আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪০৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٦) براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر وضو کے نماز پڑھائی، قوم کی نماز تو مکمل ہوگئی، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کو دوہرایا۔
(۴۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ: أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ عَنْ جُوَیْبِرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلَیْسَ ہُوَ عَلَی وُضُوئٍ فَتَمَّتْ لِلْقَوْمِ ، وَأَعَادَ النَّبِیُّ ﷺ۔ وَہَذَا غَیْرُ قَوِیٍّ وَفِیمَا مَضَی کِفَایَۃٌ۔ [ضعیف۔ دار قطنی ۱۱۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٧) سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حالتِ جنابت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اور لوگوں نے بھی نماز لوٹائی۔
(۴۰۷۷) وَالَّذِی رُوِیَ فِی مُعَارَضَتِہِ عَنْ أَبِی جَابِرٍ الْبَیَاضِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی بِالنَّاسِ وَہُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ وَأَعَادُوا۔

وَذَلِکَ فِیمَا أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَطَائٍ الْجَلاَّبُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ أَبِی جَابِرٍ الْبَیَاضِیِّ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔ (ج) وَأَبُو جَابِرٍ الْبَیَاضِیُّ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ کَانَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ لاَ یَرْتَضِیہِ وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یَقُولُ أَبُو جَابِرٍ الْبَیَاضِیُّ کَذَّابٌ۔ وَالَّذِی: [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٨) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے خود بھی نماز لوٹائی، پھر انھیں حکم دیا تو انھوں نے بھی اعادہ کیا۔
(۴۰۷۸) أَخْبَرَنَاہُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ صَلَّی بِالْقَوْمِ وَہُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ ، ثُمَّ أَمَرَہُمْ فَأَعَادُوا۔

فَہَذَا إِنَّمَا یَرْوِیہِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ أَبُوخَالِدٍ الْوَاسِطِیُّ۔(ج) وَہُوَ مَتْرُوکٌ رَمَاہُ الْحُفَّاظُ بِالْکَذِبِ۔ [موضوع]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٧٩) عاصم بن ضمرہ حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے لوگوں کو بغیر وضو کے نماز پڑھائی تو خود بھی نماز دوہرائی اور دوسروں کو بھی لوٹانے کا حکم دیا۔
(۴۰۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ : فَسَأَلْتُ عَنْہُ وَکِیعًا فَقَالَ : کَانَ کَذَّابًا ، فَلَمَّا عَرَفْنَاہُ بِالْکَذِبِ تَحَوَّلَ إِلَی مَکَانٍ آخَرَ حَدَّثَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ صَلَّی بِہِمْ وَہُوَ عَلَی غَیْرِ طَہَارَۃٍ فَأَعَادَ ، وَأَمَرَہُمْ بِالإِعَادَۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٨٠) ایضا
(۴۰۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ سَمِعْتُہُ یَقُولُ : إِنَّ حَبِیبَ بْنَ أَبِی ثَابِتٍ لَمْ یَرْوِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ شَیْئًا قَطُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٨١) ابن مبارک فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس شخص کے لیے کوئی قوت موجود نہیں ہے جو یہ کہتا ہے کہ جب امام بغیر وضو کے نماز پڑھا دے تو اس کے ساتھی نماز لوٹائیں گے اور دوسری حدیث زیادہ ثابت ہے کہ لوگ نماز نہیں لوٹائیں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو حدیث کے ذریعے انصاف چاہتا ہے۔
(۴۰۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُبَارَکِ : لَیْسَ فِی الْحَدِیثِ قُوَّۃٌ لِمَنْ یَقُولُ إِذَا صَلَّی الإِمَامُ بِغَیْرِ وُضُوئٍ أَنَّ أَصْحَابَہُ یُعِیدُونَ، وَالْحَدِیثُ الآخَرُ أَثْبَتَ أَنْ لاَ یُعِیدَ الْقَوْمُ، ہَذَا لِمَنْ أَرَادَ الإِنْصَافَ بِالْحَدِیثِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ باب ناپاک شخص کی امامت کا حکم نماز کی جگہ مسجد وغیرہ اور نجاست سے متعلقہ ابواب کا بیان
(٤٠٨٢) ابراہیم اس شخص کے متعلق بیان فرماتے ہیں جو لوگوں کو بغیر وضو کے نماز پڑھا دیتا ہے کہ وہ خود تو نماز دوہرائے گا، لیکن لوگ نہیں دوہرائیں گے۔
(۴۰۸۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُہُسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحَمْنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ وَشُعْبَۃَ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ فِی الرَّجُلِ یُصَلِّی بِقَوْمٍ وَہُوَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ قَالَ : یُعِیدُ وَلاَ یُعِیدُونَ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّحَمْنِ قُلْتُ لِسُفْیَانَ : تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ یُعِیدُ وَیُعِیدُونَ غَیْرَ حَمَّادٍ؟ فَقَالَ : لاَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے بدن اور لباس کے پاک ہونے کا بیان

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ } اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنے کپڑوں کو پاک کیجیے۔ [سورۃ مدثر : ٤]
(٤٠٨٣) حضرت اسماء (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : ہم میں سے کسی کے کپڑوں پر حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کھرچ لے، پھر پانی کے ساتھ صاف کرے، پھر اس پر پانی چھڑک دے اور اس میں نماز پڑھ لے۔
(۴۰۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ حَدَّثَتْنِی فَاطِمَۃُ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِحْدَانَا یُصِیبُ ثَوْبَہَا مِنْ دَمِ الْحَیْضَۃِ ، فَکَیْفَ تَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ : ((تَحُتُّہُ ثُمَّ تَقْرُصُہُ بِالْمَائِ ، ثُمَّ تَنْضَحُہُ ثُمَّ تُصَلِّی فِیہِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ موطأ امام مالک ۱۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے بدن اور لباس کے پاک ہونے کا بیان

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ } اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنے کپڑوں کو پاک کیجیے۔ [سورۃ مدثر : ٤]
(٤٠٨٤) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : میں استحاضہ والی ہوں اور پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب حیض ختم ہوجائے تو اپنے خون کو دھو لے اور نماز پڑھ۔
(۴۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ الشِّیرَازِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ یَعْنِی ابْنَ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ تْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِی حُبَیْشٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنِّی مُسْتَحَاضَۃٌ فَلاَ أَطْہُرُ ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَۃَ۔قَالَ : ((لاَ ، إِنَّمَا ذَلِکِ عِرْقٌ وَلَیْسَ بِالْحَیْضِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَیْضَۃُ فَدَعِی الصَّلاَۃَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِی عَنْکِ الدَّمَ وَصَلِّی))۔

أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فِی الصَّحِیحِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۲۶، مسلم ۳۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے بدن اور لباس کے پاک ہونے کا بیان

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ } اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنے کپڑوں کو پاک کیجیے۔ [سورۃ مدثر : ٤]
(٤٠٨٥) سہل بن سعد سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر کی خود توڑ دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رباعی دانت شہید ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ زخمی ہوگیا۔

(ب) ابو حازم فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) آپ کا خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ جب زخم کو پانی لگا تو خون رکا نہیں بلکہ زیادہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ حضرت فاطمہ (رض) نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اس کو جلا کر راکھ بنایا، پھر اس راکھ کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زخم پر لگایا تو خون رک گیا۔
(۴۰۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِطُوسٍ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ بِنَیْسَابُورَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِی أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : ہُشِّمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلَی رَأْسِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَجُرِحَ وَجْہُہُ۔

قَالَ أَبُو حَازِمٍ : وَکَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَغْسِلَ عَنْہُ الدَّمَ ، وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْتِیہَا بِالْمَائِ فِی مَجَنَّۃٍ ، فَلَمَّا أَصَابَ الْجُرْحَ الْمَائُ کَثُرَ دَمُہُ فَلَمْ یَرْقَإِ الدَّمُ حَتَّی أَخَذَتْ قِطْعَۃَ حَصِیرٍ وَأَحْرَقَتْہُ حَتَّی عَادَ رَمَادًا ، ثُمَّ جَعَلَتْہُ عَلَی الْجُرْحِ فَرَقَأَ الدَّمُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَہْلِ بْنِ عَسْکَرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۷۵۴، مسلم ۱۷۹۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی کو بعد نماز علم ہو کہ اس کے کپڑوں یا جوتوں پر ناپاکی یا گندگی لگی ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٠٨٦) ابو سعید (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتوں سمیت نماز پڑھائی اور لوگوں نے بھی اپنے جوتوں میں ہی نماز پڑھ لی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے نماز کی حالت میں ہی اتار دیے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو فرمایا : نماز کی حالت میں کس چیز نے تمہیں جوتے اتارنے پر ابھارا ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو کرتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی ویسا ہی کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے خبر دی تھی کہ اس میں گندگی ہے، جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے دیکھنا چاہیے، اگر تو وہ اپنے جوتوں میں گندگی دیکھے تو اتار دے، ورنہ جوتوں میں ہی نماز پڑھ لے۔
(۴۰۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَۃَ السَّعْدِیُّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ صَلَّی فِی نَعْلَیْہِ ، فَصَلَّی النَّاسُ فِی نِعَالِہِمْ ، ثُمَّ أَلْقَی نَعْلَیْہِ ، فَأَلْقَی النَّاسُ نِعَالَہُمْ وَہُمْ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ قَالَ : ((مَا حَمَلَکُمْ عَلَی إِلْقَائِ نِعَالِکُمْ فِی الصَّلاَۃِ))۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ رَأَیْنَاکَ فَعَلْتَ فَفَعَلْنَا۔ فَقَالَ : ((إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَخْبَرَنِی أَنَّ فِیہَا أَذًی ، فَإِذَا أَتَی أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَنْظُرْ فَإِنْ رَأَی فِی نَعْلَیْہِ أَذًی ، وَإِلاَّ فَلْیُصَلِّ فِیہِمَا))۔ [صحیح۔ احمد ۱۱۴۶۷، ابن حبان ۲۱۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی کو بعد نماز علم ہو کہ اس کے کپڑوں یا جوتوں پر ناپاکی یا گندگی لگی ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٠٨٧) ابوسعیدخدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے تو پوچھا : تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے ؟ “ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے خبر دی کہ جوتوں میں گندگی ہے۔ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو جوتوں کو الٹ پلٹ کر ان میں گندگی دیکھ لے، اگر ان میں گندگی ہو تو زمین کے ساتھ انھیں رگڑ لے، پھر ان میں نماز پڑھے۔
(۴۰۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ صَلَّی فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ ، فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَہُمْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : ((لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَکُمْ؟)) ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ رَأَیْنَاکَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا۔ قَالَ : ((إِنَّ جِبْرِیلَ أَتَانِی فَأَخْبَرَنِی أَنَّ بِہِمَا خَبَثًا ، فَإِذَا جَائَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُقَلِّبْ نَعْلَیْہِ ، فَلْیَنْظُرْ فِیہِمَا خَبَثٌ ، فَإِنْ وَجَدَ خَبَثًا فَلْیَمْسَحْہُمَا بِالأَرْضِ ، ثُمَّ لَیُصَلِّ فِیہِمَا))۔

ہَذَا الْحَدِیثُ یُعْرَفُ بِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ عَبْدِ رَبِّہِ السَّعْدِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ۔

(ت) وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی عَامِرٍ الْخَزَّازِ عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ غَیْرِ مَحْفُوظٍ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ۔ [صحیح۔ حوالہ مذکورہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی کو بعد نماز علم ہو کہ اس کے کپڑوں یا جوتوں پر ناپاکی یا گندگی لگی ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٠٨٨) ابو سعیدخدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتوں سمیت نماز پڑھائی، پھر ان کو اتار دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے خبر دی کہ ان میں گندگی ہے۔ جب تم مسجد میں آؤ تو اپنے جوتوں کو دیکھ لیا کرو۔ اگر کوئی چیز لگی ہو تو اسے صاف کر دو ۔
(۴۰۸۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ الشَّافِعِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا عَمِّی حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ عَنْ أَبِی عُرْوَۃَ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فِی نَعْلَیْہِ ثُمَّ خَلَعَہُمَا ، فَقِیلَ لَہُ فَقَالَ : ((إِنَّ جِبْرِیلَ جَائَ نِی فَأَخْبَرَنِی أَنَّ فِیہِمَا خَبَثًا ، فَإِذَا جِئْتُمُ الْمَسْجِدَ فَانْظُرُوا فِی نِعَالِکُمْ ، فَمَنْ وَجَدَ شَیْئًا فَلْیَحُکَّہُ))۔

(ت) وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَقَالَ : قَذَرًا ۔ وَلَمْ یَقُلْ : خَبَثًا ۔ [منکر الاسناد۔ حوالہ مذکورہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی کو بعد نماز علم ہو کہ اس کے کپڑوں یا جوتوں پر ناپاکی یا گندگی لگی ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٠٨٩) زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو خون آلود چادر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ نافع (رح) آئے اور ان سے چادر اتار کر اپنی چادر ان کے اوپر ڈال دی اور وہ نماز میں مصروف رہے۔
(۴۰۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَنْبٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یُصَلِّی فِی رِدَائِہِ وَفِیہِ دَمٌ ، فَأَتَاہُ نَافِعٌ فَنَزَعَ عَنْہُ رِدَائَ ہُ ، وَأَلْقَی عَلَیْہِ رِدَائَ ہُ ، وَمَضَی فِی صَلاَتِہِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی کو بعد نماز علم ہو کہ اس کے کپڑوں یا جوتوں پر ناپاکی یا گندگی لگی ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٠٩٠) سالم (رح) سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے اپنے کپڑوں میں خون دیکھا تو نماز کو چھوڑ دیا اور ان کی طرف اشارہ کیا، وہ پانی لے کر آئے، انھوں نے کپڑے کو دھویا اور باقی نماز مکمل کی اور نماز کو دوبارہ نہیں لوٹایا۔

شیخ فرماتے ہیں : امام شافعی (رح) کا قدیم قول یہی ہے؛ کیونکہ انھوں نے ابو سعید اور ابن عمر کی روایات سے دلیل لی ہے، لیکن بعد میں رجوع کرلیا، فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ کرے گا اسے پہلے سے اپنے کپڑوں میں (ناپاکی کا) علم ہو یا نہ ہو۔ جیسے وضوء کا حکم ہے۔
(۴۰۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَیْنَمَا ہُوَ یُصَلِّی رَأَی فِی ثَوْبِہِ دَمًا ، فَانْصَرَفَ فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ ، فَجَائُ وہُ بِمَائٍ فَغَسَلَہُ ، ثُمَّ أَتَمَّ مَا بَقِیَ عَلَی مَا مَضَی مِنْ صَلاَتِہِ وَلَمْ یُعِدْ۔

(ق) قَالَ الشَّیْخُ : وَإِلَی ہَذَا ذَہَبَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ رَحِمَہُ اللَّہُ ، وَاحْتَجَّ بِحَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ وَابْنِ عُمَرَ فِی مَعْنَی مَا رُوِّینَا ، ثُمَّ رَجَعَ عَنْہُ فِی الْجَدِیدِ وَقَالَ : أَعَادَ الصَّلاَۃَ کَانَ عَالِمًا بِمَا کَانَ فِی ثَوْبِہِ أَوْ لَمْ یَکُنْ عَالِمًا کَہَیْئَتِہِ فِی الْوُضُوئِ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِیُّ وَأَبِی قِلاَبَۃَ ، وَکَأَنَّ الشَّافِعِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ رَغِبَ عَنْ حَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ لاِشْتِہَارِہِ بِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ السَّعْدِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، وَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ مُخْتَلَفٌ فِی عَدَالَتِہِ ، وَلِذَلِکَ لَمْ یَحْتَجَّ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ بِوَاحِدٍ مِنْہُمْ ، وَلَمْ یُخْرِجْہُ مُسْلِمٌ فِی کِتَابِہِ مَعَ احْتِجَاجِہِ بِہِمْ فِی غَیْرِ ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ ، وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ رَغِبَ عَنْہُ لأَنَّہُ جَعَلَ إِعْلاَمَ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ إِیَّاہُ بِذَلِکَ ابْتِدَائَ شَرْعٍ أَوْ حَمَلَ الأَذَی الْمَذْکُورَ فِیہِ عَلَی مَا یُسْتَقْذَرُ مِنَ الطَّاہِرَاتِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

(ت) وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا الْحَدِیثُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مُرْسَلاً ، وَمِنْ حَدِیثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْصُولاً إِلاَّ أَنَّ حَدِیثَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا رَوَاہُ أَبُو حَمْزَۃَ الرَّاعِی عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ، وَأَبُو حَمْزَۃَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ۔ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْہُ۔

وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا رَوَاہُ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ تَرَکُوہُ ، وَحَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ إِنَّمَا رَوَاہُ عَبَّادُ بْنُ کَثِیرٍ ، وَعَبَّادٌ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَدْ رُوِیَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بِإِسْنَادٍ لاَ بَأْسَ بِہِ۔ [صحیح۔ (بخاری، معلّق) باب من لم یر الوضوء الامن المخرصین من القبل والدبر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی کو بعد نماز علم ہو کہ اس کے کپڑوں یا جوتوں پر ناپاکی یا گندگی لگی ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٠٩١) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کی حالت میں جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے کیوں اتارے ؟ انھوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ کو خبر دی کہ ان میں گندگی ہے۔

ابن عمر (رض) نکسیر اور متلی کی صورت میں پہلی نماز پر ہی بنا کرلیتے اور مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے۔ وہ اس مسئلہ کو وضو پر قیاس کرتے تھے۔
(۴۰۹۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ ثُمَامَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ لَمْ یَخْلَعْ نَعْلَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ إِلاَّ مَرَّۃً ، فَخَلَعَ النَّاسُ فَقَالَ : مَا لَکُمْ؟ ۔ قَالُوا : خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا۔ فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ أَخْبَرَنِی أَنَّ فِیہِمَا قَذَرًا ۔ لَفْظُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَجَّاجِ تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

(ق) وَأَمَّا الَّذِی کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُہُ مِنَ الْبِنَائِ عَلَی الصَّلاَۃِ فِی ہَذَا وَفِی الرُّعَافِ ، فَقَدْ رُوِّینَا عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : یَسْتَأْنِفُ۔ وَہُوَ الْقِیَاسُ عَلَی الْوُضُوئِ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔

[حسن۔ حاکم ۱/۲۳۵/۴۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کون سا خون دھونا واجب ہے ؟
(٤٠٩٢) ام جحدر عامریہ نے حضرت عائشہ (رض) سے کپڑے کو حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھی اور ہمارے جسموں کے ساتھ لگنے والے کپڑے تھے، ان کے اوپر ہم نے چادریں اوڑھی ہوئی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کے وقت وہ چادر لی اور اسے اوڑھ لیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی، ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اس کی رنگت خون کی وجہ سے بدلی ہوئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں سے کپڑا اکٹھا کر کے ایک بچے کے ہاتھ میں میری طرف بھیج دیا اور فرمایا : اس کو دھو اور خشک کر کے میری طرف بھیج دینا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے پیالے میں پانی منگوا کر اسے دھویا اور خشک کر کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واپس بھیج دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کو آئے تو وہی کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔
(۴۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَتْنَا أُمُّ یُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ قَالَتْ حَدَّثَتْنِی حَمَاتِی أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِیَّۃُ : أَنَّہَا سَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ دَمِ الْحَیْضَۃِ یُصِیبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ : کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ وَعَلَیْنَا شِعَارُنَا ، وَقَدْ أَلْقَیْنَا فَوْقَہُ کِسَائً ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَخَذَ الْکِسَائَ فَلَبِسَہُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ ، ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذِہِ لُمْعَۃٌ مِنْ دَمٍ۔ فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَلَی مَا یَلِیہَا فَبَعَثَ إِلَیَّ مَصْرُورَۃً فِی یَدِ الْغُلاَمِ فَقَالَ : ((اغْسِلِی ہَذِہِ وَأَجِفِّیہَا ، ثُمَّ أَرْسِلِی بِہَا إِلَیَّ))۔ فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِی فَغَسَلْتُہَا ثُمَّ أَجْفَفْتُہَا فَأَحَرْتُہَا إِلَیْہِ ، فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِنِصْفِ النَّہَارِ وَہُوَ عَلَیْہِ۔ (غ) قَوْلُہَا فَأَحَرْتُہَا إِلَیْہِ : یَعْنِی رَدَدْتُہَا إِلَیْہِ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۳۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کون سا خون دھونا واجب ہے ؟
(٤٠٩٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ کپڑے کو ایک درہم کے برابر خون لگنے سے نماز کو دوبارہ ادا کیا جائے گا۔
(۴۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِیفٍ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ غُطَیْفٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَرْفَعُہُ قَالَ : تُعَادُ الصَّلاَۃُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْہَمِ مِنَ الدَّمِ۔

[موضوع۔ العقیلی فی الضعف ۲/۵۶/۴۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کون سا خون دھونا واجب ہے ؟
(٤٠٩٤) ایضاً
(۴۰۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَاسَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ زَمْعَۃَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ رَأَیْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَیْفٍ صَاحِبَ : الدَّمِ قَدْرَ الدِّرْہَمِ ۔ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ مَجْلِسًا ، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْیِی مِنْ أَصْحَابِی أَنْ یَرَوْنِی جَالِسًا مَعَہُ لِکَثْرَۃِ مَا فِی حَدِیثِہِ یَعْنِی الْمَنَاکِیرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کون سا خون دھونا واجب ہے ؟
(٤٠٩٥) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ کیا کپڑے کو ایک درہم کے برابر خون لگنے سے نماز کو دوبارہ ادا کیا جائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔
(۴۰۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُنِیرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ قُلْتُ لِیَحْیَی بْنَ مَعِینٍ : تَحْفَظُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : تُعَادُ الصَّلاَۃُ فِی مِقْدَارِ الدِّرْہَمِ مِنَ الدَّمِ ۔ فَقَالَ : لاَ وَاللَّہِ۔ ثُمَّ قَالَ : مِمَّنْ؟ قُلْتُ : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ۔ قَالَ : ثِقَۃٌ ، عَمَّنْ؟ قُلْتُ : عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِکٍ الْمُزَنِیِّ۔ قَالَ : ثِقَۃٌ ، عَمَّنْ؟ قُلْتُ : عَنْ رَوْحِ بْنِ غُطَیْفٍ۔ قَالَ : ہَا۔ قُلْتُ : یَا أَبَا زَکَرِیَّا مَا أُرَی أُتِیْنَا إِلاَّ مِنْ رَوْحِ بْنِ غُطَیْفٍ۔ قَالَ : أَجْلْ۔

قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : ہَذَا لاَ یَرْوِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِیمَا أَعْلَمُہُ غَیْرُ رَوْحِ بْنِ غُطَیْفٍ ، وَہُوَ مُنْکَرٌ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ وَفِیمَا بَلَغَنِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الذُّہْلِیِّ أَنَّہُ قَالَ : أَخَافُ أَنْ یَکُونَ ہَذَا مَوْضُوعًا ، وَرَوْحٌ ہَذَا مَجْہُولٌ۔

[صحیح۔ ابن عدی فی الکامل ۳/۱۳۸/۶۶۰]
tahqiq

তাহকীক: