আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৩৯৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں چوری کرنے والے کی نماز ناقص ہے
(٣٩٩٦) ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں میں سے بد ترین چوری کرنے والا وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ صحابہ ] نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! نماز میں چوری کیسے ہوتی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرنا۔
(۳۹۹۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ: الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَۃً الَّذِی یَسْرِقُ صَلاَتَہُ))۔ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ یَسْرِقُ صَلاَتَہُ؟ قَالَ : ((لاَ یُتِمُّ رُکُوعَہَا وَلاَ سُجُودَہَا))۔ [حسن لغیرہٖ۔ رواہ الحاکم ۱ /۳۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں چوری کرنے والے کی نماز ناقص ہے
(٣٩٩٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چوری کرنے کے لحاظ سے لوگوں میں سے بد ترین آدمی وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے۔ صحابہ ] نے پوچھا ! اے اللہ کے رسول ! نماز میں آدمی کیسے چوری کرتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرے۔
(۳۹۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ أَبِی الْعِشْرِینَ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَۃً الَّذِی یَسْرِقُ صَلاَتَہُ))۔ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَیْفَ یَسْرِقُ صَلاَتَہُ؟ قَالَ : ((لاَ یُتِمُّ رُکُوعَہَا وَلاَ سُجُودَہَا))۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ فِی حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم ۱/۳۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں چوری کرنے والے کی نماز ناقص ہے
(٣٩٩٨) زید بن وھب بیان کرتے ہیں : حذیفہ (رض) نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود کو پورا پورا ادا نہیں کررہا تھا تو اس کو کہا : کتنے عرصے سے تو (اس طرح کی) نماز پڑھ رہا ہے ؟ اس نے جواب دیا : چالیس سال سے۔ سیدنا حذیفہ (رض) نے فرمایا : تو نے کوئی نماز نہیں پڑھی، اگر تو اسی حالت میں مرگیا تو تیری موت فطرت (اسلام) پر نہ ہوگی۔
(۳۹۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ: رَأَی حُذَیْفَۃُ رَجُلاً لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ: مُذْ کَمْ صَلَّیْتَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِینَ سَنَۃً۔ قَالَ: مَا صَلَّیْتَ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَی غَیْرِ الْفِطْرَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۷۵۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں چوری کرنے والے کی نماز ناقص ہے
(٣٩٩٩) اسامہ بن زید (رض) کے آزاد کردہ غلام حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن داخل ہوا، جو انصار کا ایک شخص تھا اور ایمن اسامہ بن زید (رض) کا بڑا بھائی تھا۔ حرملہ بیان کرتے ہیں : حجاج نے ایسی نماز پڑھی جس میں اس نے رکوع و سجود کو مکمل نہیں کیا، جب اس نے سلام پھیرا تو ابن عمر (رض) نے اسے بلا کر کہا : اے بھتیجے ! تو کیا سمجھتا ہے کہ تو نے نماز پڑھ لی ہے ؟ تیری نماز نہیں ہوئی۔ اپنی نماز لوٹا ۔ جب حجاج چلا گیا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے مجھے کہا : یہ کون تھا ؟ میں نے کہا : حجاج بن ایمن بن ام ایمن۔ ابن عمر (رض) بولے : اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو دیکھ لیتے تو اس سے محبت کرتے، پھر انھوں نے محبت کی وجہ ذکر کی کہ ام ایمن نے اسے جنا تھا اور ام ایمن نبی (علیہ السلام) کی پرورش ونگہداشت کرنے والی تھیں۔
(۳۹۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمْنِ وَأَبُو سَعِیدٍ وَصَفْوَانُ قَالُوا حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ نَمِرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی حَرْمَلَۃُ مَوْلَی أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّہُ بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَیْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَیْمَنَ وَہْوَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ - وَکَانَ أَیْمَنُ أَخًا لأُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ کَانَ أَکْبَرَ مِنْ أُسَامَۃَ ، قَالَ حَرْمَلَۃُ - فَصَلَّی الْحَجَّاجُ صَلاَۃً لَمْ یُتِمَّ رُکُوعَہُ وَلاَ سُجُودَہُ ، فَدَعَاہُ ابْنُ عُمَرَ حِینَ سَلَّمَ فَقَالَ: أَیِ ابْنَ أَخِی أَتَحْسِبُ أَنَّکَ قَدْ صَلَّیْتَ؟ إِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَعُدْ لِصَلاَتِکَ۔ فَلَمَّا وَلَّی الْحَجَّاجُ قَالَ لِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: مَنْ ہَذَا؟ قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَیْمَنَ ابْنُ أَمِّ أَیْمَنَ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَوْ رَأَی ہَذَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَحَبَّہُ۔ فَذَکَرَ حُبَّہُ مَا وَلَدَتْ أَمُّ أَیْمَنَ ، وَکَانَتْ حَاضِنَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۵۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں فرضوں کو نوافل کے ساتھ پورا کیا جانے کا بیان جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کہ جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا
(٤٠٠٠) انس بن حکیم ضبی بیان کرتے ہیں : میں زیاد یا ابن زیاد سے خوفزدہ ہو کر مدینہ آیا تو ابوہریرہ (رض) سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا : مجھے اپنا نسب بیان کرو۔ میں نے نسب بیان کردیا تو انھوں نے فرمایا : اے نوجوان ! کیا میں تجھ سے ایک حدیث نہ بیان کروں ؟ میں نے کہا : اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ (یونس فرماتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انھوں نے اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے روز لوگوں سے ان کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کے متعلق پوچھا جائے گا۔ ہمارا پروردگار عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے : میرے اس بندے کی نماز کا جائزہ لو، کیا اس نے اسے درست اور مکمل پڑھا تھا یا اس میں کوئی کمی کی تھی ؟ اگر وہ مکمل ہوگی تو مکمل ہی لکھی جائے گی۔ اگر اس میں کچھ کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دیکھو کیا میرے بندے کے پاس نفل بھی ہیں ؟ اگر اس کے پاس نفل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے اس بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے پورا کر دو ۔ پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق لیا جائے گا۔
(۴۰۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ حَکِیمٍ الضَّبِّیِّ: أَنَّہُ خَافَ مِنْ زِیَادٍ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ مِنْ زِیَادٍ أَوِ ابْنِ زِیَادٍ - فَأَتَی الْمَدِینَۃَ فَلَقِیَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ: فَنَسَبَنِی فَانْتَسَبْتُ لَہُ فَقَالَ: یَا فَتَی أَلاَ أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا؟ قَالَ قُلْتُ: بَلَی یَرْحَمُکَ اللَّہُ۔ قَالَ یُونُسُ وَأَحْسِبُہُ ذَکَرَہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ النَّاسُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ أَعْمَالِہِمُ الصَّلاَۃُ))، قَالَ ((یَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلاَئِکَتِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِی صَلاَۃِ عَبْدِی أَتَمَّہَا أَمْ نَقَصَہَا؟ فَإِنْ کَانَتْ تَامَّۃً کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً ، وَإِنْ کَانَ انْتَقَصَ مِنْہَا شَیْئًا قَالَ: انْظُرُوا ہَلْ لِعَبْدِی مِنْ تَطَوُّعٍ ، فَإِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِی فَرِیضَتَہُ مِنْ تَطَوُّعِہِ۔ ثُمَّ تُؤْخَذُ الأَعْمَالُ عَلَی ذَلِکُمْ))۔

[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن الجاشیبۃ ۳۴۲۴۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں فرضوں کو نوافل کے ساتھ پورا کیا جانے کا بیان جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کہ جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا
(٤٠٠١) (ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔

(ب) اس حدیث میں حسن پر کئی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے اور جو سند ہم نے ذکر کی ہے وہ ان شاء اللہ ان سب سے صحیح ہے۔
(۴۰۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سَلِیطٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- نَحْوَہُ۔

ہَذَا حَدِیثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی الْحَسَنِ مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ ، وَمَا ذَکَرْنَا أَصَحُّہَا إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔

وَرُوِیَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۴/۱۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں فرضوں کو نوافل کے ساتھ پورا کیا جانے کا بیان جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کہ جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا
(٤٠٠٢) تمیم داری (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں بندے سے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر اس کی نماز پوری نکلی تو پوری ہی لکھی جائے گی اور اگر اس کی نماز مکمل نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا : دیکھو میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نمازیں ہیں اگر ہیں تو فرضوں کی کمی ان نفلوں کے ساتھ پورا کر دو ۔ پھر زکوۃ کا حساب اس طرح ہوگا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق ہوگا۔
(۴۰۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَلاَتُہُ ، فَإِنْ کَانَ أَکْمَلَہَا کُتِبَتْ لَہُ کَامِلَۃً ، وَإِنْ لَمْ یُکْمِلْہَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی لِمَلاَئِکَتِہِ: ہَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِی تَطَوُّعًا تُکَمِّلُوا بِہِ مَا ضَیَّعَ مِنْ فَرِیضَتِہِ۔

ثُمَّ الزَّکَاۃُ مِثْلُ ذَلِکَ ثُمَّ سَائِرُ الأَعْمَالِ عَلَی حَسَبِ ذَلِکَ۔

رَفَعَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَوَقَفَہُ غَیْرُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۲/۴۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں فرضوں کو نوافل کے ساتھ پورا کیا جانے کا بیان جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کہ جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا
(٤٠٠٣) (ا) تمیم داری (رض) سے روایت ہے کہ قیامت کے دن آدمی سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا وہ فرض نماز ہے۔ اگر اس کی نماز مکمل نکل آئی تو باقی حساب بھی لیا جائے گا اور اگر اس کی نماز میں کوئی کمی ہوئی تو کہا جائے گا : دیکھو کیا اس آدمی کے پاس نوافل ہیں ؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو ان نوافل سے اس کے فرائض کو مکمل کیا جائے گا اور اگر نوافل نہ ہوئے تو فرائض مکمل نہ ہوں گے اور اس کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

(ب) اس روایت کو یزید رقاشی نے نبی (علیہ السلام) سے انس بن مالک (رض) کے واسطے سے نقل کیا ہے اور یہ حضرت تمیم داری (رض) کی نماز اور زکوۃ والی روایت کے ہم معنیٰ ہے۔
(۴۰۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الصَّلاَۃُ الْمَکْتُوبَۃُ ، فَمَنْ أَتَمَّہَا حُوسِبَ بِمَا سِوَاہَا ، وَإِنْ کَانَ قَدِ انْتَقَصَہَا قِیلَ انْظُرُوا ہَلْ لَہُ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٍ أُکْمِلَتِ الْفَرِیضَۃُ مِنَ التَّطَوُّعِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ تَطَوُّعٌ لَمْ تُکْمَلِ الْفَرِیضَۃُ ، وَأُخِذَ بِطَرَفَیْہِ فَقُذِفَ فِی النَّارِ۔

وَوَقَفَہُ کَذَلِکَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَحَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔

وَرَوَاہُ یَزِیدُ الرَّقَاشِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَی حَدِیثِ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ وَأَتَمَّ مِنْہُ۔

وَرَوَی مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ فِی ہَذَا الْمَعْنَی مَا یُشْبِہُ خِلاَفَ ہَذَا۔[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں فرضوں کو نوافل کے ساتھ پورا کیا جانے کا بیان جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کہ جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا
(٤٠٠٤) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! اس شخص کی مثال جو نماز مکمل نہیں کرتا اس اونٹنی کی طرح ہے جو حاملہ ہو اور جب اس کا بچہ جننے کا وقت قریب ہو تو وہ حمل ضائع کر دے۔ نہ تو وہ بچے والی ہوگی اور نہ ہی حمل والی اور نمازی کی مثال اس تاجر کی سی ہے جو اپنے منافع کو خالص نہیں کرتا تاکہ اس کے مال کا سرمایہ اپنے لیے خالص کرے۔ اسی طرح نمازی کے نفل قبول نہیں ہوتے جب تک کہ وہ فرائض کو ادا نہ کرے۔
(۴۰۰۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْبَیَاضِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ حُنَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ الرَّبَذِیُّ عَنِ ابْنِ حُنَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((یَا عَلِیُّ مَثَلُ الَّذِی لاَ یُتِمُّ صَلاَتَہُ کَمَثَلِ حُبْلَی حَمَلَتْ ، فَلَمَّا دَنَا نِفَاسُہَا أَسْقَطَتْ فَلاَ ہِیَ ذَاتُ وَلَدٍ وَلاَ ہِیَ ذَاتُ حَمْلٍ ، وَمَثَلُ الْمُصَلِّی کَمَثَلِ التَّاجِرِ لاَ یَخْلُصُ لَہُ رِبْحُہُ حَتَّی یَخْلُصَ لَہُ رَأْسُ مَالِہِ ، کَذَلِکَ الْمُصَلِّی لاَ تُقْبَلُ نَافِلَتُہُ حَتَّی یُؤَدِّی الْفَرِیضَۃَ))۔

مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی إِسْنَادِہِ ، فَرَوَاہُ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ہَکَذَا۔ وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَلِیٍّ کَذَلِکَ مَرْفُوعًا وَہُوَ إِنْ صَحَّ کَمَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں فرضوں کو نوافل کے ساتھ پورا کیا جانے کا بیان جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کہ جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا
(٤٠٠٥) (ا) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی مثال جو اپنی نماز مکمل نہیں کرتا اس مادہ کی طرح ہے جو حاملہ ہو اور جب بچہ جننے کا وقت قریب آئے تو وہ اپنا حمل ساقط کر دے کہ نہ تو حمل ہو اور نہ ہی بچے اور نمازی کی مثال بھی تاجر کی سی ہے کہ نہ تو خالص کرتا ہے اور نہ ہی انصاف کرتا ہے تاکہ اپنے نفع کو خالص نہ کرلے۔ اسی طرح نمازی کے نوافل قبول نہ ہوں گے جب تک کہ وہ فرائض ادا نہ کرے۔

(ب) یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس کو ان نوافل پر محمول کیا جائے گا جو فرض نماز میں ہوتے ہیں اور ان نوافل کی صحت فرائض کی صحت کے ساتھ ہوگی اور سابقہ احادیث ان نوافل پر محمول ہوں گی جو فرائض کے علاوہ ہیں۔ ان کی صحت فرائض کی صحت پر موقوف نہ ہوگی واللہ اعلم۔
(۴۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی مُوسَی عَنْ صَالِحِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَثَلُ الَّذِی لاَ یُتِمُّ صَلاَتَہُ کَمَثَلِ الْحُبْلَی حَمَلَتْ ، حَتَّی إِذَا دَنَا نِفَاسُہَا أَسْقَطَتْ فَلاَ حَمْلَ وَلاَ ہِیَ ذَاتُ وَلَدٍ ، وَمَثَلُ الْمُصَلِّی کَمَثَلِ التَّاجِرِ لاَ یَخْلُصُ لَہُ رِبْحٌ حَتَّی یَخْلُصَ لَہُ رَأْسُ مَالِہِ ، کَذَلِکَ الْمُصَلِّی لاَ تُقْبَلُ لَہُ نَافِلَۃٌ حَتَّی یُؤَدِّی الْفَرِیضَۃَ))۔

وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَی نَافِلَۃٍ تَکُونُ فِی صَلاَۃِ الْفَرِیضَۃِ فَتَکُونُ صِحَّتُہَا بِصِحَّۃِ الْفَرِیضَۃِ ، وَالأَخْبَارُ الْمُتَقَدِّمَۃُ مَحْمُوَلۃٌ عَلَی نَافِلَۃٍ تَکُونُ خَارِجَۃَ الْفَرِیضَۃِ ، فَلاَ یَکُونُ صِحَّتُہَا بِصِحَّۃِ الْفَرِیضَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[ضعیف۔ أخرجہ الحاکم وعنہ المصف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرات کے ابواب قرات کو لمبا اور مختصر کرنے کا بیان
(٤٠٠٦) سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں : میں نے ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے فلاں شخص سے بڑھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے زیادہ مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی جو اہل مدینہ کا امیر تھا۔ سلیمان فرماتے ہیں : میں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے اور دوسری دو رکعتوں کو مختصر کرتے تھے۔ عصر کی نماز کو بھی مختصر کرتے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں ” قصار مفصل “ تلاوت کیا کرتے تھے اور عشا کی پہلی دو رکعتوں میں ” اوساط مفصل “ پڑھتے تھے اور صبح کی نماز میں ” طوال مفصل “ پڑھا کرتے تھے۔

ضحاک (رح) بیان کرتے ہیں : مجھے ایک شخص نے حدیث بیان کی جس نے سیدنا انس (رض) سے سنا کہ میں نے اس نوجوان سے بڑھ کر کسی کی نماز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے مشابہ نہیں دیکھی، ، وہ عمر بن عبد العزیز (رح) مراد لے رہے تھے۔ ضحاک (رح) کہتے ہیں : میں نے ان کے پیچھے بھی نماز پڑھی وہ اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح ابھی اوپر سلیمان بن یسار نے بیان کیا ہے۔
(۴۰۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِی بُکَیْرُ بْنُ الأَشَجِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَاہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلاَۃً بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ فُلاَنٍ۔ لِرَجُلٍ کَانَ أَمِیرًا عَلَی الْمَدِینَۃِ قَالَ سُلَیْمَانُ: وَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَکَانَ یُطِیلُ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ وَیُخَفِّفُ الأُخْرَیَیْنِ، وَیُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَیَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَیَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْعِشَائِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَیَقْرَأُ فِی الصُّبْحِ بِطُوَالِ الْمُفَصَّلِ۔ قَالَ الضَّحَّاکُ وَحَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلاَۃً بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ہَذَا الْفَتَی یَعْنِی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔ قَالَ الضَّحَّاکُ: وَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَکَانَ یُصَلِّی مِثْلَ مَا وَصَفَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ۔ [حسن۔ أخرجہ احمد ۷/۵۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرات کے ابواب قرات کو لمبا اور مختصر کرنے کا بیان
(٤٠٠٧) ایک دوسری سند سے یہی روایت منقول ہے۔
(۴۰۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَبِیرِ الْحَنَفِیُّ یَعْنِی أَبَا بَکْرٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرات کے ابواب قرات کو لمبا اور مختصر کرنے کا بیان
(٤٠٠٨) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : مفصلات میں سے کوئی چھوٹی سورت یا بڑی سورت ایسی نہیں ہے جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرض نمازوں کی امامت کے دوران پڑھتے ہوئے نہ سنا ہو۔
(۴۰۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ یُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ قَالَ: مَا مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَۃٌ صَغِیرَۃٌ وَلاَ کَبِیرَۃٌ إِلاَّ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَؤُمُّ بِہَا النَّاسَ فِی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۸۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠٠٩) عمرو بن حریث (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فجر کی نماز میں { وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ } [التکویر : ١٧] پڑھتے سنا۔
(۴۰۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: الظَّفْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ وَیَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی وَالْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ وَعَلِیُّ بْنُ قَادِمٍ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ سَرِیعٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الْفَجْرِ {وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التکویر: ۱۷]

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ کِدَامٍ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ ۳۴۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠١٠) قطبہ بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز میں { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ } [ق : ١٠] پڑھی۔
(۴۰۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ وَابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَرَأَ فِی الْفَجْرِ {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ} [ق: ۱۰]

لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی شَیْبَۃَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔

[صحیح۔ أخرجہ الشافعی فی مسند ۷۴۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠١١) قطبہ بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی اور ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی تو اس میں سورة قٓ کی تلاوت کی۔ جب { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَہَا طَلْعٌ نَضِیدٌ} [ق : ١٠] پڑھی تو میں اس کو دھرانے لگا اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کیا کہا۔
(۴۰۱۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: صَلَّیْتُ وَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصُّبْحَ فَقَرَأَ {ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ} [ق: ۱] حَتَّی قَرَأَ {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَہَا طَلْعٌ نَضِیدٌ} [ق: ۱۰] فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُہَا وَلاَ أَدْرِی مَا قَالَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ۔ [صحیح۔ و انظر ما قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠١٢) جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز میں { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ } پڑھی اور یہ آپ کی ہلکی نماز تھی۔
(۴۰۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَرَأَ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ {ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ} وَکَانَتْ صَلاَتُہُ بَعْدَ التَّخْفِیفِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ حُسَیْنٍ الْجُعْفِیِّ عَنْ زَائِدَۃَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ زُہَیْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَنْ سِمَاکٍ وَزَادَ وَنَحْوَہَا۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَإِسْرَائِیلُ عَنْ سِمَاکٍ وَقَالاَ فِی الْحَدِیثِ بِالْوَاقِعَۃِ وَنَحْوِہَا مِنَ السُّوَرِ۔

[حسن۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ ۳۴۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠١٣) عبداللہ بن سائب (رض) بیان کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں مکہ میں فجر کی نماز پڑھائی تو سورة مومنون شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کا ذکر آیا یا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آیا۔ محمد بن عباد (رض) کو شک ہوا ہے یا انھوں نے اس پر اختلاف کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانسی آگئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہیں چھوڑ کر رکوع کیا اور ابن سائب اس نماز میں موجود تھے۔
(۴۰۱۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْمَیْمُونِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عِبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ سُفْیَانَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُسَیَّبِ الْعَابِدِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصُّبْحَ بِمَکَّۃَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَۃَ الْمُؤْمِنِینَ حَتَّی جَائَ ذِکْرُ مُوسَی وَہَارُونَ أَوْ جَائَ ذِکْرُ عِیسَی - مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ یَشُکُّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَیْہِ - أَخَذَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- سَعْلَۃٌ ، فَحَذَفَ فَرَکَعَ ، وَابْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِکَ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ کَمَا مَضَی۔

[صحیح۔ أخرجہ الشافعی فی مسندہ ۷۵۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠١٤) ابو برزہ اسلمی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں ساٹھ سے سو تک آیات تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۴۰۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ یَعْنِی ابْنَ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ عَنْ سَیَّارٍ أَبِی الْمِنْہَالِ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقْرَأُ فِی صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ مِنَ السِّتِّینَ إِلَی الْمِائَۃِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۴۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صبح کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠١٥) (ا) انس (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو انھوں نے سورة بقرہ پڑھی۔ عمر (رض) نے انھیں کہا کہ سورج نکلنے کے قریب تھا تو انھوں نے فرمایا : اگر طلوع ہوجاتا تو تو ہمیں غافل نہ پاتا۔

(ب) اس کے ہم معنی روایت قتادہ (رض) اور انس (رض) کے واسطے سے منقول ہے۔ اس میں ہے ” کا دتِ الشمس “۔
(۴۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ، فَقَرَأَ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: کَرَبَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ۔ فَقَالَ: لَوْ طَلَعَتْ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِینَ۔ (ت) وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ وَقَالَ: کَادَتِ الشَّمْسُ۔ [صحیح۔ أخرجہ الشافعی ۷/۲۲۸]
tahqiq

তাহকীক: