আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৮৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد سجدہ سہو کرے پھر سلام پھیرے
(٣٨٩٦) عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں نماز پڑھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول گئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے دو سجدے کیے پھر تشہد پڑھی اور سلام پھیرا۔
(۳۸۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْوَزِیرِ التَّاجِرُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْحُمْرَانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَشَہَّدَ فِی سَجْدَتَیِ السَّہْوِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔ [شاذ۔ اخرجہ ابوداود ۱۰۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد سجدہ سہو کرے پھر سلام پھیرے
(٣٨٩٧) (ا) یہ حدیث دوسری سند سے بھی منقول ہے۔ اس میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں نماز پڑھائی تو بھول گئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو سجدے کیے، اس کے بعد تشہد پڑھی پھر سلام پھیرا۔

(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے عمران (رض) کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے سلام کا ذکر کیا ہے۔ تشہد کا ذکر نہیں کیا اور ہشیم کی روایت میں سجدوں سے پہلے تشہد کا ذکر ہے۔
(۳۸۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُثَنَّی فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی بِہِمْ ، فَسَہَا فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ تَشَہَّدَ بَعْدُ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔ تَفَرَّدَ بِہِ أَشْعَثُ الْحُمْرَانِیُّ۔

وَقَدْ رَوَاہُ شُعْبَۃُ وَوُہَیْبٌ وَابْنُ عُلَیَّۃَ وَالثَّقَفِیُّ وَہُشَیْمٌ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَیَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ وَغَیْرُہُمْ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، لَمْ یَذْکُرْ أَحَدٌ مِنْہُمْ مَا ذَکَرَ أَشْعَثُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْہُ ،

وَرَوَاہُ أَیُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ فَذَکَرَ السَّلاَمَ دُونَ التَّشَہُّدِ۔

وَفِی رِوَایَۃِ ہُشَیْمٍ ذَکَرَ التَّشَہُّدَ قَبْلَ السَّجْدَتَیْنِ ، وَذَلِکَ یَدُلُّ عَلَی خَطَإِ أَشْعَثَ فِیمَا رَوَاہُ۔

[شاذ۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد سجدہ سہو کرے پھر سلام پھیرے
(٣٨٩٨) عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر یا عصر کی نماز تین رکعت پڑھی ایک آدمی جسے خرباق (رض) کہا جاتا تھا، انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے تو تین رکعتیں پڑھی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا واقعی ایسا ہی ہے ؟ صحابہ ] نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھائی، پھر سجدہ کیا پھر تشہد پڑھی، سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے اس کے بعد سلام پھیرا۔
(۳۸۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا صَلَّیْتَ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ۔ قَالَ : أَکَذَلِکَ؟ ۔ قَالُوا: نَعَمْ۔ قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّی ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ تَشَہَّدَ وَسَلَّمَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔

ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ بِہَذَا اللَّفْظِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [شاذ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد سجدہ سہو کرے پھر سلام پھیرے
(٣٨٩٩) (ا) سلمہ بن علقمہ (رح) فرماتے ہیں : میں نے محمد بن سیرین (رح) سے پوچھا : کیا سہو کے سجدوں میں تشہد ہے ؟ انھوں نے کہا : ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں تو میں نے نہیں سنا لیکن تشہد پڑھنا میرے نزدیک محبوب ہے۔

(ب) امام بخاری (رح) فرماتے ہیں : انس (رض) اور حسن (رض) نے سلام پھیرا اور تشہد نہیں پڑھی۔

(ج) قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ تشہد نہ پڑھے۔

(د) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اس بارے میں صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انھوں نے سلام کے بعد بھی سجدے کیے لیکن ان کے لیے تشہد نہیں پڑھی۔ وباللہ التوفیق
(۳۸۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوأَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ سَلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ: فِیہِمَا تَشَہُّدٌ؟ یَعْنِی فِی سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْہُ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَأَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ یَتَشَہَّدَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مُخْتَصَرًا۔

وَقَالَ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَسَلَّمَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ وَلَمْ یَتَشَہَّدَا۔ وَقَالَ قَتَادَۃُ: لاَ یَتَشَہَّدُ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَالأَخْبَارُ الصَّحِیحَۃُ فِی ذَلِکَ تَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ وَإِنْ سَجَدَہُمَا بَعْدَ السَّلاَمِ لَمْ یَتَشَہَّدْ لَہُمَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد سجدہ سہو کرے پھر سلام پھیرے
(٣٩٠٠) مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے سجدوں سے سر اٹھانے کے بعد تشہد پڑھی ہے۔
(۳۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی لَیْلَی حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی قَالَ حَدَّثَنِی الشَّعْبِیُّ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَشَہَّدَ بَعْدَ أَنْ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔

وَہَذَا یَتَفَرَّدُ بِہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الشَّعْبِیِّ۔ وَلاَ یُفْرَحُ بِمَا یَتَفَرَّدُ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[شاذ۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط ۸۱۲۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد سجدہ سہو کرے پھر سلام پھیرے
(٣٩٠١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز پڑھ رہا ہو اور تجھے تین، چار (رکعتوں) میں شک پڑجائے اور تیرا غالب گمان چار کا ہو تو تشہد پڑھ، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کی حالت میں ہی دو سجدے کرے، پھر اسی طرح تشہد پڑھ اس کے بعد سلام پھیر۔
(۳۹۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِی سَعْدٍ الْہَرَوِیُّ قَدِمَ عَلَیْنَا حَاجًّا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیٍّ الْجَوْہَرِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا کُنْتَ فِی صَلاَۃٍ فَشَکَکْتَ فِی ثَلاَثٍ أَوْ أَرْبَعٍ ، وَأَکْثَرُ ظَنِّکَ عَلَی أَرْبَعٍ تَشَہَّدْتَ ، ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَیْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ ، ثُمَّ تَشَہَّدْتَ أَیْضًا ثُمَّ سَلَّمْتَ))۔ وَہَذَا غَیْرُ قَوِیٍّ وَمُخْتَلَفٌ فِی رَفْعِہِ وَمَتْنِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کلام کرنے کا بیان
(٣٩٠٢) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے تو ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے۔ جب ہم ہجرت حبشہ سے واپس آئے تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے اب نہیں دے رہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔
(۳۹۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ یَعْنِی الرَّقَاشِیَّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیِّ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یُصَلِّی فَیَرُدُّ عَلَیْنَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنَ الْحَبَشَۃِ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ کُنْتَ تَرُدُّ عَلَیْنَا۔ قَالَ : ((کَفَی بِالصَّلاَۃِ شُغُلاً))۔

لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ کَمَا مَضَی۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۹۹۔ ۱۲۱۶۔ ۳۸۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کلام کرنے کا بیان
(٣٩٠٣) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے تو بھی ہم انھیں سلام کیا کرتے تھے، حبشہ سے واپس ہونے سے پہلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سلام کرنے آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ میں بیٹھ گیا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب اللہ تعالیٰ کا نیا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔

(ب) اس بارے میں جابر بن عبداللہ اور زید بن ارقم (رض) کی حدیث گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک ان سب کو قصداً کلام (کی ممانعت) پر محمول کیا جائے گا۔
(۳۹۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِیَ أَرْضَ الْحَبَشَۃِ ، فَیَرُدُّ عَلَیْنَا وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مَنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ أَتَیْتُہُ لأُسَلِّمَ عَلَیْہِ ، فَوَجَدْتُہُ یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَأَخَذَنِی مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ ، فَجَلَسْتُ حَتَّی إِذَا قَضَی صَلاَتَہُ أَتَیْتُہُ فَقَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا یَشَائُ ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللَّہُ أَنْ لاَ تَکَلَّمُوا فِی الصَّلاَۃِ))۔

وَقَدْ مَضَی فِی ذَلِکَ حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَزِیدِ بْنِ أَرْقَمَ۔

وَذَلِکَ کُلُّہُ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَی الْعَمْدِ۔ [حسن۔ اخرجہ الحمیدی ۹۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩٠٤) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور دوسری دو رکعتیں پڑھائیں ۔ پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ کر اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا اس سے نسبتاً لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ بھی ویسے ہی کیا پھر سر اٹھایا۔
(۳۹۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَیْنِ ، فَقَالَ لَہُ ذُو الْیَدَیْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ))۔ فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ۔ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی اثْنَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ۔

لَفْظُ حَدِیثِہِمْ سَوَائٌ إِلاَّ أَنَّ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ لَمْ یَقُلِ ابْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَغَیْرِہِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَحَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩٠٥) (ا) ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں زوال کے بعد کی نمازوں میں سے کوئی نماز ظہر یا عصر پڑھائی، لیکن ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھ لکڑی کے اوپر رکھ دیے۔ غصہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے عیاں تھا۔ جلدی نکلنے والے لوگ یہ کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے کہ نماز کم ہوگئی، نماز کم ہوگئی۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے لیکن وہ دونوں بھی بات کرنے سے گھبرا گئے۔ ایک شخص کھڑا ہوا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالیدین (رض) کے نام سے پکارا کرتے تھے ، اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ہیں یا کہ نماز کم ہوگئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ میں بھول گیا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ اس نے کہا : نہیں آپ بھول گئے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا ذوالیدین (رض) ٹھیک کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے اشارہ کیا : جی ہاں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جگہ واپس تشریف لائے باقی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر کر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا ، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر ویسا ہی سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔

(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین سے کسی نے پوچھا : کیا سجدہ سہو کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا ؟ انھوں نے کہا : ابوہریرہ (رض) سے تو مجھے یاد نہیں لیکن مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا۔
(۳۹۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ قَالَ فَصَلَّی بِنَا رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَی خَشَبَۃٍ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلَیْہَا إِحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی ، یُعْرَفُ فِی وَجْہِہِ الْغَضَبُ ، ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَہُمْ یَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ۔ وَفِی النَّاسِ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَہَابَاہُ أَنْ یُکَلِّمَاہُ ، فَقَامَ رَجُلٌ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُسَمِّیہِ ذَا الْیَدَیْنِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَسِیتَ؟ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ ؟ فَقَالَ : ((لَمْ أَنْسَ ، وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاَۃُ))۔ قَالَ: بَلْ نَسِیتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْقَوْمِ فَقَالَ : ((أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ؟))۔ فَأَوْمَئُوا أَیْ نَعَمْ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مَقَامِہِ ، فَصَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ الْبَاقِیَتِینِ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَکَبَّرَ ، ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِہِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَکَبَّرَ۔ قَالَ فَقِیلَ لِمُحَمَّدٍ: سَلَّمَ فِی السَّہْوِ؟ فَقَالَ: لَمْ أَحْفَظْہُ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَلَکِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ یَذْکُرْ فَأَوْمَئُوا إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَلَمْ یَبْلُغْنَا إِلاَّ مِنْ جِہَۃِ أَبِی دَاوُدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ وَہُمْ ثِقَاتٌ أَئِمَّۃٌ۔ [صحیح۔ وقد تقدم غیر مرۃ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩٠٦) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے پوچھا : کیا ذوالیدین (رض) سچ کہہ رہا ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔

شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ سعد (رض) نے فرمایا : میں نے عروہ بن زبیر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور باتیں کی۔ اس کے بعد باقی نماز پڑھی اور فرمایا : اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کیا تھا۔
(۳۹۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بْنِ الْحَمَّامِیِّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذُو الْیَدَیْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَوْ نَسِیتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَصْحَابِہِ : ((أَحَقٌّ مَا یَقُولُ؟))۔ قَالُوا: نَعَمْ۔ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ أُخْرَاوَیْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔ قَالَ شُعْبَۃُ قَالَ سَعْدٌ: وَرَأَیْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ صَلَّی مِنَ الْمَغْرِبِ رَکْعَتَیْنِ وَسَلَّمَ وَتَکَلَّمَ ثُمَّ صَلَّی مَا بَقِی وَقَالَ: ہَکَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

لَفْظُ حَدِیثِ آدَمَ وَلَیْسَ فِی حَدِیثِ بِشْرٍ قِصَّۃُ عُرْوَۃَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔

[صحیح۔ تقدم قبل قلیل]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩٠٧) (ا) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہو کر بولا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز کم ہوئی اور نہ میں بھولا ہوں ؟ تو وہ بولا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے ؟ صحابہ نے بتایا : جی ہاں تو آپ نے بقیہ دو رکعتیں پڑھائیں۔

(ب) راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ضمضم نے حدیث بیان کی کہ اس نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ پھر آپ نے دو سجدے کیے۔
(۳۹۰۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَیْبَانَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الظُّہْرِ ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ؟ قَالَ : لَمْ تُقْصَرْ وَلَمْ أَنْسَ ۔ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا صَلَّیْتَ رَکْعَتَیْنِ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((حَقًّا مَا یَقُولُ ذُو الْیَدَیْنِ؟))۔ قَالُوا: نَعَمْ۔ فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ۔ قَالَ وَحَدَّثَنِی ضَمْضَمٌ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَجْدَتَیْنِ۔

لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ سَابَقٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ إِلاَّ أَنَّہُ سَاقَ بَعْضَ الْحَدِیثِ دُونَ جَمِیعِہِ قَالَ: وَاقْتَصَّ الْحَدِیثَ

وَیَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ لَمْ یَحْفَظْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَإِنَّمَا حَفِظَہُمَا عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْشٍ وَقَدْ حَفِظَہُمَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَلَمْ یَحْفَظْہُمَا الزُّہْرِیُّ لاَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَلاَ عَنْ جَمَاعَۃٍ حَدَّثُوہُ بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ صحیح تقدم فی الذی قبلہ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩٠٨) ایک دوسری سند سے یہ حدیث منقول ہے اس میں ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ بیان کرتے ہیں کہ انھیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذو الشمالین بن عبد (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھولے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ ذوالشمالین (رض) نے عرض کیا : کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف مڑے اور پوچھا : کیا ذوالشمالین صحیح کہہ رہا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : جی ہاں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور باقی نماز مکمل کی اور دو سجدے نہیں کیے جو اس وقت کیے جاتے ہیں جب نماز میں شک پڑجائے۔
(۳۹۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ بَلَغَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدٍ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاَۃُ وَلَمْ أَنْسَ))۔ فَقَالَ ذُو الشِّمَالَیْنِ: قَدْ کَانَ بَعْضُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْقَوْمِ فَقَالَ : ((أَصَدَقَ ذُو الشِّمَالَیْنِ؟))۔ فَقَالُوا: نَعَمْ۔ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَمَّ مَا بَقِیَ مِنَ الصَّلاَۃِ ، وَلَمْ یَسْجُدِ السَّجْدَتَیْنِ اللَّتَیْنِ تَسْجُدَانِ إِذَا شَکَّ الرَّجُلُ فِی صَلاَتِہِ حِینَ لَقَّاہُ النَّاسُ۔

قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی ہَذَا الْخَبَرَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِثْلَہُ۔

وَہَذَا حَدِیثٌ مُخْتَلَفٌ فِیہِ عَلَی الزُّہْرِیِّ فَرَوَاہُ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ ہَکَذَا ، وَہُوَ أَصَحُّ الرِّوَایَاتِ فِیمَا نُرَی حَدِیثُہُ عَنِ ابْنِ أَبِی حَثْمَۃَ مُرْسَلٌ ، وَحَدِیثُہُ عَنِ الْبَاقِینِ مَوْصُولٌ۔

وَأَرْسَلَہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْہُ عَنِ ابْنِ أَبِی حَثْمَۃَ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ۔

وَأَسْنَدَہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنْہُ عَنْ جَمَاعَتِہِمْ دُونَ رِوَایَتِہِ عَنِ ابْنِ أَبِی حَثْمَۃَ۔

وَأَسْنَدَہُ مَعْمَرٌ عَنْہُ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩٠٩) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا تو ذو الشمالین بن عبد عمرو جو بنی زہرہ کا حلیف تھا نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! سچ کہہ رہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دو رکعتیں مکمل کروائیں جو رہ گئی تھیں۔

(ب) زہری (رض) بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فارغ ہونے کے بعد دو سجدے کیے۔

(ج) یہ حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ انھوں نے دو سجدوں کا ذکر نہیں کیا حالانکہ انھوں نے وہ دو سجدے کیے ہیں اور ان سے انہی کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔

(د) محمد بن سیرین ابی ہریرہ (رض) سے اور سعد بن ابراہیم ابو سلمہ اور ابی ہریرہ (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے دو سجدے کیے تھے۔
(۳۹۰۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ ، فَسَہَا فِی رَکْعَتَیْنِ ، فَانْصَرَفَ فَقَالَ لَہُ ذُو الشِّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو وَکَانَ حَلِیفًا لِبَنِی زُہْرَۃَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخُفِّفَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَا یَقُولُ ذُو الْیَدَیْنِ؟ ۔ قَالُوا: صَدَقَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ۔ قَالَ: فَأَتَمَّ بِہِمُ الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ نَقَصَ ۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَا تَفَرَّغَ۔

وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَسْمَعْہُمْ ذَکَرُوا لَہُ سَجْدَتَیْہِ وَقَدْ سَجَدَہُمَا حَتَّی أُخْبِرَ بِہِ عَنْ نَفْسِہِ۔

وَاخْتُلِفَ عَلَی ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ۔

وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَجَدَہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٠) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس نے کہا : کچھ نہ کچھ ہوا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے ؟ صحابہ (رض) نے کہا : ہاں اے اللہ کے رسول ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باقی دو رکعتیں مکمل کیں اور سلام پھیرا پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔

(ب) ایک روایت میں ہے : ” صلی لنا رسول اللہ ﷺ“
(۳۹۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ أَنَّ أَبَا سُفْیَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِی أَحْمَدَ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، فَقَالَ ذُو الْیَدَیْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمْ نَسِیتَ ؟۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((کُلُّ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ))۔ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ کَانَ بَعْضُ ذَلِکَ۔ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی النَّاسِ فَقَالَ : ((أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ؟))۔ فَقَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولُ اللَّہِ۔ فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنَ الصَّلاَۃِ ثُمَّ سَلَّمَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ بَعْدَ السَّلاَمِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ مَالِکٍ بِإِسْنَادِہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

[صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١١) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو بھول گئے اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک شخص جسے ذوالیدین کہا جاتا تھا نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔ اس نے کہا : آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ایسے ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے کہا : جی ہاں ! ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : آپ نے آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے۔
(۳۹۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ أَبُو کُرَیْبٍ الْہَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی فَسَہَا ، فَسَلَّمَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ ذُو الْیَدَیْنِ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ؟ قَالَ : ((مَا قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ وَمَا نَسِیتُ))۔ قَالَ: فَإِنَّکَ صَلَّیْتَ رَکْعَتَیْنِ۔ فَقَالَ : ((أَکَمَا قَالَ ذُو الْیَدَیْنِ؟))۔ قَالُوا: نَعَمْ۔ قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٢) (ا) عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کی تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر (اپنے گھر) چلے گئے۔ ایک شخص ان کی طرف کھڑا ہوا جسے خرباق کہا جاتا ہے وہ لمبے ہاتھوں والا تھا، بولا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ کی حالت میں چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور پوچھا : کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور وہ رکعت ادا کی (جو رہ گئی تھی) پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔

(ب) ابن علیہ کے الفاظ ہیں : ” ثم دخل بمنزلہ “ باقی اس کے بمعنی روایت ہے۔
(۳۹۱۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ أَخْبَرَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ثَلاَثِ رَکَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ ، وَکَانَ طَوِیلَ الْیَدَیْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا یَجُرُّ رِدَائَ ہُ فَقَالَ : ((أَصَدَقَ؟))۔ قَالُوا: نَعَمْ۔ فَقَامَ فَصَلَّی تِلْکَ الرَّکْعَۃَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْہِمَا ، ثُمَّ سَلَّمَ ۔

وَقَالَ ابْنُ عُلَیَّۃَ: ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَہُ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَزُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔

[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٣) معاویہ بن حدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن نماز پڑھائی۔ ابھی ایک رکعت باقی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیر دیا اور چلے گئے۔ ایک شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پالیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس پلٹے مسجد میں داخل ہوئے ، بلال کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو وہ رکعت پڑھائی۔ میں نے اس بارے میں لوگوں کو بتایا تو انھوں نے کہا : کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ہاں اگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان لوں گا۔ ایک دفعہ وہ شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا : وہ رہا آدمی ! انھوں نے کہا : یہ تو طلحہ بن عبید اللہ (رض) ہیں۔
(۳۹۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ سُوَیْدَ بْنَ قَیْسٍ أَخْبَرَہُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدَیْجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی یَوْمًا ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِیَ مِنَ الصَّلاَۃِ رَکْعَۃٌ فَأَدْرَکَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: نَسِیتَ مِنَ الصَّلاَۃِ رَکْعَۃً ۔ فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَصَلَّی بِالنَّاسِ رَکْعَۃً۔ فَأَخْبَرْتُ بِذَلِکَ النَّاسَ فَقَالُوا: وَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لاَ إِلاَّ أَنْ أَرَاہُ۔ فَمَرَّ بِی فَقُلْتُ: ہُوَ ہَذَا۔ فَقَالُوا: ہَذَا طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۶/۴۰۱/۲۷۷۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٤) معاویہ بن حدیج (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ بھول گئے اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر اٹھ کر چلے گئے تو ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ہے تو آپ نے بلال کو نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، پھر وہ رکعت مکمل کی۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا تھا کہ آپ بھول گئے ہیں تو مجھے کہا گیا کیا : تم اسے جانتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں مگر اس کو دیکھ لوں تو پہچان سکتا ہوں۔ ایک روز میرے پاس سے وہ شخص گزرا تو میں نے کہا : یہ رہا وہ آدمی ! انھوں نے کہا : یہ تو طلحہ بن عبید اللہ (رض) ہیں۔
(۳۹۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدَیْجٍ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْمَغْرِبَ ، فَسَہَا فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ سَہَوْتَ ، فَسَلَّمْتَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْکَ الرَّکْعَۃَ ، فَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِی قَالَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّکَ سَہَوْتَ۔ فَقِیلَ لِی: تَعْرِفُہُ؟ قُلْتُ: لاَ إِلاَّ أَنْ أَرَاہُ ، فَمَرَّ بِی رَجُلٌ فَقُلْتُ: ہُوَ ہَذَا۔ قَالُوا: ہَذَا طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٥) عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : ابن زبیر (رض) نے لوگوں کو مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھائیں اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر وہ حجر اسود کا استلام کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے پیچھے دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عطا بن ابی رباح کہتے ہیں : وہ واپس آئے اور وہ باقی رکعت ہمیں پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور دو سجدے کیے۔ ابن زبیر بیان کرتے ہیں : میں فوراً ابن عباس (رض) کے پاس گیا تو میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : بس بس ! اللہ کی قسم ! تیرے باپ نے کیا کیا ؟ میں نے وہ بات دھرائی تو انھوں نے فرمایا : انھوں نے اپنے نبی کی سنت سے زیادتی نہیں کی۔
(۳۹۱۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ: أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ صَلَّی الْمَغْرِبَ بِالنَّاسِ ، فَسَلَّمَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَی الْحَجَرِ الأَسْوَدِ لِیَسْتَلِمَہُ ، فَنَظَرَ فَرَأَی الْقَوْمَ جُلُوسًا قَالَ فَجَائَ حَتَّی صَلَّی لَنَا الرَّکْعَۃَ الْبَاقِیَۃَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِی فَوْرَتِی إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: إِیْہًا لِلَّہِ أَبُوکَ کَیْفَ صَنَعَ؟ فَأَعَدْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سَنَّۃِ نَبِیِّہِ -ﷺ-۔

[صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ ۴۵۰۴]
tahqiq

তাহকীক: