আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৯৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٦) عبد الرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے باہر نکل رہے ہیں تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چلنے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا پتہ نہ چلا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجوروں کے باغ میں داخل ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ رخ ہو کر سجدہ کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑا تھا۔ حتیٰ کہ میں نے سمجھا شاید اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی ہو۔ میں چلتا ہوا آپ کے پاس آگیا ۔ میں نے اپنے سر کو جھکایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : اے عبد الرحمن ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے جب سجدے کو لمبا کیا تو مجھے خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فوت نہ کردیا ہو تو میں دیکھنے آیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نے مجھے باغ میں داخل ہوتے دیکھا اس وقت میں جبرائیل (علیہ السلام) سے ملا، انھوں نے کہا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھتا ہے میں اس پر رحمت بھیجتا ہوں۔
(۳۹۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَبِی وَشُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ عَمْرٍو یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَاتَّبَعْتُہُ أَمْشِی وَرَاَئَ ہُ ، وَلاَ یَشْعُرُ بِی حَتَّی دَخَلَ نَخْلاً ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَائَ ہُ ، حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی تَوَفَّاہُ ، فَأَقْبَلْتُ أَمْشِی حَتَّی جِئْتُہُ ، فَطَأْطَأْتُ رَأْسِی أَنْظُرُ فِی وَجْہِہِ ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ : مَا لَکَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ ۔ فَقُلْتُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ یَا رَسُولَ اللَّہِ خَشِیتُ أَنْ یَکُونَ اللَّہُ قَدْ تَوَفَّی نَفْسَکَ ، فَجِئْتُ أَنْظُرُ۔ فَقَالَ : إِنِّی لَمَّا رَأَیْتَنِی دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِیتُ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ: أُبَشِّرُکَ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ مَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، وَمَنْ صَلَّی عَلَیْکَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٧) عبد الرحمن بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : میں جبرائیل (علیہ السلام) کو ملا، انھوں نے مجھے بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پروردگار فرماتا ہے : جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتا ہے، میں اس پر رحمت نازل کرتا ہوں اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلام بھیجتا ہوں تو میں نے اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لایا۔

(ب) اس مسئلہ میں جابر بن عبداللہ ‘ جریر بن عبداللہ بن عمر ‘ انس بن مالک اور ابو جحیفہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایات نقل کرتے ہیں، لیکن ہم نے جو ذکر کردی ہیں وہ ضعیف روایات کو ذکر کرنے سے کافی ہیں۔
(۳۹۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ أَبِی عَمْرٍو عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنِّی لَقِیتُ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَبَشَّرَنِی وَقَالَ: إِنَّ رَبَّکَ یَقُولُ لَکَ: مَنْ صَلَّی عَلَیْکَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَسَجَدْتُ لِلَّہِ شُکْرًا))۔

وَفِی الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَجَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَأَبِی جُحَیْفَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ عَنْ رِوَایَۃِ الضُّعَفَائِ ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۱/۷۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٨) محمد بن علی (رض) بیان کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چھوٹے قد والا آدمی دیکھا، جسے چھوٹا سا کان کٹا کہا جاتا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے حضور سجدہ میں گرگئے، پھر فرمایا : میں اللہ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔
(۳۹۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی جَابِرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً نُغَاشِیًّا یُقَالُ لَہُ زُنَیْمٌ قَصِیرٌ، فَخَرَّ النَّبِیُّ -ﷺ- سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ: ((أَسْأَلُ اللَّہَ الْعَافِیَۃَ))۔

وَہَذَا مُنْقَطِعٌ وَرِوَایَۃُ جَابِرٍ الْجُعْفِیِّ وَلَکِنْ لَہُ شَاہِدٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ۔ [ضعیف جداً۔ مابر العجمی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٣٩) (ا) عرفج بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا جو اپاہج تھا (یا دائمی مریض تھا) تو آپ سجدے میں گرگئے۔

(ب) محمد بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کے پاس جب فتح کی خوشخبری آتی تو سجدہ کرتے۔ عمر (رض) کے پاس آتی تو وہ بھی سجدہ کرتے یا کسی اپاہج یا معذور کو دیکھتے تو سجدہ کرتے۔
(۳۹۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ

عَنْ عَرْفَجَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَبْصَرَ رَجُلاً بِہِ زَمَانَۃٌ فَسَجَدَ۔

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ: وَأَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَاہُ فَتْحٌ فَسَجَدَ ، وَأَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَاہُ فَتْحٌ أَوْ أَبْصَرَ رَجُلاً بِہِ زَمَانَۃٌ فَسَجَدَ۔ یُقَالُ ہَذَا عَرْفَجَۃُ السُّلَمِیُّ، وَلاَ یَرَوْنَ لَہُ صُحْبَۃً فَیَکُونُ مُرْسَلاً شَاہِدًا لِمَا تَقَدَّمَ۔

وَقِیلَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ أَبِی عَوْنٍ: مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً ثُمَّ عَنْہُ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٤٠) ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس یمامہ کی فتح کی خوشخبری آئی تو انھوں نے سجدہ کیا۔
(۳۹۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِی عَوْنٍ عَنْ رَجُلٍ: أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا أَتَاہُ فَتْحُ الْیَمَامَۃِ سَجَدَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان
(٣٩٤١) مالک بن حارث (رض) بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی (رض) کا ساتھی تھا انھوں نے فرمایا مخدج کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اس کو کہیں نہ پایا تو پیشانی سے پسینہ بہنے لگا اور وہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ میں جھٹلایا گیا تو انھوں نے اس کو آپ کی پنڈلیوں سے نکالا، آپ نے سجدہ شکر کیا۔
(۳۹۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ أَبُو مُوسَی یَعْنِی مَالِکَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عَلِیٍّ فَقَالَ اطْلُبُوہُ یَعْنِی الْمُخْدَجَ ، فَلَمْ یَجِدُوہُ فَجَعَلَ یَعْرَقُ جَبِینُہُ وَیَقُولُ: وَاللَّہِ مَا کَذَبْتُ وَلاَ کُذِبْتُ۔ فَاسْتَخْرَجُوہَ مِنْ سَاقَیْہِ فَسَجَدَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔ رسول اللہ نے اس کی وضاحت ان احادیث میں کردی ہے جو آرہی ہیں۔
(٣٩٤٢) ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے تو ایک اور شخص بھی مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے نماز پڑھی ، پھر آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا : آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : جاؤ نماز پڑھوتم نے نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح تین بار کہا۔ اس شخص نے کہا : اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ آپ مجھے بتلا دیں اور سکھا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ، پھر قرآن سے جو تجھے صحیح یاد ہو پڑھ، پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کر اس کے بعد سر اٹھا حتیٰ کہ تو سیدھا کھڑ ہوجائے ۔ پھر انتہائی اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا۔ اسی طرح اپنی پوری نماز میں کر۔
(۳۹۴۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی ، ثُمَّ جَائَ وَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ حَتَّی فَعَلَ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَیْرَ ہَذَا ، فَأَرِنِی وَعَلِّمْنِی۔ قَالَ : ((إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ کَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَیَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِی صَلاَتِکَ کُلِّہَا))۔

لَفْظُ حَدِیثِ الْقَاضِی رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ یَحْیَی۔[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۷۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔ رسول اللہ نے اس کی وضاحت ان احادیث میں کردی ہے جو آرہی ہیں۔
(٣٩٤٣) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ نماز کے بعد اس نے آ کر آپ کو سلام کہا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : لوٹ جادو بارہ نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ لوٹ گیا اور نماز پڑھی پھر آیا اور سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر وہی الفاظ فرمائے۔ جب تیسری بار آپ نے اسے واپس بھیجا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے سکھلا دیجیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بتایا : جب نماز کے لیے کھڑا ہونے لگے تو پہلے اچھی طرح وضو کرلیا کر پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ اس کے بعد جو قرآن آسانی سے تجھے یاد ہو وہ پڑھ، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ رکوع کر، پھر رکوع سے سر اٹھا کر اطمینان سے سیدھا کھڑا ہوجا، پھر انتہائی اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر برابر ہو کر اطمینان سے بیٹھ جا، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کر، پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کر۔

(ب) صحیح مسلم میں دوسری مرتبہ یہ الفاظ نہیں ہیں ” ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِیَ قَائِمًا “

(ج) اس حدیث کو انس بن عیاض (رض) نے عبید اللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے : جب تو اس طرح نماز ادا کرے گا تو تیری نماز مکمل ہوگی، اگر اس میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ تیری نماز میں کمی ہوگی اور اس میں یہ بھی ہے : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کرلیا کر۔
(۳۹۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ عَبْدَانُ الْجَوَالِیقِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ فَجَائَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : ((وَعَلَیْکَ ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّی ، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ : ((وَعَلَیْکَ ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ فِی الثَّالِثَۃِ: فَعَلِّمْنِی یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ لَہُ : ((إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوئَ ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَیَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَکَ حَتَّی تَطْمَئِنَّ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِیَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِیَ قَائِمًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِی صَلاَتِکَ کُلِّہَا))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ بِہَذَا اللَّفْظِ

وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَثْبُتْ عَنْہُ مَا أَثْبَتَہُ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ مِنْ قَوْلِہِ ثَانِیًا : ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِیَ قَائِمًا ۔

وَلَمْ یَحْفَظْہُ أَیْضًا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ عَنْ عَبْدَانَ

وَتِلْکَ زِیَادَۃٌ مَحْفُوظَۃٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔

وَرَوَاہُ أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَزَادَ فِی آخِرِہِ : فَإِذَا فَعَلْتَ ہَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُکَ ، وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْ ہَذَا فَإِنَّمَا انْتَقَصْتَہُ مِنْ صَلاَتِکَ ۔ وَقَالَ فِیہِ : إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوئَ ۔ وَلَمْ یُثْبِتْ مَا أَثْبَتَہُ أَبُو أُسَامَۃَ فِی آخِرِ الْحَدِیثِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۲۵۱، أخرجہ مسلم ۳۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔ رسول اللہ نے اس کی وضاحت ان احادیث میں کردی ہے جو آرہی ہیں۔
(٣٩٤٤) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے۔
(۳۹۴۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم بنجوہ فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔ رسول اللہ نے اس کی وضاحت ان احادیث میں کردی ہے جو آرہی ہیں۔
(٣٩٤٥) رفاعہ بن رافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز کو غور سے دیکھتے رہے، ہمیں معلوم نہیں تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے رسول اللہ کو سلام کہا، آپ نے اسے فرمایا : جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ وہ واپس پلٹا پھر جا کر دوبارہ نماز پڑھی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر سلام عرض کیا، آپ نے اسے کہا کہ جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ دو مرتبہ یا تین مرتبہ اس طرح ہوا تو اس شخص نے عرض کیا : اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو عزتوں سے نوازا ہے اے اللہ کے رسول ! میں کوشش کرچکا ہوں اب آپ مجھے سکھلا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ پھر قرات کر، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کر پھر رکوع سے سیدھا کھڑا ہوجا پھر اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے اٹھ کر اطمینان سے برابر ہو کر بیٹھ جا۔ اس کے بعد دوسرا سجدہ اطمینان کے ساتھ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا، پھر اسی طرح کر حتیٰ کہ تو نماز سے فارغ ہوجائے۔
(۳۹۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی مِنْ آلِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمٍّ لَہُ بَدْرِیٍّ أَنَّہُ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَرْمُقُہُ وَنَحْنُ لاَ نَشْعُرُ ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ ، فَسَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ ۔ فَرَجَعَ فَصَلَّی ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : ((ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ: وَالَّذِی أَکْرَمَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ جَہِدْتُ فَعَلِّمْنِی۔ فَقَالَ لَہُ : ((إِذَا قُمْتَ تُرِیدُ الصَّلاَۃَ فَتَوَضَّأْ ، وَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْکَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ فَاطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ حَتَّی تَفْرُغَ مِنْ صَلاَتِکَ ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدارمی ۱۳۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ کام جن کے بغیر نماز نامکمل ہے۔ رسول اللہ نے اس کی وضاحت ان احادیث میں کردی ہے جو آرہی ہیں۔
(٣٩٤٦) علی بن یحییٰ زرقی (رح) اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، ان کے چچا بدری صحابی تھے، فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک مسجد میں ایک شخص داخل ہوا۔ اس نے مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھی۔۔۔ انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر کھڑا ہو کر قبلے کی طرف منہ کرلے اور دوسرے سجدے کے بارے میں فرمایا : پھر انتہائی اطمینان کے ساتھ سجدہ کر۔ جب تو اس طرح کرے گا تیری نماز مکمل ہوجائے گی اور اگر اس سے کوئی کمی کرے گا تو گویا تو اپنی نماز میں کوتاہی کررہا ہے۔
(۳۹۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی الزُّرَقِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمِّہِ وَکَانَ بَدْرِیًّا أَنَّہُ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ ، فَقَامَ فِی نَاحِیَۃٍ مِنْہُ یُصَلِّی، وَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ مِنَ الزِّیَادَۃِ : ((ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ۔ وَقَالَ فِی السُّجُودِ الثَّانِی: ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِکَ فَقَدْ قَضَیْتَ صَلاَتَکَ، وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِکَ فَإِنَّمَا تَنْتَقِصُ مِنْ صَلاَتِکَ))۔

رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمِّہِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ۔

وَکَذَلِکَ قَالَہُ دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدٍ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی مِنْ رِوَایَۃِ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی عَنْہُ۔

وَقَصَّرَ بِہِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فَقَالَ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدٍ عَنْ عَمِّہِ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدٍ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ۔

وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ مَنْ تَقَدَّمَ۔

وَافَقَہُمْ إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ۔

وَقَصَّرَ بَعْضُ الرُّوَاۃِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بِنَسَبِ یَحْیَی وَبَعْضُہُمْ بِإِسْنَادِہِ۔

فَالْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ حَفِظَ وَالرِّوَایَۃُ الَّتِی ذَکَرْنَاہَا بِسِیَاقِہَا مُوَافَقَۃٌ لِلْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ ، وَإِنْ کَانَ بَعْضُ ہَؤُلاَئِ یَزِیدُ فِی أَلْفَاظِہَا وَیَنْقُصُ۔

وَلَیْسَ فِی ہَذَا الْبَابِ حَدِیثٌ أَصَحُّ مِنْ حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
(٣٩٤٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تھے کہ آپ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جب وہ آدمی نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر سلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وعلیک السلام جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس پلٹا دوبارہ نماز پڑھی، پھر آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اسی طرح فرمایا۔ اس شخص نے دو یا تین بار نماز پڑھی پھر بولا : اے اللہ کے رسول ! میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا جس طرح کی آپ دیکھ رہے ہیں، لہٰذا آپ مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز پڑھوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر پھر تکبیر کہہ، جب تو سیدھا کھڑا ہو تو سورة فاتحہ پڑھ۔ پھر جو قرآن تجھے یاد ہو وہ پڑھ، پھر انتہائی اطمینان کے ساتھ رکوع کر۔ اس کے بعد رکوع سے سر اٹھا کر بالکل سیدھا کھڑا ہوجا اور سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہہ، پھر نہایت اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا اطمینان سے بیٹھ جا پھر اسی طرح اپنی مکمل نماز میں کر۔
(۳۹۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَأَی رَجُلاً یُصَلِّی یَوْمًا وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ))۔ فَرَجَعَ فَصَلَّی ، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ ، قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّی مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُولُ اللَّہِ مَا أُحْسِنُ غَیْرَ مَا تَرَی ، فَعَلِّمْنِی کَیْفَ أَصَلِّی؟ فَقَالَ لَہُ : ((إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوئَ ثُمَّ کَبِّرْ ، فَإِذَا اسْتَوَیْتَ قَائِمًا قَرَأْتَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ قَرَأْتَ بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ رَکَعْتَ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَکَ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، وَتَقُولُ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، ثُمَّ تَسْجُدُ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَکَ حَتَّی تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا ، ثُمَّ تَفْعَلُ ذَلِکَ فِی صَلاَتِکَ کُلِّہَا))۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۳۹۴۲۔ ۳۹۴۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
(٣٩٤٨) یحییٰ بن خلاد (رض) زرقی فرماتے ہیں : مجھے میرے والد نے اپنے بدری چچا سے روایت بیان کی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو فرمایا : جب تو اس طرح کر کے اپنی نماز مکمل کرے تو تو نے نماز مکمل کرلی اور اس سے جو بھی تو کمی کرے گا تو تیری نماز میں کمی ہی ہوگی۔
(۳۹۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرٌ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ الْمَدَنِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدٍ الزُّرَقِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَمٍّ لَہُ بَدْرِیٍّ: أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ۔ قَالَ ثُمَّ ذَکَرَ ہَذَا وَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلاَتَکَ عَلَی نَحْوِ ہَذَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُکَ ، وَمَا نَقَصْتَ مِنْ ہَذَا فَإِنَّمَا تَنْقُصُہُ مِنْ صَلاَتِکِ))۔

أَحَالَ ابْنُ وَہْبٍ بِہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَلَی مَا مَضَی وَرَوَاہُ غَیْرُ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ فَلَمْ یُثْبِتْ تَعْیِینَ الْقِرَائَ ۃِ۔

وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ فَسَاقَ الْحَدِیثَ وَذَکَرَ فِیہِ قِرَائَ ۃَ أُمِّ الْقُرْآنِ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۳۹۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
( ٣٩٤٩) رفاعہ بن رافع (رض) اس قصہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ پھر ام القرآن اور جو اللہ چاہے پڑھ۔ جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ اور اپنی کمر کو لمبا برابر کر دے اور جب تو سجدہ کرے تو اچھی طرح سجدہ کر اور جب سجدے سے سر اٹھائے تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ۔
(۳۹۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدٍ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ قَالَ : ((إِذَا قُمْتَ فَتَوَجَّہْتَ إِلَی الْقِبْلَۃِ فَکَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَائَ اللَّہُ أَنْ تَقْرَأَ ، وَإِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَیْکَ عَلَی رُکْبَتَیْکَ، وَامْدُدْ ظَہْرَکَ۔ وَقَالَ: إِذَا سَجَدْتَ فَمَکِّنْ لِسُجُودِکَ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَاقْعُدْ عَلَی فَخِذِکَ الْیُسْرَی))۔

[صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
(٣٩٥٠) عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے سورة فاتحہ اور اس سے کچھ زیادہ نہ پڑھا۔
(۳۹۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا))

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۷۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
(٣٩٥١) ابن شھاب (رض) سے روایت ہے کہ وہ مجموعہ بن ربیع (رض) جن کے چہرے پر انہی کے کنویں کے پانی سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلی کی تھی۔ عباد ۃ بن صامت (رض) نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس نے سورة فاتحہ نہ پڑھی۔
(۳۹۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ جَبَلَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِیُّ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِیعِ الَّذِی مَجَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی وَجْہِہِ مِنْ بِئْرِہِمْ أَخْبَرَہُ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْحُلْوَانِیِّ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [منکر۔ وقد تقدم تفصیل ذالک فی رقم ۲۹۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
(٣٩٥٢) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے ، ناقص ہے۔ ابو سائب (رح) فرماتے ہیں : میں نے ابوہریرہ سے کہا : میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انھوں نے میرے بازو کو پکڑ کر فرمایا : اے فارسی ! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کرلیا ہے اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا۔ جب بندہ کہتا ہے : { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی۔ جب بندہ کہتا ہے : { الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ جب بندہ کہتا ہے : { مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ } تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری عظمت کی بیان کی۔ جب بندہ کہتا ہے : {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ } اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا۔ جب بندہ کہتا ہے : { اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ } آخر سورت تک۔
(۳۹۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلَیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْقَاضِی مِنْ أَصْلِہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی الْمَاسَرْجِسِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنِ الْعَلاَئِ أَنَّہُ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ أَبِی وَمِنْ أَبِی السَّائِبِ جَمِیعًا وَکَانَا جَلِیسَیْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالاَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی صَلاَۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَہِیَ خِدَاجٌ فَہِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ))۔ قَالَ قُلْتُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ: إِنِّی أَکُونُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِمَامِ فَغَمَزَ ذِرَاعِی وَقَالَ: یَا فَارِسِیُّ اقْرَأْ بِہَا فِی نَفْسِکَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ یَعْنِی : ((یَقُولُ اللَّہُ قَسَمْتُ الصَّلاَۃَ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ، فَنِصْفُہَا لِی وَنِصْفُہَا لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ ، یَقُولُ عَبْدِی {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} یَقُولُ اللَّہُ: حَمِدَنِی عَبْدِی۔ فَیَقُولُ {الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} فَیَقُولُ اللَّہُ: أَثْنَی عَلَیَّ عَبْدِی۔ یَقُولُ عَبْدِی {مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ} یَقُولُ اللَّہُ: مَجَّدَنِی عَبْدِی ، وَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی ، یَقُولُ عَبْدِی {إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ} فَہَذِہِ الآیَۃُ بَیْنِی وَبَیْنَہُ وَآخِرُ السُّورَۃِ لِعَبْدِی ، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ۔ یَقُولُ عَبْدِی {اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ} ۔ إِلَی آخِرِ السُّورَۃِ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْہُمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
(٣٩٥٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں مدینہ میں اعلان کر دوں کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
(۳۹۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَیْمُونٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ أُنَادِیَ فِی الْمَدِینَۃِ أَنَّہُ : لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِقِرَائَ ۃِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد ۲/۴۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ محض قراءت کے متعین ہونے کا بیان ان روایات کے مطابق جو فاتحہ سے متعلق گزر چکی ہیں
(٣٩٥٤) (ا) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابی بن کعب (رض) کے پاس سے گزرے، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے انھیں بلایا : اے ابی ! ادھر آؤ تو ابی نے جلدی جلدی نماز پڑھی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : اے ابی ! تمہیں کیا چیز مانع تھی جب میں نے تمہیں بلایا تم آئے نہیں ؟ کیا تم نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ } [الانفال : ٢٤] اے ایمان والو ! اللہ کی بات مانو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر لبیک کہو جب بھی وہ بلائیں تو ابی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے غلطی کی ہے، آپ جب بھی مجھے بلائیں میں آپ کی پکار پر لبیک کہوں گا، اگرچہ میں نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا : کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے ایک ایسی سورت سکھاؤں جو اللہ نے نہ انجیل میں نازل کی اور نہ توراۃ میں نہ زبور میں ہے اور نہ اس کی مثل بقیہ قرآن میں ہے ؟ ابی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ضرور بتائیے ! آپ نے فرمایا : اس سورت کو سیکھنے سے پہلے مسجد سے نہ نکلنا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلتے چلتے مسجد سے نکلنے لگے، جب نکلنے کے لیے دروازے تک پہنچے تو ابی نے کہا : سورت اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رک گئے ، پھر فرمایا : اچھا ہاں ! تو اپنی نماز میں کیا قرات کرتا ہے ؟ ابی نے ام القرآن کی تلاوت کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس جیسی سورت نہ توراۃ میں اتاری گئی نہ انجیل میں نازل ہوئی نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں اس کی مثل کوئی سورت ہے اور یہ ہی سبع مثانی ہے جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے۔

(ب) ایک دوسری سند سے ابی بن کعب (رض) سے اس کے معنیٰ میں روایت منقول ہے، وہ سورت فاتحہ کے قصہ میں ہے، دورانِ نماز جواب دینے کا قصہ اس کے علاوہ ہے۔
(۳۹۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ: عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی کَثِیرٍ الْمَدَنِیَّ قَالَ حَدَّثَنِی الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی ، فَصَرَخَ بِہِ فَقَالَ : تَعَالَ یَا أُبَیُّ ۔ فَعَجِلَ أُبَیٌّ فِی صَلاَتِہِ ، ثُمَّ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا مَنَعَکَ یَا أُبَیُّ أَنْ تُجِیبَنِی إِذْ دَعَوْتُکَ؟ أَلَیْسَ اللَّہُ تَعَالَی یَقُولُ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ} [الانفال: ۲۴] الآیَۃَ)) قَالَ أُبَیُّ: جُرْمٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ لاَ تَدْعُونِی إِلاَّ أَجَبْتُکَ ، وَإِنْ کُنْتُ مُصَلِّیًا۔ قَالَ : ((تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَکَ سُورَۃً لَمْ یَنْزِلْ فِی التَّوْارَۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیلِ وَلاَ فِی الزَّبُورِ وَلاَ فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا؟))۔ فَقَالَ أُبَیُّ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : ((لاَ تَخْرُجْ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ حَتَّی تَعَلَّمَہَا))۔ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- یَمْشِی یُرِیدُ أَنْ یَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ لِیَخْرُجَ قَالَ لَہُ أُبَیٌّ السُّورَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَوَقَفَ فَقَالَ : ((نَعَمْ ، کَیْفَ تَقْرَأُ فِی صَلاَتِکَ؟)) فَقَرَأَ أُبَیٌّ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا أُنْزِلَ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیلِ وَلاَ فِی الزَّبُورِ وَلاَ فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا ، وَإِنَّہَا لَہِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِی الَّذِی أَتَانِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔

وَرَوَاہُ عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ بِمَعْنَاہُ فِی قِصَّۃِ الْفَاتِحَۃِ دُونَ قِصَّۃِ الإِجَابَۃِ

وَرَوَاہُ جَہْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ

وَخَالَفَہُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ فَرَوَاہُ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَیْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لأُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔

[حسن۔ الا قولہ ام القرآن ہی السبع المثانی والقرآن العظیم فصحیحہ۔اخرجہ الترمذی ۲۸۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ساتھ ملا کر سورة فاتحہ کی سات آیات ہونے کا بیان
(٣٩٥٥) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الحمد للہ ہی ام القرآن ‘ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔
(۳۹۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الْحَافِظُ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : (({الْحَمْدُ لِلَّہِ} أُمُّ الْقُرْآنِ ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنُ الْعَظِیمُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَرَوَاہُ نُوحُ بْنُ أَبِی بِلاَلٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۴۲۷]
tahqiq

তাহকীক: