আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৩৯৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اچھی طرح قرآن نہ پڑھ سکتا ہو تو قرات کے قائم مقام ذکر کرسکتا ہے
(٣٩٧٦) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے۔
(۳۹۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِیسَی: مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی التِّرْمِذِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیِّ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الترمذی ۳۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اچھی طرح قرآن نہ پڑھ سکتا ہو تو قرات کے قائم مقام ذکر کرسکتا ہے
(٣٩٧٧) عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : میں قرآن کو اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا ، مجھے کوئی ایسی چیز سکھلا دیں جو مجھے قرآن سے کفایت کر جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الْحَمْدُ لِلَّہِ وَسُبْحَانَ اللَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ پڑھا کر ۔ جب اس نے ان پر گرہ لگائی تو بولا : اے اللہ کے رسول ! یہ تو میرے رب کے لیے ہے میں اپنے لیے کیا کہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہہ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی وَعَافِنِی ” اے اللہ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما ‘ مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر اور مجھے عافیت دے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس نے ان کلمات کو بھی یاد کرلیا، پھر چلا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر سے بھر لیا ہے۔
(۳۹۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ الْبَرْجَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ السَّکْسَکِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: إِنِّی لاَ أُحْسِنُ الْقُرْآنَ ، فَعَلِّمْنِی شَیْئًا یُجْزِینِی مِنَ الْقُرْآنِ۔ قَالَ : ((الْحَمْدُ لِلَّہِ وَسُبْحَانَ اللَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ))۔ فَلَمَّا عَقَدَ عَلَیْہِنَّ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذِہِ لِرَبِّی ، فَمَاذَا أَقُولُ لِنَفْسِی؟ قَالَ : ((قُلِ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی وَعَافِنِی))۔ قَالَ: فَقَبَضَ عَلَیْہِنَّ ثُمَّ وَلَّی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((قَدْ مَلأَ ہَذَا یَدَیْہِ مِنَ الْخَیْرِ))۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الطیالسی ۸۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اچھی طرح قرآن نہ پڑھ سکتا ہو تو قرات کے قائم مقام ذکر کرسکتا ہے
(٣٩٧٨) ابن ابی اوفی (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : میں قرآن سے کچھ بھی یاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مجھے ایسی کوئی چیز سکھلا دیں جو مجھے قرآن سے کفایت کر جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحْمُدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ راوی فرماتے ہیں کہ وہ کھڑا ہوا اور چلا گیا یا اس طرح کا کوئی اور کام کیا اور کہا : یہ تو اللہ کے لیے ہے میرے لیے کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہہ ” اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے عافیت عطا کر اور مجھے رزق عطا کر۔ “
(۳۹۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَسَنٍ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ السَّکْسَکِیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفَی قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی لاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْئًا ، فَعَلِّمْنِی مَا یَجْزِینِی مِنَ الْقُرْآنِ۔ قَالَ : ((سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحْمُدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ))۔ قَالَ: فَقَامَ أَوْ ذَہَبَ أَوْ نَحْوَ ہَذَا فَقَالَ: ہَذَا لِلَّہِ فَمَا لِی؟ قَالَ : ((قُلِ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَارْزُقْنِی))۔
قَالَ مِسْعَرٌ: وَرُبَّمَا اسْتَفْہَمْتُ بَعْضَہُ مِنْ أَبِی خَالِدٍ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی خَالِدٍ: یَزِیدُ الدَّالاَنِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔ [حسن لغیرہٖ۔ وانظر ما قبلہ]
قَالَ مِسْعَرٌ: وَرُبَّمَا اسْتَفْہَمْتُ بَعْضَہُ مِنْ أَبِی خَالِدٍ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی خَالِدٍ: یَزِیدُ الدَّالاَنِیُّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔ [حسن لغیرہٖ۔ وانظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آدمی اچھی طرح قرآن نہ پڑھ سکتا ہو تو قرات کے قائم مقام ذکر کرسکتا ہے
(٣٩٧٩) ابن ابی اوفیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں قرآن کو اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا، مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو مجھے اس سے کفایت کر جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہہ سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحْمُدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ ۔ وہ چلا گیا پھر لوٹ کر آیا تو اس نے کہا : یہ تو میرے رب کے لیے ہے، میرے لیے کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہہ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی ، وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی ، وَعَافِنِی وَاعْفُ عَنِّی۔۔۔ اے اللہ ! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت ورزق عطا فرما، مجھے عافیت عطا فرما اور مجھ سے درگزر فرما۔ جب وہ شخص چلا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر سے بھر لیا ہے۔
(۳۹۷۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوہْیَارَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَزِیدَ الْوَاسِطِیِّ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفَی قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لاَ أُحْسِنُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ ، فَعَلِّمْنِی مَا یَجْزِینِی مِنْہُ۔ قَالَ : ((قُلْ سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحْمُدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ))۔ فَذَہَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: ہَؤُلاَئِ لِرَبِّی فَمَا لِی؟ قَالَ : ((قُلِ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی ، وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی ، وَعَافِنِی وَاعْفُ عَنِّی))۔ فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَمَّا ہَذَا فَقَدْ مَلأَ یَدَہُ مِنَ الْخَیْرِ))۔ [حسن لغیرہٖ۔ وانظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قرات کرنا بھول جائے اس سے قرات ساقط ہوجاتی ہے اور قرات کے ساقط نہ ہونے کا بیان
(٣٩٨٠) (ا) ابو سلمہ بن عبد الرحمن (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، انھوں نے اس میں قرات نہیں کی، جب وہ نماز سے پھرے تو کسی نے ان سے کہا : آپ نے تو قرات نہیں کی۔ عمر (رض) نے پوچھا : رکوع اور سجود کیسے تھے ؟ انھوں نے کہا : بہت اچھے تو عمر (رض) نے فرمایا : پھر کوئی حرج نہیں۔
(ب) شعبی (رح) اور نخعی (رح) سے منقول ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نماز لوٹائی تھی۔
(ب) شعبی (رح) اور نخعی (رح) سے منقول ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نماز لوٹائی تھی۔
(۳۹۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبَدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَقْرَأْ فِیہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِیلَ لَہُ: مَا قَرَأْتَ۔ قَالَ: فَکَیْفَ کَانَ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ؟ قَالُوا: حَسَنًا۔ قَالَ: فَلاَ بَأْسَ إِذًا۔
وَإِلَی ہَذَا کَانَ یَذْہَبُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ وَیَرْوِیہِ أَیْضًا عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ وَیُضَعِّفُ مَا رُوِیَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ: أَنَّ عُمَرَ أَعَادَ الصَّلاَۃَ۔ بِأَنَّہُمَا مُرْسَلَتَانِ۔ قَالَ: وَأَبُو سَلَمَۃَ یُحَدِّثُہُ بِالْمَدِینَۃِ وَعِنْدَ آلِ عُمَرَ لاَ یُنْکِرُہُ أَحَدٌ۔
[ضعیف۔ أخرجہ مالک وعنہ الشافعی فی الام ۷/۲۵۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبَدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَقْرَأْ فِیہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِیلَ لَہُ: مَا قَرَأْتَ۔ قَالَ: فَکَیْفَ کَانَ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ؟ قَالُوا: حَسَنًا۔ قَالَ: فَلاَ بَأْسَ إِذًا۔
وَإِلَی ہَذَا کَانَ یَذْہَبُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ وَیَرْوِیہِ أَیْضًا عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَی رِوَایَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ وَیُضَعِّفُ مَا رُوِیَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ: أَنَّ عُمَرَ أَعَادَ الصَّلاَۃَ۔ بِأَنَّہُمَا مُرْسَلَتَانِ۔ قَالَ: وَأَبُو سَلَمَۃَ یُحَدِّثُہُ بِالْمَدِینَۃِ وَعِنْدَ آلِ عُمَرَ لاَ یُنْکِرُہُ أَحَدٌ۔
[ضعیف۔ أخرجہ مالک وعنہ الشافعی فی الام ۷/۲۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قرات کرنا بھول جائے اس سے قرات ساقط ہوجاتی ہے اور قرات کے ساقط نہ ہونے کا بیان
(٣٩٨١) ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی تو اس میں قرات نہیں کی حتیٰ کہ نماز سے سلام پھیر دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کسی نے ان سے کہا : آپ نے تو کچھ بھی قرات نہیں کی۔ حضرت عمر (رض) بولے : میں نے شام کی طرف لشکر تیار کر کے بھیجا ہے۔ میں اس کو اتارنے لگا۔ انھوں نے مختصرا راستوں پر پڑاؤ ڈالا میں اس کو لے کر چلتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ شام آگیا۔ میں نے ان کو ‘ ان کے پالانوں کو اور ان کی زینوں کو بیچا۔ راوی بیان کرتے ہیں تو عمر (رض) نے نماز بھی لوٹائی اور ہم نے بھی نماز کا اعادہ کیا۔
(۳۹۸۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا بِحَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِالنَّاسِ صَلاَۃَ الْمَغْرِبِ فَلَمْ یَقْرَأْ شَیْئًا حَتَّی سَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قِیلَ لَہُ: إِنَّکَ لَمْ تَقْرَأْ شَیْئًا ۔ فَقَالَ: إِنِّی جَہَّزْتُ عِیرًا إِلَی الشَّامِ ، فَجَعَلْتُ أُنْزِلُہَا مَنْقَلَۃً مَنْقَلَۃً حَتَّی قَدِمَتِ الشَّامَ فَبِعْتُہَا وَأْقَتَابَہَا وَأَحْلاَسَہَا وَأَحْمَالَہَا۔ قَالَ: فَأَعَادَ عُمَرُ وَأَعَادُوا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قرات کرنا بھول جائے اس سے قرات ساقط ہوجاتی ہے اور قرات کے ساقط نہ ہونے کا بیان
(٣٩٨٢) ابراہیم سے منقول ہے کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے فرمایا : اے امیر المومنین ! کیا آپ نے اپنے دل میں قرات کی ہے۔ انھوں نے فرمایا : نہیں انھوں نے کہا : یقیناً آپ نے کچھ نہیں پڑھا۔ حضرت عمر (رض) نے نماز لوٹائی۔
(۳۹۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا کَامِلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ قَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَقَرَأْتَ فِی نَفْسِکَ؟ قَالَ: لاَ۔ قَالَ: فَإِنَّکَ لَمْ تَقْرَأْ۔ فَأَعَادَ الصَّلاَۃَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قرات کرنا بھول جائے اس سے قرات ساقط ہوجاتی ہے اور قرات کے ساقط نہ ہونے کا بیان
(٣٩٨٣) (ا) شعبی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے کہا : اے امیر المؤمنین ! کیا آپ نے اپنے دل میں قرات کی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : نہیں ۔ پھر انھوں نے مؤذنوں کو حکم دیا، انھوں نے اذان اور اقامت کہی اور ان کو دوبارہ نماز پڑھائی۔ ضعیف
(ب) نماز کا اعادہ کرنا قرات کے وجوب میں سنت کے زیادہ مشابہ ہے اور قرات بھی دیگر ارکان نماز کی طرح بھولنے سے ساقط نہ ہوگی۔
(ب) نماز کا اعادہ کرنا قرات کے وجوب میں سنت کے زیادہ مشابہ ہے اور قرات بھی دیگر ارکان نماز کی طرح بھولنے سے ساقط نہ ہوگی۔
(۳۹۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا کَامِلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیِّ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَقَرَأْتَ فِی نَفْسِکَ؟ قَالَ: لاَ۔ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنِینَ فَأَذَّنُوا وَأَقَامُوا ، وَأَعَادَ الصَّلاَۃَ بِہِمْ۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَاتُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ مُرْسَلَۃٌ کَمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ ، وَرِوَایَۃُ أَبِی سَلَمَۃَ وَإِنْ کَانَتْ مُرْسَلَۃً فَہُوَ أَصَحُّ مَرَاسِیلَ ، وَحَدِیثُہُ بِالْمَدِینَۃِ فِی مَوْضِعِ الْوَاقِعَۃِ کَمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ لاَ یُنْکِرُہُ أَحَدٌ ، إِلاَّ أَنَّ حَدِیثَ الشَّعْبِیِّ قَدْ أُسْنِدَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ۔
وَالإِعَادَۃُ أَشْبَہُ بِالسُّنَّۃِ فِی وُجُوبِ الْقِرَائَ ۃِ وَأَنَّہَا لاَ تَسْقُطُ بِالنِّسْیَانِ کَسَائِرِ الأَرْکَانِ۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَاتُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ مُرْسَلَۃٌ کَمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ ، وَرِوَایَۃُ أَبِی سَلَمَۃَ وَإِنْ کَانَتْ مُرْسَلَۃً فَہُوَ أَصَحُّ مَرَاسِیلَ ، وَحَدِیثُہُ بِالْمَدِینَۃِ فِی مَوْضِعِ الْوَاقِعَۃِ کَمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ لاَ یُنْکِرُہُ أَحَدٌ ، إِلاَّ أَنَّ حَدِیثَ الشَّعْبِیِّ قَدْ أُسْنِدَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ۔
وَالإِعَادَۃُ أَشْبَہُ بِالسُّنَّۃِ فِی وُجُوبِ الْقِرَائَ ۃِ وَأَنَّہَا لاَ تَسْقُطُ بِالنِّسْیَانِ کَسَائِرِ الأَرْکَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قرات کرنا بھول جائے اس سے قرات ساقط ہوجاتی ہے اور قرات کے ساقط نہ ہونے کا بیان
(٣٩٨٤) (ا) زیاد بن عیاض جو ابو موسیٰ (رض) کے داماد ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے نماز پڑھی تو اس میں قرا ئت نہ کی ، پھر انھوں نے نماز میں دوبارہ پڑھی۔
(ب) اس بارے میں حضرت عمر (رض) سے ایک تیسری روایت بھی منقول ہے جس کو بیان کرنے میں عکرمہ بن عامر (رح) تنہا ہے۔
(ب) اس بارے میں حضرت عمر (رض) سے ایک تیسری روایت بھی منقول ہے جس کو بیان کرنے میں عکرمہ بن عامر (رح) تنہا ہے۔
(۳۹۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنْ عَامِرٍ یَعْنِی الشَّعْبِیَّ عَنْ زِیَادٍ یَعْنِی ابْنَ عِیَاضٍ خَتَنَ أَبِی مُوسَی قَالَ: صَلَّی عُمَرُ فَلَمْ یَقْرَأْ فَأَعَادَ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیہِ رِوَایَۃٌ ثَالِثَۃٌ تَفَرَّدَ بِہَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر ۳/۳۶۵]
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیہِ رِوَایَۃٌ ثَالِثَۃٌ تَفَرَّدَ بِہَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر ۳/۳۶۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قرات کرنا بھول جائے اس سے قرات ساقط ہوجاتی ہے اور قرات کے ساقط نہ ہونے کا بیان
(٣٩٨٥) (ا) عبداللہ بن حنظلہ بن راہب (رح) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی تو اس کی پہلی رکعت میں قرات نہ کی۔ جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو سورة فاتحہ اور ایک سورت پڑھی۔ پھر دوبارہ سورة فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔
(ب) عاصم بن علی (رض) کی روایت میں ہے : پھر وہ اسی طرح چلتے رہے (نماز جاری رکھی) جب نماز پڑھ لی تو سہو کے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(ج) حارث (رض) کی روایت میں حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ ایک شخص نے کہا : میں نے نماز پڑھی ہے مگر اس میں قرات نہیں کی۔ انھوں نے پوچھا : کیا تو نے رکوع و سجود کو پورا کیا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! حضرت علی (رض) نے فرمایا : تیری نماز مکمل ہوگئی۔
(د) یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس کو جہری قرات کے ترک کرنے یا فاتحہ کے علاوہ کسی اور سورت کی قرات کے ترک کرنے پر محمول کیا جائے گا، اس کی دلیل وہ گزشتہ احادیث ہیں جو قرات کے وجوب کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں۔
(ب) عاصم بن علی (رض) کی روایت میں ہے : پھر وہ اسی طرح چلتے رہے (نماز جاری رکھی) جب نماز پڑھ لی تو سہو کے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔
(ج) حارث (رض) کی روایت میں حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ ایک شخص نے کہا : میں نے نماز پڑھی ہے مگر اس میں قرات نہیں کی۔ انھوں نے پوچھا : کیا تو نے رکوع و سجود کو پورا کیا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! حضرت علی (رض) نے فرمایا : تیری نماز مکمل ہوگئی۔
(د) یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس کو جہری قرات کے ترک کرنے یا فاتحہ کے علاوہ کسی اور سورت کی قرات کے ترک کرنے پر محمول کیا جائے گا، اس کی دلیل وہ گزشتہ احادیث ہیں جو قرات کے وجوب کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں۔
(۳۹۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوسَعِیدٍ: أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحْسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ بْنِ الرَّاہِبِ قَالَ: صَلَّی بِنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمَغْرِبَ ، فَلَمْ یَقْرَأْ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی شَیْئًا ، فَلَمَّا قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ قَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ ، ثُمَّ عَادَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ عَاصِمِ بْنِ عَلِیٍّ ثُمَّ مَضَی فَصَلَّی صَلاَتَہُ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ۔ وَزَادَ عِنْدَ قَوْلِہِ شَیْئًا نَسِیَہَا۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ عَلَی ہَذَا الْوَجْہِ یَنْفَرِدَ بِہَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ وَسَائِرُ الرِّوَایَاتِ أَکْثَرُ وَأَشْہَرُ وَإِنْ کَانَ بَعْضُہَا مُرْسَلاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَجُلاً قَالَ: إِنِّی صَلَّیْتُ وَلَمْ أَقْرَأْ۔ قَالَ: أَتْمَمْتَ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ: تَمَّتْ صَلاَتُکَ۔
وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَی تَرْکِ الْجَہْرِ أَوْ قِرَائَ ۃِ السُّورَۃِ بِدَلِیلِ مَا مَضَی مِنَ الأَخْبَارِ الْمُسْنَدَۃِ فِی إِیجَابِ الْقِرَائَ ۃِ۔ وَالْحَارِثُ الأَعْوَرُ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق فی المصنف ۲/۱۲۳]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحْسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ بْنِ الرَّاہِبِ قَالَ: صَلَّی بِنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمَغْرِبَ ، فَلَمْ یَقْرَأْ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی شَیْئًا ، فَلَمَّا قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ قَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ ، ثُمَّ عَادَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ عَاصِمِ بْنِ عَلِیٍّ ثُمَّ مَضَی فَصَلَّی صَلاَتَہُ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ۔ وَزَادَ عِنْدَ قَوْلِہِ شَیْئًا نَسِیَہَا۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ عَلَی ہَذَا الْوَجْہِ یَنْفَرِدَ بِہَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ وَسَائِرُ الرِّوَایَاتِ أَکْثَرُ وَأَشْہَرُ وَإِنْ کَانَ بَعْضُہَا مُرْسَلاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَجُلاً قَالَ: إِنِّی صَلَّیْتُ وَلَمْ أَقْرَأْ۔ قَالَ: أَتْمَمْتَ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ: تَمَّتْ صَلاَتُکَ۔
وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَی تَرْکِ الْجَہْرِ أَوْ قِرَائَ ۃِ السُّورَۃِ بِدَلِیلِ مَا مَضَی مِنَ الأَخْبَارِ الْمُسْنَدَۃِ فِی إِیجَابِ الْقِرَائَ ۃِ۔ وَالْحَارِثُ الأَعْوَرُ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق فی المصنف ۲/۱۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٨٦) عمر بن خطاب (رض) بیان فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں ایک بار میں حکیم بن حزام (رض) کے پاس سے گزرا۔ وہ سورة فرقان کی تلاوت کر رہے تھے، میں نے ان کی قرات پر کان لگائے تو وہ بہت زیادہ ایسے حروف پڑھ رہے تھے، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نہیں پڑھائے تھے قریب تھا کہ میں جلدی سے انھیں روک دیتا۔ لیکن میں نے ان کے سلام پھیرنے کا انتظار کیا۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں انہی کی چادر ڈال کر کہا۔ تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی ہے جو میں نے تجھے ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : یہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا : تو جھوٹ بولتا ہے، اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی سورت مجھے بھی پڑھائی تھی جو تو پڑھ رہا تھا۔ میں ان کے گلے میں چادر ڈالے انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے آیا اور میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! سورة فرقان ایسے نہیں پڑھ رہا جیسے آپ نے مجھے پڑھائی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! اس کو چھوڑ دو پھر فرمایا : ہشام پڑھیے، انھوں نے ویسے ہی پڑھی جیسے میں نے ان سے سنی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر مجھے فرمایا : پڑھیے۔ میں نے اس طرح پڑھی جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پڑھائی تھی۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ قرآن سات لہجوں میں نازل ہوا ہے، اس میں سے جس طرح آسان ہو پڑھو۔
(۳۹۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَنَّہُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: مَرَرْتُ بِہِشَامِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَمَعْتُ قِرَائَ تَہِ ، فَإِذَا ہُوَ یَقْرَأُ عَلَی حُرُوفٍ کَثِیرَۃٍ لَمْ یُقْرِئْنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَکِدْتُ أَنْ أُسَاوِرُہُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَانْتَظَرْتُ حَتَّی سَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَکَ ہَذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی أَسْمَعُکَ تَقْرَؤُہَا؟ قَالَ: أَقْرَأَنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ قُلْتُ لَہُ: کَذَبْتَ وَاللَّہِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَہُوَ أَقْرَأَنِی ہَذِہِ السُّورَۃَ الَّتِی تَقْرَؤُہَا، فَانْطَلَقْتُ أَقُودُہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی سَمِعْتُ ہَذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلَی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِیہَا ، وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِی سُورَۃَ الْفُرْقَانِ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَرْسِلْہُ یَا عُمَرُ ، اقْرَأْ یَا ہِشَامُ))۔ فَقَرَأَ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃَ الَّتِی سَمِعْتُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((ہَکَذَا أُنْزِلَتْ))۔ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((اقْرَأْ یَا عُمَرُ))۔ فَقَرَأْتُ الْقِرَائَ ۃَ الَّتِی أَقْرَأَنِی النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ((ہَکَذَا أُنْزِلَتْ))۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَئُ وا مِنْہُ مَا تَیَسَّرَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ وَیُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ وَیُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٨٧) (ا) ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں ! میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص داخل ہوا ، اس نے قرات کی تو میں نے اس کی قرات کو اجنبی محسوس کیا، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اس کی قرات سے بھی مختلف قرات کی۔ جب ہم وہاں سے ہٹے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اس آدمی نے ایسی قرات کی ہے جس کا میں انکار کرتا ہوں اور اس دوسرے نے اپنے ساتھی کی قرات سے بھی ہٹ کر قرات کی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے کہا : پڑھ، اس نے قرات کی، پھر دوسرے کو فرمایا : پڑھ، اس نے بھی پڑھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں نے صحیح پڑھا۔ جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو اچھا کہا ہے تو میرے دل میں کئی وسوسے پیدا ہوئے۔ میں یہ تمنا کرنے لگا کہ کاش میں اس وقت جاہلیت میں ہوتا (اور اس کے بعد اسلام لاتا) ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری یہ حالت دیکھی تو اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پر مارا، میرے پسینے جھوٹ گئے اور یہ کیفیت ہوگئی گویا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی بن کعب ! میرے رب نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ وحی بھیجی) کہ قرآن کو ایک ہی لہجہ پر پڑھوں، لیکن میں نے فرشتے کو واپس لوٹا دیا اور کہا : اے میرے رب ! میری امت پر آسانی فرما تو اس نے دوسری بار بھی یہی بات دھرائی کہ ایک لہجہ میں پڑھو۔ میں نے کہا : اے میرے رب ! میری امت پر آسانی فرما۔ تو تیسری بار مجھے جواب ملا کہ قرآن کو سات لہجوں میں پڑھو اور آپ کے لیے ہر بار واپس بھیجنے کے بدلے ایک دعا ہے، جو آپ نے مجھ سے کرنی ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ ! میری امت کی بخش دے ‘ اے اللہ ! میری امت کو بخش دے اور تیسری دعا کو میں نے قیامت کے دن تک مؤخر کرلیا ہے، جس دن سارے لوگ میری طرف آئیں گے حتیٰ کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی۔
(ب) صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ میرے دل میں تکذیب کا خیال آیا نہ یہ کہ میں اس وقت جاہلیت میں ہوتا۔ ایک اور روایت میں ہے : سُقِطَ فِی نَفْسِی وَکَبُرَ عَلَیَّ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مَا کَبُرَ عَلَیَّ ۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے کہا : پڑھ، اس نے قرات کی، پھر دوسرے کو فرمایا : پڑھ، اس نے بھی پڑھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں نے صحیح پڑھا۔ جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو اچھا کہا ہے تو میرے دل میں کئی وسوسے پیدا ہوئے۔ میں یہ تمنا کرنے لگا کہ کاش میں اس وقت جاہلیت میں ہوتا (اور اس کے بعد اسلام لاتا) ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری یہ حالت دیکھی تو اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پر مارا، میرے پسینے جھوٹ گئے اور یہ کیفیت ہوگئی گویا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی بن کعب ! میرے رب نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ وحی بھیجی) کہ قرآن کو ایک ہی لہجہ پر پڑھوں، لیکن میں نے فرشتے کو واپس لوٹا دیا اور کہا : اے میرے رب ! میری امت پر آسانی فرما تو اس نے دوسری بار بھی یہی بات دھرائی کہ ایک لہجہ میں پڑھو۔ میں نے کہا : اے میرے رب ! میری امت پر آسانی فرما۔ تو تیسری بار مجھے جواب ملا کہ قرآن کو سات لہجوں میں پڑھو اور آپ کے لیے ہر بار واپس بھیجنے کے بدلے ایک دعا ہے، جو آپ نے مجھ سے کرنی ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ ! میری امت کی بخش دے ‘ اے اللہ ! میری امت کو بخش دے اور تیسری دعا کو میں نے قیامت کے دن تک مؤخر کرلیا ہے، جس دن سارے لوگ میری طرف آئیں گے حتیٰ کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی۔
(ب) صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ میرے دل میں تکذیب کا خیال آیا نہ یہ کہ میں اس وقت جاہلیت میں ہوتا۔ ایک اور روایت میں ہے : سُقِطَ فِی نَفْسِی وَکَبُرَ عَلَیَّ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مَا کَبُرَ عَلَیَّ ۔
(۳۹۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ وَعَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابْجِرْدِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِیسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً أَنْکَرْتُہَا عَلَیْہِ ، ثُمَّ جَائَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَ ۃً سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہِ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا دَخَلْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہَذَا الرَّجُلَ قَرَأَ قِرَائَ ۃً أَنْکَرْتُہَا عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَرَأَ ہَذَا سِوَی قِرَائَ ۃِ صَاحِبِہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلرَّجُلِ : اقْرَأْ ۔ فَقَرَأَ ، ثُمَّ قَالَ لِلآخَرِ : ((اقْرَأْ))۔ فَقَرَأَ فَقَالَ : ((أَحْسَنْتُمَا)) أَوْ ((أَصَبْتُمَا))۔ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حَسَّنَ شَأْنَہُمَا سُقِطَ فِی نَفْسِی ، وَوَدِدْتُ أَنِّی کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ - قَالَ - فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا غَشِیَنِی ضَرَبَ بِیَدِہِ فِی صَدْرِی ، فَفِضْتُ عَرَقًا وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی اللَّہِ فَرَقًا ، ثُمَّ قَالَ : ((یَا أُبَیُّ بْنَ کَعْبٍ إِنَّ رَبِّی أَرْسَلَ إِلَیَّ أَنِ اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ)) قَالَ: ((فَرَدَدْتُ عَلَیْہِ یَا رَبِّ ہَوِّنْ عَلَی أُمَّتِی۔ فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّانِیَۃَ أَنِ اقْرَأْ عَلَی حَرْفٍ))۔ قَالَ ((قُلْتُ: یَا رَبِّ ہَوِّنْ عَلَی أُمَّتِی۔ فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّالِثَۃَ أَنِ اقْرَأْ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ ، وَلَکَ بِکُلِّ رَدَّۃٍ رَدَدْتَہَا مَسْأَلَۃٌ تَسْأَلُنِیہَا۔ فَقُلْتُ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِی ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِی ، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَۃَ إِلَی یَوْمَ یَرْغَبُ إِلَیَّ فِیہِ الْخَلْقُ حَتَّی إِبْرَاہِیمَ -ﷺ- ۔))
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَسُقِطَ فِی نَفْسِی مِنَ التَّکْذِیبِ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ وَقَالَ غَیْرُہُ: سُقِطَ فِی نَفْسِی وَکَبُرَ عَلَیَّ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مَا کَبُرَ عَلَیَّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۹۲۰]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَسُقِطَ فِی نَفْسِی مِنَ التَّکْذِیبِ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ وَقَالَ غَیْرُہُ: سُقِطَ فِی نَفْسِی وَکَبُرَ عَلَیَّ وَلاَ إِذْ کُنْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مَا کَبُرَ عَلَیَّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۹۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٨٨) ابی بن کعب (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس آئے اور کہا : اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے کہ آپ کی امت کو کہ قرآن کو ایک لہجہ پر پڑھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے بخشش اور مغفرت چاہتا ہوں۔ کیونکہ میری امت میں اتنی طاقت نہیں۔ وہ پھر لوٹ کر آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کو دو لہجوں میں پڑھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ جبرائیل (علیہ السلام) پھر لوٹ کر آئے اور کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو فرماتا ہے کہ قرآن کو تین حروف پر پڑھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت طلب کرتا ہوں کیونکہ میری امت میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی امت کو فرماتا ہے کہ قرآن کو سات لہجوں پر پڑھو، جس بھی لہجے پر پڑھیں گے درستگی کو پائیں گے۔
(۳۹۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنِ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ أَخْبَرَنِی الْحَکَمُ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَتَاہُ جِبْرِیلُ وَہُو عِنْدَ أَضَاۃِ بَنِی غِفَارٍ قَالَ: إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَأْمُرُکَ أَنْتَ وَأُمَّتَکَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَسْأَلُ اللَّہَ مُعَافَاتَہُ وَمَغْفِرَتَہُ ، إِنَّ أُمَّتِی لاَ تُطِیقُ ہَذَا))۔ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَأْمُرُکَ أَنْتَ وَأُمَّتَکَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفَیْنِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ أُمَّتِی لاَ تُطِیقُ ہَذَا))۔ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَأْمُرُکَ أَنْتَ وَأُمَّتَکَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَحْرُفٍ۔ قَالَ : ((أَسْأَلُ اللَّہَ مُعَافَاتَہُ وَمَغْفِرَتَہُ ، إِنَّ أُمَّتِی لاَ تُطِیقُ ذَلِکَ))۔ ثُمَّ أَتَاہُ فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَأْمُرُکَ أَنْتَ وَأُمَّتَکَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ ، أَیُّ حَرْفٍ قَرَئُ وا عَلَیْہِ فَقَدْ أَصَابُوا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ وَمُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۸۲۱]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ وَمُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۸۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٨٩) ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں نے ایک آیت پڑھی اور ابن مسعود (رض) نے اس کے مخالف قرات میں پڑھی۔ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا : کیا آپ نے مجھے فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! ابن مسعود (رض) کہنے لگے : آپ نے فلاں آیت مجھے اس طرح نہیں پڑھائی تھی ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک اچھا اور بہترین پڑھ رہا ہے۔ میں نے کہا : ہم دونوں کیسے ؟
راوی فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا : اے ابی ! مجھے قرآن پڑھایا گیا۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا : ایک لہجہ پر یا دو لہجوں پر ؟ میرے پاس جو فرشتہ تھا اس نے کہا : دو حرفوں پر، میں نے کہا : دو حرفوں پر، پھر پوچھا گیا دو حرفوں پر یا تین حرفوں پر ؟ میرے ساتھ والے فرشتے نے مجھے کہا : تین کا کہیں ! میں نے کہا : تین حرفوں پر حتیٰ کہ وہ سات لہجوں تک پہنچا، پھر اس نے کہا : اس میں ہر ایک لہجہ حرف شافی اور کافی ہے۔ میں نے کہا : غفور رحیم ‘ علیم حلیم ‘ سمیع علیم ‘ عزیز حکیم اور اس کی طرح دیگر (کہہ دیا تو کچھ فرق نہیں پڑھتا) البتہ آیت عذاب کو آیت رحمت سے یا آیت رحمت کو آیت عذاب سے بدلنا درست نہیں۔
راوی فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا : اے ابی ! مجھے قرآن پڑھایا گیا۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا : ایک لہجہ پر یا دو لہجوں پر ؟ میرے پاس جو فرشتہ تھا اس نے کہا : دو حرفوں پر، میں نے کہا : دو حرفوں پر، پھر پوچھا گیا دو حرفوں پر یا تین حرفوں پر ؟ میرے ساتھ والے فرشتے نے مجھے کہا : تین کا کہیں ! میں نے کہا : تین حرفوں پر حتیٰ کہ وہ سات لہجوں تک پہنچا، پھر اس نے کہا : اس میں ہر ایک لہجہ حرف شافی اور کافی ہے۔ میں نے کہا : غفور رحیم ‘ علیم حلیم ‘ سمیع علیم ‘ عزیز حکیم اور اس کی طرح دیگر (کہہ دیا تو کچھ فرق نہیں پڑھتا) البتہ آیت عذاب کو آیت رحمت سے یا آیت رحمت کو آیت عذاب سے بدلنا درست نہیں۔
(۳۹۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ یَعْمُرَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَرَأْتُ آیَۃً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ قِرَائَ ۃً خِلاَفَہَا ، فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِی آیَۃَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ : ((بَلَی)) ۔ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَمْ تُقْرِئْنِیہَا کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ : ((بَلَی)) - قَالَ - ((کِلاَکُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ))۔ قُلْتُ: مَا کِلاَنَا أَحْسَنَ وَلاَ أَجْمَلَ۔ قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِی وَقَالَ : ((یَا أُبَیُّ أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِیلَ لِی أَعَلَی حَرْفٍ أَمْ عَلَی حَرْفَیْنِ؟ فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِیَ: عَلَی حَرْفَیْنِ۔ فَقُلْتُ: عَلَی حَرْفَیْنِ۔ فَقِیلَ لِی: عَلِی حَرْفَیْنِ أَمْ ثَلاَثَۃٍ؟ فَقَالَ الْمَلَکُ الَّذِی مَعِیَ: عَلَی ثَلاَثَۃٍ۔ فَقُلْتُ: ثَلاَثَۃٍ حَتَّی بَلَغَ سَبْعَۃَ أَحْرُفٍ۔ قَالَ: لَیْسَ فِیہَا إِلاَّ شَافٍ کَافٍ۔ قُلْتُ غَفُورٌ رَحِیمٌ عَلِیمٌ حَلِیمٌ سَمِیعٌ عَلِیمٌ عَزِیزٌ حَکِیمٌ نَحْوَ ہَذَا ، مَا لَمْ تَخْتِمْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ))۔
وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ فَأَرْسَلَہُ۔ [صحیح۔ وشھدلہ ما قبلہ…]
وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ فَأَرْسَلَہُ۔ [صحیح۔ وشھدلہ ما قبلہ…]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٩٠) (ا) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک لہجہ میں قرآن پڑھایا تو میں بار بار انھیں لوٹاتا رہا اور انھیں اور زیادہ کروانے کا کہتا رہا حتیٰ کہ وہ سات تک پہنچ گئے۔
(ب) زہری (رح) بیان کرتے ہیں : یہ سات لہجے ہیں، ان کا حکم ایک ہی ہے اور حلال و حرام کا کوئی اختلاف نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک لہجہ حلال ہو اور دوسرا حرام۔
(ب) زہری (رح) بیان کرتے ہیں : یہ سات لہجے ہیں، ان کا حکم ایک ہی ہے اور حلال و حرام کا کوئی اختلاف نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک لہجہ حلال ہو اور دوسرا حرام۔
(۳۹۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((أَقْرَأَنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ عَلَی حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُہُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِیدُہُ وَیَزِیدُنِی حَتَّی انْتَہَی إِلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ))۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَإِنَّمَا ہَذِہِ الأَحْرُفُ فِی الأَمْرِ الْوَاحِدِ لَیْسَ یَخْتَلِفُ فِی حَلاَلٍ وَلاَ حَرَامٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ وَعُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ وَعُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٩١) (ا) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : میں نے قرات سنی تو انھیں قریب قریب پایا، لہٰذا جو تمہیں سمجھ آئے وہ پڑھو، غلو و تکلف اور اختلاف سے بچو۔ پھر تم میں سے کسی کا قول اس قول کی طرح ہے : ھلم ‘ تعال ‘ اقبل۔
(ب) ایک دوسری روایت میں اقبل کے الفاظ نہیں ہیں۔
(ب) ایک دوسری روایت میں اقبل کے الفاظ نہیں ہیں۔
(۳۹۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو ہُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقِرَائَ ۃَ فَوَجَدْنَاہُمْ مُتَقَارِبِینَ ، اقْرَئُ وا مَا عَلِمْتُمْ ، وَإِیَّاکُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالاِخْتِلاَفَ ، فَإِنَّمَا ہُوَ کَقَوْلِ أَحَدِہِمْ ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبَلْ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ نُمَیْرٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: إِنِّی قَدْ سَمِعْتُ۔ وَقَالَ: فَاقْرَئُ وا کَمَا عَلِمْتُمْ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ وَأَقْبَلْ۔ [صحیح۔ ولہ شاھد مرفوع من حدیث ابی بکرہ کما فی التہمید لا بن عبد البد ۱۳۹۹]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی وَأَبُو مُسْلِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو ہُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقِرَائَ ۃَ فَوَجَدْنَاہُمْ مُتَقَارِبِینَ ، اقْرَئُ وا مَا عَلِمْتُمْ ، وَإِیَّاکُمْ وَالتَّنَطُّعَ وَالاِخْتِلاَفَ ، فَإِنَّمَا ہُوَ کَقَوْلِ أَحَدِہِمْ ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبَلْ۔
لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ نُمَیْرٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: إِنِّی قَدْ سَمِعْتُ۔ وَقَالَ: فَاقْرَئُ وا کَمَا عَلِمْتُمْ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ وَأَقْبَلْ۔ [صحیح۔ ولہ شاھد مرفوع من حدیث ابی بکرہ کما فی التہمید لا بن عبد البد ۱۳۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراتوں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٩٢) (ا) ابو عبید (رض) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان سات حروف سے عرب کی سات لغتیں مراد ہیں ، اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ ایک ہی حرف میں سات اعراب جائز ہیں۔ اس قسم کا قول تو کسی سے کبھی بھی نہیں سنا گیا۔ لیکن وہ فرماتے ہیں کہ یہ سات لغتیں قرآن میں متفرق ہیں۔ قرآن کا بعض حصہ قریش کی لغت میں نازل ہوا، بعض ہوازن کی لغت پر، کچھ ہذیل کی لغت پر اور کچھ اہل یمن کی لغت پر نازل ہوا۔ اسی طرح دیگر لغات ہیں۔ ان کے معانی ایک ہی ہیں۔ اس کی وضاحت ابن مسعود (رض) کے مذکورہ بالا قول سے ہوئی ہے۔
(ب) اسی طرح ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تو تمہارے اس قول کی طرح ہے : ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ ۔ پھر ابن سیرین نے اس کی تفسیر بیان کی کہ ابن مسعود (رض) کی قرات میں ہے : ”إِنْ کَانَتْ إِلاَّ زَقْیَۃً وَاحِدَۃً ۔ “ اور ہماری قرات میں ہے : { صَیْحَۃٌ وَاحِدَۃٌ} [یس : ٢٩] ہے اور ان دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اسی طرح دیگر لغات ہیں۔
(ب) اسی طرح ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تو تمہارے اس قول کی طرح ہے : ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ ۔ پھر ابن سیرین نے اس کی تفسیر بیان کی کہ ابن مسعود (رض) کی قرات میں ہے : ”إِنْ کَانَتْ إِلاَّ زَقْیَۃً وَاحِدَۃً ۔ “ اور ہماری قرات میں ہے : { صَیْحَۃٌ وَاحِدَۃٌ} [یس : ٢٩] ہے اور ان دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، اسی طرح دیگر لغات ہیں۔
(۳۹۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلُہُ: سَبْعَۃُ أَحْرُفٍ یَعْنِی سَبْعَ لُغَاتٍ مِنْ لُغَاتِ الْعَرَبِ ، وَلَیْسَ مَعْنَاہُ أَنْ یَکُونَ فِی الْحَرْفِ الْوَاحِدِ سَبْعَۃُ أَوْجُہٍ ، ہَذَا مَا لَمْ یُسْمَعْ بِہِ قَطُّ ، وَلَکِنْ یَقُولُ ہَذِہِ اللُّغَاتُ السَّبْعُ مُتَفَرِّقَۃٌ فِی الْقُرْآنِ ، فَبَعْضُہُ نَزَلَ بِلُغَۃِ قُرَیْشٍ ، وَبَعْضُہُ بِلُغَۃِ ہَوَازِنَ ، وَبَعْضُہُ بِلُغَۃِ ہُذَیْلٍ ، وَبَعْضُہُ بِلُغَۃِ أَہْلِ الْیَمَنِ ، وَکَذَلِکَ سَائِرُ اللُّغَاتِ وَمَعَانِیہَا فِی ہَذَا کُلِّہِ وَاحِدٌ وَمِمَّا یُبَیِّنُ لَکَ ذَلِکَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ وَکَذَلِکَ قَالَ ابْنُ سِیرِینَ إِنَّمَا ہُوَ کَقَوْلِکَ: ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ۔ ثُمَّ فَسَّرَہُ ابْنُ سِیرِینَ فَقَالَ: فِی قِرَائَۃِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنْ کَانَتْ إِلاَّ زَقْیَۃً وَاحِدَۃً ، وَفِی قِرَائَ تِنَا {صَیْحَۃٌ وَاحِدَۃٌ} [یس: ۲۹] وَالْمَعْنَی فِیہِمَا وَاحِدٌ ، وَعَلَی ہَذَا سَائِرُ اللُّغَاتِ۔ [حسن]
قَالَ وَکَذَلِکَ قَالَ ابْنُ سِیرِینَ إِنَّمَا ہُوَ کَقَوْلِکَ: ہَلُمَّ وَتَعَالَ وَأَقْبِلْ۔ ثُمَّ فَسَّرَہُ ابْنُ سِیرِینَ فَقَالَ: فِی قِرَائَۃِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنْ کَانَتْ إِلاَّ زَقْیَۃً وَاحِدَۃً ، وَفِی قِرَائَ تِنَا {صَیْحَۃٌ وَاحِدَۃٌ} [یس: ۲۹] وَالْمَعْنَی فِیہِمَا وَاحِدٌ ، وَعَلَی ہَذَا سَائِرُ اللُّغَاتِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٩٣) سیدنا انس بن مالک (رض) سے قرآن کے جمع کرنے کے واقعہ میں منقول ہے : جب سیدنا عثمان بن عفان (رض) نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر ‘ سعید بن عاص عبد الرحمن بن حارث بن ہشام ] کو حکم دیا کہ وہ قرآن کی نقلیں تیار کریں اور فرمایا : جس چیز میں تمہارا اور زید بن ثابت (رض) کا اختلاف ہوجائے تو قریش کی لغت میں لکھو، کیونکہ قرآن انہی کی لغت میں نازل ہوا ہے تو انھوں نے قرآن کو مصاحف میں لکھا۔ لوگوں نے زید بن ثابت (رض) سے ” التابوت “ میں اختلاف کیا، قریشیوں کے گروہ نے کہا : التابوت “ اور زید (رض) نے کہا : التابوہ۔ وہ اپنا اختلاف لے کر سیدنا عثمان (رض) کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا : ” التابوت “ لکھو کیونکہ یہ (قرآن) قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے۔
(۳۹۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَنْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: فِی قِصَّۃِ جَمْعِ الْقُرْآنِ حِینَ دَعَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَأَمَرَہُ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَنْ یَنْسَخُوا الصُّحُفَ فِی الْمَصَاحِفِ وَقَالَ: مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزِیدُ بْنُ ثَابِتٍ فِیہِ فَاکْتُبُوہُ بِلِسَانِ قُرَیْشٍ ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِہِمْ ، فَکَتَبُوا الصُّحُفَ فِی الْمَصَاحِفِ ، فَاخْتَلَفُوا ہُمْ وَزِیدُ بْنُ ثَابِتٍ فِی التَّابُوتِ ، فَقَالَ الرَّہْطُ الْقُرَشِیُّونَ: التَّابُوتُ۔ وَقَالَ زَیْدٌ: التَّابُوہُ۔ فَرَفَعُوا اخْتِلاَفَہُمْ إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: اکْتُبُوہُ التَّابُوتُ فَإِنَّہُ بِلِسَانِ قُرَیْشٍ۔
قَالَ إِسْمَاعِیلُ ہَکَذَا حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ بِقِصَّۃِ التَّابُوتِ مَوْصُولاً فِی آخِرِ حَدِیثِہِ وَفَصَلَہُ أَبُو الْوَلِیدِ مِنَ الْحَدِیثِ فَجَعَلَہُ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۲۴۴۔ ۴۶۰]
قَالَ إِسْمَاعِیلُ ہَکَذَا حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ بِقِصَّۃِ التَّابُوتِ مَوْصُولاً فِی آخِرِ حَدِیثِہِ وَفَصَلَہُ أَبُو الْوَلِیدِ مِنَ الْحَدِیثِ فَجَعَلَہُ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۲۴۴۔ ۴۶۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٩٤) ابن شہاب بیان کرتے ہیں : انھوں نے اس دوران ” التابوت “ میں اختلاف کیا تو زید (رض) نے کہا :” التابوہ “ اور سعید بن عاص اور ابن زبیر (رض) نے کہا : ” التابوت “ وہ اپنا فیصلہ عثمان (رض) کے پاس لے کر گئے تو انھوں نے فرمایا : اس کو ” التابوت “ لکھو کیونکہ یہ (قرآن) انھیں (قریشیوں) کی لغت میں ہے۔
(۳۹۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَنْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَاخْتَلَفُوا یَوْمَئِذٍ فِی التَّابُوتِ فَقَالَ زَیْدٌ: التَّابُوہُ ، وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ وَابْنُ الزُّبَیْرِ: التَّابُوتُ۔ فَرَفَعُوا اخْتِلاَفَہُمْ إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: اکْتُبُوہَا التَّابُوتُ فَإِنَّہُ بِلِسَانِہِمْ۔
[حسن لغیرہ۔ سند المولف۔ رواہ ابو یعنلی ۱/۶۴]
[حسن لغیرہ۔ سند المولف۔ رواہ ابو یعنلی ۱/۶۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سات قراءت وں کے واجب ہونے کا بیان جن میں قرآن نازل ہوا
(٣٩٩٥) (ا) زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ قرات سنت ہے۔
(ب) ان کی مراد اپنے سے پہلے والوں کی ہجوں میں اتباع کرنا ہے۔ قرأتوں میں جو لائق اتباع ہیں ان میں اس مصحف کی مخالفت جائز نہیں جو امام ہے اور نہ ہی مشہور قراءت وں کی مخالفت جائز ہے۔ اگرچہ وہ اس کے علاوہ لغت میں جائز ہو یا زیادہ واضح ہی کیوں نہ ہو۔
(ج) رہی وہ احادیث جو علیم ” حکیم “ کی جگہ غفو ر، رحیم کی قرات کی اجازت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ اس لیے کہ یہ بھی ان میں سے ہیں جن کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس کو اس کی جگہ کے علاوہ پڑھنا جائز ہے آیت عذاب کو آیت رحمت سے یا آیت رحمت کو آیت عذاب سے نہ بدلے۔ یہ ایسا ہے گویا اس نے ایک آیت ایک سورت سے پڑھی اور دوسری آیت دوسری سورت سے تو اس طرح پڑھنے سے وہ گناہ گار نہ ہوگا اور اصل جس پر قرات قائم ہے جب تک وہ وہی جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ دور کرنے کے بعد فوت ہوئے۔ اس سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا تھا۔ پھر صحابہ ] نے (قرآن کے) دو گتوں کے درمیان کے ثابت ہونے پر اجماع کرلیا۔
(ب) ان کی مراد اپنے سے پہلے والوں کی ہجوں میں اتباع کرنا ہے۔ قرأتوں میں جو لائق اتباع ہیں ان میں اس مصحف کی مخالفت جائز نہیں جو امام ہے اور نہ ہی مشہور قراءت وں کی مخالفت جائز ہے۔ اگرچہ وہ اس کے علاوہ لغت میں جائز ہو یا زیادہ واضح ہی کیوں نہ ہو۔
(ج) رہی وہ احادیث جو علیم ” حکیم “ کی جگہ غفو ر، رحیم کی قرات کی اجازت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ اس لیے کہ یہ بھی ان میں سے ہیں جن کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس کو اس کی جگہ کے علاوہ پڑھنا جائز ہے آیت عذاب کو آیت رحمت سے یا آیت رحمت کو آیت عذاب سے نہ بدلے۔ یہ ایسا ہے گویا اس نے ایک آیت ایک سورت سے پڑھی اور دوسری آیت دوسری سورت سے تو اس طرح پڑھنے سے وہ گناہ گار نہ ہوگا اور اصل جس پر قرات قائم ہے جب تک وہ وہی جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ دور کرنے کے بعد فوت ہوئے۔ اس سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا تھا۔ پھر صحابہ ] نے (قرآن کے) دو گتوں کے درمیان کے ثابت ہونے پر اجماع کرلیا۔
(۳۹۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: الْقِرَائَ ۃُ سُنَّۃٌ۔
وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ اتِّبَاعَ مَنْ قَبْلَنَا فِی الْحُرُوفِ ، وَفِی الْقِرَائَ اتِ سُنَّۃٌ مُتَّبَعَۃٌ لاَ یَجُوزُ مُخَالَفَۃُ الْمُصْحَفِ الَّذِی ہُوَ إِمَامٌ وَلاَ مُخَالَفَۃُ الْقِرَائَ اتِ الَّتِی ہِیَ مَشْہُورَۃٌ ، وَإِنْ کَانَ غَیْرُ ذَلِکَ سَائِغًا فِی اللُّغَۃِ أَوْ أَظْہَرَ مِنْہَا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ
وَأَمَّا الأَخْبَارُ الَّتِی وَرَدَتْ فِی إِجَازَۃِ قِرَائَ ۃِ غَفُورٌ رَحِیمٌ بَدَلَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ فَلأَنَّ جَمِیعَ ذَلِکَ مِمَّا نَزَلَ بِہِ الْوَحْیُ ، فَإِذَا قَرَأَ ذَلِکَ فِی غَیْرِ مَوْضِعِہِ مَا لَمْ یَخْتِمْ بِہِ آیَۃَ عَذَابٍ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ ، فَکَأَنَّہُ قَرَأَ آیَۃً مِنْ سُورَۃٍ وَآیَۃً مِنْ سُورَۃٍ أُخْرَی فَلاَ یَأْثَمْ بِقِرَائَ تِہَا کَذَلِکَ ، وَالأَصْلُ مَا اسْتَقَرَّتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ فِی السَّنَۃِ الَّتِی تُوُفِّیَ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ مَا عَارَضَہُ بِہِ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِی تِلْکَ السَّنَۃِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ اجْتَمَعَتِ الصَّحَابَۃُ عَلَی إِثْبَاتِہِ بَیْنَ الدَّفَّتَیْنِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ سعید بن منصور ۲/۲۶۰]
وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّ اتِّبَاعَ مَنْ قَبْلَنَا فِی الْحُرُوفِ ، وَفِی الْقِرَائَ اتِ سُنَّۃٌ مُتَّبَعَۃٌ لاَ یَجُوزُ مُخَالَفَۃُ الْمُصْحَفِ الَّذِی ہُوَ إِمَامٌ وَلاَ مُخَالَفَۃُ الْقِرَائَ اتِ الَّتِی ہِیَ مَشْہُورَۃٌ ، وَإِنْ کَانَ غَیْرُ ذَلِکَ سَائِغًا فِی اللُّغَۃِ أَوْ أَظْہَرَ مِنْہَا ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ
وَأَمَّا الأَخْبَارُ الَّتِی وَرَدَتْ فِی إِجَازَۃِ قِرَائَ ۃِ غَفُورٌ رَحِیمٌ بَدَلَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ فَلأَنَّ جَمِیعَ ذَلِکَ مِمَّا نَزَلَ بِہِ الْوَحْیُ ، فَإِذَا قَرَأَ ذَلِکَ فِی غَیْرِ مَوْضِعِہِ مَا لَمْ یَخْتِمْ بِہِ آیَۃَ عَذَابٍ بِآیَۃِ رَحْمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ ، فَکَأَنَّہُ قَرَأَ آیَۃً مِنْ سُورَۃٍ وَآیَۃً مِنْ سُورَۃٍ أُخْرَی فَلاَ یَأْثَمْ بِقِرَائَ تِہَا کَذَلِکَ ، وَالأَصْلُ مَا اسْتَقَرَّتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ فِی السَّنَۃِ الَّتِی تُوُفِّیَ فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ مَا عَارَضَہُ بِہِ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِی تِلْکَ السَّنَۃِ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ اجْتَمَعَتِ الصَّحَابَۃُ عَلَی إِثْبَاتِہِ بَیْنَ الدَّفَّتَیْنِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ سعید بن منصور ۲/۲۶۰]
তাহকীক: