আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৯৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ساتھ ملا کر سورة فاتحہ کی سات آیات ہونے کا بیان
(٣٩٥٦) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } یعنی سورة فاتحہ سات آیتیں ہیں { بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ } کو ساتھ ملا کر اور یہی سبع مثانی، ام القرآن اور سورة فاتحہ ہے۔
(۳۹۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا الْمُعَافَی بْنُ عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ نُوحِ بْنِ أَبِی بِلاَلٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : (({الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} سَبْعُ آیَاتٍ بِ {بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ} وَہِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِی وَہِیَ أُمُّ الْقُرْآنِ وَفَاتِحَۃُ الْکِتَابِ))۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: ثُمَّ لَقِیتُ نُوحًا فَحَدَّثَنِی بِہِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْقُوفًا غَیْرَ مَرْفُوعٍ

وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَغَیْرِہِمَا مَا دَلَّ عَلَی ذَلِکَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٥٧) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ہمیں قرآن سکھاتے تھے اور فرماتے : ” التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ ۔۔۔“ تمام زبانی برکت والی بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔
(۳۹۵۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ ابْنُ بِنْتِ یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَعَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ ، وَکَانَ یَقُولُ : ((التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ ، سَلاَمٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، سَلاَمٌ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ))۔

لَفْظُ حَدِیثِ عِیسَی رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۴۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٥٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے جس طرح ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے۔
(۳۹۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٥٩) حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔۔۔ انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہ بیٹھے تو سب سے پہلے یہ کہے : ” التحیات۔۔۔ تمام قولی ‘ بدنی ‘ مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور تمام نیک لوگوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۳۹۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُومُحَمَّدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ وَغَیْرُہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِاللَّہِ الرَّقَاشِیِّ: أَنَّ أَبَا مُوسَی صَلَّی بِالنَّاسِ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقُعُودِ فَلْیَقُلْ أَوَّلَ مَا یَتَکَلَّمُ بِہِ: التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الزَّاکِیَّاتِ لِلَّہِ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۴۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٦٠) (ا) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم جب نماز پڑھا کرتے تو ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں ؟ ہم پڑھا کرتے تھے : السلام علی اللہ ‘ السلام علی جبرائیل ‘ السلام علی میکائیل ‘ السلام علی النبیین تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سلام سکھاتے ہوئے فرمایا : بیشک اللہ ہی سلام ہے، جب تم نماز پڑھو تو یوں کہا کرو : ” التحیات للہ۔۔۔“ تمام قولی ‘ بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور تمام نیک لوگوں پر۔

(ب) ابو وائل (رض) اپنی حدیث میں عبداللہ (رض) کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب تو یہ کہے گا تو ہر مقرب فرشتے اور ہر مرسل کو سلام پہنچ جاتا ہے اور ہر نیک بندے کو بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۳۹۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ أَخْبَرَنِی حَمَّادٌ وَمَنْصُورٌ وَالأَعْمَشُ وَأَبُو ہَاشِمٍ وَحُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کُلُّہُمْ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ۔ وَأَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ وَأَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا لاَ نَدْرِی مَا نَقُولُ ، نَقُولُ السَّلاَمُ عَلَی اللَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَی جِبْرِیلَ ، السَّلاَمُ عَلَی مِیکَائِیلَ ، السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّینَ ، فَعَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ ہُوَ السَّلاَمُ ، فَإِذَا صَلَّیْتُمْ فَقُولُوا: التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ))۔

قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِی حَدِیثِہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((فَإِذَا قُلْتَہَا أَصَابَتْ کُلَّ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَنَبِیٍّ مُرْسَلٍ وَعَبْدٍ صَالِحٍ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ))۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۸۰۰/۵۸۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٦١) اس کے علاوہ دوسری سند سے اس کی مثل حدیث منقول ہے۔
(۳۹۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ وَأَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- نَحْوَہُ۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ کَمَا مَضَی۔

[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٦٢) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم تشہد فرض ہونے سے پہلے کہا کرتے تھے : السَّلاَمُ عَلَی اللَّہِ قَبْلَ خَلْقَہِ ۔۔۔ اللہ پر اس کی مخلوق سے پہلے سلام ہو۔ جبرائیل ومیکائیل پر سلام ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں تشہد سکھلائی۔
(۳۹۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَلِیٍّ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ہُوَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ یُفْرَضَ عَلَیْنَا التَّشَہُّدُ: السَّلاَمُ عَلَی اللَّہِ قَبْلَ خَلْقَہِ ، السَّلاَمُ عَلَی جِبْرِیلَ وَمِیکَائِیلَ ، فَعَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- التَّشَہُّدَ۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ صَاعِدٍ عَنِ الْمَخْزُومِیِّ۔[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٦٣) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے : تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
(۳۹۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوأَحْمَدَ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُونَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِی إِسْرَائِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّائُ : یُوسُفُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ وَیَقُولُ : لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِتَشَہُّدٍ ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ صُغْدِیُّ بْنُ سِنَانٍ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ۔ وَہُوَ بِشَوَاہِدِہِ الصَّحِیحَۃِ یَقْوَی بَعْضَ الْقُوَّۃِ۔

[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخری تشہد کے وجوب کا بیان
(٣٩٦٤) (ا) عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ تشہد نماز کو مکمل کرنے والی ہے۔

(ب) عمر بن خطاب (رض) سے ہمیں نقل کیا گیا کہ انھوں نے فرمایا : تشہد کے بغیر نماز جائز نہیں ہے۔
(۳۹۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو وَکِیعٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: التَّشَہُّدُ تَمَامُ الصَّلاَۃِ۔

وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: لاَ تَجُوزُ صَلاَۃٌ إِلاَّ بِتَشَہُّدٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے وجوب کا بیان اس سے متعلق ابو مسعود انصاری ‘ کعب بن عجرہ ‘ ابو سعید خدری اور فضالہ بن عبید ] وغیرہم سے منقول احادیث گزر چکی ہے۔
(٣٩٦٥) ابو مسعود انصاری عقبہ بن عمرو (رض) سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا، ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے ۔ اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم نے سوچا کاش یہ آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال ہی نہ کرتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم مجھ پر درود بھیجو تو کہو ” اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ۔۔۔“ اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیج جو کہ نبیٔ اُمی ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل پر درود بھیج جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی اور محمد نبیٔ اُمی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر برکت نازل کر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل پر بھی جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر برکتیں نازل کیں۔ بیشک تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے۔
(۳۹۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ: أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِی فِی الصَّلاَۃِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ صَلَّی عَلَیْہِ فِی صَلاَتِہِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِیمِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ الأَنْصَارِیِّ أَخِی بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ: عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّی جَلَسَ بَیْنَ یَدَیِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا السَّلاَمُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ ، فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ إِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِی صَلاَتِنَا؟ قَالَ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْأَلْہُ ، ثُمَّ قَالَ : ((إِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ فَقُولُوا: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ ، وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ ، وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ))۔ قَالَ عَلِیٌّ: ہَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۴۰۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے وجوب کا بیان اس سے متعلق ابو مسعود انصاری ‘ کعب بن عجرہ ‘ ابو سعید خدری اور فضالہ بن عبید ] وغیرہم سے منقول احادیث گزر چکی ہے۔
(٣٩٦٦) ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو اس کے بعد یہ پڑھے : ” اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ۔۔۔“ اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آپ کی آل پر درود بھیج اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحم فرما، جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمتیں اور برکتیں نازل کیں اور رحم فرمایا۔ بیشک تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے۔
(۳۹۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((إِذَا تَشَہَّدَ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَقُلْ: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ ، وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ وَبَارَکْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ ، إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ))۔

کَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۱/۴۰۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے وجوب کا بیان اس سے متعلق ابو مسعود انصاری ‘ کعب بن عجرہ ‘ ابو سعید خدری اور فضالہ بن عبید ] وغیرہم سے منقول احادیث گزر چکی ہے۔
(٣٩٦٧) عبد المھیمن بن عباس بن سھل ساعدی فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد سے سنا اور وہ میرے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو وضو نہ کرے اور اس شخص کا وضو ہی نہیں ہوتا جو وضو سے پہلے اللہ کا نام نہ لے اور اس شخص کی نماز ہی نہیں ہوتی جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود نہیں پڑھا۔
(۳۹۶۷) وَرَوَی عَبْدُ الْمُہَیْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلٍ السَّاعِدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی عَنْ جَدِّی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ : ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لاَ وُضُوئَ لَہُ ، وَلاَ وُضُوئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللَّہِ عَلَیْہِ ، وَلاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یُصَلِّ عَلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ-))۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّیُّ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْمُہَیْمِنِ فَذَکَرَہُ۔

وَعَبْدُ الْمُہَیْمِنِ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِرِوَایَاتِہِ۔ وَرُوِیَ فِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ مَرْفُوعًا وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ۔

[ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۵۵۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے وجوب کا بیان اس سے متعلق ابو مسعود انصاری ‘ کعب بن عجرہ ‘ ابو سعید خدری اور فضالہ بن عبید ] وغیرہم سے منقول احادیث گزر چکی ہے۔
(٣٩٦٨) ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں : اگر میں کوئی ایسی نماز پڑھوں جس میں میں نے آل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود نہ پڑھا ہو تو میرا خیال ہوتا ہے کہ میری نماز مکمل نہیں ہوئی۔
(۳۹۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ صَلَّیْتُ صَلاَۃً لاَ أَصَلِّی فِیہَا عَلَی آلِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- لَرَأَیْتُ أَنَّ صَلاَتِی لاَ تَتِمُّ۔

[ضعیف۔ تفردبہ جابر الجعفی وھو ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنے کے وجوب کا بیان اس سے متعلق ابو مسعود انصاری ‘ کعب بن عجرہ ‘ ابو سعید خدری اور فضالہ بن عبید ] وغیرہم سے منقول احادیث گزر چکی ہے۔
(٣٩٦٩) (ا) ابو مسعود بدری بیان فرماتے ہیں : اگر میں ایک نماز بھی ایسی پڑھوں جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود نہ پڑھا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ نماز مکمل نہیں ہوئی۔

(ب) اس حدیث کو روایت کرنے میں جابر جعفی متفرد ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔ اس بارے میں جو احادیث یہاں اور باب صفۃ الصلوٰۃ میں گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔ وباللہ التوفیق۔

(ج) شعبی (رح) کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص تشہد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود نہ پڑھے اسے نماز لوٹا لینی چاہیے یا یہ فرمایا : اس کی نماز کفایت نہ کرے گی۔
(۳۹۶۹) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ خُشَیْشٍ التَّمِیمِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ مُعَاوِیَۃَ الطَّلْحِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُصَیْنٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْجَنَبِیُّ عَنْ شَرِیکٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ جَمِیعًا عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْبَدْرِیِّ قَالَ: لَوْ صَلَّیْتُ صَلاَۃً لاَ أَصَلِّی فِیہَا عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ مَا رَأَیْتُ أَنَّہَا تَتِمُّ۔

تَفَرَّدَ بِہِ جَابِرٌ الْجُعْفِیُّ۔ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ وَفِیمَا مَضَی ہَا ہُنَا وَفِی بَابِ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ کِفَایَۃٌ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُ قَالَ: مَنْ لَمْ یُصَلِّ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فِی التَّشَہُّدِ فَلْیُعِدْ صَلاَتَہُ ، أَوْ قَالَ لاَ تَجْزِی صَلاَتُہُ۔ وَرُوِّینَا مَعْنَاہُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ: مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ۔ [ضعیف۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز سے سلام کے ساتھ حلال ہونے کے وجوب کا بیان
(٣٩٧٠) محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کی کنجی طہارت ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے (یعنی جب تکبیر تحریمہ کہی تو جتنے بھی کام نماز کے منافی تھے وہ حرام ہوگئے) اور ان کا حلال ہونا سلام ہے (یعنی جب سلام پھیرا تو سب افعال جائز ہوگئے) ۔
(۳۹۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُوحُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُورُ، وَإِحْرَامُہَا التَّکْبِیرُ، وَإِحْلاَلُہَا التَّسْلِیمُ))۔ [حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز سے سلام کے ساتھ حلال ہونے کے وجوب کا بیان
(٣٩٧١) ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کی کنجی وضو ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور اس کا حلال ہونا سلام ہے۔
(۳۹۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ أَخْبَرَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الْوُضُوئِ، وَتَحْرِیمُہَا التَّکْبِیرُ، وَتَحْلِیلُہَا التَّسْلِیمُ))۔

تَفَرَّدَ بِہِ أَبُو عُمَرَ الضَّرِیرُ ہَکَذَا فِیمَا زَعَمَ ابْنُ صَاعِدٍ وَکَثِیرٌ مِنَ الْحُفَّاظِ ، وَقَدْ تَابَعَہُ عَلَیْہِ حَبَّانُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ حَسَّانَ فَحَسَّانُ ہُوَ الَّذِی تَفَرَّدَ بِہِ۔ [حسن۔ رواہ ابن ابی شیبۃ فی للصنف ۲۳۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز سے سلام کے ساتھ حلال ہونے کے وجوب کا بیان
(٣٩٧٢) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کی کنجی وضو ہے اور اس کو حرام کرنے والی چیز تکبیر ہے اور اس کو حلال کرنے والی چیز سلام ہے۔
(۳۹۷۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ أَبِی الدُّمَیْکِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ الْعَیْشِیُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الْوُضُوئُ ، وَالتَّکْبِیرُ تَحْرِیمُہَا ، وَالتَّسْلِیمُ تَحْلِیلُہَا))۔

ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ: طَرِیفٍ السَّعْدِیِّ ، وَحَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ یَدُورُ عَلَیْہِ۔

[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الترمذی ۲۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز سے سلام کے ساتھ حلال ہونے کے وجوب کا بیان
(٣٩٧٣) ابو سعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کا حلال ہونا سلام پھیرنا ہے اور ہر دو رکعتوں میں سلام ہے اور نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک کہ سورة فاتحہ اور اس کے علاوہ کچھ اور بھی پڑھا جائے۔

ابو عبد الرحمن کہتے ہیں : میں نے ابوحنیفہ سے پوچھا کہ ” دو رکعتوں میں سلام ہے “ سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے فرمایا : وہ تشہد مراد لیتے تھے۔
(۳۹۷۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی الْمُقْرِئَ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْوُضُوئُ مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ ، وَالتَّکْبِیرُ تَحْرِیمُہَا ، وَالتَّسْلِیمُ تَحْلِیلُہَا ، وَفِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ تَسْلِیمٌ ، وَلاَ تُجْزِئُ صَلاَۃٌ إِلاَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَمَعَہَا غَیْرُہَا))۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ لأَبِی حَنِیفَۃَ: مَا یَعْنِی فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ تَسْلِیمٌ؟ قَالَ: یَعْنِی التَّشَہُّدَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ولہ شاھد رواہ الطبرانی فی مسند الشامین ۲/۲۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز سے سلام کے ساتھ حلال ہونے کے وجوب کا بیان
(٣٩٧٤) عطاء بن ابی رباح (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنی نماز کے آخر میں قعدہ کرتے تو تشہد سے پہلے لوگوں کی طرف اپنا رخ انور کرتے اور یہ سلام کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
(۳۹۷۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَعَدَ فِی آخِرِ صَلاَتِہِ قَبْلَ التَّشَہُّدِ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ بِوَجْہِہِ ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ التَّسْلِیمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اچھی طرح قرآن نہ پڑھ سکتا ہو تو قرات کے قائم مقام ذکر کرسکتا ہے
(٣٩٧٥) (ا) رفاعہ بن رافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔۔ انھوں نے اس شخص کی نماز کا قصہ بیان کیا۔ اس میں ہے کہ جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو سکھایا یہ ہے کہ ” جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس طرح وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے۔ پھر تشہد پڑھ ، پھر کھڑا ہوجا اور تکبیر کہہ، اگر تجھے قرآن یاد ہو تو وہ پڑھ لے ور نہ اللہ کی حمد اور اس کی بڑائی بیان کر اور لا الہ الا اللّٰہ پڑھ۔

(ب) اس کے آخر میں ہے کہ اگر تو اس سے کچھ بھی کمی کرے تو وہ تیری نماز میں کمی ہوگی۔
(۳۹۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ عَلِیِّ بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَصَّ یَعْنِی حَدِیثَ الرَّجُلِ الَّذِی صَلَّی ، وَقَالَ فِیمَا عَلَّمَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِذَا قُمْتَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَتَوَضَّأْ کَمَا أَمَرَکَ اللَّہُ ، ثُمَّ تَشَہَّدْ فَأَقِمْ ، ثُمَّ کَبِّرْ ، فَإِنْ کَانَ مَعَکَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ بِہِ ، وَإِلاَّ فَاحْمَدِ اللَّہَ وَکَبِّرْہُ ، وَہَلِّلْہُ))۔

وَقَالَ فِی آخِرِہِ : ((وَإِنِ انْتَقَصْتَ مِنْہُ شَیْئًا انْتَقَصْتَ مِنْ صَلاَتِکَ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۸۶۱]
tahqiq

তাহকীক: