আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪০৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قراءت کو اس سے زیادہ نہ کرنے کا بیان جو ہم نے ذکر کیا
(٤٠٣٦) مروان بن حکم (رض) سے روایت ہے کہ زید بن ثابت (رض) نے مجھے کہا : کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصدا چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے ہو ؟ آپ سے پہلے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب کی نماز میں لمبی لمبی سورتیں پڑھتے دیکھا ہے۔ میں نے عروہ سے پوچھا : وہ لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں ؟ انھوں نے کہا : ” اعراف “ ابن جریح فرماتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ سے دریافت کیا کہ وہ لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں ؟ تو انھوں نے بتایا : انعام اور اعراف۔
(۴۰۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ مَرْوَانَ قَالَ قَالَ لِی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَکَ تَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ؟ لَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِطُولَی الطُّولَیَیْنِ۔ قَالَ فَقُلْتُ لِعُرْوَۃَ: مَا طُولَی الطُّولَیَیْنِ؟ قَالَ: الأَعْرَافُ۔ قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ: مَا طُولَی الطُّولَیَیْنِ؟ قَالَ: الأَنْعَامُ وَالأَعْرَافُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ النَّبِیلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۶۹۱]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ النَّبِیلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۶۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز میں قراءت کو اس سے زیادہ نہ کرنے کا بیان جو ہم نے ذکر کیا
(٤٠٣٧) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز میں سورة اعراف پڑھی اور اس کو دونوں رکعتوں میں مکمل کیا۔
زید بن ثابت (رض) سے بھی اس کے ہم معنی روایت منقول ہے اور صحیح پہلے والی ہے۔
زید بن ثابت (رض) سے بھی اس کے ہم معنی روایت منقول ہے اور صحیح پہلے والی ہے۔
(۴۰۳۷) وَرُوِیَ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَرَأَ سُورَۃَ الأَعْرَافِ فِی صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ فَرَّقَہَا فِی رَکْعَتَیْنِ۔
أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا شَاذَانُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ کَثِیرِ بْنِ دِینَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَیْوَۃَ وَبَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ فَذَکَرَہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو تَقِیٍّ عَنْ بَقِیَّۃَ ، وَرَوَاہُ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِہَذَا الْمَعْنَی، وَالصَّحِیحُ ہِیَ الرِّوَایَۃُ الأُولَی۔ [حسن۔ أخرجہ النسائی فی الصغری ۹۹۱]
أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا شَاذَانُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیدِ بْنِ کَثِیرِ بْنِ دِینَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَیْوَۃَ وَبَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ فَذَکَرَہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو تَقِیٍّ عَنْ بَقِیَّۃَ ، وَرَوَاہُ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِہَذَا الْمَعْنَی، وَالصَّحِیحُ ہِیَ الرِّوَایَۃُ الأُولَی۔ [حسن۔ أخرجہ النسائی فی الصغری ۹۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠٣٨) جابر (رض) بیان کرتے ہیں : معاذ بن جبل (رض) نے اپنے مقتدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی تو اس کی قرآت لمبی کردی۔ ہم میں سے ایک شخص نماز چھوڑ کر چلا گیا۔ سیدنا معاذ (رض) کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انھوں نے فرمایا : وہ منافق ہے۔ جب اس آدمی کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت معاذ (رض) کے اس قول کے بارے میں بتایا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ (رض) کو فرمایا : اے معاذ ! کیا تو لوگوں کو فتنے میں ڈالنا چاہتا ہے ؟ جب تو لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو { والشمس }، { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } ، { وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَی } اور { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ } پڑھا کر۔
(۴۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ: الْعَنْبَرُ بْنُ الطَّیِّبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہُ قَالَ: صَلَّی مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِیُّ لأَصْحَابِہِ الْعِشَائَ فَطَوَّلَ عَلَیْہِمْ ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّی ، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْہُ فَقَالَ: إِنَّہُ مُنَافِقٌ۔ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِکَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ لَہُ مُعَاذٌ۔ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((أَتُرِیدُ أَنْ تَکُونَ فَتَّانًا یَا مُعَاذُ؟ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاہَا وَ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَی} وَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ}
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۱۰۶]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۱۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠٣٩) براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة تین کی تلاوت کی۔
(۴۰۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی أَنَّ عَدِیَّ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- الْعِشَائَ فَقَرَأَ بِالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۷۳۳]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۷۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عشا کی نماز میں قرات کی مقدار کا بیان
(٤٠٤٠) سیدنا براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سفر میں عشا کی نماز پڑھائی تو اس کی پہلی دو رکعتوں میں سے ایک رکعت میں سورة تین پڑھی۔
(۴۰۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِطُوسٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ فِی سَفَرٍ فَقَرَأَ فِی إِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ بِالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی واقعہ پیش آجائے تو امام نماز میں تخفیف کر دے
(٤٠٤١) سیدنا انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے اور بچے کے رونے کی آواز سنتے تو چھوٹی سورت پڑھ لیتے۔
(۴۰۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ قَالَ عَلِیٌّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ مَعَ أُمِّہِ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ ، فَیَقْرَأُ بِالسُّورَۃِ الْخَفِیفَۃِ أَوْ بِالسُّورَۃِ الْقَصِیرَۃِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۴۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی واقعہ پیش آجائے تو امام نماز میں تخفیف کر دے
(٤٠٤٢) قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک (رض) نے انھیں حدیث بیان کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ لمبی قرات کروں گا، پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کردیتا ہوں تاکہ اس کی ماں پر دشوار نہ گزرے۔
(۴۰۴۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ: الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِنِّی لأَدْخُلُ فِی الصَّلاَۃِ وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أُطِیلَہَا ، فَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ ، فَأَتَجَوَّزُ فِی صَلاَتِی مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ أُمِّہِ مِنْ بُکَائِہِ))۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۷۰۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی واقعہ پیش آجائے تو امام نماز میں تخفیف کر دے
(٤٠٤٣) (ا) سیدنا انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نماز میں ہوتا ہوں تو ارادہ کرتا ہوں کہ اس میں لمبی قرات کروں گا، پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس کی ماں پر دشواری محسوس کرتے ہوئے نماز کو مختصر کردیتا ہوں۔
(ب) ابو قتادہ (رض) انصاری سے بھی اس کے ہم معنیٰ روایت منقول ہے۔
(ب) ابو قتادہ (رض) انصاری سے بھی اس کے ہم معنیٰ روایت منقول ہے۔
(۴۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَاہِرِ بْنِ أَبِی الدُّمَیْکِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنِّی لأَدْخُلُ الصَّلاَۃَ أُرِیدُ إِطَالَتِہَا ، فَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ ، فَأُخَفِّفُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ أُمُّہِ بِہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْہَالِ۔
وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ شَرِیکِ بْنِ أَبِی نَمْرٍ عَنْ أَنَسٍ وَمِنْ حَدِیثِ أَبِی قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنِّی لأَدْخُلُ الصَّلاَۃَ أُرِیدُ إِطَالَتِہَا ، فَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِیِّ ، فَأُخَفِّفُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ أُمُّہِ بِہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمِنْہَالِ۔
وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ شَرِیکِ بْنِ أَبِی نَمْرٍ عَنْ أَنَسٍ وَمِنْ حَدِیثِ أَبِی قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
(٤٠٤٤) زر بن حبیش (رض) فرماتے ہیں : میں نے ابی بن کعب (رض) سے معوذتین کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : یہ مجھے کہا گیا تھا تو میں نے کہہ دیا۔
ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں : جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔
ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں : جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔
(۴۰۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فَقَالَ: قِیلَ لِی فَقُلْتُ۔ فَنَحْنُ نَقُولُ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔
[صحیح۔ أخرجہ الطیالسی ۵۴۳]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فَقَالَ: قِیلَ لِی فَقُلْتُ۔ فَنَحْنُ نَقُولُ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔
[صحیح۔ أخرجہ الطیالسی ۵۴۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
(٤٠٤٥) زر بن حبیش (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب (رض) سے معوذتین کے بارے میں دریافت کیا اور کہا : اے ابومنذر ! بیشک آپ کا بھائی ابن مسعود (رض) ان کو قرآن میں شمار نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کلمات مجھے کہے گئے تھے تو میں نے کہے۔ لہٰذا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہے ہیں۔
(۴۰۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ أَبِی لُبَابَۃَ وَعَاصِمُ بْنُ بَہْدَلَۃَ أَنَّہُمَا سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَیْشٍ یَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ فَقُلْتُ: یَا أَبَا الْمُنْذِرِ إِنَّ أَخَاکَ ابْنَ مَسْعُودٍ یَحُکُّہُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ۔ قَالَ: إِنِّی سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : فَقِیلَ لِی فَقُلْتُ ۔ فَنَحْنُ نَقُولُ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَعَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۷۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَعَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۷۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
(٤٠٤٦) (ا) عقبہ بن عامر جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر چند ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان جیسی کسی نے نہیں دیکھیں، وہ معوذتین مراد لے رہے تھے۔
(ب) محمد بن عبید (رض) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” مجھ پر (آج) رات چند ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے نہیں دیکھیں، وہ معوذتین ہیں۔
(ب) محمد بن عبید (رض) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” مجھ پر (آج) رات چند ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے نہیں دیکھیں، وہ معوذتین ہیں۔
۴۰۴۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِی الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَیَّ آیَاتٌ لَمْ یُرَ مِثْلُہُنَّ))۔ یَعْنِی الْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ لَفْظُ
حَدِیثِ یَعْلَی وَفِی رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ : أُنْزِلَتْ عَلَیَّ اللَّیْلَۃَ آیَاتٌ لَمْ أَرَ مِثْلَہُنَّ الْمُعَوِّذَتَیْنِ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۴/۱۹۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِی الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَیَّ آیَاتٌ لَمْ یُرَ مِثْلُہُنَّ))۔ یَعْنِی الْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ لَفْظُ
حَدِیثِ یَعْلَی وَفِی رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ : أُنْزِلَتْ عَلَیَّ اللَّیْلَۃَ آیَاتٌ لَمْ أَرَ مِثْلَہُنَّ الْمُعَوِّذَتَیْنِ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۴/۱۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
(٤٠٤٧) عقبہ بن عامر جہنی (رض) فرماتے ہیں : دورانِ سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے آگے آگے چلتا رہا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عقبہ ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو پڑھی جاتی ہیں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } اور { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } سکھائیں۔ آپ نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کو صبح کی نماز پڑھائی تو یہ دو سورتیں (معوذتین) تلاوت فرمائیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا : اے عقبہ ! تمہارا (ان سورتوں کے بارے میں) کیا خیال ہے ؟
(۴۰۴۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِی الْعَلاَئُ بْنُ کَثِیرٍ الْحَضْرَمِیُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ مَوْلَی مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: کُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نَاقَتَہُ فَقَالَ لِی : ((یَا عُقْبَۃُ أَلاَ أُعَلِّمُکَ خَیْرَ سُورَتَیْنِ قُرِئَتَا؟))۔ فَقُلْتُ: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأَقْرَأَنِی {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} فَلَمْ یَرَنِی أُعْجِبْتُ بِہِمَا ، فَصَلَّی بِالنَّاسِ الْغَدَاۃَ فَقَرَأَ بِہِمَا فَقَالَ لِی : یَا عُقْبَۃُ کَیْفَ رَأَیْتَ؟ ۔ کَذَا قَالَ الْعَلاَئُ بْنُ کَثِیرٍ۔
وَقَالَ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ وَہُوَ أَصَحُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۴/۱۹۴]
وَقَالَ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ وَہُوَ أَصَحُّ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۴/۱۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
(٤٠٤٨) عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ میں دورانِ سفر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے آگے آگے چلتا رہا پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عقبہ ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو تلاوت کی جاتی ہیں ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } اور { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } سکھائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محسوس کیا کہ مجھے کوئی زیادہ خوشی نہیں ہوئی تو صبح جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو صبح کی نماز پڑھانے کے لیے اترے تو نماز میں یہی دو سورتیں تلاوت فرمائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے عقبہ ! تمہارا ان سورتوں کے بارے کیا خیال ہے ؟
(۴۰۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَی مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: کُنْتُ أَقُودُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نَاقَتَہُ فِی السَّفَرِ فَقَالَ لِی : یَا عُقْبَۃُ أَلاَ أُعَلِّمُکَ خَیْرَ سُورَتَیْنِ قُرِئَتَا ۔ فَعَلَّمَنِی {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} فَلَمْ یَرَنِی سُرِرْتُ بِہِمَا جِدًّا ، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ صَلَّی بِہِمَا صَلاَۃَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الصَّلاَۃِ الْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ لِی : ((یَا عُقْبَۃُ کَیْفَ رَأَیْتَ؟))۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ کَمَا۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
(٤٠٨٩) عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معوذ تین کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امامت کے دوران فجر کی نماز میں ان کو تلاوت کیا ۔
(۴۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحَمْنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُعَوِّذَتَیْنِ ، فَأَمَّنَا بِہِمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ معوذتین کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں اس مصحف میں لکھی ہوئی تھیں جو ابوبکر (رض) کے عہد رسالت میں جمع کیا گیا ، پھر سیدنا عمر (رض) کے پاس رہا، پھر حفصہ (رض) کے پاس چلا گیا، پھر عثمان (رض) نے لوگوں سے ان کو جمع کیا اور یہ دونوں کتاب اللہ کا حصہ ہیں اور میں پسند
(٤٠٥٠) سیدنا عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جحفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا کہ اچانک سیاہ کالی آدھی نے ہمیں گھیر لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) { أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } اور { أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } کے ساتھ پناہ طلب کرنے لگے۔ ترجمہ : میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ میں انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں اور فرمانے لگے : اے عقبہ ! ان دونوں (معوذتین) کے ساتھ پناہ طلب کر، کسی پناہ حاصل کرنے والے نے ان دونوں جیسی پناہ حاصل نہیں کی۔ عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں : آپ ہماری امامت کے دوران ان دونوں کی تلاوت کرتے تھے۔
(۴۰۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَیْنَا أَنَا أَسِیرُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ الْجُحْفَۃِ وَالأَبْوَائِ إِذْ غَشِیَتْنَا رِیحٌ وَظُلْمَۃٌ شَدِیدَۃٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَتَعَوَّذُ بِ {أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} وَیَقُولُ : ((یَا عُقْبَۃُ تَعَوَّذْ بِہِمَا ، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِہِمَا))۔ قَالَ: وَسَمِعْتُہُ یَؤُمُّنَا بِہِمَا فِی الصَّلاَۃِ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ وفی ۴۰۴۶]
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ وفی ۴۰۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تلاوتِ قرآن پر کسی پابندی کا بیان
(٤٠٥١) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صاحب قرآن کی مثال گھٹنا بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے۔ اگر وہ (صاحبِ قرآن) اسے مضبوطی سے پکڑے رکھے تو روک سکے گا اور اس کو کھول دے تو یہ جلد چلا جائے گا۔
(۴۰۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ کَمَثَلِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَۃِ إِنْ عَاہَدَ عَلَیْہَا أَمْسَکَہَا ، وَإِنْ أَطْلَقَہَا ذَہَبَتْ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی کِلاَہُمَا عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۲۴۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تلاوتِ قرآن پر کسی پابندی کا بیان
(٤٠٥٢) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ان مصاحف کو پختگی سے یاد رکھو۔ اللہ کی قسم ! قرآن جلدی لوگوں کے سینوں سے نکل جاتا ہے جیسے جانور اپنی رسیوں سے نکل جاتے ہیں۔ (لہٰذا اس کی تلاوت کرتے رہا کرو) تم میں سے کوئی بھی ہرگز یہ بات نہ کہے کہ نسیت آیۃ کیت وکیت کی میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ بھلا دی جاتی ہے۔
(۴۰۵۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: تَعَاہَدُوا ہَذِہِ الْمَصَاحِفَ ، فَلَہِیَ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِہَا ، وَلاَ یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ إِنِّی نَسِیتُ آیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((بَلْ ہُوَ نُسِّیَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۰۳۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۰۳۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تلاوتِ قرآن پر کسی پابندی کا بیان
(٤٠٥٣) سیدنا عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی کا اس طرح کہنا بری بات ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ (یہ کہے کہ) وہ بھلا دیا گیا۔ قرآن کو یاد کیا کرو یقیناً وہ لوگوں کے سینوں سے جلدی نکلنے والا ہے بہ نسبت جانور کے ان کی رسیوں سے۔
(۴۰۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((بِئْسَمَا لأَحَدِہِمْ أَنْ یَقُولَ نَسِیتُ آیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ ، بَلْ ہُوَ نُسِّیَ ، اسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ ، فَلَہُوَ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِہَا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((بِئْسَمَا لأَحَدِہِمْ أَنْ یَقُولَ نَسِیتُ آیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ ، بَلْ ہُوَ نُسِّیَ ، اسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ ، فَلَہُوَ أَشَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِہَا))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تلاوتِ قرآن پر کسی پابندی کا بیان
(٤٠٥٤) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص مہارت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو وہ معزز فرشتوں جیسا ہے اور اس شخص کی مثال جو قرآن کو پڑھتا ہے اور اس کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس پر گراں گزرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔
(۴۰۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَۃَ بْنَ أَوْفَی یُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَثَلُ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَہْوَ لَہُ حَافِظٌ مَثَلُ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ ، وَمَثَلُ الَّذِی یَقْرَؤُہُ وَہُوَ یَتَعَاہَدُہُ وَہْوَ عَلَیْہِ شَدِیدٌ ، فَلَہُ أَجْرَانِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۹۳۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۹۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تلاوتِ قرآن پر کسی پابندی کا بیان
(٤٠٥٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن کی (تلاوت میں) مہارت رکھنے والا معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص قرآن پڑھ رہا ہو اور اس میں اٹک رہا ہو اور وہ اس پر گراں گزر رہا ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔
(۴۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی وَحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْمَاہِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ ، وَالَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ یَتَتَعْتَعُ فِیہِ وَہُوَ عَلَیْہِ شَاقٌّ فَلَہُ أَجْرَانِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ وَغَیْرِہِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ وَغَیْرِہِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক: