আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৮৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اولیٰ میں نہ بیٹھنے والے کے کھڑے ہونے پر قیاس کرتے ہوئے قنوت کے بھول جانے پر سجدہ سہو واجب ہے
(٣٨٧٦) حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ جو وتر میں قنوت پڑھنا بھول جائے وہ سہو کے دو سجدے کرے۔ سفیان کہتے ہیں : ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔
(۳۸۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: مَنْ نَسِیَ الْقُنُوتَ فِی الْوِتْرِ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔ قَالَ سُفْیَانُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَبِہِ نَأْخُذُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قنوت ترک کرنے پر سجدہ سہو واجب نہ ہونے کا بیان
(٣٨٧٧) ابو مالک اشجعی (رض) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو آپ نے قنوت نہیں پڑھی۔
(۳۸۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْفَجْرَ فَلَمْ یَقْنُتْ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۳/ ۴۷۲/ ۱۵۹۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قنوت ترک کرنے پر سجدہ سہو واجب نہ ہونے کا بیان
(٣٨٧٨) ابو مالک اشجعی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر، عمر، عثمان (رض) کے پیچھے نماز پڑھی، میں نے نہیں دیکھا کہ ان میں سے کسی نے کبھی قنوت پڑھی ہو۔
(۳۸۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبِی عَنِ الْقُنُوتِ فَقَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْہُمْ فَعَلَہُ قَطُّ۔

[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قنوت ترک کرنے پر سجدہ سہو واجب نہ ہونے کا بیان
(٣٨٧٩) (ا) اسود اور عمرو بن میمون (رض) فرماتے ہیں : ہم نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی آپ نے قنوت نہیں پڑھی۔

(ب) قنوت کے باب میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور خلفاء راشدین (رض) سے یہ روایت نقل کرچکے ہیں کہ انھوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔ صحیح سند کے ساتھ سیدنا عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے، اگر ان لوگوں نے بعض حالات میں سہوا یا عمداً قنوت چھوڑ بھی دی تو یہ اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے اور ان میں سے کسی ایک سے بھی منقول نہیں ہے کہ انھوں نے سہو کے سجدے کیے ہوں، لہٰذا یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قنوت کے بھول جانے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔ واللہ اعلم
(۳۸۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ وَعَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالاَ: صَلَّیْنَا خَلْفَ عُمَرَ الْفَجْرَ فَلَمْ یَقْنُتْ۔

وَقَدْ رُوِّینَا فِی بَابِ الْقُنُوتِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَائِ بَعْدَہُ أَنَّہُمْ قَنَتُوا فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔ وَمَشْہُورٌ عَنْ عُمَرَ مِنْ أَوْجُہٍ صَحِیحَۃٍ: أَنَّہُ کَانَ یَقْنُتُ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، فَلَئِنْ تَرَکُوہُ فِی بَعْضِ الأَحَایِینِ سَہْوًا أَوْ عَمْدًا دَلَّ ذَلِکَ عَلَی کَوْنِہِ غَیْرَ وَاجِبٍ ، وَحِینَ لَمْ یُنْقَلْ عَنْ أَحَدٍ مِنْہُمْ أَنَّہُ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ ، لِذَلِکَ دَلَّ عَلَی أَنَّہُ لاَ سُجُودَ فِی السَّہْوِ عَنْہُ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۴۹۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو بھول جانے کا بیان
(٣٨٨٠) (ا) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھیں، جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو کسی نے کہا : کیا نماز میں کوئی اضافہ ہوگیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، صحابہ نے عرض کیا : آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو سجدے کیے۔

(ب) ایک دوسری روایت میں ظہر کا ذکر نہیں ہے، اس میں ہے کہ جب وہ نماز سے پھرے تو سہو کے دو سجدے کیے۔
(۳۸۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی الظُّہْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قِیلَ: أَزِیدَ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ : لاَ۔ قَالُوا: صَلَّیْتَ خَمْسًا۔ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ وَلَمْ یَذْکُرْ شَاذَانُ الظُّہْرَ وَقَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ وَقَالَ: فَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ کَمَا مَضَی۔

وَرُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۱۔ ۴۰۴۔ ۱۲۲۶۔ ۷۲۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو بھول جانے کا بیان
(٣٨٨١) سلمہ بن نبی ط (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے گھر میں نماز پڑھی تو دوران نماز مجھ سے سہو ہوگیا، پھر میں ضحاک بن مزاحم (رض) کے پاس آیا تو میں نے انھیں کہا کہ میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھی تو میں بھول گیا تھا، انھوں نے کہا : اب سجدہ سہو کرلو۔
(۳۸۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نَبِیطٍ قَالَ: صَلَّیْتُ فِی بَیْتِی فَسَہَوْتُ ، ثُمَّ أَتَیْتُ الضَّحَّاکَ یَعْنِی ابْنَ مُزَاحِمٍ فَقُلْتُ لَہُ: إِنِّی صَلَّیْتُ فِی بَیْتِی فَسَہَوْتُ۔ فَقَالَ: اسْجُدِ الآنَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو بھول جانے کا بیان
(٣٨٨٢) حسن بصری (رح) بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی مسجد میں بھول جائے اور سجدہ سہو نہ کرے حتیٰ کہ مسجد سے نکل جائے تو اس پر کچھ بھی نہیں۔
(۳۸۸۲) وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الثَّرَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْغَازِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ: عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إِذَا سَہَا فِی الْمَسْجِدِ فَلَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کے نفلی عبادت ہونے کا بیان
(٣٨٨٣) ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسی شخص کو اپنی نماز کے متعلق شک پڑجائے تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے اور جب نماز مکمل ہوجائے تو دو سجدے کرلے۔ اگر اس کی نماز پہلے ہی مکمل تھی تو یہ رکعت اور دو سجدے نفل ہوجائیں گے اور اگر نماز نہیں پڑھی تو یہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔
(۳۸۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُلْقِ الشَّکَّ ، وَلْیَبْنِ عَلَی الْیَقِینِ ، فَإِذَا اسْتَیْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، فَإِنْ کَانَتْ صَلاَتُہُ تَامَّۃٌ کَانَتِ الرَّکْعَۃُ نَافِلَۃً وَالسَّجْدَتَانِ ، وَإِنْ کَانَتْ نَاقِصَۃً کَانَتِ الرَّکْعَۃُ تَمَامًا لِصَلاَتِہِ ، وَکَانَتِ السَّجْدَتَانِ مُرْغِمَتَیِ الشَّیْطَانِ))۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۸۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کے بھول جانے پر سجدہ سہو واجب نہیں

معاویہ بن حکم سلمی (رض) کی حدیث گزر چکی ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے دورانِ نماز گفتگو کے حرام ہونے کا علم نہ ہونے کی وجہ سے آپ کا کلام کرنا گزر چکا ہے کہ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سجدہ سہو کا حکم نہیں دیا۔

(ب) اس بارے میں ابن عباس
(٣٨٨٤) سالم بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جبیر بن مطعم (رض) ابن عمر (رض) کے پاس آئے اور کہا : اے ابوعبدالرحمن ! اس شخص کے بارے میں جو لوگوں کو امامت کروایا کرتا تھا حضرت عمر (رض) نے کیا فرمایا تھا ؟ تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : آپ (رض) سے فرمایا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام اپنے پیچھے والوں کو کفایت کرجاتا ہے۔ اگر امام بھول جائے تو امام پر سہو کے سجدے ضروری ہیں اور اس کے مقتدی بھی اس کے ساتھ سجدہ کریں گے اور اگر مقتدیوں میں سے کوئی بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہے اور امام اس کو کافی ہوجائے گا۔
(۳۸۸۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رُسْتَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ کَاسِبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ أَبِی الْحُسَیْنِ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: جَائَ جُبَیْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَیْفَ قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرُ فِی الإِمَامِ یَؤُمُّ الْقَوْمَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الإِمَامَ یَکْفِی مَنْ وَرَائَ ہُ ، فَإِنْ سَہَا الإِمَامُ فَعَلَیْہِ سَجَدَتَا السَّہْوِ وَعَلَی مَنْ وَرَائَ ہُ أَنْ یَسْجُدُوا مَعَہُ ، وَإِنْ سَہَا أَحَدٌ مِمَّنْ خَلْفَہُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ أَنْ یَسْجُدَ وَالإِمَامُ یَکْفِیہِ))۔

وَرَوَی خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ أَبِی الْحُسَیْنِ الْمَدِینِیُّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَاہُ۔

وَأَبُو الْحُسَیْنِ ہَذَا مَجْہُولٌ وَالْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کے بھول جانے پر سجدہ سہو واجب نہیں

معاویہ بن حکم سلمی (رض) کی حدیث گزر چکی ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے دورانِ نماز گفتگو کے حرام ہونے کا علم نہ ہونے کی وجہ سے آپ کا کلام کرنا گزر چکا ہے کہ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سجدہ سہو کا حکم نہیں دیا۔

(ب) اس بارے میں ابن عباس
(٣٨٨٥) ابن ابی اویس اور عیسیٰ بن میناء دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبدالرحمن بن ابی الزناد (رح) نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا اور وہ اہل مدینہ کے فقہا سے روایت کرتے ہیں کہ امام کا سترہ ہی اس کے مقتدیوں کا سترہ ہے، چاہے وہ کم ہوں یا زیادہ اور وہ ان کا بوجھ اٹھائے گا۔
(۳۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَائٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ: سُتْرَۃُ الإِمَامِ سُتْرَۃٌ لِمَنْ خَلْفَہُ قَلُّوا أَوْ کَثُرُوا ، وَہُوَ یَحْمِلُ أَوْہَامَہُمْ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام بھول جائے تو وہ اور اس کے مقتدی مل کر سجدہ کریں

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : امام اقتدا کے لیے بنایا جاتا ہے اس سے اختلاف نہ کرو۔
(٣٨٨٦) ابن بحینہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیے بغیر کھڑے ہوگئے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو دو سجدے کیے اور ہر سجدے میں تکبیر کہتے اور یہ سجدے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے کیے اور تشہد میں بیٹھنا بھولنے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باقی لوگوں نے بھی سجدے کیے۔
(۳۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ ابْنَ بُحَیْنَۃَ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ فِی اثْنَتَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ فَلَمْ یَجْلِسْ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ یُکَبِّرُ فِی کُلِّ سَجْدَۃٍ وَہْوَ جَالِسٌ قَبْلَ السَّلاَمِ ، وَسَجَدَہُمَا النَّاسُ مَعَہُ مَکَانَ مَا نَسِیَ مِنَ الْجُلُوسِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ کَمَا مَضَی۔

[صحیح۔ وقد تقدم کثیرا، وانظر مثلاً، رقم ۳۸۱۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسبوق صرف اپنی نماز مکمل کرے، امام کے یا اپنے بھولنے کی صورت میں سجدہ سہو نہ کرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جو نماز پالو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اس کو مکمل کرلو۔
(٣٨٨٧) مغیرہ بن شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہنچے تو عبدالرحمن بن عوف (رض) ایک رکعت لوگوں کو پڑھا چکے تھے، آپ (رض) پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے جو نماز (باجماعت) پا لی وہ پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی وہ بعد میں مکمل کی۔
(۳۸۸۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجِذَامِیُّ وَابْنُ أَبِی مَرْیَمَ قَالاَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ عَمْرِو بْنِ وَہْبٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ: انْتَہَیْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّی بِالنَّاسِ رَکْعَۃً ، فَذَہَبَ یَسْتَأْخِرُ فَأَشَارَ إِلَیْہِ أَنِ اثْبُتْ ، فَصَلَّیْنَا مَا أَدْرَکْنَا وَقَضَیْنَا مَا سُبِقْنَا بِہِ۔

[صحیح۔ اخرجہ النسائی ۸۲۔ ۱۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسبوق صرف اپنی نماز مکمل کرے، امام کے یا اپنے بھولنے کی صورت میں سجدہ سہو نہ کرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جو نماز پالو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اس کو مکمل کرلو۔
(٣٨٨٨) (ا) مغیرہ بن شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز سے تاخیر ہوگئی۔ پھر انھوں نے مکمل قصہ ذکر کیا۔ فرماتے ہیں : ہم (میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) لوگوں کے پاس پہنچے اور عبدالرحمن بن عوف (رض) لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انھوں نے نبی کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اشارہ کیا کہ اپنی نماز جاری رکھو۔ پھر میں نے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن عوف (رض) کے پیچھے ایک رکعت پڑھی ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر وہ رکعت پڑھی جو رہ گئی تھی اور اس پر مزید اضافہ (سجدہ سہو وغیرہ) نہیں کیا۔

(ب) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں : ابوسعید خدری، ابن عمر اور ابن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز کی ایک رکعت پائے اس پر سجدہ سہو ضروری ہے۔

(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کی حدیث اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
(۳۸۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ: فَأَتَیْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ یُصَلِّی بِہِمُ الصُّبْحَ ، فَلَمَّا رَأَی النَّبِیَّ -ﷺ- أَرَادَ أَنْ یَتَأَخَّرَ ، فَأَوْمَأَ إِلَیْہِ أَنْ یَمْضِیَ - قَالَ - فَصَلَّیْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّ -ﷺ- خَلْفَہُ رَکْعَۃً ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَصَلَّی الرَّکْعَۃَ الَّتِی سُبِقَ بِہَا وَلَمْ یَزِدْ عَلَیْہَا شَیْئًا۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ وَابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الزُّبَیْرِ یَقُولُونَ: مَنْ أَدْرَکَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ سَجْدَتَا السَّہْوِ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَحَدِیثُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَوْلَی أَنْ یُتَّبَعَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز میں سجدہ سہو کرنے کا بیان اس بارے میں ابن عباس (رض) کی روایت منقول ہے۔
(٣٨٨٩) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر اسے (نماز کے متعلق) شک میں مبتلا کردیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی صورت پیش آجائے تو وہ بیٹھنے کی حالت میں دو سجدے کرے۔
(۳۸۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ یُصَلِّی جَائَ ہُ الشَّیْطَانُ فَلَبَسَ عَلَیْہِ ، حَتَّی لاَ یَدْرِی کَمْ صَلَّی ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ ذَلِکَ فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۲۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا طریقہ
(٣٨٩٠) عبداللہ ابن بحینہ اسدی (رض) جو بنی عبدالمطلب کے حلیف تھے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز میں بیٹھنا تھا لیکن بھول کر کھڑے ہوگئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے ہر سجدہ میں تکبیر کہتے اور باقی لوگوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وہ دو سجدے کیے۔ یہ اس قعدہ کی جگہ تھے جو آپ بھول گئے تھے۔
(۳۸۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ وَابْنُ رُمْحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنَ شِہَابٍ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ الأَسَدِیِّ حَلِیفُ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ فِی صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَعَلَیْہِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاَتَہُ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ یُکَبِّرُ فِی کُلِّ سَجْدَۃٍ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ، وَسَجَدَہُمَا النَّاسُ مَعَہُ مَکَانَ مَا نَسِیَ مِنَ الْجُلُوسِ۔

لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ إِلاَّ أَنَّ أَبَا عَمْرٍو لَمْ یَقُلِ الأَسَدِیَّ وَلاَ حَلِیفَ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ۔

[صحیح۔ تقدم برقم ۳۸۱۳۔ ۳۸۱۴۔ ۲۸۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا طریقہ
(٣٨٩١) عبداللہ ابن بحینہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں قعدہ کرنا بھول گئے اور کھڑے ہوگئے، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، آپ نے سجدہ کیا، ، پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا پھر تکبیر کہتے ہوئے دوسرے سجدے سے سر اٹھایا، پھر سلام پھیرا۔
(۳۸۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ ہُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سَہَا عَنْ قَعُودٍ قَامَ عَنْہُ قَالَ فَانْتَظَرْنَا سَلاَمَہُ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ سَلَّمَ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا طریقہ
(٣٨٩٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں : میرا غالب گمان ہے کہ انھوں نے عصر کا کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ گاہ کے سامنے لگی ہوئی لکڑی کے پاس گئے اور اس پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار نمایاں تھے، پھر جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے کہ نماز کم ہوگئی ؟ نماز کم ہوگئی ؟ چلے گئے ۔ وہاں موجود لوگوں میں ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے لیکن وہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے، لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالیدین کہہ کر پکارتے تھے اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے۔ اس نے کہا : تب آپ بھول گئے ہیں۔ آپ نے پوچھا : کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے ؟ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باقی دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر کر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا۔

(ب) ایک روایت میں ” و اکثر ظنی انہا لعصر “ کے الفاظ ہیں۔
(۳۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ ، الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ - وَأَکْبَرُ ظَنِّی أَنَّہُ قَالَ: الظُّہْرَ - فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، وَقَامَ إِلَی خَشَبَۃٍ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَہُوَ غَضْبَانُ ، فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہَا وَفِی النَّاسِ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ ، فَہَابَاہُ أَنْ یُکَلِّمَاہُ ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ ، وَفِی النَّاسِ رَجُلٌ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدْعُوہُ ذُو الْیَدَیْنِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَسِیتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلاَۃُ؟ فَقَالَ: ((لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاَۃُ))۔ قَالَ: بَلْ نَسِیتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : ((صَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ؟))۔ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَہُ فَکَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ ، أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ وَکَبَّرَ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: وَأَکْثَرُ ظَنِّی أَنَّہَا الْعَصْرُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۸۲۔ ۱۲۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو سے پہلے دو مرتبہ تکبیر کہنے کا بیان
(٣٨٩٣) ذو الیدین کے قصہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور سجدہ کیا۔ ہشام بن حسان کا بیان ہے کہ آپ نے دو مرتبہ تکبیر کہی پھر سجدہ کیا۔

(ب) اس حدیث کو ہشام سے روایت کرنے میں حماد بن زید اکیلے ہیں اور سارے راوی ابن سیرین سے روایت کرتے۔ پھر سارے راوی ہشام بن حسان سے روایت کرتے ہیں لیکن انھوں نے پہلی تکبیر کو ذکر نہیں کیا، اکیلے حماد بن زید نے ذکر کیا ہے۔
(۳۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَہِشَامٍ وَیَحْیَی بْنِ عَتِیقٍ وَابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ ذِی الْیَدَیْنِ: أَنَّہُ کَبَّرَ وَسَجَدَ۔

قَالَ ہِشَامٌ یَعْنِی ابْنَ حَسَّانَ: کَبَّرَ ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ۔

تَفَرَّدَ بِہِ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ہِشَامٍ وَسَائِرُ الرُّوَاۃِ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ثُمَّ سَائِرُ الرُّوَاۃِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ لَمْ یَحْفَظُوا التَّکْبِیرَۃَ الأُولَی وَحَفِظَہَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ رَحِمَہُ اللَّہُ۔ [شاذ۔ اخرجہ ابوداود ۱۰۰۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کے لیے سلام پھیرنا ضروری ہے
(٣٨٩٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی یا تو ظہر کی نماز تھی یا عصر کی، لیکن میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی تھی۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھائی، پھر سلام پھیرنے کے بعد مسجد میں لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غصے میں تھے۔ جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ نماز کم ہوگئی، نماز کم ہوگئی۔ لوگوں میں وہاں ابوبکر وعمر (رض) بھی تھے، وہ دونوں بھی بات کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ ذوالیدین (رض) نامی ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذوالیدین (رض) کیا کہہ رہا ہے ؟ صحابہ ] نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! سچ کہہ رہا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے سر اٹھایا۔

(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے عمران بن حصین (رض) کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے کہا اور سلام پھیرا۔
(۳۸۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْخَطِیبُ الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَوْثَرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ ، إِمَّا الظُّہْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ - وَأَکْبَرُ ظَنِّی أَنَّہَا الْعَصْرُ - ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی جِذْعٍ فِی الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَیْہِ وَہُوَ مُغْضَبٌ ، فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ یَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ ، وَفِی الْقَوْمِ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَہَابَاہُ أَنْ یُکَلِّمَاہُ ، فَقَامَ ذُو الْیَدَیْنِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا یَقُولُ ذُو الْیَدَیْنِ؟ ۔ فَقَالُوا: صَدَقَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ کَبَّرَ ، فَسَجَدَ کَسُجُودِہِ الأَوَّلِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّہُ قَالَ: وَسَلَّمَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَزُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۳۸۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو کے لیے سلام پھیرنا ضروری ہے
(٣٨٩٥) (ا) عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور کھڑے ہو کر حجرے میں تشریف لے گئے۔ ذوالیدین (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ کی حالت میں نکلے اور جو رکعت رہ گئی تھی وہ پڑھائی ، پھر سہو کے دو سجدے کیے اور سلام پھیرا۔

(ب) امام مسلم (رح) نے اپنی صحیح میں یہ حدیث اسحاق بن ابراہیم (رح) سے نقل کی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو رکعت رہ گئی تھی پڑھائی، اس کے بعد سلام پھیرا اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
(۳۸۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثِ رَکَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَۃَ ، فَقَامَ رَجُلٌ بَسِیطُ الْیَدَیْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا فَصَلَّی الرَّکْعَۃَ الَّتِی کَانَ تَرَکَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ ثُمَّ سَلَّمَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَصَلَّی الرَّکْعَۃَ الَّتِی کَانَ تَرَکَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ خَالِدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطیالسی ۸۸۷]
tahqiq

তাহকীক: