کوئی حرج نہیں۔
(ب) یہ امام شافعی (رح) کے قدیم قول پر ہے اور اس کو قراءت واجبہ پر محمول کیا جائے گا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہاں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ انھوں نے سہو کے لیے سجدہ کیا اور نماز نہیں لوٹائی اور یہ انھوں نے مہاجرین و انصار کی موجودگی میں کیا ہے۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ (سورة فاتحہ کے علاوہ) زائد سورت پر محمول ہے یا جن نمازوں میں جہری قرات کرنی چاہیے ان میں سری قراءت پر محمول ہے۔
(د) حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے نماز دوبارہ پڑھی۔ اس موضوع پر احادیث ” باب اقل ما یجزی “ میں آئیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
(ب) یہ امام شافعی (رح) کے قدیم قول پر ہے اور اس کو قراءت واجبہ پر محمول کیا جائے گا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہاں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ انھوں نے سہو کے لیے سجدہ کیا اور نماز نہیں لوٹائی اور یہ انھوں نے مہاجرین و انصار کی موجودگی میں کیا ہے۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ (سورة فاتحہ کے علاوہ) زائد سورت پر محمول ہے یا جن نمازوں میں جہری قرات کرنی چاہیے ان میں سری قراءت پر محمول ہے۔
(د) حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے نماز دوبارہ پڑھی۔ اس موضوع پر احادیث ” باب اقل ما یجزی “ میں آئیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
(۳۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَقْرَأْ فِیہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِیلَ لَہُ: مَا قَرَأْتَ۔ قَالَ: فَکَیْفَ کَانَ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ؟ قَالُوا: حَسَنًا۔ قَالَ: فَلاَ بَأْسَ إِذًا۔
وَہَذَا عَلَی قَوْلِ الشَّافِعِیِّ فِی الْقَدِیمِ مَحْمُولٌ عَلَی الْقِرَائَ ۃِ الْوَاجِبَۃِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَلَمْ یَذْکُرْ أَنَّہُ سَجَدَ لِلسَّہْوِ وَلَمْ یُعِدِ الصَّلاَۃَ ، فَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِکَ بَیْنَ ظَہْرَیِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَی قِرَائَ ۃِ السُّورَۃِ ، أَوْ عَلَی الإِسْرَارِ بِالْقِرَائَ ۃِ فِیمَا کَانَ یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَجْہَرَ بِہَا۔ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ أَنَّہُ أَعَادَہَا وَذَلِکَ یَرِدُ فِی بَابِ أَقَلِّ مَا یُجْزِئُ إِنَ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۷/ ۲۳۸]
وَہَذَا عَلَی قَوْلِ الشَّافِعِیِّ فِی الْقَدِیمِ مَحْمُولٌ عَلَی الْقِرَائَ ۃِ الْوَاجِبَۃِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَلَمْ یَذْکُرْ أَنَّہُ سَجَدَ لِلسَّہْوِ وَلَمْ یُعِدِ الصَّلاَۃَ ، فَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِکَ بَیْنَ ظَہْرَیِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَی قِرَائَ ۃِ السُّورَۃِ ، أَوْ عَلَی الإِسْرَارِ بِالْقِرَائَ ۃِ فِیمَا کَانَ یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَجْہَرَ بِہَا۔ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ أَنَّہُ أَعَادَہَا وَذَلِکَ یَرِدُ فِی بَابِ أَقَلِّ مَا یُجْزِئُ إِنَ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۷/ ۲۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سری نمازوں میں جہری قراءت کرنے سے سجدہ سہو لازم نہ ہونے کا بیان
(٣٨٦٣) ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے تھے اور بعض اوقات ہمیں ایک آیت سنا دیتے۔ آپ پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری چھوٹی کرتے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں جہری قرات کرتے تھے۔
(۳۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، وَیُسْمِعُنَا الآیَۃَ أَحْیَانًا ، وَیُطِیْلُ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ ، وَیَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۵۹۔ ۷۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سری نمازوں میں جہری قراءت کرنے سے سجدہ سہو لازم نہ ہونے کا بیان
(٣٨٦٤) (ا) ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ دو سورتیں پڑھتے تھے اور بعض اوقات ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیا کرتے تھے۔ آپ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔
(ب) ابوعبداللہ صنابحی (رض) کی روایت ہم بیان کرچکے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو مغرب کی تیسری رکعت میں سورة فاتحہ اور یہ آیت پڑھتے سنا : { رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ } [آل عمران : ٨] ” اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت عطا کردی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر۔ بیشک تو سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ “
(ب) ابوعبداللہ صنابحی (رض) کی روایت ہم بیان کرچکے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو مغرب کی تیسری رکعت میں سورة فاتحہ اور یہ آیت پڑھتے سنا : { رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ } [آل عمران : ٨] ” اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت عطا کردی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر۔ بیشک تو سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ “
(۳۸۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَیْنِ مَعَہَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَصَلاَۃِ الْعَصْرِ ، وَیُسْمِعُنَا الآیَۃَ أَحْیَانًا ، وَکَانَ یُطَوِّلُ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَحْیَی۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ: أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَرَأَ فِی الثَّالِثَۃِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَبِہَذِہِ الآیَۃِ {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ} [آل عمران: ۸]۔ [صحیح۔ وقد تقدم قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَحْیَی۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ: أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَرَأَ فِی الثَّالِثَۃِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَبِہَذِہِ الآیَۃِ {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ} [آل عمران: ۸]۔ [صحیح۔ وقد تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سری نمازوں میں جہری قراءت کرنے سے سجدہ سہو لازم نہ ہونے کا بیان
(٣٨٦٥) (ا) عبداللہ بن زیاد فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ (رض) کو ظہر اور عصر میں قراءت کرتے ہوئے سنا ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ بھول کر واجب نہیں کرتی۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ بھول کر واجب نہیں کرتی۔
(۳۸۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ حِکَایَۃً عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہَذَا عِنْدَنَا لاَ یُوجِبُ سَہْوًا۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافی فی الام ۷/ ۱۸۸]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَہَذَا عِنْدَنَا لاَ یُوجِبُ سَہْوًا۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافی فی الام ۷/ ۱۸۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سری نمازوں میں جہری قراءت کرنے سے سجدہ سہو لازم نہ ہونے کا بیان
(٣٨٦٦) (ا) سعید بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ظہر یا عصر کی نماز میں جہری قراءت کی۔ لوگ سبحان اللہ کہنے لگے مگر انھوں نے اپنی قراءت جاری رکھی۔ جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا : ہر نماز کی قراءت ہوتی ہے اور مجھے ایسا کرنے پر سنت کی مخالفت نے نہیں ابھارا بلکہ میں نے بھول کر قراءت شروع کردی تھی، لیکن میں نے قراءت کو منقطع کرنا اچھا نہ سمجھا۔
(ب) قتادہ (رض) کے واسطے سے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک (رض) نے ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کی اور سہو سجدے نہیں کیے۔
اسی کی مثل خبات بن ارت (رض) سے بھی منقول ہے اور اس بارے میں عمر (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے بھی منقول ہے۔
(ب) قتادہ (رض) کے واسطے سے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک (رض) نے ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کی اور سہو سجدے نہیں کیے۔
اسی کی مثل خبات بن ارت (رض) سے بھی منقول ہے اور اس بارے میں عمر (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) سے بھی منقول ہے۔
(۳۸۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ: أَنَّہُ جَہَرَ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الظُّہْرِ أَوِ الْعَصْرِ - شَکَّ دَاوُدُ - فَسَبَّحَ النَّاسُ فَمَضَی ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ: إِنَّ فِی کُلِّ صَلاَۃٍ قِرَائَ ۃً ، وَمَا حَمَلَنِی عَلَی ذَلِکَ خِلاَفُ السُّنَّۃِ ، وَلَکِنِّی قَرَأْتُ نَاسِیًا ، فَکَرِہْتُ أَنْ أَقْطَعَ الْقِرَائَ ۃَ۔ (ت) وَیُذْکَرُ عَنْ قَتَادَۃَ: أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ جَہَرَ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، فَلَمْ یَسْجُدْ۔ وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ بِنَحْوٍ مِنْ ذَلِکَ ، وَرُوِیَ فِیہِ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں جھانکنے پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا
(٣٨٦٧) (ا) سہل بن سعد (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بنو عمرو بن عوف کی طرف جانے میں اور ابوبکر (رض) کے نماز پڑھانے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آجانے اور لوگوں کے تالیاں بجانے کے بارے میں جو روایت منقول ہے اس میں ہے کہ ابوبکر (رض) نماز میں ادھر ادھر نہیں جھانکتے تھے، جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں تو پھر ابوبکر (رض) نے التفات کیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اس قدر تالیاں کیوں بجائیں ؟ اگر کسی کو نماز میں کوئی مسئلہ پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ ہوجائے گی۔ تالیاں بجانا تو صرف خواتین کے لیے۔
(ب) گزشتہ اوراق میں جابر (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھا۔
(ب) گزشتہ اوراق میں جابر (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھا۔
(۳۸۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِی بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ فِی ذَہَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ، وَمَجِیئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَتَصْفِیقِ النَّاسِ قَالَ: وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لاَ یَلْتَفِتُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِیقَ الْتَفَتَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِی آخِرِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((مَا لِی رَأَیْتُکُمْ أَکْثَرْتُمُ التَّصْفِیحَ؟ مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُسَبِّحْ فَإِنَّہُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَیْہِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِیحُ لِلنِّسَائِ))۔
وَرُوِّینَا فِیمَا مَضَی عَنْ جَابِرٍ قَالَ: اشْتَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَہُوَ قَاعِدٌ، فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا فَرَآنَا قِیَامًا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۸۴]
وَرُوِّینَا فِیمَا مَضَی عَنْ جَابِرٍ قَالَ: اشْتَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَہُوَ قَاعِدٌ، فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا فَرَآنَا قِیَامًا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۸۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں جھانکنے پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا
(٣٨٦٨) سہل بن حنظلیہ (رض) بیان کرتے ہیں : نماز صبح کی تکبیر ہوچکی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے اور گھاٹی کی طرف بھی دیکھ رہے تھے۔ ابوداؤد (رح) بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے وقت نگہبانی کے لیے گھاٹی کی طرف ایک سوار بھیجا تھا (جسے آپ دیکھ رہے تھے) ۔
(۳۸۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ زَیْدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ قَالَ حَدَّثَنِی السَّلُولِیُّ عَنْ سَہْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلاَۃِ یَعْنِی صَلاَۃَ الصُّبْحِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَہُوَ یَلْتَفِتُ إِلَی الشِّعْبِ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَکَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَی الشِّعْبِ مِنَ اللَّیْلِ یَحْرُسُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۹۱۶]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَکَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَی الشِّعْبِ مِنَ اللَّیْلِ یَحْرُسُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۹۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خیال آنے یا دل میں بات کرنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا
(٣٨٦٩) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت سے اس بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی جو اس کے دل میں وسوسے پیدا ہوں یا جو وہ اپنے دل میں باتیں کرے جب تک کہ اس بات کا تکلم نہ کرلے یا اس پر عمل نہ کرے۔
(۳۸۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی بْنِ مَالِکٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ کِدَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((تُجُوِّزَ لأُمَّتِی عَمَّا وَسْوَسَتْ بِہِ أَنْفُسَہَا ، أَوْ حَدَّثَتْ بِہِ أَنْفُسَہَا مَا لَمْ تَکَلَّمْ بِہِ أَوْ تَعْمَلْ بِہِ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ وَغَیْرِہِ۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری۲۵۲۸]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ وَغَیْرِہِ۔[صحیح۔ اخرجہ البخاری۲۵۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خیال آنے یا دل میں بات کرنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا
(٣٨٧٠) (ا) عقبہ بن حارث (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی، جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو جلدی سے اٹھے اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر باہر نکلے اور لوگوں کے چہروں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتنی تیزی سے نکل کر جانے پر تعجب اور حیرانگی کے آثار دیکھ کر فرمایا : مجھے نماز میں یاد آیا تھا کہ ہمارے پاس (سونے یا چاندی کی) ایک ڈلی تھی۔ میں پسند نہیں کرتا کہ وہ ایک دن یا رات ہمارے پاس رہے۔ اب میں جا کر اس کو (راہ خدا میں) تقسیم کرنے کا حکم دے آیا ہوں۔
(ب) عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ میں دوران نماز بحرین کے جزیے کا حساب کتاب کرلیا کرتا تھا۔
(ب) عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ میں دوران نماز بحرین کے جزیے کا حساب کتاب کرلیا کرتا تھا۔
(۳۸۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ أَبِی حُسَیْنٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْعَصْرَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِیعًا ، فَدَخَلَ عَلَی بَعْضِ نِسَائِہِ ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَی مَا فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِہِمْ لِسُرْعَتِہِ قَالَ : ((ذَکَرْتُ وَأَنَا فِی الصَّلاَۃِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَکَرِہْتُ أَنَّ یُمْسِیَ أَوْ یَبِیتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ رَوْحٍ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: إِنِّی لأَحْسُبُ جِزْیَۃَ الْبَحْرَیْنِ وَأَنَا قَائِمٌ فِی الصَّلاَۃِ۔[صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۵۷۱۸۔ ۱۸۹۳۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ رَوْحٍ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: إِنِّی لأَحْسُبُ جِزْیَۃَ الْبَحْرَیْنِ وَأَنَا قَائِمٌ فِی الصَّلاَۃِ۔[صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۵۷۱۸۔ ۱۸۹۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران نماز کسی ایسی چیز کی طرف دیکھنے سے جو نماز سے غافل کرتی ہو سجدہ سہو لازم نہیں آتا
(٣٨٧١) (ا) عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیاہ کناروں والے منقش جبے میں نماز پڑھی، پھر فرمایا : اس جبے کے نشانوں نے مجھے غافل کیے رکھا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور مجھے موٹی چادر لادو۔
(ب) امام زہری (رح) کی روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے مجھے میری نماز سے غافل کیے رکھا ہے۔
(ب) امام زہری (رح) کی روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے مجھے میری نماز سے غافل کیے رکھا ہے۔
(۳۸۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُوصَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی خَمِیصَۃٍ لَہَا أَعْلاَمٌ ، فَقَالَ : ((شَغَلَتْنِی ہَذِہِ الأَعْلاَمُ ، اذْہَبُوا بِہَا إِلَی أَبِی جَہْمٍ ، وَائْتُونِی بِالأَنْبِجَانِیِّ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔(ت)وَقَالَ یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ : فَإِنَّہَا أَلْہَتْنِی فِی صَلاَتِی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۷۳]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔(ت)وَقَالَ یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ : فَإِنَّہَا أَلْہَتْنِی فِی صَلاَتِی۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران نماز کسی ایسی چیز کی طرف دیکھنے سے جو نماز سے غافل کرتی ہو سجدہ سہو لازم نہیں آتا
(٣٨٧٢) (ا) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ابوجہم بن حذیفہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شامی چادر تحفے میں دی، جس میں کچھ نشان تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں نماز ادا فرمائی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : یہ چادر ابوجہم کو واپس کر دو ، میں نے نماز میں اس کے نشانات کی طرف دیکھا قریب تھا کہ یہ مجھے فتنے میں ڈال دیتی ۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ سہو کیا یا نہیں اور ابو طلحہ (رض) نے (نماز میں) دیوار کی طرف دیکھا، پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا ذکر کیا تو ہم نہیں جانتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سجدہ سہو کا حکم دیا یا نہیں۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ سہو کیا یا نہیں اور ابو طلحہ (رض) نے (نماز میں) دیوار کی طرف دیکھا، پھر انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا ذکر کیا تو ہم نہیں جانتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سجدہ سہو کا حکم دیا یا نہیں۔
(۳۸۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِیُّ بِخُسْرَوْجِرْدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أُمِّہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: أَہْدَی أَبُو جَہْمِ بْنُ حُذَیْفَۃَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خَمِیصَۃً شَامِیَّۃً لَہَا عَلَمٌ ، فَشَہِدَ فِیہَا الصَّلاَۃَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : رُدُّوا ہَذِہِ الْخَمِیصَۃَ إِلَی أَبِی جَہْمٍ ، فَإِنِّی نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِہَا فِی الصَّلاَۃِ ، فَکَادَ یَفْتِنُنِی ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: فَلَمْ نَعْلَمْہُ سَجَدَ لِلسَّہْوِ ، وَنَظَرَ أَبُو طَلْحَۃَ إِلَی حَائِطٍ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمْ نَعْلَمْہُ أَمَرَہُ أَنْ یَسْجُدَ لِلسَّہْوِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ: فَلَمْ نَعْلَمْہُ سَجَدَ لِلسَّہْوِ ، وَنَظَرَ أَبُو طَلْحَۃَ إِلَی حَائِطٍ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَلَمْ نَعْلَمْہُ أَمَرَہُ أَنْ یَسْجُدَ لِلسَّہْوِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دوران نماز کسی ایسی چیز کی طرف دیکھنے سے جو نماز سے غافل کرتی ہو سجدہ سہو لازم نہیں آتا
(٣٨٧٣) عبداللہ بن ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ انصاری (رض) اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک کبوتر اڑتا ہوا آیا (باغ گھنا ہونے کی وجہ سے) وہ بار بار آجا رہا تھا اور نکلنے کا راستہ تلاش کررہا تھا۔ انھیں اس بات نے تعجب میں ڈالا۔ کچھ وقت کے لیے ان کی نظر پرندے کے پیچھے لگ گئی، پھر جب واپس نماز کی طرف ان کا دھیان آیا تو انھیں یاد ہی نہ رہا کہ کتنی نماز پڑھی ہے ؟ تو کہنے لگے : مجھے میرے اس مال (باغ) نے فتنے میں ڈالا ہے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے وہ واقعہ جو باغ میں ان کے ساتھ پیش آیا تھا، جس نے انھیں فتنے میں مبتلا کیا تھا ذکر کیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں اس کو صدقہ کرتا ہوں آپ اس میں جو چاہیں تصرف کریں۔
(۳۸۷۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ: أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ الأَنْصَارِیَّ کَانَ یُصَلِّی فِی حَائِطٍ لَہُ فَطَارَ دُبْسِیٌّ ، فَطَفِقَ یَتَرَدَّدُ یَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَہُ ذَلِکَ ، فَجَعَلَ یُتْبِعُہُ بَصَرَہُ سَاعَۃً ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلاَتِہِ ، فَإِذَا ہُوَ لاَ یَدْرِی کَمْ صَلَّی؟ فَقَالَ: لَقَدْ أَصَابَنِی فِی مَالِی ہَذَا فِتْنَۃٌ ، فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ لَہُ الَّذِی أَصَابَہُ فِی حَائِطِہِ مِنَ الْفِتْنَۃِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہُوَ صَدَقَۃٌ فَضَعْہُ حَیْثُ شِئْتَ۔
[ضعیف۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۲۲۲]
[ضعیف۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۲۲۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اولیٰ میں نہ بیٹھنے والے کے کھڑے ہونے پر قیاس کرتے ہوئے قنوت کے بھول جانے پر سجدہ سہو واجب ہے
(٣٨٧٤) حسن بصری (رح) سے اس شخص کے بارے میں منقول ہے جو صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا بھول جائے کہ اس پر سہو کے دوسجدے ہیں۔
(۳۸۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ عَنِ الْحَسَنِ فِیمَنْ نَسِیَ الْقُنُوتَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَالَ: عَلَیْہِ سَجْدَتَا السَّہْوِ۔
[ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی ۲/ ۴۲/ ۱۷]
[ضعیف۔ اخرجہ الدار قطنی ۲/ ۴۲/ ۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اولیٰ میں نہ بیٹھنے والے کے کھڑے ہونے پر قیاس کرتے ہوئے قنوت کے بھول جانے پر سجدہ سہو واجب ہے
(٣٨٧٥) جو صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا بھول جائے اس کے بارے سعید بن عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر سہو کے سجدے ضروری ہیں۔
(۳۸۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِیمَنَ نَسِیَ الْقُنُوتَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَالَ: عَلَیْہِ سَجْدَتَا السَّہْوِ۔
[صحیح۔ اخرجہ الدار قطنی ۲/ / ۱۴/۱۸]
[صحیح۔ اخرجہ الدار قطنی ۲/ / ۱۴/۱۸]
তাহকীক: