আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪২৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جوتوں میں نماز پڑھنا مسنون ہے
(٤٢٥٦) عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ننگے پاؤں اور جوتوں سمیت نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
(۴۲۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّی حَافِیًا وَمُنْتَعِلاً۔
وَرُوِّینَاہُ فِیمَا مَضَی فِی حَدِیثِ أَبِی الأَوْبَرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ
[صحیح لغیرہ۔ ابوداؤد ۶۵۳]
وَرُوِّینَاہُ فِیمَا مَضَی فِی حَدِیثِ أَبِی الأَوْبَرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ
[صحیح لغیرہ۔ ابوداؤد ۶۵۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جوتوں میں نماز پڑھنا مسنون ہے
(٤٢٥٧) شداد بن اوس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم یہودیوں کی مخالفت کرو؛ کیونکہ وہ موزوں اور جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے۔
(۴۲۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیُّ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ مَیْمُونٍ الرَّمْلِیِّ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((خَالِفُوا الْیَہُودَ ، فَإِنَّہُمْ لاَ یُصَلُّونَ فِی خِفَافِہِمْ وَلاَ نِعَالِہِمْ))۔رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [حسن۔ ابوداؤد ۶۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی اپنے جوتے اتار کر کہاں رکھے ؟
(٤٢٥٨) عبداللہ بن سائب (رض) فرماتے ہیں کہ میں فتح کے سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھائی اور اپنے جوتے اتار کر بائیں جانب رکھ لیے۔
(۴۲۵۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ عَامَ الْفَتْحِ فَصَلَّی الصُّبْحَ فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَنْ یَسَارِہِ۔ [صحیح۔ احمد ۳/۴۱۰/۱۵۴۶۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی اپنے جوتے اتار کر کہاں رکھے ؟
(٤٢٥٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے دائیں اور بائیں جانب نہ رکھیں، اگر بائیں جانب رکھے گا تو وہ کسی کی دائیں جانب ہوگی۔ ہاں ! اس وقت بائیں جانب رکھ سکتا ہے جب اس کے بائیں طرف کوئی دوسرا شخص نہ ہو، ورنہ دونوں پاؤں کے درمیان میں رکھ لے۔
(۴۲۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَلاَ یَضَعْ نَعْلَیْہِ عَنْ یَمِینِہِ وَلاَ عَنْ یَسَارِہِ ، فَیَکُونَ عَنْ یَمِینِ غَیْرِہِ ، إِلاَّ أَنْ لاَ یَکُونَ عَنْ یَسَارِہِ أَحَدٌ ، وَلْیَضَعْہُمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ))۔لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ۔ [صحیح لغیرہ۔ ابوداؤد ۶۵۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَلاَ یَضَعْ نَعْلَیْہِ عَنْ یَمِینِہِ وَلاَ عَنْ یَسَارِہِ ، فَیَکُونَ عَنْ یَمِینِ غَیْرِہِ ، إِلاَّ أَنْ لاَ یَکُونَ عَنْ یَسَارِہِ أَحَدٌ ، وَلْیَضَعْہُمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ))۔لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ فِی الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ۔ [صحیح لغیرہ۔ ابوداؤد ۶۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازی اپنے جوتے اتار کر کہاں رکھے ؟
(٤٢٦٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ دے یا دونوں پاؤں کے درمیان میں رکھ لے یا ان سمیت نماز پڑھ لے۔
(۴۲۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ الْکَیْسَانِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ قَالَ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ فَلاَ یُؤْذِ بِہِمَا أَحَدًا وَلْیَجْعَلْہُمَا مَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ أَوْ لِیُصَلِّ فِیہِمَا))۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۶۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جوتے پہننا اور اتارنا دونوں مسنون ہیں
(٤٢٦١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم جوتا پہنو تو دایاں پہلے پہنو اور جب اتارو تو بایاں پہلے اتارو۔ پہننے کے اعتبار سے دایاں پہلے اور اتارنے کے اعتبار سے دایاں آخری ہونا چاہیے۔
(۴۲۶۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِالْیُمْنَی ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْیَبْدَأْ بِالشِّمَالِ ، وَلْتَکُنِ الْیُمْنَی أَوَّلَہُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَہُمَا تُنْزَعُ))۔
[صحیح۔ بخاری ۵۸۵۶]
[صحیح۔ بخاری ۵۸۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جوتے پہننا اور اتارنا دونوں مسنون ہیں
(٤٢٦٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی بھی ایک جوتے میں نہ چلے، دونوں پہنے یا دونوں ہی اتار دیے۔
(۴۲۶۲) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((لاَ یَمْشِیَنَّ أَحَدُکُمْ فِی نَعْلٍ وَاحِدَۃٍ ، لِیُنْعِلْہُمَا أَوْ لِیُحْفِہِمَا جَمِیعًا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِیثَ الثَّانِی عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ وَالْحَدِیثَ الأَوَّلَ مِنْ رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۵۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِیثَ الثَّانِی عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ وَالْحَدِیثَ الأَوَّلَ مِنْ رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھیں وہی مسجد ہے
(٤٢٦٣) ابوذر (رض) فرماتے ہیں : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! زمین پر پہلی مسجد کون سی بنائی گئی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد حرام۔ میں نے کہا : پھر کون سی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد اقصیٰ ۔ میں نے پوچھا : ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چالیس سال۔ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے آپ نماز پڑھیں وہی مسجد ہے۔
(۴۲۶۳) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ وَعَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِی الأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ : ((الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ))۔قَالَ قُلْتُ : ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ : ((ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصَی))۔قَالَ قُلْتُ : کَمْ بَیْنَہُمَا؟ قَالَ : ((أَرْبَعُونَ سَنَۃً ، فَأَیْنَمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلاَۃُ فَصَلِّ فَہُوَ مَسْجِدٌ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ بخاری ۳۳۶۶-۳۴۲۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ بخاری ۳۳۶۶-۳۴۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھیں وہی مسجد ہے
(٤٢٦٤) جابربن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں : ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور پوری زمین کو میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنادیا گیا ہے، میرا کوئی امتی جب نماز کا وقت پائے تو وہیں نماز پڑھ لے اور مجھے شفاعت بھی عطا کی گئی ہے اور ہر نبی اپنی خاص قوم کی جانب مبعوث کیا جاتا ہے، لیکن میں عام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
(۴۲۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا سَیَّارٌ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ الْفَقِیرُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا ، فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِی أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ فَلْیُصَلِّ ، وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ ، وَکُلُّ نَبِیٍّ یُبْعَثُ إِلَی قَوْمِہِ خَاصَّۃً ، وَبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَامَّۃً))۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہُشَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۵۵-۴۳۸]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہُشَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۵۵-۴۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھیں وہی مسجد ہے
(٤٢٦٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھ چیزوں کی وجہ سے مجھے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے : مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں۔ رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں ہیں، زمین میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنائی گئی ہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور میرے ذریعے انبیاء کرام ۔ کی نبوتوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔
(۴۲۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَسُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ وَدَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((فُضِّلْتُ عَلَی الأَنْبِیَائِ بِسِتٍّ : أُعْطِیتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً ، وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۹۷۷]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((فُضِّلْتُ عَلَی الأَنْبِیَائِ بِسِتٍّ : أُعْطِیتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً ، وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّونَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۹۷۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھیں وہی مسجد ہے
(٤٢٦٦) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو بھی نہیں ملیں۔ زمین کو میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنایا گیا ہے، حالانکہ کسی نبی کے لیے بھی جائز نہیں تھا کہ وہ اپنی خاص جگہ (محراب) کے بغیر نماز پڑھ لے اور ایک مہینے کی مسافت سے مجھے رعب دیا گیا ہے، جو میرے اور مشرکین کے درمیان ایک مہینے ہوتی ہے، لیکن اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے۔ انبیاء کرام ۔ اپنی خاص قوم کی طرف مبعوث کیے گئے، لیکن میں جن وانس کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ انبیاء کرام ۔ مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ الگ کرتے، آگ آتی اور اسے کھا جاتی تھی، لیکن مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں وہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ اپنی امت کے فقرا میں تقسیم کر دوں۔ ہر نبی کو ایک مقبول دعا عطا کی گئی، لیکن میں نے اسے اپنی امت کے لیے سفارش کے طور پر مؤخر کر رکھا ہے۔
(۴۲۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو حَمَّادٍ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أُعْطَیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی مِنَ الأَنْبِیَائِ : جُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَلَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ مِنَ الأَنْبِیَائِ یُصَلِّی حَتَّی یَبْلُغَ مِحْرَابَہُ ، وَأُعْطِیتُ الرُّعْبَ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ ، یَکُونُ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ مَسِیرَۃُ شَہْرٍ فَیْقَذِفُ اللَّہُ الرُّعْبَ فِی قُلُوبِہِمْ ، وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إِلَی خَاصَّۃِ قَوْمِہِ ، وَبُعِثْتُ أَنَا إِلَی الْجِنِّ وَالإِنْسِ ، وَکَانَتِ الأَنْبِیَائُ یَعْزِلُونَ الْخُمُسَ ، فَتَجِیئُ النَّارَ فَتَأْکُلُہُ ، وَأُمِرْتُ أَنَا أَنْ أَقْسِمَہَا فِی فُقَرَائِ أُمَّتِی ، وَلَمْ یَبْقَ نَبِیٌّ إِلاَّ أُعْطِیَ سُؤْلَہُ ، وَأَخَّرْتُ شَفَاعَتِی لأُمَّتِی))۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھیں وہی مسجد ہے
(٤٢٦٧) ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار چیزوں کی وجہ سے مجھے فضیلت دی گئی ہے : زمین میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنائی گئی ہے۔ میری امت کا کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور نماز کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو وہ زمین کو مسجد اور پاکیزہ پائے گا۔ میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ دو مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا ہے۔
(۴۲۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ : سُلَیْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ السَّنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ سَیَّارٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ : جُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا ، فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِی أَتَی الصَّلاَۃَ فَلَمْ یَجِدْ مَا یُصَلِّی عَلَیْہِ وَجَدَ الأَرْضَ مَسْجِدًا وَطَہُورًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِیرَۃِ شَہْرَیْنِ یَسِیرُ بَیْنَ یَدَیَّ ، وَأُحِلَّتْ لأُمَّتِی الْغَنَائِمُ))۔
وَرُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ۔
[صحیح لغیرہ۔ احمد ۲۱۷۰۶-۲۱۶۳۲]
وَرُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ۔
[صحیح لغیرہ۔ احمد ۲۱۷۰۶-۲۱۶۳۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ راستوں کے کیچڑ کا حکم
(٤٢٦٨) بنو عبدالأشہل کی ایک عورت فرماتی ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے اور مسجد کے درمیان گندہ راستہ ہے، جب بارش ہو تو ہم کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا اس کے بعد والا راستہ اس سے زیادہ عمدہ نہیں ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس کے بدل ہے۔
(۴۲۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِیسَی عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَیْنِی وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ طَرِیقًا مُنْتِنَۃً ، فَکَیْفَ نَفْعَلُ إِذَا مُطِرْنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أَلَیْسَ بَعْدَہَا طَرِیقٌ ہِیَ أَطْیَبُ مِنْہَا؟))۔قُلْتُ : بَلَی۔فَقَالَ : ہَذِہِ بِہَذِہِ ۔لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی خَلِیفَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۱۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ راستوں کے کیچڑ کا حکم
(٤٢٦٩) عمرو بن علا اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ جمعہ کے لیے آیا، وہ پیدل چل رہے تھے۔ راستے میں علی (رض) اور مسجد کے درمیان مٹی اور پانی کا ایک حوض آگیا، سیدنا علی (رض) نے اپنا جوتا اور شلوار اتار دی۔ میں نے کہا : اے امیر المؤمنین ! مجھے دے دیں، میں اس کو اٹھالوں۔ فرمایا : نہیں ! جب ہم گزر گئے تو انھوں نے اپنی شلوار اور جوتے پہن لیے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور اپنے پاؤں نہیں دھوئے۔
(۴۲۶۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ الْعَلاَئِ قَالَ ہِشَامٌ : وَہُوَ أَخُو أَبِی عَمْرِو بْنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی الْجُمُعَۃِ ، وَہُوَ مَاشٍ قَالَ فَحَالَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ حَوْضٌ مِنْ مَائٍ وَطِینٍ ، فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ وَسَرَاوِیلَہُ قَالَ قُلْتُ : ہَاتِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَحْمِلُہُ عَنْکَ۔قَالَ : لاَ۔فَخَاضَ فَلَمَّا جَاوَزَ لَبِسَ سَرَاوِیلَہُ وَنَعْلَیْہِ ، ثُمَّ صَلَّی بِالنَّاسِ وَلَمْ یَغْسِلْ رِجْلَیْہِ۔
مُعَاذُ بْنُ الْعَلاَئِ ہُوَ ابْنُ عَمَّارٍ أَبُو غَسَّانَ۔وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِیٍّ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَمُجَاہِدٍ وَجَمَاعَۃٍ مِنَ التَّابِعِینَ فِی مَعْنَاہُ۔
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابن المنذر فی الاوسط ۲/۱۷۱]
مُعَاذُ بْنُ الْعَلاَئِ ہُوَ ابْنُ عَمَّارٍ أَبُو غَسَّانَ۔وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِیٍّ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَمُجَاہِدٍ وَجَمَاعَۃٍ مِنَ التَّابِعِینَ فِی مَعْنَاہُ۔
[حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابن المنذر فی الاوسط ۲/۱۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ راستوں کے کیچڑ کا حکم
(٤٢٧٠) یحییٰ بن وثاب فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا : کیا میں وضو کرنے کے بعد ننگے پاؤں مسجد میں چلا جاؤں۔ وہ فرمانے لگے : کوئی حرج نہیں۔
(۴۲۷۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَتَوَضَّأُ ثُمَّ أَمْشِی إِلَی الْمَسْجِدِ حَافِیًا؟ قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن المنذر فی الاوسط ۲/۱۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ راستوں کے کیچڑ کا حکم
(٤٢٧١) عبدالرحمن اسلمی جب جمعہ پڑھنے کے لیے جاتے تو راستے میں کیچڑ ہوتا، وہ اپنے ساتھ پانی کا ایک برتن رکھتے، پھر وہاں سے گزر کر اپنے پاؤں دھو لیتے اور مسجد میں داخل ہوجاتے۔
(۴۲۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ : أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ کَانَ إِذَا کَانَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَکَانَ رَدْغٌ حَمَلَ مَعَہُ کُوزًا مِنْ مَائٍ ، فَإِذَا بَلَغَ الْمَسْجِدَ غَسَلَ قَدَمَیْہِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائٍ وَمَکْحُولٍ وَجَمَاعَۃٍ فِی مَعْنَاہُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائٍ وَمَکْحُولٍ وَجَمَاعَۃٍ فِی مَعْنَاہُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
(٤٢٧٢) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام زمین مسجد ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔
(۴۲۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِیہِ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدٌ إِلاَّ الْمَقْبُرَۃَ وَالْحَمَّامَ))۔
حَدِیثُ الثَّوْرِیِّ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً وَلَیْسَ بِشَیْئٍ، وَحَدِیثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ مَوْصُولٌ، وَقَدْ تَابَعَہُ عَلَی وَصْلِہِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ وَالدَّرَاوَرْدِیُّ۔ أَمَّا حَدِیثُ عَبْدِ الْوَاحِدِ۔[صحیح۔ ابن رجب فی الفتح۲/۳۹۹]
حَدِیثُ الثَّوْرِیِّ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً وَلَیْسَ بِشَیْئٍ، وَحَدِیثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ مَوْصُولٌ، وَقَدْ تَابَعَہُ عَلَی وَصْلِہِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ وَالدَّرَاوَرْدِیُّ۔ أَمَّا حَدِیثُ عَبْدِ الْوَاحِدِ۔[صحیح۔ ابن رجب فی الفتح۲/۳۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
(٤٢٧٣) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام زمین مسجد ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔
(۴۲۷۳) فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدٌ إِلاَّ الْحَمَّامَ وَالْمَقْبُرَۃَ)) ۔
وَأَمَّا حَدِیثُ الدَّرَاوَرْدِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
وَأَمَّا حَدِیثُ الدَّرَاوَرْدِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
(٤٢٧٤) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام زمین مسجد ہے سوائے حمام اور قبرستان کے۔
(۴۲۷۴) فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدٌ إِلاَّ الْحَمَّامَ وَالْمَقْبُرَۃَ))۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَوْصُولاً
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَوْصُولاً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
(٤٢٧٥) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام زمین مسجد ہے سوائے قبرستان اور حمام کے۔
(ب) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے گھر میں نماز پڑھا کرو ان کو قبرستان نہ بناؤ۔
(ج) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
(د) عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حمام میں نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(ب) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے گھر میں نماز پڑھا کرو ان کو قبرستان نہ بناؤ۔
(ج) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
(د) عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حمام میں نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
(۴۲۷۵) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدٌ إِلاَّ الْحَمَّامَ وَالْمَقْبُرَۃَ))۔
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِی کَرَاہِیَۃِ الصَّلاَۃِ فِی الْمَقَابِرِ بِالْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((اجْعَلُوا مِنْ صَلاَتِکُمْ فِی بُیُوتِکُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوہَا قُبُورًا))۔
وَبِالْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَائِشَۃَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : ((لَعْنَۃُ اللَّہِ عَلَی الْیَہُودِ وَالنَّصَارَی ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ))۔یُحْذَرُ مِثْلَ مَا صَنَعُوا۔وَالْحَدِیثَانِ مُخَرَّجَانِ فِی مَوْضِعِہِمَا۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ فِی الْحَمَّامِ۔ [تقدم فی قبلہ]
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِی کَرَاہِیَۃِ الصَّلاَۃِ فِی الْمَقَابِرِ بِالْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((اجْعَلُوا مِنْ صَلاَتِکُمْ فِی بُیُوتِکُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوہَا قُبُورًا))۔
وَبِالْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَائِشَۃَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : ((لَعْنَۃُ اللَّہِ عَلَی الْیَہُودِ وَالنَّصَارَی ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ))۔یُحْذَرُ مِثْلَ مَا صَنَعُوا۔وَالْحَدِیثَانِ مُخَرَّجَانِ فِی مَوْضِعِہِمَا۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ فِی الْحَمَّامِ۔ [تقدم فی قبلہ]
তাহকীক: