আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৩৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے مسجد میں رات گزارنے کا بیان
(٤٣٣٦) عبداللہ بن عمرمسجد نبوی میں سوتے تھے اور وہ کنوارے نوجوان تھے۔
(۴۳۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّہُ کَانَ یَنَامُ وَہُوَ شَابٌّ أَعْزَبُ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ ﷺ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۴۰، مسلم ۲۴۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے مسجد میں رات گزارنے کا بیان
(٤٣٣٧) طلحہ نصری (رض) فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں ہجرت کر کے گیا۔ جب بھی کوئی شخص مدینہ میں ہجرت کر کے آتا، اگر تو کوئی اس کا جاننے والا ہوتا تو وہ اس کے پاس ٹھہرتا، اگر نہ ہوتا تو وہ اصحابِ صفہ کے ساتھ رہتا۔ میں آیا تو میری بھی کوئی جان پہچان نہیں تھی۔ میں اصحابِ صفہ کے ساتھ رہا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو ، دو آدمیوں کو باہم ساتھی بنا رہے تھے اور ان کے درمیان ایک مد کھجور تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں تھے تو اچانک ایک شخص نے آواز دی : اے اللہ کے رسول ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا ڈالا اور ہمارے سینے پھٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اس پریشانی کا تذکرہ کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قوم کی طرف سے پہنچی تھی، پھر فرمایا : میں اور میرا ساتھی دس راتوں سے زائد ٹھہرے رہے اور ہمارے پاس پیلو کے سوا کوئی کھانا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے۔ انھوں نے کھانے کے ذریعے ہماری مدد کی۔ ان کا بہترین کھانا کھجور تھا۔ اس اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر میں روٹی اور گوشت کھلانے کی طاقت رکھوں تو تمہیں ضرور کھلاؤں، عنقریب تمہارے اوپر وہ دور آئے گا یا تم میں سے جس نے اسے پا لیا۔ تم کعبہ کے غلافوں کی مثل پہنو گے، صبح و شام تم پر شراب کا دور چلے گا۔ انھوں نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم آج بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم آج بہتر ہو کہ تم بھائی بھائی ہو اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردنیں توڑو گے۔
(۴۳۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ عَنْ طَلْحَۃَ النَّصْرِیِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ مُہَاجِرًا وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَإِنْ کَانَ لَہُ عَرِیفٌ نَزَلَ عَلَیْہِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ عَرِیفٌ نَزَلَ الصُّفَّۃَ فَقَدِمْتُہَا وَلَیْسَ لِی بِہَا عَرِیفٌ ، فَنَزَلْتُ الصُّفَّۃَ ، وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُرَافِقُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ ، وَیَقْسِمُ بَیْنَہُمَا مُدًّا مِنْ تَمْرٍ ، فَبَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ فِی صَلاَتِہِ إِذْ نَادَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ۔قَالَ : وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، وَذَکَرَ مَا لَقِیَ مِنْ قَوْمِہِ ثُمَّ قَالَ : ((لَقَدْ رَأَیْتُنِی وَصَاحِبِی مَکَثْنَا بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً مَا لَنَا طَعَامٌ غَیْرُ الْبَرِیرِ))۔وَالْبَرِیرُ ثَمَرُ الأَرَاکِ : ((حَتَّی أَتَیْنَا إِخْوَانَنَا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَآسَوْنَا مِنْ طَعَامِہِمْ ، وَکَانَ جُلُّ طَعَامِہِمُ التَّمْرَ ، وَالَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ لَوْ قَدَرْتُ لَکُمْ عَلَی الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ لأَطْعَمْتُکُمُوہُ ، وَسَیَأْتِی عَلَیْکُمْ زَمَانٌ أَوْ مَنْ أَدْرَکَہُ مِنْکُمْ تَلْبَسُونَ أَمْثَالَ أَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ ، وَیُغْدَی وَیُرَاحُ عَلَیْکُمْ بِالْجِفَانِ))۔قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَحْنُ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ أَوِ الْیَوْمَ؟ قَالَ : ((لاَ بَلْ أَنْتُمُ الْیَوْمَ خَیْرٌ ، أَنْتُمُ الْیَوْمَ إِخْوَانٌ ، وَأَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ))۔ [صحیح۔ احمد ۱۵۵۵۸، ابن حبان ۶۶۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے مسجد میں رات گزارنے کا بیان
(٤٣٣٨) حضرت عثمان بن یمان فرماتے ہیں کہ جب مدینہ میں مہاجرین زیادہ ہوگئے اور ان کے لیے کوئی گھر اور ٹھکانا نہ رہا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مسجد میں ٹھہرایا اور انھیں ” اصحابِ صفہ “ کا نام دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس بیٹھ کر پیار بھری باتیں کیا کرتے تھے۔

(ب) سعید بن مسیب (رح) سے منقول ہے کہ ان سے مسجد میں سونے کے بارے میں سوال کیا گیا : تو انھوں نے فرمایا : اہل صفہ کہاں سوتے تھے، یعنی وہ بھی مسجد میں ہی سوتے تھے۔
(۴۳۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الْمَعْدَانِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُزْنَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَیَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ الرَّوَّادِیُّ أَخْبَرَنِی عُثْمَانُ بْنُ الْیَمَانِ قَالَ : لَمَّا کَثُرَتِ الْمُہَاجِرُونَ بِالْمَدِینَۃِ ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ دَارٌ وَلاَ مَأْوَی أَنْزَلَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الْمَسْجِدَ وَسَمَّاہُمْ أَصْحَابَ الصُّفَّۃِ ، فَکَانَ یُجَالِسُہُمْ وَیَأْنَسُ بِہِمْ۔

وَرُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ النَّوْمِ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ : فَأَیْنَ کَانَ أَہْلُ الصُّفَّۃِ؟ یَعْنِی یَنَامُونَ فِیہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے مسجد میں رات گزارنے کا بیان
(٤٣٣٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : قسم ہے معبودِ برحق اللہ رب العزت کی کہ میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر رگڑا کرتا ہے اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کی عام گزرگاہ پر بیٹھ گیا تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی آیت کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ میری بات نہ سمجھ سکے اور چلے گئے، پھر حضرت عمر (رض) کا گزر ہوا تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا اور میری غرض صرف اور صرف یہ تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ بھی میری بات کو سمجھے بغیر ہی چلے گئے۔ آخر کار ابوالقاسم (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کا بھی اس راہ سے گزر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے دل اور چہرے کی کیفیت کو پہچان لیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پکارا تو میں نے کہا : حاضر ! یا رسول اللہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ چلیں تو میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پیچھے چلتا گیا، حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں داخل ہوگئے تو اجازت طلب کرنے کے بعد میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں پر پیالے میں دودھ دیکھا تو پوچھا : یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ انھوں نے جواباً کہا : یہ فلاں بندے یا فلاں عورت نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تحفہ بھیجا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اہل صفہ کو بلانے کے لیے بھیجا اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے وہ گھر اور مال کے متلاشی نہ تھے، جب کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقے کا مال آتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے کچھ لیے بغیر ان کی طرف بھیج دیتے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی تحفہ آتا تو تب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں شریک کرتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب بھی انھیں دودھ میں شریک کرنا چاہتے تھے، مجھے یہ بات ناگوار گزری، میں نے سوچا کہ اس دودھ کی اصحابِ صفہ کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے ؟ میرا یہ ارادہ تھا کہ یہ دودھ مجھے مل جائے تاکہ میں اپنی بھوک کو دور کروں اور قاصد بھی میں ہی تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں انھیں لے کر آؤں اور مجھے دودھ کے ملنے کی امید نہ تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی ضروری تھی۔ میں ان کے پاس گیا اور انھیں بلا کر لایا، انھوں نے اجازت طلب کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اجازت دی تو وہ گھر میں بیٹھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے کہا : جی ! اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! یہ پیالہ لو اور ان کو دودھ پلاؤ ۔ میں نے پیالہ پکڑا میں ایک آدمی کو دیتا وہ سیر ہو کر پینے کے بعد پیالہ واپس کرتا۔ پھر میں دوسرے کو دیتا وہ بھی سیر ہو کر پیالہ واپس کرتا۔ یہاں تک کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ گیا اور تمام لوگوں نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ پکڑا اور میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے کہا : جی اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور تو باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پیو ! تو میں نے دوسری دفعہ پیا پھر فرمایا : اور پیو اور تیسری مرتبہ آپ نے پھر فرمایا : پیو۔ میں نے پیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بار بار یہی الفاظ دہرا رہے تھے تو میں نے کہا : قسم ہے اللہ کی اب تو میں بالکل گنجائش نہیں پاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے دو میں نے پیالہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف اور نام لینے کے بعد باقی ماندہ دودھ پی لیا۔
(۴۳۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ بْنِ یَعْقُوبَ السُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ حَدَّثَنَا مُجَاہِدٌ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ : وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنْ کُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِکَبِدِی عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ ، وَإِنْ کُنْتُ لأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِی مِنَ الْجُوعِ ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ یَوْمًا عَلَی طَرِیقِہِمُ الَّذِی یَخْرُجُونَ فِیہِ ، فَمَرَّ بِی أَبُو بَکْرٍ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ تَعَالَی ، مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ، ثُمَّ مَرَّ بِی عُمَرُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ ، مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی ، فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ، ثُمَّ مَرَّ بِی أَبُو الْقَاسِمِ ﷺ فَتَبَسَّمَ حِینَ رَآنِی، وَعَرَفَ مَا فِی نَفْسِی وَمَا فِی وَجْہِی ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ہِرٍّ))۔قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔قَالَ : ((الْحَقْ))۔ وَمَضَی فَاتَّبَعْتُہُ فَدَخَلَ ، وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِی فَدَخَلْتُ ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِی قَدَحٍ ، فَقَالَ : ((مِنْ أَیْنَ ہَذَا اللَّبَنُ؟))۔قَالُوا : أَہْدَاہُ لَکَ فُلاَنٌ أَوْ فُلاَنَۃُ۔قَالَ : ((أَبَا ہِرٍّ))۔قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔قَالَ : ((الْحَقْ أَہْلَ الصُّفَّۃِ فَادْعُہُمْ لِی))۔قَالَ : وَأَہْلُ الصُّفَّۃِ أَضْیَافُ الإِسْلاَمِ لاَ یَأْوُونَ إِلَی أَہْلٍ وَلاَ مَالٍ ، إِذَا أَتَتْہُ صَدَقَۃٌ یَبْعَثُ بِہَا إِلَیْہِمْ ، وَلَمْ یَتَنَاوَلْ مِنْہَا شَیْئًا ، وَإِذَا أَتَتْہُ ہَدِیَّۃٌ أَرْسَلَ إِلَیْہِمْ ، فَأَصَابَ مِنْہَا وَأَشْرَکَہُمْ فِیہَا ، فَسَائَ نِی ذَلِکَ قُلْتُ : وَمَا ہَذَا اللَّبَنُ فِی أَہْلِ الصُّفَّۃِ؟ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِیبَ مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ شُرْبَۃً أَتَقَوَّی بِہَا وَأَنَا الرَّسُولُ ، فَإِذَا جَائَ أَمَرَنِی أَنْ أُعْطِیَہُمْ ، فَمَا عَسَی أَنْ یَبْلُغَنِی مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ؟ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ طَاعَۃِ اللَّہِ وَطَاعَۃِ رَسُولِہِ بُدٌّ ، فَأَتَیْتُہُمْ فَدَعَوْتُہُمْ فَأَقْبَلُوا حَتَّی اسْتَأْذَنُوا ، فَأَذِنَ لَہُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَہُمْ مِنَ الْبَیْتِ فَقَالَ : ((یَا أَبَا ہِرٍّ))۔قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : ((خُذْ فَأَعْطِہِمْ))۔فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ ، فَجَعَلْتُ أُعْطِیہِ الرَّجُلَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ، ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ فَأُعْطِیہِ الآخَرَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ، ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ وَقَدْ رَوِیَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَہُ عَلَی یَدِہِ وَنَظَرَ إِلَیَّ وَتَبَسَّمَ ، وَقَالَ : ((یَا أَبَا ہِرًّ)) ۔قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔قَالَ : ((بَقِیتُ أَنَا وَأَنْتَ))۔قُلْتُ : صَدَقْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔قَالَ : ((اقْعُدْ فَاشْرَبْ))۔ فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : ((اشْرَبْ))۔فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : اشْرَبْ ۔فَشَرِبْتُ ، فَمَا زَالَ یَقُولُ : فَاشْرَبْ فَاشْرَبْ ۔حَتَّی قُلْتُ : لاَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَہُ مَسْلَکًا۔قَالَ : ((فَأَرِنِی))۔فَأَعْطَیْتُہُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَسَمَّی وَشَرِبَ الْفَضْلَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۲۴۶- ۶۴۵۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے مسجد میں رات گزارنے کا بیان
(٤٣٤٠) سہل بن سعد فرماتے ہیں : آلِ مروان کا کوئی شخص مدینہ پر حاکم بنایا گیا، اس نے سہل بن سعد کو بلا کر حضرت علی (رض) کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سہل بن سعد (رض) نے انکار کردیا تو اس نے کہا : اگر آپ گالی نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا کہہ دو کہ اللہ علی پر لعنت کرے۔ سہل بن سعد نے فرمایا : حضرت علی (رض) کو ابو تراب نام سب ناموں سے زیادہ محبوب تھا۔ جب ان کو اس نام سے پکارا جاتا تو بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ان کا نام ابو تراب کیوں رکھا گیا ؟ فرمانے لگے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاطمہ (رض) کے گھر آئے تو حضرت علی (رض) موجود نہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فاطمہ ! تیرے چچا کا بیٹا (علی (رض) ) کہا گیا۔ فرمانے لگیں : میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور واپس نہیں لوٹے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی بندے سے کہا : دیکھو وہ کہاں ہیں ؟ اس بندے نے آ کر جواب دیا : اے اللہ کے رسول ! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے تو حضرت علی (رض) لیٹے ہوئے تھے اور ان کے پہلو سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور ان کو مٹی لگی ہوئی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مٹی کو صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ اے ابو تراب ! اٹھو، اے ابو تراب ! اٹھو۔
(۴۳۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : اسْتُعْمِلَ عَلَی الْمَدِینَۃِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ فَدَعَا سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَہُ أَنْ یَشْتِمَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَأَبَی سَہْلٌ ، فَقَالَ لَہُ : أَمَّا إِذْ أَبَیْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللَّہُ أَبَا تُرَابٍ۔فَقَالَ سَہْلٌ : مَا کَانَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْمٌ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَبِی تُرَابٍ ، وَإِنْ کَانَ لَیَفْرَحُ إِذَا دُعِیَ بِہَا۔فَقَالَ لَہُ : أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِہِ لِمَ سُمِّیَ أَبَا تُرَابٍ۔قَالَ : جَائَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بَیْتَ فَاطِمَۃَ فَلَمْ یَجِدْ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْبَیْتِ فَقَالَ لَہَا : أَیْنَ ابْنُ عَمِّکِ؟ ۔فَقَالَتْ : کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ شَیْئٌ ، فَغَاضَبَنِی فَخَرَجَ ، وَلَمْ یَقِلْ عِنْدِی۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ لإِنْسَانٍ : ((انْظُرْ أَیْنَ ہُوَ؟))۔فَجَائَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہُوَ فِی الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ۔فَجَائَ ہُ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَہْوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُہُ عَنْ شِقِّہِ فَأَصَابَہُ تُرَابٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَمْسَحُہُ عَنْہُ وَیَقُولُ : ((قُمْ أَبَا تُرَابٍ قُمْ أَبَا تُرَابٍ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [بخاری ۳۷۰۳، مسلم ۲۴۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے مسجد میں رات گزارنے کا بیان
(٤٣٤١) حضرت حسن (رح) سے سوال کیا گیا کہ مسجد میں قیلولہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو دیکھا جب وہ خلیفہ تھے تو مسجد میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ جب وہ بیدار ہوئے تو کنکریوں کے نشانات ان کے پہلو پر ہوتے تھے۔ تو وہ فرماتے : یہ ہیں امیرالمومنین۔

(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا : حضرت حسن کی عمر کتنی تھی جب حضرت عثمان بن عفان (رض) شہید کیے گئے ؟ انھوں نے فرمایا : چودہ سال۔ حضرت حسن کی پیدائش ہوئی تو حضرت عمر کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔

(ح) سعید بن جبیر فرماتے ہیں : مسجد میں سونا ان کے لیے ناپسندیدہ ہے جن کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو۔
(۴۳۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی الأَسْوَدِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا یُونُسُ : أَنَّ الْحَسَنَ سُئِلَ عَنِ الْقَائِلَۃِ فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ خَلِیفَۃٌ یَقِیلُ فِی الْمَسْجِدِ ، وَیَقُومُ وَأَثَرُ الْحَصَی بِجَنْبِہِ فَیَقُولُ : ہَذَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ ہَذَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ۔

قَالَ یُونُسُ بِإِصْبَعِہِ وَحَرَّکَ أَبُو بَکْرٍ إِصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ وَنَحْنُ یَوْمَئِذٍ غِلْمَانٌ۔قُلْتُ لِیُونُسَ : ابْنُ کَمْ کَانَ الْحَسَنُ یَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ؟ قَالَ : ابْنَ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ ، وُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَیْنِ بَقِیَتَا مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ ثُمَّ عَنْ مُجَاہِدٍ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ مَا یَدُلُّ عَلَی کَرَاہِیَتِہِمُ النَّوْمَ فِی الْمَسْجِدِ ، فَکَأَنَّہُمُ اسْتَحَبُّوا لِمَنْ وَجَدَ مَسْکَنًا أَنْ لاَ یَقْصِدَ الْمَسْجِدَ لِلنَّوْمِ فِیہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے مسجد میں رات گزارنے کا بیان
(٤٣٤٢) ابوہریرہ (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو جس غرض سے مسجد میں آتا ہے وہی اس کا حصہ ہے۔
(۴۳۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی الْعَاتِکَۃِ الأَزْدِیُّ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ ہَانِئٍ الْعَنْسِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((مَنْ أَتَی الْمَسْجِدَ لِشَیْئٍ فَہُوَ حَظُّہُ))۔ [ابوداؤد ۴۷۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان اور دیگر غیر متعلقہ امور کی کراہت کا بیان
(٤٣٤٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو وہ کہے : اللہ تیری چیز واپس نہ کرے۔ مسجدیں اس لیے نہیں بنائی جائیں۔

(ب) ابن وھب کی حدیث میں ہے کہ اللہ تیری چیز واپس نہ لوٹائے مسجدیں اس لیے نہیں بنائی جاتیں۔
(۴۳۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ مَوْلَی شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التُّرْقُفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ : مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((مَنْ سَمِعَ رَجُلاً یَنْشُدُ ضَالَّۃً فِی الْمَسْجِدِ فَلْیَقُلْ : لاَ أَدَّاہَا اللَّہُ إِلَیْکَ ، إِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِہَذَا))۔لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ

وَفِی حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ : ((لاَ رَدَّہَا اللَّہُ عَلَیْکَ ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِہَذَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَعَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْمُقْرِئِ۔

[حسن۔ احمد ۹۱۶۱-۸۳۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان اور دیگر غیر متعلقہ امور کی کراہت کا بیان
(٤٣٤٤) سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سرخ اونٹ کے بارے میں اعلان کرتے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نہ پائے، مسجدیں تو جس غرض سے بنائی گئیں اسی کے لیے ہیں۔
(۴۳۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ سَمِعَ رَجُلاً یَقُولُ فِی الْمَسْجِدِ : مَنْ دَعَا إِلَی الْجَمَلِ الأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : ((لاَ وَجَدْتَ ، إِنَّمَا بُنِیَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِیَتْ لَہُ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [مسلم ۵۶۹، ابن خزیمہ ۱۳۰۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان اور دیگر غیر متعلقہ امور کی کراہت کا بیان
(٤٣٤٥) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم کسی کو مسجد میں خریدو فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہہ دو : اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ گم شدہ چیز کا مسجد میں اعلان کررہا ہے تو کہہ دو : اللہ تیری چیز تجھے واپس نہ کرے۔
(۴۳۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : ((إِذَا رَأَیْتُمْ مَنْ یَبِیعُ أَوْ یَبْتَاعُ فِی الْمَسْجِدِ فَقُولُوا : لاَ أَرْبَحَ اللَّہُ تِجَارَتَکَ ، وَإِذَا رَأَیْتُمْ مَنْ یَنْشُدُ فِیہِ ضَالَّۃً فَقُولُوا : لاَ رَدَّہَا اللَّہُ عَلَیْکَ))۔

[حسن۔ ترمذی ۱۳۲۱، ابن حبان ۱۶۵۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان اور دیگر غیر متعلقہ امور کی کراہت کا بیان
(٤٣٤٦) سائب بن یزید فرماتے ہیں : میں مسجد میں سویا ہوا تھا، ایک شخص نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے دیکھا، وہ عمر بن خطاب تھے۔ فرمانے لگے : جاؤ ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے کر آؤ، میں لے کر آیا، حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم دونوں کہاں کے رہنے والے ہو ؟ انھوں نے کہا : طائف کے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : اگر تم اس شہر کے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا، تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں آواز کو بلند کر رہے ہو۔
(۴۳۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَیَّانَ الْمَعْرُوفُ بِأَبِی الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْجُعَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : کُنْتُ نَائِمًا فِی الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِی رَجُلٌ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : اذْہَبْ فَأْتِنِی بِہَذَیْنِ۔ فَجِئْتُہُ بِہِمَا فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ قَالاَ : مِنْ أَہْلِ الطَّائِفِ۔فَقَالَ : لَوْ کُنْتُمَا مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ لأَوْجَعْتُکُمَا ، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَکُمَا فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ۔ [صحیح ۴۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان اور دیگر غیر متعلقہ امور کی کراہت کا بیان
(٤٣٤٧) عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع کیا ہے۔
(۴۳۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ : ((أَنَّہُ نَہَی عَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ فِی الْمَسْجِدِ))۔ [حسن۔ ترمذی ۳۲۲، نسائی ۷۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان اور دیگر غیر متعلقہ امور کی کراہت کا بیان
(٤٣٤٨) عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں اور کچھ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور خریدو فروخت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے۔
(۴۳۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الْحِنَّائِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ، زَادَ نَہْیَہُ عَنْ تَعْرِیفِ الضَّالَّۃِ فِی الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الشِّرَائِ وَالْبَیْعِ فِی الْمَسْجِدِ۔ [حسن۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں گم شدہ چیزوں کے اعلان اور دیگر غیر متعلقہ امور کی کراہت کا بیان
(٤٣٤٩) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حسان بن ثابت (رض) مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر (رض) ان کے پاس سے گزرے تو ان کو تیز نظروں سے دیکھا اور فرمایا : کیا مسجد میں ؟ حضرت حسان بن ثابت کہنے لگے : میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب آپ (رض) سے بہتر موجود تھے یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ ڈرے کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ لگا دے گا۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو اجازت دی اور چھوڑ دیا۔۔۔

(ب) حضرت حسان بن ثابت (رض) نے لوگوں سے پوچھا، ان میں ابوہریرہ (رض) بھی موجود تھے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری جانب سے قریش کو جواب دو ، اللہ آپ کی مدد فرمائے جبرائیل کے ذریعے۔

(ج) امام زہری (رح) فرماتے ہیں : جس طرح حضرت حسان بن ثابت اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اشعار پڑھتے تھے، مسجد میں اور مسجد کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔
(۴۳۴۹) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فِی الْمَسْجِدِ ، فَمَرَّ بِہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَحَظَہُ فَقَالَ : أَفِی الْمَسْجِدِ؟ فَقَالَ : وَاللَّہِ لَقَدْ أَنْشَدْتُ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ۔قَالَ : فَخَشِیَ أَنْ یَرْمِیَہُ بِرَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَأَجَازَ وَتَرَکَہُ۔

وَعَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ یَعْنِی لِقَوْمٍ فِیہِمْ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنْشُدُکَ اللَّہَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((أَجِبْ عَنِّی ، أَیَّدَکَ اللَّہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ))۔فَقَالَ : اللَّہُمَّ نَعَمْ۔

أَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِیثَ الْمُسْنَدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَ قِصَّۃَ عُمَرَ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔وَنَحْنُ لاَ نَرَی بِإِنْشَادِ مِثْلِ مَا کَانَ یَقُولُ حَسَّانُ فِی الذَّبِّ عَنِ الإِسْلاَمِ وَأَہْلِہِ بَأْسًا لاَ فِی الْمَسْجِدِ وَلاَ فِی غَیْرِہِ ، وَالْحَدِیثُ الأَوَّلُ وَرَدَ فِی تَنَاشُدِ أَشْعَارِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَغَیْرِہَا مِمَّا لاَ یَلِیقُ بِالْمَسْجِدِ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۰۴۰، مسلم ۲۴۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی کراہت اور بکریوں کے باڑے میں اجازت کا بیان
(٤٣٥٠) جابر بن سمرہ فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر چاہو تو کرلو وگرنہ رہنے دو ۔ پھر اس نے پوچھا : کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھ لیا کرو۔ پھر پوچھا : کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں وضو کرو۔ پھر پوچھا : کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔
(۴۳۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ بَالَوَیْہِ قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ ﷺ وَأَنَا عِنْدَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَتَطَہَّرُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ : ((إِنْ شِئْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ))۔قَالَ : أَفَأُصَلِّی فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔قَالَ : أَفَأَتَطَہَّرُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔

قَالَ : أَفَأُصَلِّی فِی مَبَارِکِ الإِبِلِ؟ قَالَ : ((لاَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو۔

[حسن… الطیالسی ۸۰۳، مسلم ۳۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی کراہت اور بکریوں کے باڑے میں اجازت کا بیان
(٤٣٥١) جابر بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اجازت دی کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیں، لیکن اونٹوں کے باڑے میں نہیں۔
(۴۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَیْبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَوْہَبٍ وَأَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَنْ نُصَلِّیَ فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلاَ نُصَلِّی فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ دِینَارٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی۔

[حسن۔ ابن ابی شیبہ ۳۶۰۵۶، ابن حبان ۱۱۲۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی کراہت اور بکریوں کے باڑے میں اجازت کا بیان
(٤٣٥٢) عبداللہ بن مغفل (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم اونٹوں کے باڑے میں آؤ تو اس میں نماز نہ پڑھو اور جب تم بکریوں کے باڑے میں آؤ تو اگر تمہارا دل چاہے تو نماز پڑھ لو۔
(۴۳۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سَعِیدٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((إِذَا أَتَیْتُمْ عَلَی أَعْطَانِ الإِبِلِ فَلاَ تُصَلُّوا فِیہَا ، وَإِذَا أَتَیْتُمْ عَلَی أَعْطَانِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا فِیہَا إِنْ شِئْتُمْ))۔ [صحیح۔ احمد ۴/۸۵/۱۶۹۱۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی کراہت اور بکریوں کے باڑے میں اجازت کا بیان
(٤٣٥٣) سعید (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم اونٹوں کے باڑے میں آؤ تو اس میں نماز نہ پڑھو اور اگر تم بکریوں کے باڑے میں آؤ تو نماز پڑھ لیا کرو اگر تمہارا دل چاہے۔
(۴۳۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ یَعْنِی ابْنَ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((إِذَا کُنْتُمْ فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ فَلاَ تُصَلُّوا ، وَإِذَا کُنْتُمْ فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا فِیہَا إِنْ شِئْتُمْ))۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی کراہت اور بکریوں کے باڑے میں اجازت کا بیان
(٤٣٥٤) ربیع بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو، لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔
(۴۳۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنَ الرَّبِیعِ بْنِ سَبْرَۃَ حَدَّثَنِی عَمِّی یَعْنِی عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ الرَّبِیعِ بْنِ سَبْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((صَلُّوا فِی مَرَاحِبِ الْغَنَمِ ، وَلاَ تُصَلُّوا فِی مَرَاحِبِ الإِبِلِ))۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی کراہت اور بکریوں کے باڑے میں اجازت کا بیان
(٤٣٥٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نماز کا وقت ہوجائے اور صرف اونٹوں اور بکریوں کے باڑے موجود ہوں تو تم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لو، لیکن اونٹوں کے باڑے میں نہیں۔
(۴۳۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَلَمْ تَجِدُوا إِلاَّ مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَأَعْطَانَ الإِبِلِ فَصَلُّوا فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلاَ تُصَلُّوا فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ)) ۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۷۹۵، ابن حبان ۲۳۱۷]
tahqiq

তাহকীক: