আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪২৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبروں کی طرف چہرہ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
(٤٢٧٦) ابو مرثد غنوی فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ قبروں پر مت بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔
(۴۲۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِی بُسْرُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَۃَ بْنَ الأَسْقَعِ یَقُولُ حَدَّثَنِی أَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِیُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((لاَ تَجْلِسُوا عَلَی الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا إِلَیْہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ۔ [صحیح۔ احمد ۴/۱۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبروں کی طرف چہرہ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
(٤٢٧٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا اور میرے سامنے قبر تھی، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ حضرت عمر (رض) نے مجھے آواز دی۔ قبر، قبر ! میں اس کو قمر سمجھتا رہا، میرے پاس والوں نے مجھے بتایا کہ قبر ہے تو میں الگ ہوگیا۔

(ب) ابن عباس (رض) بیت الخلاء، حمام اور قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔

(ج) ثابت البنانی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمین میرے لیے پاکیزہ اور مسجد بنائی گئی ہے۔ جب نماز کا وقت ہو تو جہاں چاہے نماز پڑھ لے۔
(۴۲۷۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قُمْتُ یَوْمًا أُصَلِّی وَبَیْنَ یَدَیَّ قَبْرُ لاَ أَشْعُرُ بِہِ ، فَنَادَانِی عُمَرُ : الْقَبْرَ الْقَبْرَ ، فَظَنَنْتُ أَنَّہُ یَعْنِی الْقَمَرَ ، فَقَالَ لِی بَعْضُ مَنْ یَلِینِی : إِنَّمَا یَعْنِی الْقَبْرَ فَتَنَحَّیْتُ عَنْہُ۔

وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُصَلِّی إِلَی حُشٍّ أَوْ حَمَّامٍ أَوْ قَبْرٍ۔

وَکُلُّ ذَلِکَ عَلَی وَجْہِ الْکَرَاہِیَۃِ إِذَا لَمْ یَعْلَمْ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی تُصِیبُہُ بِبَدَنِہِ وَثِیَابِہِ نَجَاسَۃٌ لَمَّا رُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : ((جُعِلَتْ لِیَ الأَرْضُ طَیِّبَۃً طَہُورًا وَمَسْجِدًا ، وَأَیُّمَا رَجُلٍ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ صَلَّی حَیْثُ کَانَ))۔ [صحیح۔ بخاری، معلق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبروں کی طرف چہرہ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
(٤٢٧٨) ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا : کیا ابن عمر (رض) قبرستان کے درمیان نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے ؟ انھوں نے فرمایا : ہم نے حضرت عائشہ (رض) ، ام سلمہ (رض) پر بقیع قبرستان کے درمیان نماز پڑھی اور امام ابوہریرہ (رض) تھے اور اس میں حضرت ابن عمر (رض) بھی شریک ہوئے۔
(۴۲۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَکْرَہُ أَنْ یُصَلَّی وَسَطَ الْقُبُورِ؟ قَالَ : لَقَدْ صَلَّیْنَا عَلَی عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَسَطَ الْبَقِیعِ وَالإِمَامُ یَوْمَ صَلَّیْنَا عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَحَضَرَ ذَلِکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ۔

[حسن۔ اخرجہ یعقوب بن سفیان فی المعرفہ والتاریخ ۱/۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٧٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں سے اچھے تھے۔ بعض اوقات نماز کا وقت ہوجاتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر جھاڑو دیا جاتا، پانی چھڑکا جاتا، چٹائی بچھا دی جاتی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوتے، ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوجاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو نماز پڑھاتے۔ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چٹائی کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔
(۴۲۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا ، فَرُبَّمَا تَحْضُرُہُ الصَّلاَۃُ وَہُوَ فِی بَیْتِنَا ، فَیَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِی تَحْتَہُ فَیُکْنَسُ ، ثُمَّ یُنْضَحُ ثُمَّ یَقُومُ فَنَقُومُ خَلْفَہُ ، فَیُصَلِّی بِنَا۔قَالَ : وَکَانَ بِسَاطُہُمْ مِنْ جَرِیدِ النَّخْلِ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۳۱۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٠) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھر میں داخل ہوئے، اس میں ایک مرد رہتا تھا۔ اس نے گھر کے ایک کونے میں جھاڑو دیا، پانی چھڑکا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ نماز پڑھی۔
(۴۲۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ دَخَلَ بَیْتًا فِیہِ فَحْلٌ ، فَکَسَحَ نَاحِیَۃً مِنْہُ وَرَشَّ ، وَصَلَّی عَلَیْہِ۔

[صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۴۸۲۵، احمد ۱۱۶۹۳-۱۱۸۹۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨١) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام حرام کے گھر تشریف لائے تو انھوں نے گھی اور کھجور پیش کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو برتن میں ڈال دو اور اُس کو مشکیزے میں؛ میں روزے سے ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت نماز نفل پڑھی۔ ام سلیم اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں۔ ثابت فرماتے ہیں : مجھے یہی علم ہے کہ انھوں نے فرمایا : پھر آپ نے مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کرلیا، پھر ہمیں چٹائی پر شکرانے کے طور پر نماز پڑھائی۔
(۴۲۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ ابْنُ عَائِشَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ دَخَلَ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ ، فَأُتِیَ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ فَقَالَ : ((رُدُّوا ہَذَا فِی وِعَائِہِ ، وَہَذَا فِی سِقَائِہِ ، فَإِنِّی صَائِمٌ))۔ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ تَطَوُّعًا ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا۔قَالَ ثَابِتٌ وَلاَ أَعْلَمُہُ إِلاَّ قَالَ : فَأَقَامَنِی عَنْ یَمِینِہِ ، فَصَلَّی بِنَا عَلَی بِسَاطِہِ تَطَوُّعًا تَشَکُّرًا۔وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ ، وَقَدْ مَضَتِ الأَخْبَارُ فِی صَلاَتِہِ عَلَی الْخُمْرَۃِ وَعَلَی الْحَصِیرِ وَعَلَی الْفَرْوَۃِ الْمَدْبُوغَۃِ۔ [صحیح۔ مسند سراج ۱۲۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٢) شریح بن ہانی فرماتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : مجھے یاد ہے۔ بارش والے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیچے ایک چھوٹی چٹائی بچھا دی تھی جس میں سوراخ تھا اور اس سے پانی نکل رہا تھا۔
(۴۲۸۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ سَمِعْتُ مُقَاتِلَ بْنَ بَشِیرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ شُرَیْحِ بْنِ ہَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ صَلاَۃِ النَّبِیِّ ﷺ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ وَقَالَتْ : أَذْکُرُ أَنِّی رَأَیْتُہُ صَلَّی فِی یَوْمٍ مَطِیرٍ أَلْقَیْنَا تَحْتَہُ بَتًّا فِیہِ خِرَقٌ ، فَجَعَلَ الْمَائُ یَنْبُعُ مِنْہُ۔(ت) وَرَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَبَسَطْنَا تَحْتَہُ بَتًّا ، یَعْنِی نِطَعًا۔وَلَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ۔

[ضعیف۔ ابن المبارک فی الزھد ۱۲۷۲، احمد ۲۳۷۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٣) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبقر شہر کی بنی ہوئی چٹائی پر سجدہ کرتے تھے۔

ابو عبید کہتے ہیں کہ عبقری سے مراد ایسی چٹائی جو رنگی ہوئی ہو اور اس کے اندر نقوش ہوں، اس کی واحد عبقریۃ آتی ہے۔ عبقری ایک شہر کی طرف نسبت کی وجہ سے کہتے ہیں جس میں نقش و نگار کا کام ہوتا ہو۔
(۴۲۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَسْجُدُ عَلَی عَبْقَرِیٍّ۔

قَالَ أَبُوعُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ أَنَّہُ رَأَی عُمَرَ فَعَلَ ذَلِکَ۔ قَالَ یَحْیَی: ہُوَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ أَبِی عَمَّارٍ وَلَکِنْ سُفْیَانُ قَالَ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمَّارٍ۔

قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : قَوْلُہُ عَبْقَرِیٌّ ہُوَ ہَذِہِ الْبُسُطُ الَّتِی فِیہَا الأَصْبَاغُ وَالنُّقُوشُ ، وَاحِدُہَا عَبْقَرِیَّۃٌ ، وَإِنَّمَا سُمِّیَ عَبْقَرِیًّا فِیمَا یُقَالُ إِنَّہُ نِسْبَۃٌ إِلَی بِلاَدٍ یُقَالُ لَہُ عَبْقَرٌ یُعْمَلُ بِہَا الْوَشْیُ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٤) سعید بن جبیر (رض) فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے ہم کو چٹائی پر نماز پڑھائی، وہ چٹائی گھروں میں عام ہوتی ہے۔
(۴۲۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ قَالَ : صَلَّی بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَی طِنْفِسَۃٍ قَدْ طَبَّقَتِ الْبَیْتَ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۴۰۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٥) عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے ہم کو قالین پر نماز پڑھائی، وہ گھروں میں عام ہوتا تھا اور وہ اس پر رکوع و سجود کر رہے تھے۔ میں نے سوال کیا : کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں ؟ فرمانے لگے : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے وہ اس پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
(۴۲۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِی الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیمٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : صَلَّی بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَی دَرْنُوکٍ قَدْ طَبَّقَ الْبَیْتَ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ : أَتُصَلِّی عَلَی ہَذَا؟ قَالَ : نَعَمْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّی عَلَیْہِ وَیَسْجُدُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٦) عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے چٹائی پر نماز پڑھی، پھر فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی چٹائی پر نماز پڑھی تھی۔
(۴۲۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ حَدَّثَنَا زَمْعَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ وَہْرَامَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ صَلَّی عَلَی بِسَاطٍ ثُمَّ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَلَی بِسَاطٍ۔وَلِزَمْعَۃَ فِیہِ إِسْنَادٌ آخَرُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٧) ابن عباس (رض) نے بصرہ میں چٹائی پر نماز پڑھی اور ان کا گمان تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی چٹائی پر نماز پڑھی۔
(۴۲۸۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَحْیَی الْقَاضِی الزُّہْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ : الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا زَمْعَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ صَلَّی بِالْبَصْرَۃِ عَلَی بِسَاطٍ ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ صَلَّی عَلَی بِسَاطٍ۔

[ضعیف۔ فیہ امتہ المتعبدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی چیز نیچے بچھا کر اس پر نماز پڑھنے کا بیان
(٤٢٨٨) ابودرداء (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی پروا نہیں، اگر میں پانچوں نمازیں چٹائی پر پڑھوں۔
(۴۲۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ ہُوَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی سَوْدَۃَ عَنْ خُلَیْدٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ : مَا أُبَالِی لَوْ صَلَّیْتُ عَلَی خَمْسِ طَنَافِسَ۔

[ضعیف۔ بخاری فی التاریخ الکبیر ۶۶۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجدیں بنانے کی فضیلت کا بیان
(٤٢٨٩) حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جس نے مسجد بنوائی، بکیر راوی فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنواتا ہے تو اللہ اس کے لیے اس کی مثل جنت میں گھر بنا دے گا۔
(۴۲۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرٌو أَنَّ بُکَیْرًا حَدَّثَہُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عُبَیْدَ اللَّہِ الْخَوْلاَنِیَّ یَذْکُرُ أَنَّہُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ حِینَ بَنَی مَسْجِدَ الرَّسُولِ ﷺ : إِنَّکُمْ قَدْ أَکْثَرْتُمْ ، وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : مَنْ بَنَی مَسْجِدًا ۔قَالَ بُکَیْرٌ حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ : ((یَبْتَغِی بِہِ وَجْہَ اللَّہِ بَنَی اللَّہُ لَہُ بَیْتًا مِثْلَہُ فِی الْجَنَّۃِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِیسَی۔

[صحیح۔ بخاری ۴۵۰، مسلم ۵۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجدیں بنانے کی فضیلت کا بیان
(٤٢٩٠) حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : جس نے اللہ کے لیے مسجد بنوائی تو اللہ اس کی مثل اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔
(۴۲۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ : الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((مَنْ بَنَی لِلَّہِ مَسْجِدًا بَنَی اللَّہُ لَہُ مِثْلَہُ فِی الْجَنَّۃِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی عَاصِمٍ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجدیں بنانے کی فضیلت کا بیان
(٤٢٩١) ابوذر (رض) فرماتے ہیں : جس نے پرندے کے گھونسلے کے برابر بھی مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔
(۴۲۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : مَنْ بَنَی لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَسْجِدًا وَلَوْ مَفْحَصَ قَطَاۃٍ بَنَی اللَّہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجدیں بنانے کی فضیلت کا بیان
(٤٢٩٢) ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے پرندے کے گھونسلے کے برابر مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔
(۴۲۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((مَنْ بَنَی لِلَّہِ مَسْجِدًا وَلَوْ مِثْلَ مَفْحَصِ قَطَاۃٍ بَنَی اللَّہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ))۔

قَالَ الْعَبَّاسُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ قِیلَ لأَبِی بَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ: إِنَّ النَّاسَ یُخَالِفُونَکَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ لاَ یَرْفَعُونَہُ۔

فَقَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ : سَمِعْنَا ہَذَا مِنَ الأَعْمَشِ وَہُوَ شَابٌّ۔ [منکر۔ وقد تقدم فی الذق قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجدیں بنانے کی فضیلت کا بیان
(٤٢٩٣) اعمش (رح) نے اس حدیث کو مرفوعاً بیان کیا ہے۔

جس نے مسجد بنائی اگرچہ پرندے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔
(۴۲۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ فَذَکَرَہُ مَرْفُوعًا : مَنْ بَنَی مَسْجِدًا وَإِنْ کَانَ مِثْلَ مَفْحَصِ قَطَاۃٍ بُنِی لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ ۔

وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ شَرِیکٍ وَجَرِیرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنِ الأَعْمَشِ مَرْفُوعًا ، وَرُوِیَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ شَرِیکٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ مَرْفُوعًا۔ [منکر۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجدں کو تعمیر کرنے کے طریقے کا بیان
(٤٢٩٤) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں مسجد اینٹوں کی تھی اور چھت چھڑیوں کی اور ستون کھجور کی شاخوں کی، لیکن ابوبکر (رض) نے اس میں اضافہ نہیں کیا اور حضرت عمر (رض) نے کچھ اضافہ کیا، لیکن بنائی کھجور کے تنوں اور شاخوں سے۔ پھر حضرت عثمان (رض) نے اس میں تبدیلی کی اور انھوں نے دیواریں اور ستون منقش اور کٹے ہوئے پتھروں سے بنوائے اور چھت ساج کے درخت سے بنائی۔
(۴۲۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ الْمَسْجِدَ کَانَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ مَبْنِیًّا بِاللَّبِنِ وَسَقْفُہُ الْجَرِیدُ وَعُمُدُہُ خَشَبُ عَسِیبِ النَّخْلِ ، فَلَمْ یَزِدْ فِیہِ أَبُو بَکْرٍ شَیْئًا ، وَزَادَ فِیہِ عُمَرُ وَبَنَاہُ عَلَی بِنَائِہِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِیدِ ، وَأَعَادَ عُمُدَہُ خَشَبًا ثُمَّ غَیَّرَہُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِیہِ زِیَادَۃً کَثِیرَۃً ، وَبَنَی جِدَارَہُ بِالْحِجَارِۃِ الْمَنْقُوشَۃِ وَالْقَصَّۃِ ، وَجَعَلَ عُمُدَہُ مِنْ حِجَارَۃِ مَنْقُوشَۃٍ وَسَقْفَہُ بِالسَّاجِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ ابْنِ الْمَدِینِیِّ عَنْ یَعْقُوبَ۔ [صحیح۔ عبدالرزاق ۵۱۲۹، بخاری ۴۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجدں کو تعمیر کرنے کے طریقے کا بیان
(٤٢٩٥) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو مدینہ کے بالائی علاقے میں قبیلہ عمرو بن عوف کے ہاں چودہ دن قیام کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نجار کے پاس کسی کو روانہ کیا تو وہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی خچر پر سوار ہیں اور ابوبکر صدیق (رض) آپ کے پیچھے اور بنو نجار کے سردار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوایوب انصاری (رض) کے گھر کے صحن میں اترے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ادا کرلیتے جب وقت ہوجاتا اور بکریوں کے باڑے میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنونجار کی طرف کسی کو بھیجا کہ اپنی اس جگہ کی قیمت لے لو تو انھوں نے قیمت لینے سے انکار کردیا، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : اس زمین میں مشرکین کی قبریں، ویرانہ اور کھجوریں تھیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کی قبروں کو اکھاڑنے کا حکم دیا وہ اکھاڑ دی گئیں اور ویرانے کو برابر کردیا گیا اور کھجوریں کاٹ دی گئیں۔ انھوں نے کھجوروں کو مسجد کے سامنے کھڑا کردیا اور پتھروں کی چوکھٹ بنادی۔ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور شعر پڑھ رہے تھے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے ساتھ تھے۔ اے اللہ ! بھلائی صرف آخرت کی ہے۔ تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔
۴۲۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ ، فَنَزَلَ فِی عُلْوِ الْمَدِینَۃِ فِی حَیٍّ یُقَالَ لَہُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَقَامَ فِیہِمْ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی بَنِی النَّجَّارِ ، فَجَائُ وا مُتَقَلِّدِینَ بِسُیُوفِہِمْ قَالَ أَنَسٌ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ عَلَی رَاحِلَتِہِ وَأَبُو بَکْرٍ رِدْفَہُ وَمَلأُ بَنِی النَّجَّارِ حَوْلَہُ حَتَّی أَلْقَی بِفِنَائِ أَبِی أَیُّوبَ ، وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّیَ حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃُ ، وَیُصَلِّی فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَإِنَّہُ أَمَرَ بِبِنَائِ الْمَسْجِدِ ، فَأَرْسَلَ إِلَی بَنِی النَّجَّارِ : ((ثَامِنُونِی بِحَائِطِکُمْ ہَذَا))۔فَقَالُوا : وَاللَّہِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَہُ إِلاَّ إِلَی اللَّہِ۔قَالَ أَنَسٌ : فَکَانَ فِیہِ مَا أَقُولُ لَکُمْ ، کَانَتْ فِیہِ قُبُورُ الْمُشْرِکِینَ ، وَکَانَتْ فِیہِ خِرَبٌ ، وَکَانَ فِیہِ نَخْلٌ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِقُبُورِ الْمُشْرِکِینَ فَنُبِشَتْ ، وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّیَتْ ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَۃَ الْمَسْجِدِ ، وَجَعَلُوا عِضَادَتَیْہِ حِجَارَۃً ، وَجَعَلُوا یَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَہُمْ یَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِیُّ ﷺ مَعَہُمْ وَیَقُولُونَ :

اللَّہُمَّ لاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُ الآخِرَہْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ

[صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক: