আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৯১৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٦) دوسری سند سے اسی جیسی حدیث عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے۔ اس میں انھوں نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سبحان اللہ کہنے لگے تو انھوں نے ہماری طرف توجہ کی اور فرمایا : کیا ہم نے نماز مکمل نہیں کی ؟ ہم نے اپنے سروں کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا یعنی مکمل نہیں کی اور انھوں نے ابن عباس (رض) کا قول صرف اتنا ہی ذکر کیا : ” مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ ﷺ“
(۳۹۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَسَنِ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ وَہُوَ ابْنُ حَسَّانَ عَنْ عِسْلٍ عَنْ عَطَائٍ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ وَزَادَ: فَسَبَّحْنَا فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ: مَا أَتْمَمْنَا الصَّلاَۃَ؟ فَقُلْنَا بِرُئُ وسِنَا سُبْحَانَ اللَّہِ أَیْ لاَ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَکْثَرَ مِنْ أَنْ قَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٧) عطاء (رح) سے روایت ہے کہ ابن زبیر (رض) نے مغرب کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر جلدی سے اٹھ کر جانے لگے تو لوگوں نے سبحان اللہ کہا، وہ بولے : انھیں کیا ہوگیا ہے ؟ پھر آئے اور ایک رکعت پڑھی، پھر دو سجدے۔ میں ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور انھیں ابن زبیر (رض) کے فعل کے بارے میں بتایا تو انھوں نے فرمایا : انھوں نے نبی کی سنت سے تجاوز نہیں کیا۔

امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ابن زبیر (رض) سے مراد عبداللہ بن زبیر (رض) ہیں۔
(۳۹۱۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَیْدٍ أَبُو قُدَامَۃَ الإِیَادِیُّ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ عَطَائٍ قَالَ: صَلَّی ابْنُ الزُّبَیْرِ الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ نَہَضَ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَقَالَ: مَا لَہُمْ؟ ثُمَّ جَائَ فَرَکَعَ رَکْعَۃً ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ قَالَ: فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِفِعْلِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ -ﷺ- ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَابْنُ الزُّبَیْرِ ہَذَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بھول کر کلام کرلینے کا بیان
(٣٩١٨) معاویہ بن حکم اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک نمازی نے چھینک ماری۔ میں نے ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا : تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو ؟ انھوں نے رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کیے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (تو میں ناراض ہوا) لیکن خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر میرے والدین قربان ہوں۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر مشفق و مہربان معلم نہیں دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ مجھے مارا نہ ڈانٹا اور نہ ہی برا بھلا کہا بلکہ آپ نے صرف اتنا فرمایا : یہ نماز ہے، اس میں لوگوں سے باتیں کرنا جائز نہیں، اس میں تو تسبیح ‘ تکبیر اور تلاوتِ قرآن ہوتی ہے یا اس سے ملتی جلتی بات فرمائی۔
(۳۹۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالَ حَدَّثَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ ، فَرَمَانِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہُ مَا شَأْنُکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَیَّ؟ فَجَعَلُوا یَضْرِبُونَ بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْ یُصَمِّتُونِی لَکِنِّی سَکَتُّ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَبِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی مَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ ، وَاللَّہِ مَا کَہَرَنِی وَلاَ شَتَمَنِی وَلاَ ضَرَبَنِی۔ قَالَ : إِنْ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ ہَذَا ، إِنَمَّا ہُوَ التَّسْبِیحُ وَالتَّکْبِیرُ وَقِرَائَ ۃُ الْقُرْآنِ ۔ أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۵/۴۴۷/۲۴۱۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩١٩) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا اور ہم ٨٠ مرد تھے ہمارے ساتھ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) بھی تھے۔ انھوں نے نجاشی کے دربار میں داخل ہونے کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں ہے کہ ابن مسعود (رض) آنے میں سبقت لے گئے، وہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔
(۳۹۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حُدَیْجُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی النَّجَاشِیِّ وَنَحْنُ ثَمَانُونَ رَجُلاً وَمَعَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی دُخُولِہِمْ عَلَی النَّجَاشِیِّ وَفِی آخِرِہِ قَالَ: فَجَائَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَبَادَرَ فَشَہِدَ بَدْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٠) (ا) موسیٰ بن عقبہ (رض) بیان کرتے ہیں : اس کے بارے میں جو ذکر کیا جاتا ہے کہ ابن مسعود (رض) ہجرت حبشہ سے واپسی پر سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مکہ آئے، پھر انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور ابن مسعود (رض) ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام اہل سیر نے بلا اختلاف ذکر کیا ہے۔

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں آفتاب ڈھلنے کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی۔

یحییٰ بن ابی کثیر (رح) کی سند ہے کہ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔۔۔ پھر انھوں نے ذوالیدین کا قصہ ذکر کیا۔ ایک روایت میں ہے ” صلی بنا رسول اللہ۔۔۔ “
(۳۹۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ وَمِمَّنْ یُذْکَرُ: أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ مِنْ مُہَاجِرَۃِ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ الأُولَی ، ثُمَّ ہَاجَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَذَکَرَہُمْ وَذَکَرَ فِیہِمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

ہَکَذَا ذَکَرَہُ سَائِرُ أَہْلِ الْمَغَازِی بِلاَ اخْتِلاَفٍ بَیْنَہُمْ فِیہِ۔

وَأَمَّا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدْ رُوِّینَا عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَحَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ۔

وَرُوِّینَا عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الظُّہْرِ فَذَکَرَ قِصَّۃَ ذِی الْیَدَیْنِ۔ وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ أَبِی سُفْیَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِی أَحْمَدَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۶۷۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢١) (ا) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔۔۔

(ب) ابن شھاب (رض) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں اس واقعہ کے وقت موجود تھا اور میں خیبر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تھا۔
(۳۹۲۱) وَفِی حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَأَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ وَعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ۔ فَذَکَرَہُ

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَذَکَرَہُ وَأَخْبَرَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ شَہِدَ ہَذِہِ الْقِصَّۃَ ، وَقُدُومُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- کَانَ وَہُوَ بِخَیْبَرَ۔

[صحیح۔ وقد تقدم غیر مرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٢) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) کے پاس فتحِ خیبر کے بعد آیا۔۔۔
(۳۹۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی عَنْبَسَۃُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَأَصْحَابِہِ خَیْبَرَ بَعْدَ مَا فَتَحُوہَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٣) (ا) عراک بن مالک (رح) فرماتے ہیں : میں نے ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں مدینہ آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر میں تھے اور بنو غفار کا ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا۔

(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش میں نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب آپ خیبر میں تھے۔
(۳۹۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْقَطَّانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِرَاکَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- بِخَیْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِی غِفَارٍ یَؤُمُّ النَّاسَ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: ثُمَّ إِنَّہُ تَبِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَدِمَ عَلَیْہِ وَہُوَ بِخَیْبَرَ۔ صحیح أخرجہ ابن حبان ۷۱۵۶
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٤) قیس بن حازم (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں تین سال رسول اللہ کی صحبت میں رہا۔
(۳۹۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی ابْنَ أَبِی خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ قَیْسًا یَعْنِی ابْنَ أَبِی حَازِمٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثَ سِنِینَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۵۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٥) حمیدی اس مسئلہ کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) کی حدیث کو قصداً پر محمول کیا جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کا ظاہر عمد، نسیان اور جہالت پر ہے ؟ ہم جواباً عرض کریں گے کہ آپ سچ کہتے ہیں : یہ ظاہر ہے، لیکن ابن مسعود (رض) کا ارض حبشہ سے واپسی کا واقعہ بدر سے پہلے کا ہے۔ اس قول کے مطابق وہ بدر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک بھی ہوئے تھے، جب ابوہریرہ (رض) اسلام لائے تو اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر میں تھے اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے تین سال پہلے اسلام لائے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اور ذی الیدین (رض) کے قول کے وقت موجود تھے۔ ہم نے عمران بن حصین (رض) کو پایا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اور خرباق کے قول کے وقت دوسرے موقع پر موجود تھے اور عمران (رض) بھی بدر کے بعد اسلام لائے تھے۔ معاویہ بن حدیج (رض) کے بارے میں ہمیں یہ معلومات ملی ہیں کہ ان کے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اور طلحہ بن عبیداللہ (رض) کا واقعہ پیش آیا اور معاویہ بن حدیج (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے صرف دو ماہ پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ ابن عباس (رض) کو ہم نے پایا، وہ ابن زبیر (رض) کی بات کو درست قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے اور ابن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے وقت تقریباً دس سال کے تھے اور ابن عمر (رض) کو بھی ہم اسی طرح پاتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بدر کے بعد خندق میں جانے اجازت دی تھی۔ ہمیں پتا چل گیا کہ ابن مسعود (رض) کی حدیث کو نسیان سے ہٹا کر قصدا پر محمول کیا جائے گا اور اگر یہ حدیث اس وقت نسیان اور عمد (دونوں) کے لیے ہوتی تو بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعد والی نمازیں اس قول کے لیے ناسخ ہوں گی؛ کیونکہ یہ بعد والی ہیں۔
(۳۹۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی قَالَ قَالَ الْحُمَیْدِیُّ وَہُوَ یَذْکُرُ ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃَ وَیُحْمَلُ حَدِیثُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْعَمْدِ قَالَ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَمَا دَلَّ عَلَی ذَلِکَ فَظَاہِرُہُ الْعَمْدُ وَالنِّسْیَانُ وَالْجَہَالَۃُ؟ قُلْنَا: صَدَقْتَ ہَذَا ظَاہِرٌ وَلَکِنْ کَانَ إِتْیَانُ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ قَبْلَ بَدْرٍ ، ثُمَّ شَہِدَ بَدْرًا بَعْدَ ہَذَا الْقَوْلِ ، فَلَمَّا وَجَدْنَا إِسْلاَمَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- بِخَیْبَرَ قَبْلَ وَفَاۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِثَلاَثِ سِنِینَ وَقَدْ حَضَرَ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَوْلَ ذِی الْیَدَیْنِ ، وَوَجَدْنَا عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ حَضَرَ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّۃً أُخْرَی وَقَوْلَ الْخِرْبَاقِ ، وَکَانَ إِسْلاَمُ عِمْرَانَ بَعْدَ بَدْرٍ ، وَوَجَدْنَا مُعَاوِیَۃَ بْنَ حُدَیْجٍ حَضَرَ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَوْلَ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ ، وَکَانَ إِسْلاَمُ مُعَاوِیَۃَ قَبْلَ وَفَاۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِشَہْرَیْنِ ، وَوَجَدْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یُصَوِّبُ ابْنَ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ذَلِکَ ، وَیَذْکُرَ أَنَّہَا سُنَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ابْنَ عَشْرِ سِنِینَ حِینَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَوَجَدْنَا ابْنَ عُمَرَ رَوَی ذَلِکَ ، وَکَانَ إِجَازَۃُ النَّبِیِّ -ﷺ- ابْنَ عُمَرَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ بَدْرٍ ، فَعَلِمْنَا أَنَّ حَدِیثَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خُصَّ بِہِ الْعَمْدُ دُونَ النِّسْیَانِ ، وَلَوْ کَانَ ذَلِکَ الْحَدِیثُ فِی النِّسْیَانِ وَالْعَمْدِ یَوْمَئِذٍ لَکَانَتْ صَلَوَاتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ہَذِہِ نَاسَخَۃً لَہُ لأَنَّہَا بَعْدَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٦) اوزاعی بیان کرتے ہیں : معاویہ بن حکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آخری دور میں اسلام لائے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ جو آدمی نماز میں بھول کر یا لا علمی کی بنا پر کلام کرلے تو بھی اس کی نماز ہوجائے گی اور جو جان بوجھ کر کلام کرے اسے نماز دوبارہ نئے سرے سے پڑھنا ہوگی۔ اور امام شافعی (رح) نے اکثر ان روایات کی طرف جو ہم نے بیان کی ہیں اس کے علاوہ مختلف احادیث کی کتابوں میں اشارہ کیا ہے اور اس بارے میں ہمیں جو روایات ان کے علاوہ سے منقول ہیں وہ آپ کے قول کی تائید کرتی ہیں۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : کہنے والا کہتا ہے : کیا ذوالیدین (رض) وہ والا جس سے تم روایت کرتے ہو بدر میں شہید نہیں ہوگیا تھا ؟ میں کہتا ہوں : نہیں ! عمران (رض) نے اس کا نام خرباق لیا ہے اور بیان کرتے ہیں کہ چھوٹے ہاتھوں والا یا لمبے ہاتھوں والا لیکن بدر میں شہید ہونے والے ذوالشمالین (رض) تھے۔

امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : جو بدر میں شہید ہوئے وہ ذو الشمالین بن عبد عمرو بن نصلہ (رض) تھے جو خذاعہ قبیلہ میں بنو زہرہ کے حلیف تھے۔ اسی طرح عروہ بن زبیر (رض) نے بھی ذکر کیا ہے۔
(۳۹۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَبَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَحْرٍ الْخَشَّابُ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ: کَانَ إِسْلاَمُ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ فِی آخِرِ الأَمْرِ فَلَمْ یَأْمُرْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- بِإِعَادَۃِ الصَّلاَۃِ ، فَمَنْ تَکَلَّمَ فِی صَلاَتِہِ سَاہِیًا أَوْ جَاہِلاً مَضَتْ صَلاَتُہُ ، وَمَنْ تَکَلَّمَ مُتَعَمِّدًا اسْتَأْنَفَ الصَّلاَۃَ۔ وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِلَی أَکْثَرَ مَا حَکَیْنَاہُ عَنْ غَیْرِہِ فِی کِتَابِ اخْتِلاَفِ الأَحَادِیثِ۔ وَفِیمَا رُوِّینَا عَنْ غَیْرِہِ تَأْکِیدٌ لِقَوْلِہِ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: قَالَ قَائِلٌ أَفَذُو الْیَدَیْنِ الَّذِی رُوِّیتُمْ عَنْہُ الْمَقْتُولُ بِبَدْرٍ؟ قُلْتُ: لاَ عِمْرَانُ یُسَمِّیہِ الْخِرْبَاقُ وَیَقُولُ قَصِیرُ الْیَدَیْنِ أَوْ مَدِیدُ الْیَدَیْنِ وَالْمَقْتُولُ بِبَدْرٍ ذُو الشِّمَالَیْنِ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ الَّذِی قُتِلَ بِبَدْرٍ ہُوَ ذُو الشِّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَۃَ حَلِیفٌ لِبَنِی زُہْرَۃَ مِنْ خُزَاعَۃَ ہَکَذَا ذَکَرَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٧) (ا) عروہ (رض) بیان کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو بدر میں شریک ہوئے تھے ان میں ذو الشمالین عبد عمرو بن نفلہ بن غبستان (رض) قبیلہ بنو خزاعہ سے بھی تھے اور بدر کے روز جو مسلمان شہید ہوئے ان میں بنو زہرہ بن کلام کے بھی دو مرد شہید ہوئے۔ ان میں سے ایک عمیر بن ابی وقاص (رض) اور دوسرے ذو الشمالین بن عبد عمرو بن نفلہ (رض) تھے جو خزاعہ کے بنو غبستان میں سے تھے۔

(ب) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : رہے وہ ذوالیدین (رض) جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے بھولنے کے بارے میں بتایا تھا تو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے۔ ہمارے شیخ ابو عبداللہ الحافظ نے اسی طرح ذکر کیا اور دلیل بھی دی ہے۔
(۳۹۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ: وَمِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذُو الشِّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَۃَ بْنِ غَبْشَانَ مِنْ خُزَاعَۃَ قَالَ وَاسْتُشْہِدَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَوْمَ بَدْرٍ مِنْ بَنِی زُہْرَۃَ بْنِ کِلاَبٍ رَجُلاَنِ عُمَیْرُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَذُو الشِّمَالَیْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَۃَ حَلِیفٌ لَہُمْ مِنْ خُزَاعَۃَ مِنْ بَنِی غَبْشَانَ۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ فِی مَغَازِیہِ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ: لاَ عَقِبَ لَہُ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: أَمَّا ذُو الْیَدَیْنِ الَّذِی أَخْبَرَ النَّبِیَّ -ﷺ- بِسَہْوِہِ فَإِنَّہُ بَقِیَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ہَکَذَا ذَکَرَہُ شَیْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاحْتَجَّ بِمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٨) شعیث اپنے والد مطیر سے کہتے ہیں : اے والد محترم ! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ ذوالیدین (رض) آپ کو ذی حشب مقام پر ملے تھے اور انھوں نے آپ کو خبر دی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں زوال آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی اور وہ عصر کی نماز تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تو ابوبکر و عمر (رض) بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ جلدی کرنے والے لوگ نکل گئے تو ذوالیدین ‘ ابوبکر اور عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جا ملے۔ ذوالیدین (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر اور عمر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ ان دونوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ سچ کہہ رہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس پلٹے اور لوگ پھیل چکے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
(۳۹۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ الزَّاہِدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّیٍّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا مَعْدِیُّ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنِی شُعَیْثُ بْنُ مُطَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ وَمُطَیْرٌ حَاضِرٌ فَصَدَّقَہُ مُطَیْرٌ قَالَ شُعَیْثٌ: یَا أَبَتَاہُ أَخْبَرْتِنِی أَنَّ ذَا الْیَدَیْنِ لَقِیَکَ بِذِی خُشُبٍ فَأَخْبَرَکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی بِہِمْ إِحْدَی صَلاَتِیِ الْعَشِیِّ وَہِیَ الْعَصْرُ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَاتَّبَعَہُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَلَحِقَہُ ذُو الْیَدَیْنِ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَوْ نَسِیتَ؟ قَالَ : ((مَا قُصِرَتِ الصَّلاَۃُ وَلاَ نَسِیتُ))۔ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ : ((مَا یَقُولُ ذُو الْیَدَیْنِ؟))۔ فَقَالاَ: صَدَقَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَرَجَعَ وَثَارَ النَّاسُ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٢٩) (ا) معدی بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ شعیث بن مطیر نے اپنے والد سے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ ان کا باپ مطیر اس وقت موجود تھا جب اس نے یہ حدیث مجھے بیان کی کہ اس نے اپنے والد سے کہا : اے ابو جان ! آپ نے مجھے حدیث بیان کی تھی کہ ذوالیدین (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذی خشب مقام میں ملا تھا اور اس نے آپ کو حدیث بیان کی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں زوال آفتاب کی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی تھی، وہ عصر کی نماز تھی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعد میں انھیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے سجدے کیے۔

(ب) ابوہریرہ (رض) کی حدیث بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ ذوالشمالین نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ صحیحین کے شیخین بخاری ومسلم نے ان روایات کو صحیح نہیں کہا ہے جن میں یہ وہم ظاہر ہے اور ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ (رح) کہا کرتے تھے : جو بھی اس طرح کہتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔

پس بیشک ذوالشمالین (رض) کی وفات پہلے ہوئی اور وہ باقی نہیں رہے اور ان سے روایت کرنے والا کوئی نہیں۔
(۳۹۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبِی وَنَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ وَبُنْدَارٌ قَالُوا حَدَّثَنَا مَعْدِیُّ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا شُعَیْثُ بْنُ مُطَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ وَأَبُوہُ مُطَیْرٌ حَاضِرٌ حِینَ حَدَّثَنِی بِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ قَالَ لَہُ: یَا أَبَۃِ حَدَّثْتَنِی أَنَّ ذَا الْیَدَیْنِ لَقِیَکَ بِذِی خُشُبٍ فَحَدَّثَکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی بِہِمْ إِحْدَی صَلاَتَیِ الْعَشِیِّ وَہِیَ الْعَصْرُ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَقَالَ فِیہِ: فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ۔

وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الرُّوَاۃِ فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ ذُو الشِّمَالَیْنِ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ؟ وَشَیْخَا الصَّحِیحَیْنِ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ یُصَحِّحَا شَیْئًا مِنْ تِلْکَ الرِّوَایَاتِ لِمَا فِیہَا مِنْ ہَذَا الْوَہَمِ الظَّاہِرِ ، وَکَانَ شَیْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ یَقُولُ: کُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِکَ فَقَدْ أَخْطَأَ ، فَإِنَّ ذَا الشِّمَالَیْنِ تَقَدَّمَ مَوْتُہُ وَلَمْ یُعْقِبْ وَلَیْسَ لَہُ رَاوٍ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٣٠) ابو سعید بن معلی (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں موجود تھے اور میں نماز پڑھ رہا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھنے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کس چیز نے منع کیا کہ جب میں نے تجھے بلایا تو تم نہیں آئے ؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا کہ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ } [الانفال : ٢٤] اے ایمان والو ! اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔ میں ضرور تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن میں سب سے عظیم سورت سکھاؤں گا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ساتھ چلتا رہا حتیٰ کہ ہم دروازے کے قریب پہنچنے والے تھے تو میں نے دل میں کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول گئے ہوں گے تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد دلایا، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں بات کہی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } [الفاتحۃ : ٢] تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے۔ پھر سورة فاتحہ مکمل پڑھی اور فرمایا : یہ وہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دی گئی۔
(۳۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی سَعِیدِ بْنِ الْمُعَلَّی: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ فِی الْمَسْجِدِ وَأَنَا أُصَلِّی فَدَعَانِی - قَالَ - فَصَلَّیْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُجِیبَنِی حِینَ دَعَوْتُکَ؟ أَمَّا سَمِعْتَ اللَّہَ یَقُولُ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیکُمْ} [الانفال: ۲۴] لأُعَلِّمَنَّکَ أَعْظَمَ سُورَۃٍ فِی الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ))۔ قَالَ: فَمَشَیْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی کِدْنَا أَنْ نَبْلُغَ بَابَ الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ: نَسِیَ فَذَکَّرْتُہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ قُلْتُ کَذَا وَکَذَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : (({الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} [الفاتحۃ: ۲] السَّبْعُ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنُ الْعَظِیمُ الَّذِی أُوتِیتُہُ))۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۴۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) و دیگر کی بھول جانے والی حدیث کے لیے ابن مسعود (رض) کی حدیث جو دورانِ نماز کلام کرنے کے بارے میں ہے کو ناسخ قرار دینا درست نہیں یہ عبداللہ (رض) کی حدیث کے مقدم اور ابوہریرہ (رض) کی حدیث کے متاخر ہونے کی وجہ سے ہے ۔

ابن مسعود (رض) سے تحریمِ کلام کے بارے
(٣٩٣١) (ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے۔ مگر اس میں الفاظ اس طرح ہیں ” قَالَ : دَعَوْتُکَ فَلَمْ تُجِبْنِی قَالَ : کُنْتُ أُصَلِّی “ یعنی اس کے معنیٰ میں روایت بیان کی۔

(ب) اس بات میں اس چیز کی دلیل ہے کہ صحابہ ] کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دینا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ذوالیدین (رض) کے بارے پوچھا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟ تو یہ جواب دینے سے ان کی نماز باطل نہ ہوگی اس لیے کہ حماد بن زید سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انھوں نے اس قصہ میں فرمایا کہ صحابہ ] نے اشارہ کیا تھا۔
(۳۹۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی إِسْنَادِہِ عَنْ عَنْ وَقَالَ : دَعَوْتُکَ فَلَمْ تُجِبْنِی ۔ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّی۔ قَالَ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔

وَفِی ہَذَا دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ جَوَابَ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ سَأَلَہُمْ عَمَّا یَقُولُ ذُو الْیَدَیْنِ لَمْ یُبْطِلْ صَلاَتَہُمْ مَعَ مَا رُوِّینَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ فِی تِلْکَ الْقِصَّۃِ أَنَّہُمْ أَوْمَئُوا۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٢) (ا) سیدنا براء (رض) بیان فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید (رض) کو اہل یمن کی طرف بھیجا کہ وہ انھیں اسلام کی دعوت دیں تو انھوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی بن ابی طالب (رض) کو بھیجا اور انھیں حکم دیا کہ خالد (رض) کو واپس بھیج دیں اور ان کے ساتھ والوں کو بھی سوائے اس شخص کے جو خالد (رض) کے ساتھ ہو اور وہ علی (رض) کے ساتھ بھی ملنا پسند کرے تو اس کو ساتھ ملا لو۔ براء (رض) فرماتے ہیں : میں ان لوگوں میں سے تھا جو علی (رض) کے لشکر میں شامل ہوگئے، جب ہم لوگوں کے قریب پہنچنے لگے تو وہ ہماری طرف نکل آئے۔ سید نا علی (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی اور ہم نے ایک ہی صف بنائی۔ پھر سیدنا علی (رض) ہمارے درمیان سے آگے نکلے اور ان لوگوں کو رسول اللہ کا خط پڑھ کر سنایا۔ ہمدان تو سارے کے سارے اسلام لے آئے۔ حضرت علی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان کے اسلام لانے کی (خوشخبری ) لکھ بھیجی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود پڑھا تو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر فرمایا : ہمدان پر سلام ہو ‘ ہمدان پر سلام ہو۔

(ب) اس حدیث کا ابتدائی حصہ امام بخاری (رح) نے روایت کیا ہے۔ پوری روایت مذکور نہیں ہے اور سجدہ شکرتمام حدیث میں اپنی شرائط پر صحیح ہے۔
(۳۹۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَوْزَجَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ أَبِی السَّفَرِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ أَبُو جَعْفَرٍ الْقَمَّاطُ الْکُوفِیَّانِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ أَبِی السَّفَرِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ یُوسُفَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: بَعَثَ النَّبِیُّ -ﷺ- خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ یَدْعُوہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَلَمْ یُجِیبُوہُ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ، وَأَمَرَہُ أَنْ یُقْفِلَ خَالِدًا وَمَنْ کَانَ مَعَہُ إِلاَّ رَجُلٌ مِمَنْ کَانَ مَعَ خَالِدٍ أَحَبَّ أَنْ یُعَقِّبَ مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلْیُعَقِّبْ مَعَہُ۔

قَالَ الْبَرَائُ: فَکُنْتُ مِمَنْ عَقَّبَ مَعَہُ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ خَرَجُوا إِلَیْنَا فَصَلَّی بِنَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَصَفَّنَا صَفًّا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَقَدَّمَ بَیْنَ أَیْدِینَا فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ کِتَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَسْلَمَتْ ہَمْدَانُ جَمِیعًا فَکَتَبَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِإِسْلاَمِہِمْ ، فَلَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْکِتَابَ خَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : ((السَّلاَمُ عَلَی ہَمْدَانَ ، السَّلاَمُ عَلَی ہَمْدَانَ))۔

أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ صَدْرَ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ مَسْلَمَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ یُوسُفَ وَلَمْ یَسُقْہُ بِتَمَامِہِ ، وَسُجُودُ الشُّکْرِ فِی تَمَامِ الْحَدِیثِ صَحِیحٌ عَلَی شَرْطِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٣) عبد الرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک ] سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں نے کعب بن مالک (رض) سے ان کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والا واقعہ سنا، وہ طویل حدیث بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارا بائیکاٹ کروایا تھا، اس وقت سے اب تک پچاس دن پورے ہوگئے۔ پچاسویں رات کی صبح جب میں نے فجر کی نماز پڑھی اور میں اپنے کسی گھر کی چھت پر تھا اور ایسی حالت میں بیٹھا تھا جس کا اللہ نے ہمارے بارے میں ذکر کیا کہ اپنی جان بھی تنگ پڑگئی اور زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی تھی کہ میں نے ایک پکار نے والے کو سنا جس کی آواز سلع پہاڑ تک سنائی دے رہی تھی کہ اے کعب بن مالک ! تجھے خوشخبری ہو۔ میں وہیں سجدہ ریز ہوگیا اور میں سمجھ گیا کہ میرے لیے خلاصی آچکی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے بعد ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کیا ہوگا۔ لوگ ہمیں خوشخبریاں دینے لگے اور میرے دوساتھیوں کی طرف بھی گئے، میرے پاس ایک شخص خوشخبری لے کر پہنچا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کوشش کر کے پہاڑ پر پہنچا اور گھوڑے کی آواز سے بھی تیز آواز آرہی تھی۔ جب وہ شخص جس کی بشارت کی آواز میں سن چکا تھا میرے پاس آیا تو میں نے اپنے کپڑے جو پہنے ہوئے تھے دونوں اتار کر اس خوشخبری سنانے والے کو پہنا دیے۔ اللہ کی قسم ! اس دن میں ان دو کپڑوں کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہ تھا، پھر میں نے عارضی طور پر کسی سے دو کپڑے لیے، انھیں پہن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور مکمل حدیث ذکر کی۔
(۳۹۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ قَائِدَ کَعْبٍ حِینَ عَمِیَ مِنْ بَیْتِہِ قَالَ: سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ إِلَی أَنْ قَالَ: حَتَّی کَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَیْلَۃً مِنْ حِینَ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ کَلاَمِنَا ، فَلَمَّا صَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِینَ لَیْلَۃً ، وَأَنَا عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِنَا ، فَبَیْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَکَرَ اللَّہُ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِی ، وَضَاقَتْ عَلَیَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلِ سَلْعٍ: یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ۔ قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ وَآذَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی صَلاَۃَ الْفَجْرِ ، فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُونَنَا وَذَہَبَ قِبَلَ صَاحِبَیَّ مُبَشِّرُونَ ، وَرَکَضَ رَجُلٌ إِلَیَّ فَرَحًا ، وَسَعَی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَی عَلَی الْجَبَلِ ، فَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ إِلَیَّ مِنَ الْفَرَسِ ، فَلَمَّا جَائَ نِی الَّذِی سَمِعْتُ صَوْتَہُ یُبَشِّرُنِی نَزَعْتُ ثَوْبَیَّ فَکَسَوْتُہُمَا إِیَّاہُ بِبُشْرَاہُ ، وَاللَّہِ مَا أَمْلِکُ غَیْرَہُمَا یَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ ، فَلَبِسْتُہُمَا وَانْطَلَقْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۴۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٤) حضرت ابو بکرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی خوشخبری آتی یا آپ کو کوئی خوشی ملتی تو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے۔
(۳۹۳۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِیمٍ الْقَنْطَرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ: مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ قَالُوا کُلُّہُمْ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا أَتَاہُ أَمْرٌ یَسُرُّہُ أَوْ سُرَّ بِہِ خَرَّ سَاجِدًا شُکْرًا لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۷۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٥) عامر بن سعد (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ سے مدینہ کو جا رہے تھے۔ جب آپ عزور مقام پر پہنچے تو سواری سے نیچے اترے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر بارگاہِ الٰہی میں کچھ دیر دعا ومناجات کی۔ پھر سجدے میں گرپڑے اور کافی دیر تک سجدے میں رہے ، پھر کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ کچھ دیر کے لیے اٹھائے۔ اس کے بعد پھر سجدہ ریز ہوگئے۔ احمد نے اس کو تین بار ذکر کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے اور اپنی امت کے لیے سفارش کی ہے تو اللہ نے ایک تہائی امت کے حق میں سفارش قبول کی، میں پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگیا، جب میں نے سر اٹھایا اور اللہ سے اپنی امت کے لیے شفاعت کی درخواست کی تو اللہ نے پھر ایک تہائی امت دے دی۔ میں پھر اپنے رب کے حضور سجدے میں گرگیا۔ پھر میں کھڑا ہوا اور اپنے رب سے اپنی امت کی خاطر سوال کیا تو اللہ نے مجھے ایک تہائی اور عطا فرما دیا میں اپنے رب کے حضور شکر کرتے ہوئے سجدے میں گرگیا۔
(۳۹۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ یَعْقُوبَ عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَہُوَ یَحْیَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ - عَنْ أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ مَکَّۃَ نُرِیدُ الْمَدِینَۃَ ، فَلَمَّا کَانَ قَرِیبًا مِنْ عَزْوَرَ نَزَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَدَعَا اللَّہَ سَاعَۃً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَکَثَ طَوِیلاً ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ سَاعَۃً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا ، ذَکَرَہُ أَحْمَدُ ثَلاَثًا۔ قَالَ : إِنِّی سَأَلْتُ رَبِّی وَشَفَعْتُ لأُمَّتِی ، فَأَعْطَانِی ثُلُثَ أُمَّتِی ، فَخَرَرْتُ لِرَبِّی سَاجِدًا شُکْرًا ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِی ، فَسَأَلْتُ رَبِّی لأُمَّتِی فَأَعْطَانِی ثُلُثَ أُمَّتِی ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّی شُکْرًا ، ثُمَّ قُمْتُ فَسَأَلْتُ رَبِّی لأُمَّتِی فَأَعْطَانِی الثُّلُثَ الآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّی عَزَّوَجَلَّ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَحِمَہُ اللَّہُ: أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَہُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِینَ حَدَّثَنَا بِہِ فَحَدَّثَنِی بِہِ عَنْہُ مُوسَی بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِیُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۷۷۵]
tahqiq

তাহকীক: