আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪০৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تلاوتِ قرآن پر کسی پابندی کا بیان
(٤٠٥٦) ابو امامہ باہلی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن پڑھو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرنے والا بن کر آئے گا۔ سو رہ بقرہ اور آل عمران کو پڑھو، یہ دونوں زھراوین ہیں اور یہ دونوں قیامت کے دن آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل یا دو سائبان ہیں یا پرندوں کے پر ہیں جو اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہیں۔ یہ اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑیں گی۔ سورة بقرہ کو پڑھا کرو اس کا یاد کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا باعث حسرت ہے اور اس کو زیرنگیں کرنے کی شیطان ہمت نہیں رکھتے۔

(ب) معاویہ فرماتے ہیں : الْبَطَلَۃُ : السَّحَرَۃُ یعنی جادو۔
(۴۰۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمِ بْنِ أَبِی سَلاَّمٍ الْحَبَشِیُّ عَنْ أَخِیہِ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْرَئُ وا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّہُ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیعًا لأَصْحَابِہِ ، اقْرَئُ وا الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّہُمَا الزَّہْرَاوَانِ ، یَأْتِیَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ کَأَنَّہُمَا غَیَایَتَانِ ، أَوْ کَأَنَّہُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَیْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِہِمَا ، اقْرَئُ وا سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ فَإِنَّ أَخْذَہَا بَرَکَۃٌ ، وَتَرْکَہَا حَسْرَۃٌ وَلاَ تَسْتَطِیعُہَا الْبَطَلَۃُ))۔

قَالَ مُعَاوِیَۃُ: الْبَطَلَۃُ: السَّحَرَۃُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَسَنٍ الْحُلْوَانِیِّ عَنْ أَبِی تَوْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۸۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرآن کتنے دنوں میں ختم کرنا مستحب ہے
(٤٠٥٧) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : ہر ماہ میں قرآن ختم کر۔ میں نے کہا : میں (اس سے کم میں ختم کرنے کی) طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تو پھر بیس راتوں میں ختم کرلیا کر۔ میں نے کہا : اس سے بھی زیادہ قوت پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تو پندرہ دنوں میں مکمل کرلیا کر۔ میں نے کہا : میں اس سے کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تو اس کو دس دن میں ختم کرلیا کر۔ میں نے کہا : میں پھر بھی قوت رکھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو سات دنوں میں ختم کرلیا کر اور اس سے جلدی ختم نہ کر۔
(۴۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ - قَالَ: وَأَحْسِبُنِی أَنَا قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ - عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِی شَہْرٍ))۔ قُلْتُ: إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً۔ قَالَ : ((فَاقْرَأْہُ فِی عِشْرِینَ لَیْلَۃً))۔ قُلْتُ: إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً ۔ قَالَ: ((فَاقْرَأْہُ فِی خَمْسَ عَشْرَۃَ))۔ قُلْتُ: إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً۔ قَالَ : ((فَاقْرَأْہُ فِی عَشْرَۃٍ))۔ قُلْتُ: إِنِّی أَجِدُ قُوَّۃً۔ قَالَ: ((فَاقْرَأْہُ فِی سَبْعٍ وَلاَ تَزِدْ عَلَی ذَلِکَ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۰۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرآن کتنے دنوں میں ختم کرنا مستحب ہے
(٤٠٥٨) ایک دوسری سند سے بالکل اسی طرح کی حدیث منقول ہے۔
(۴۰۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ الضَّخْمُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمْنِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ بْنِ ثَوْبَانَ مَوْلَی بَنِی زُہْرَۃَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ سَوَائً

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَعَنْ سَعْدِ بْنِ حَفْصٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ زَکَرِیَّا عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرآن کتنے دنوں میں ختم کرنا مستحب ہے
(٤٠٥٩) (ا ) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ قرآن کو سات دن میں مکمل پڑھا کرو اور اس کو تین دن سے کم مدت میں ختم نہ کرو اور آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر دن رات میں (کم از کم) قرآن کے ایک پارے کی (تلاوت) پر محافظت کرے۔

(ب) سیدنا ابن مسعود (رض) سے ہمیں یہ روایت بیان کی گئی کہ وہ رمضان المبارک میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے اور غیر رمضان میں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک قرآن مکمل کرتے تھے۔

(ج) ابی بن کعب (رض) سے منقول ہے کہ وہ ہر آٹھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔

(د) تمیم داری (رض) سے منقول ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے۔

(ہ) سیدنا عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے کہ وہ اپنی پوری رات کو زندہ رکھتے (یعنی عبادت کرتے) اور ہر رکعت میں قرآن مکمل پڑھتے تھے۔
(۴۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنُ زَکَرِیَّا الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُاللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ: اقْرَئُ وا الْقُرْآنَ فِی سَبْعٍ ، وَلاَ تَقْرَئُ وہُ فِی أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ، وَلْیُحَافِظِ الرَّجُلُ فِی یَوْمِہِ وَلَیْلَتِہِ عَلَی جُزْئِہِ۔

وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّہُ کَانَ یَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِی رَمَضَانَ فِی ثَلاَثٍ، وَفِی غَیْرِ رَمَضَانَ مِنَ الْجُمُعَۃِ إِلَی الْجُمُعَۃِ۔

وَعَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ: أَنَّہُ کَانَ یَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِی کُلِّ ثَمَانٍ۔

وَعَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ: أَنَّہُ کَانَ یَخْتِمُہُ فِی کُلِّ سَبْعٍ۔

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ یُحْیِی اللَّیْلَ کُلَّہُ ، فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی رَکْعَۃٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۹/۱۴۳/۸۷۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرآن کتنے دنوں میں ختم کرنا مستحب ہے
(٤٠٦٠) ابوحمزہ (رض) بیان فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے عرض کیا : میں بہت تیز تیز قرآن پڑھتا ہوں ! فرمایا : میں ایک رات میں صرف سورة بقرہ پڑھوں۔ اس میں غور و فکر کروں اور اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں تمہاری طرح پڑھوں۔
(۴۰۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُومُحَمَّدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُوسَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّی سَرِیعُ الْقِرَائَۃِ ، إِنِّی أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی ثَلاَثٍ۔ قَالَ: لأَنْ أَقْرَأَ الْبَقَرَۃَ فِی لَیْلَۃٍ فَأَتَدَبَّرُہَا وَأُرَتِّلُہَا أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ أَقْرَأَہَا کَمَا تَقْرَأُ۔

[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲/۴۸۹/۴۱۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قرآن کتنے دنوں میں ختم کرنا مستحب ہے
(٤٠٦١) ابو حمزہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے سیدنا ابن عباس (رض) سے کہا : میں تیز قرات کرنے والا آدمی ہوں اور کبھی کبھار تو میں ایک رات میں ایک بار دو بار قرآن پڑھ لیتا ہوں تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : میں ایک ہی سورت پڑھوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس بات سے کہ میں اس طرح کروں جس طرح تم کرتے ہو (یعنی ایک رات میں ایک یا دو مرتبہ ختم۔ )

اگر تو نے لازمی اس طرح کرنا ہی ہے تو (کم از کم) اس طرح پڑھ کہ تو اپنے کانوں کو سنا سکے اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔
(۴۰۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَۃَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّی رَجُلٌ سَرِیعُ الْقِرَائَ ۃِ ، وَرُبَّمَا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِی لَیْلَۃٍ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لأَنْ أَقْرَأَ سُورَۃً وَاحِدَۃً أَعْجَبُ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ مِثْلَ الَّذِی تَفْعَلُ ، فَإِنْ کُنْتَ فَاعِلاً لاَ بُدَّ فَاقْرَأْہُ قِرَائَ ۃً تُسْمِعُ أُذُنَیْکَ وَیَعِیہِ قَلْبُکَ۔

[صحیح۔ وھو عندالمصنف فی الشعب ۵/۱۷۵/۲۰۹۱ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٦٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام تمہیں نمازیں پڑھاتے ہیں۔ اگر وہ درست نماز پڑھائیں تو تمہارے لیے بھی اور ان کے لیے بھی اجر ہے، لیکن اگر وہ غلطی کریں تو تمہیں تو اجر ملے گا لیکن ان پر وبال ہے۔
(۴۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَی۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ الْمَدَنِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ: ((یُصَلُّونَ لَکُمْ ، فَإِنْ أَصَابُوا فَلَکُمْ وَلَہُمْ ، وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَکُمْ وَعَلَیْہِمْ)) لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ إِلاَّ أَنَّ أَبَا خَیْثَمَۃَ لَمْ یَذْکُرِ ابْنَ دِینَارٍ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدَنِیُّ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَہْلٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُوسَی الأَشْیَبِ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۹۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٦٣) ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں شامل ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ تم اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز پڑھائی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو فرمایا : میں بھی انسان ہوں اور میں حالتِ جنابت میں تھا۔
(۴۰۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ زِیَادٍ الأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ا- دَخَلَ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ فَأَوْمَأَ بِیَدِہِ أَنْ مَکَانَکُمْ ، ثُمَّ جَائَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ ، فَصَلَّی بِہِمْ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ قَالَ فِی أَوَّلِہِ : فَکَبَّرَ وَقَالَ فِی آخِرِہ: فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَإِنِّی کُنْتُ جُنُبًا))۔ [صحیح۔ احمد ۱۹۹۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٦٤) عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی ایک نماز میں تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ٹھہرو، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حالت میں واپس لوٹے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم پر پانی کے نشانات تھے۔
(۴۰۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ا- کَبَّرَ فِی صَلاَۃٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ ، ثُمَّ أَشَارَ بِیَدِہِ امْکُثُوا، ثُمَّ رَجَعَ وَعَلَی جِلْدِہِ أَثَرُ الْمَائِ۔

[ضعیف۔ موطا امام مالک ۱۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
یہ سابقہ حدیث کی اور ایک سند ہے۔
(۴۰۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ مَعْنَاہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٦٦) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے تشریف لائے، جب تکبیر کہی گئی تو واپس چلے گئے اور صحابہ (رض) کی طرف اشارہ کیا کہ تم اپنی حالت پر ہی رہو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میں حالتِ جنابت میں تھا اور غسل کرنا بھول گیا تھا۔
(۴۰۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْکِلاَبِیُّ بِحَلَبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی مَذْعُورٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ إِلَی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا کَبَّرَ انْصَرَفَ ، وَأَوْمَأَ إِلَیْہِمْ أَنْ کَمَا أَنْتُمْ ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ، فَصَلَّی بِہِمْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّی کُنْتُ جُنُبًا فَنَسِیتُ أَنْ أَغْتَسِلَ ))۔ [صحیح لغیر ہ۔ الامر ۷/۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٦٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب صبح کی نماز میں تکبیر کہی گئی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کی طرف اشارہ کیا اور خود چلے گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز پڑھائی، پھر فرمایا : میں بھی انسان ہوں، میں حالت جنابت میں تھا، لیکن بھول گیا تھا۔
(۴۰۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الْمَعْرُوفُ بِأَبِی الشَّیْخِ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمْنِ الْحَارِثِیُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَبَّرَ بِہِمْ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَیْہِمْ ، ثُمَّ انْطَلَقَ ، وَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ ، فَصَلَّی بِہِمْ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَإِنِّی کُنْتُ جُنُبًا فَنَسِیتُ))۔

تَفَرَّدَ بِہِ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمْنِ الْحَارِثِیُّ۔

(ت) وَرَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَیُّوبُ وَہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً وَہُوَ الْمَحْفُوظُ، وَکُلُّ ذَلِکَ شَاہِدٌ لِحَدِیثِ أَبِی بَکْرَۃَ۔

[ضعیف۔ الشافی فی الأمر ۲۷۸-۱۶۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٦٨) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور صفیں بھی برابر کردی گئیں تو ہماری طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد آیا کہ آپ تو حالتِ جنابت میں ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اشارہ کیا اور گھر چلے گئے، غسل کیا اور گھر سے اس حالت میں نکلے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر سے قطرے گر رہے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی۔
(۴۰۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ ، فَخَرَجَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا قَامَ فِی مُصَلاَّہُ ذَکَرَ أَنَّہُ جُنُبٌ ، فَأَوْمَأَ إِلَیْنَا وَدَخَلَ ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ ، فَصَلَّی بِنَا۔ [صحیح۔ بخاری ۶۳۹، مسلم ۶۰۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٦٩) ایک حدیث میں ہے کہ یہ کام تکبیر کہنے سے پہلے ہوا۔
(۴۰۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ یَعْنِی ابْنَ مُکْرَمٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ۔ [صحیح۔ بحوالہ مذکورہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور ہم کھڑے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکلنے سے پہلے ہم نے صفیں درست کیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور مصلیٰ پر کھڑے ہوگئے اور تکبیر کہنے سے پہلے آپ کو یاد آگیا۔ پھر آپ چلے گئے اور ہمیں فرمایا : تم اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو۔ ہم کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس آگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر سے پانی بہہ رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور ہمیں نماز پڑھائی۔
(۴۰۷۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمْنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَقُمْنَا ، فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی إِذَا قَامَ فِی مُصَلاَّہُ قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ ذَکَرَ ، فَانْصَرَفَ وَقَالَ لَنَا: مَکَانَکُمْ ۔ فَلَمْ نَزَلْ قِیَامًا نَنْتَظِرُہُ حَتَّی خَرَجَ إِلَیْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ یَنْطِفُ رَأْسُہُ مَائً ، فَکَبَّرَ فَصَلَّی بِنَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ۔

(ت) وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ نَحْوَ رِوَایَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ۔

وَرِوَایَۃُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَصَحُّ مِنْ رِوَایَۃِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْہُ إِلاَّ أَنَّ مَعَ رِوَایَۃِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْہُ رِوَایَۃَ أَبِی بَکْرَۃَ مُسْنَدَۃً، وَرِوَایَۃُ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ وَابْنِ سِیرِینَ مُرْسَلَۃً، وَرُوِیَ أَیْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ بحوالہ مذکورہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧١) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں شامل ہوئے اور تکبیر کہی، ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تکبیر کہی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی حالت میں رہو، ہم کھڑے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر سے قطرے بہہ رہے تھے۔
(۴۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی صَلاَتِہِ ، فَکَبَّرَ فَکَبَّرْنَا مَعَہُ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَی النَّاسِ أَنْ کَمَا أَنْتُمْ ، فَلَمْ نَزَلْ قِیَامًا حَتَّی أَتَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَدِ اغْتَسَلَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ۔

(ت) خَالَفَہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ فَرَوَاہُ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [ضعیف۔ الطبرانی فی الأوسط ۴۰۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٢) مطیع بن اسود سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر میں اور حضرت عمر (رض) سوار ہو کر اپنی زمین کی طرف چلے گئے۔ جب حضرت عمر (رض) ایک نالے پر بیٹھ کر اس سے وضو کرنے لگے تو ان کی ران پر مَنی لگی ہوئی تھی، وہ فرمانے لگے : یہ میری ران پر مَنی لگی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں، اس کو صاف کردیا، پھر اللہ کی قسم ! جب بھی میں چکنائی والی چیز کھاتا ہوں، میں عمر کے ایسے حصے میں پہنچ گیا ہوں کہ مجھ سے ایسی چیز نکل جاتی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا۔ پھر آپ نے غسل کیا اور صبح کی نماز دوہرائی، لیکن کسی ایک کو بھی نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔
(۴۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ إِسْحَاقُ بْنُ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ التَّیْمِیُّ عَنْ عَمِّہِ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ مُطِیعِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ : صَلَّی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ، ثُمَّ رَکِبْتُ أَنَا وَہُوَ إِلَی أَرْضِنَا ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَی رَبِیعٍ مِنْہَا یَتَوَضَّأُ مِنْہُ فَإِذَا عَلَی فَخِذِہِ احْتِلاَمٌ فَقَالَ : ہَذَا الاِحْتِلاَمُ عَلَی فَخِذِی لَمْ أَشْعُرْ بِہِ فَحَکَّہُ ، ثُمَّ قَالَ : صِرْتُ وَاللَّہِ حِینَ أَکَلَتُ الدَّسَمَ وَدَخَلْتُ فِی السِّنِ یَخْرُجُ مِنِّی مَا لاَ أَشْعُرُ بِہِ۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ : فَمَا أَشْعُرُ بِہِ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ أَعَادَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ ، وَلَمْ یَأْمُرْ أَحَدًا بِإِعَادَۃِ الصَّلاَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٣) شرید ثقفی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو حالتِ جنابت میں نماز پڑھائی۔ خود آپ (رض) نے نماز کو دوہرا لیا، لیکن مقتدیوں کو نماز دوہرانے کا حکم نہیں دیا۔
(۴۰۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحَمْنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ : الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنِ الشَّرِیدِ الثَّقَفِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِالنَّاسِ وَہُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ ، وَلَمْ یَأْمُرْہُمْ أَنْ یُعِیدُوا۔ [حسن۔ دار قطنی ۱/۳۶۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٤) محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، جب صبح ہوئی تو اپنے کپڑوں میں جنابت کو دیکھا اور فرمانے لگے : میں بوڑھا ہوگیا ہوں، اللہ کی قسم ! میں اپنے آپ کو جنبی خیال کرتا ہوں پھر مجھے معلوم نہیں ہوتا۔ پھر آپ (رض) نے نماز دوہرائی اور دوسروں کو نماز دوہرانے کا حکم نہیں دیا۔

عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ جنبی اپنی نماز دوہرائے گا، لیکن دوسرے نماز نہیں دوہرائیں گے۔ میں اس میں اختلاف کو نہیں جانتا۔
(۴۰۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ : الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ مَہْدِیٍّ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارٍ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِالنَّاسِ وَہُوَ جُنُبٌ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِی ثَوْبِہِ احْتِلاَمًا فَقَالَ : کَبِرْتُ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرَانِی أَجْنُبُ ، ثُمَّ لاَ أَعْلَمُ ثُمَّ أَعَادَ ، وَلَمْ یَأْمُرْہُمْ أَنْ یُعِیدُوا۔

قَالَ عَبْدُ الرَّحَمْنِ : سَأَلْتُ سُفْیَانَ عَنْہُ فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ وَلاَ أَجِیئُ بِہِ کَمَا أُرِیدُ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّحَمْنِ : وَہَذَا الْمُجْتَمَعُ عَلَیْہِ الْجُنُبُ یُعِیدُ وَلاَ یُعِیدُونَ ، مَا أَعْلَمُ فِیہِ اخْتِلاَفًا۔

قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ أَبُو عُبَیْدٍ یَعْنِی فِی رِوَایَتِہِ قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ وَلاَ أَحْفَظْہُ وَلَمْ یَزِدْ عَلَی ہَذَا۔

[ضعیف۔ دارقطنی ۱/۳۶۴/۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٥) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھائی، خود تو نماز دوہرائی، لیکن دوسروں کو نماز دوہرانے کا حکم نہیں دیا۔
(۴۰۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ صَلَّی بِہِمْ وَہُوَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ ، فَأَعَادَ وَلَمْ یَأْمُرْہُمْ بِالإِعَادَۃِ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ۔

[صحیح۔ عبدالرزاق فی الأمالی ۱/۱۸۱/۱۴۳]
tahqiq

তাহকীক: