আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪৩৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٥٦) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہاں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہاں نماز پڑھ لیا کرو؛ کیونکہ یہاں برکت ہے۔
(۴۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی مَبَارِکِ الإِبِلِ فَقَالَ : ((لاَ تُصَلُّوا فِیہَا ، فَإِنَّہَا مِنَ الشَّیَاطِینِ))۔وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَقَالَ : ((صَلُّوا فِیہَا فَإِنَّہَا بَرَکَۃٌ))۔
حَدِیثُہُمَا سَوَائٌ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۴۹۳]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی مَبَارِکِ الإِبِلِ فَقَالَ : ((لاَ تُصَلُّوا فِیہَا ، فَإِنَّہَا مِنَ الشَّیَاطِینِ))۔وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَقَالَ : ((صَلُّوا فِیہَا فَإِنَّہَا بَرَکَۃٌ))۔
حَدِیثُہُمَا سَوَائٌ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۴۹۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٥٧) عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں۔
(۴۳۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((صَلُّوا فِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلاَ تُصَلُّوا فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ ، فَإِنَّہَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّیَاطِینِ))۔
کَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔
وَقَالَ یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ : کُنَّا نُؤْمَرُ لَمْ یَذْکُرِ النَّبِیَّ ﷺ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۳۵۲]
کَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔
وَقَالَ یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ : کُنَّا نُؤْمَرُ لَمْ یَذْکُرِ النَّبِیَّ ﷺ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۳۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٥٨) عبداللہ بن مغفل (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم بکریوں کے باڑے میں ہو اور نماز کا وقت ہوجائے تو اس میں نماز پڑھ لو۔ کیونکہ اس میں سکونت اور برکت ہے اور اگر نماز کا وقت ہوجائے اور تم اونٹوں کے باڑے میں ہو تو وہاں سے نکل جاؤ، کسی اور جگہ نماز پڑھو یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب وہ بدکتا ہے تو کیسے ناک چڑھاتا ہے۔
(ب) ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کیا جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک وادی میں نماز سے سو گئے تو فرمایا : تم اس وادی سے نکلو کیونکہ اس میں شیطان ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شیطان کے قریب نماز کو ناپسند کیا۔ ایسے ہی اونٹ کے پاس کیونکہ یہ بھی جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔
(ب) ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کیا جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک وادی میں نماز سے سو گئے تو فرمایا : تم اس وادی سے نکلو کیونکہ اس میں شیطان ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شیطان کے قریب نماز کو ناپسند کیا۔ ایسے ہی اونٹ کے پاس کیونکہ یہ بھی جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔
(۴۳۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو الْقَاسِمِ السَّرَّاجُ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ کَرِیزٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : ((إِذَا أَدْرَکَتْکُمُ الصَّلاَۃُ وَأَنْتُمْ فِی مَرَاحِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا فِیہَا ، فَإِنَّہَا سَکِینَۃٌ وَبَرَکَۃٌ ، وَإِذَا أَدْرَکَتْکُمُ الصَّلاَۃُ وَأَنْتُمْ فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ فَاخْرُجُوا مِنْہَا فَصَلُّوا ، فَإِنَّہَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ ، أَلاَ تَرَی أَنَّہَا إِذَا نَفَرَتْ کَیْفَ تَشْمَخُ بَأَنْفِہَا))۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی سَعِیدٍ وَفِی قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ : ((لاَ تُصَلُّوا فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ ، فَإِنَّہَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ))۔دَلِیلٌ عَلَی أَنَّہُ إِنَّمَا نَہَی عَنْہَا کَمَا قَالَ حِینَ نَامَ عَنِ الصَّلاَۃِ : اخْرُجُوا بِنَا مِنْ ہَذَا الْوَادِی ، فَإِنَّہُ وَادٍ بِہِ شَیْطَانٌ ۔فَکَرِہَ أَنْ یُصَلِّیَ قُرْبَ شَیْطَانٍ ، وَکَذَا کَرِہَ أَنْ یُصَلِّیَ قُرْبَ الإِبِلِ لأَنَّہَا خُلِقَتْ مِنْ جِنٍّ لاَ لِنَجَاسَۃِ مَوْضِعِہَا ، وَقَالَ فِی الْغَنَمِ : ((ہِیَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ))۔
قَالَ الشَّیْخُ : أَمَّا الْحَدِیثُ فِی النَّوْمِ عَنِ الصَّلاَۃِ فَقَدْ مَضَی۔
وَأَمَّا حَدِیثُہُ فِی الْغَنَمِ۔ [صحیح۔ تقدم]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی سَعِیدٍ وَفِی قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ : ((لاَ تُصَلُّوا فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ ، فَإِنَّہَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ))۔دَلِیلٌ عَلَی أَنَّہُ إِنَّمَا نَہَی عَنْہَا کَمَا قَالَ حِینَ نَامَ عَنِ الصَّلاَۃِ : اخْرُجُوا بِنَا مِنْ ہَذَا الْوَادِی ، فَإِنَّہُ وَادٍ بِہِ شَیْطَانٌ ۔فَکَرِہَ أَنْ یُصَلِّیَ قُرْبَ شَیْطَانٍ ، وَکَذَا کَرِہَ أَنْ یُصَلِّیَ قُرْبَ الإِبِلِ لأَنَّہَا خُلِقَتْ مِنْ جِنٍّ لاَ لِنَجَاسَۃِ مَوْضِعِہَا ، وَقَالَ فِی الْغَنَمِ : ((ہِیَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ))۔
قَالَ الشَّیْخُ : أَمَّا الْحَدِیثُ فِی النَّوْمِ عَنِ الصَّلاَۃِ فَقَدْ مَضَی۔
وَأَمَّا حَدِیثُہُ فِی الْغَنَمِ۔ [صحیح۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٥٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو اور ان کے ناک کی بلغم صاف کردیا کرو۔ کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے۔
(۴۳۵۹) فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ کَاسِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((صَلُّوا فِی مَرَاحِ الْغَنَمِ وَامْسَحُوا رِغَامَہَا ، فَإِنَّہَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ))۔
وَرَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَرَوَاہُ حُمَیْدُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَوْقُوفًا عَلَیْہِ ، وَقِیلَ مَرْفُوعًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ ، وَرُوِّینَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف]
وَرَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّہْرِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَرَوَاہُ حُمَیْدُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَوْقُوفًا عَلَیْہِ ، وَقِیلَ مَرْفُوعًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ ، وَرُوِّینَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَرْفُوعًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بکریاں جنتی جانوروں میں سے ہیں، ان کے ناک کی بلغم صاف کردیا کرو اور ان کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتا ہوں، اگرچہ ان میں گندگی نہ بھی ہو کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو ہوجائے گی کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے شیطان گزرا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی گردن دبا دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ میں محسوس کی اور اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتا ہوں، اگرچہ ان میں گندگی نہ بھی ہو کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے تو ہوجائے گی کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے شیطان گزرا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی گردن دبا دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھ میں محسوس کی اور اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز فاسد نہیں ہوئی۔
(۴۳۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَاجِبٍ حَدَّثَنَا سَخْتُوَیْہِ بْنُ مَازِیَارَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَیَّانَ یَذْکُرُ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((إِنَّ الْغَنَمَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ ، فَامْسَحُوا رِغَامَہَا وَصَلُّوا فِی مَرَابِضِہَا))۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَمَرَ أَنْ یُصَلَّی فِی مَرَاحِہَا یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی یَقَعُ عَلَیْہِ اسْمُ مَرَاحِہَا الَّذِی لاَ بَعْرَ وَلاَ بَوْلَ فِیہِ۔
قَالَ : وَأَکْرَہُ لَہُ الصَّلاَۃَ فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہَا قَذَرٌ لِنَہْیِ النَّبِیِّ ﷺ فَإِنْ صَلَّی أَجْزَأَہُ لأَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلَّی ، فَمَرَّ بِہِ شَیْطَانٌ فَخَنَقَہُ حَتَّی وَجَدَ بَرْدَ لِسَانِہِ عَلَی یَدِہِ ، وَلَمْ یُفْسِدْ ذَلِکَ صَلاَتَہُ۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَأَمَرَ أَنْ یُصَلَّی فِی مَرَاحِہَا یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی یَقَعُ عَلَیْہِ اسْمُ مَرَاحِہَا الَّذِی لاَ بَعْرَ وَلاَ بَوْلَ فِیہِ۔
قَالَ : وَأَکْرَہُ لَہُ الصَّلاَۃَ فِی أَعْطَانِ الإِبِلِ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہَا قَذَرٌ لِنَہْیِ النَّبِیِّ ﷺ فَإِنْ صَلَّی أَجْزَأَہُ لأَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلَّی ، فَمَرَّ بِہِ شَیْطَانٌ فَخَنَقَہُ حَتَّی وَجَدَ بَرْدَ لِسَانِہِ عَلَی یَدِہِ ، وَلَمْ یُفْسِدْ ذَلِکَ صَلاَتَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦١) جابر بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فرض نماز پڑھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ ملایا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھ لی تو ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! نماز میں کوئی نئی چیز آئی ہے یعنی حکم۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ شیطان نے میرے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی ۔ میں نے اس کی گردن دبا دی تو اس کی زبان کی ٹھنڈک میں نے اپنے ہاتھ میں محسوس کی۔ اللہ کی قسم ! اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا سبقت نہ لے جا چکی ہوتی تو میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور صبح مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔
(۴۳۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَیْلٍ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : صَلَّیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ صَلاَۃً مَکْتُوبَۃً فَضَمَّ یَدَہُ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا صَلَّی قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَحَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((لاَ إِلاَّ أَنَّ الشَّیْطَانَ أَرَادَ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَ یَدَیَّ ، فَخَنَقْتُہُ حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِہِ عَلَی یَدِی ، وَایْمُ اللَّہِ لَوْلاَ مَا سَبَقَنِی إِلَیْہِ أَخِی سُلَیْمَانُ لاَرْتُبِطَ إِلَی سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ حَتَّی یُطِیفَ بِہِ وِلْدَانُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ))۔
وَقَدْ مَضَی مَعْنَی ہَذَا فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِی حَدِیثِ أَبِی الدَّرْدَائِ ۔ [حسن۔ عبدالرزاق ۲۳۳۸، احمد ۲۰۴۹۵]
وَقَدْ مَضَی مَعْنَی ہَذَا فِی حَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِی حَدِیثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِی حَدِیثِ أَبِی الدَّرْدَائِ ۔ [حسن۔ عبدالرزاق ۲۳۳۸، احمد ۲۰۴۹۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٢) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کو سترہ بنا کر نماز پڑھی ہے۔
(۴۳۶۲) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ صَلَّی إِلَی بَعِیرٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِی خَالِدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۳۰، مسلم ۵۰۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِی خَالِدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۳۰، مسلم ۵۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا دو جگہوں میں سے ایک میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٣) اگرچہ یہ نماز اونٹوں کے باڑے میں نہیں لیکن اونٹ کے قریب ہے تو پھر اونٹوں والی جگہ پاک ہوئی۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں شیطان کے قریب نماز پڑھنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔ لیکن جب شیطان حالتِ نماز میں آپ کے پاس سے گزرا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی گردن دبائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز باطل نہیں ہوئی۔
(۴۳۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ وَأَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّ الْمَنِیعِیَّ قَالَ: إِلَی بَعِیرِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔
وَہَذَا وَإِنْ لَمْ یَکُنْ صَلاَۃٌ فِی مَوْضِعِ الإِبِلِ فَہِیَ صَلاَۃٌ قُرْبُ الإِبِلِ، ثُمَّ کَانَتْ جَائِزَۃً لِطَہَارَۃِ الْمَکَانِ، کَمَا کُرِہَ الصَّلاَۃُ قُرْبَ الشَّیْطَانِ فِی خَبَرٍ آخَرَ ثُمَّ مَرَّ بِہِ الشَّیْطَانُ فِی صَلاَتِہِ فَخَنَقَہُ ، وَلَمْ یُفْسِدْ عَلَیْہِ صَلاَتَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔
وَہَذَا وَإِنْ لَمْ یَکُنْ صَلاَۃٌ فِی مَوْضِعِ الإِبِلِ فَہِیَ صَلاَۃٌ قُرْبُ الإِبِلِ، ثُمَّ کَانَتْ جَائِزَۃً لِطَہَارَۃِ الْمَکَانِ، کَمَا کُرِہَ الصَّلاَۃُ قُرْبَ الشَّیْطَانِ فِی خَبَرٍ آخَرَ ثُمَّ مَرَّ بِہِ الشَّیْطَانُ فِی صَلاَتِہِ فَخَنَقَہُ ، وَلَمْ یُفْسِدْ عَلَیْہِ صَلاَتَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عذاب والی اور دھنسا دی گئی زمین میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٤) حضرت علی (رض) بابل شہر کے پاس سے گزر رہے تھے تو مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع دی، جب وہ وہاں سے گزر گئے تب مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میرے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے منع کیا کہ قبرستان اور بابل کی زمین نماز پڑھوں کیونکہ اس زمین پر لعنت کی گئی ہے۔
(۴۳۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ وَیَحْیَی بْنُ أَزْہَرَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِیِّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الْغِفَارِیِّ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرَّ بِبَابِلَ وَہُوَ یَسِیرُ ، فَجَائَ ہُ الْمُؤَذِّنُ یُؤْذِنُہُ بِصَلاَۃِ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْہَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ ، فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : إِنَّ حَبِیبِی ﷺ نَہَانِی أَنْ أُصَلِّیَ فِی الْمَقْبُرَۃِ ، وَنَہَانِی أَنْ أُصَلِّیَ فِی أَرِضِ بَابِلَ فَإِنَّہَا مَلْعُونَۃٌ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۴۹۰-۴۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عذاب والی اور دھنسا دی گئی زمین میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٥) عبداللہ بن ابی محل عامری فرماتے ہیں کہ ہم علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ تھے، ہمارا گزر بابل کی دھ نسائی گئی زمین کے پاس سے ہوا تو حضرت علی (رض) نے وہاں نماز نہیں پڑھی۔
(ب) حجر حضرمی حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : میں اس جگہ نماز نہیں پڑھتا جس کو اللہ نے تین بار دھنسا دیا ہو۔
(ب) حجر حضرمی حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : میں اس جگہ نماز نہیں پڑھتا جس کو اللہ نے تین بار دھنسا دیا ہو۔
(۴۳۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ أَزْہَرَ وَابْنُ لَہِیعَۃَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الْغِفَارِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ مِنْہَا مَکَانَ لَمَّا بَرَزَ۔(ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُحِلٍّ الْعَامِرِیِّ قَالَ : کُنَّا مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ فَمَرَرْنَا عَلَی الْخَسْفِ الَّذِی بِبَابِلَ ، فَلَمْ یُصَلِّ حَتَّی أَجَازَہُ۔وَعَنْ حُجْرٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا کُنْتُ لأُصَلِّی فِی أَرْضٍ خَسَفَ اللَّہُ بِہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔(ق) وَہَذَا النَّہْیُ عَنِ الصَّلاَۃِ فِیہَا إِنْ ثَبَتَ مَرْفُوعًا لَیْسَ لِمَعْنًی یَرْجِعُ إِلَی الصَّلاَۃِ ، فَلَوْ صَلَّی فِیہَا لَمْ یُعِدْ۔وَإِنَّمَا ہُوَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ کَمَا۔ [ضعیف۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عذاب والی اور دھنسا دی گئی زمین میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٦) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم قوم ثمود کی بستیوں میں داخل نہ ہوا کرو، ہاں مگر روتے ہوئے گزر جاؤ۔ اگر تم نہ روئے تو مجھے ڈر ہے جیسا عذاب ان کو پہنچا تھا تمہیں نہ پہنچ جائے۔
(۴۳۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((لاَ تَدْخُلُوا عَلَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ ۔یَعْنِی أَصْحَابَ ثَمُودَ : إِلاَّ أَنْ تَکُونُوا بَاکِینَ ، فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا بَاکِینَ فَإِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلَ الَّذِی أَصَابَہُمْ))۔ [صحیح۔ بخاری، مسلم ۲۹۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عذاب والی اور دھنسا دی گئی زمین میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٧) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا گزر ان قوموں سے نہ ہو جن کو عذاب دیا گیا البتہ تم روتے ہوئے گزر جاؤ، اگر تم روئے نہیں تو ان کی بستیوں کے پاس سے نہ گزرنا، کہیں وہ عذاب جوان کو پہنچا تھا تمہیں نہ پہنچ جائے۔
(۴۳۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی عَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لأَصْحَابِہِ : ((لاَ تَدْخُلُوا عَلَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ ۔یَعْنِی الْمُعَذَّبِینَ : إِلاَّ أَنْ تَکُونُوا بَاکِینَ ، فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا بَاکِینَ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَیْہِمْ ، لاَ یُصِیبُکُمْ مَا أَصَابَہُمْ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ۔ [صحیح۔ تقدم]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ۔ [صحیح۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عذاب والی اور دھنسا دی گئی زمین میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
(٤٣٦٨) ابن عمر (رض) بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر مقام سے گزرے تو فرمایا : { لاَ تَدْخُلُوا مَسَاکِنَ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَہُمْ إِلاَّ أَنْ تَکُونُوا بَاکِینَ ، أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ الَّذِی أَصَابَہُمْ } تم ان لوگوں کی رہائش گاہوں میں داخل نہ ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، لیکن روتے ہوئے کہیں جو عذاب ان کو پہنچا تھا تمہیں نہ پہنچ جائے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور تیز چلے یہاں تک کہ وادی سے گزر گئے۔
(۴۳۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ أَحْمَدَ الزَّوْزَنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّبَرِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ : ((لاَ تَدْخُلُوا مَسَاکِنَ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَہُمْ إِلاَّ أَنْ تَکُونُوا بَاکِینَ ، أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ الَّذِی أَصَابَہُمْ))۔ثُمَّ قَنَّعَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ رَأْسَہُ ، وَأَسْرَعَ السَّیْرَ حَتَّی أَجَازَ الْوَادِیَ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔
فَأَحَبَّ الْخُرُوجَ مِنْ تِلْکَ الْمَسَاکِنِ وَکَرِہَ الْمُقَامَ بِہَا إِلاَّ بَاکِیًا فَدَخَلَ فِی ذَلِکَ الْمُقَامُ لِلصَّلاَۃِ وَغَیْرِہَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح ۔ تقدم]
فَأَحَبَّ الْخُرُوجَ مِنْ تِلْکَ الْمَسَاکِنِ وَکَرِہَ الْمُقَامَ بِہَا إِلاَّ بَاکِیًا فَدَخَلَ فِی ذَلِکَ الْمُقَامُ لِلصَّلاَۃِ وَغَیْرِہَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح ۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٦٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میرے پاس بہترین لوگ آئے، ان میں حضرت عمر (رض) بھی تھے اور ان میں میرے نزدیک سب سے پسندیدہ حضرت عمر (رض) تھے۔ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا یا فرمایا کہ صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں۔
(۴۳۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : شَہِدَ عِنْدِی رِجَالٌ مَرْضِیُّونَ فِیہِمْ عُمَرَ ، وَأَرْضَاہُمْ عِنْدِی عُمَرُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنِ الصَّلاَۃِ أَوْ قَالَ : لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَشْرُقَ الشَّمْسُ أَوْ تَطْلُعَ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۸۶، مسلم ۸۲۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۸۶، مسلم ۸۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧٠) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : مجھے جن لوگوں نے بیان کیا ، ان میں سے حضرت عمر (رض) مجھے زیادہ پسند تھے۔ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں ہے۔
(۴۳۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِی أُنَاسٌ أَعْجَبُہُمْ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ یَحْیَی۔ [صحیح۔ تقدم]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ یَحْیَی۔ [صحیح۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور صبح کے بعد سورج طلوع ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
(۴۳۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ تقدم۔ بخاری ۵۸۸، مسلم ۸۲۵]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ تقدم۔ بخاری ۵۸۸، مسلم ۸۲۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو وقت نمازوں سے منع کیا ہے : فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک ۔
(۴۳۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنْ صَلاَتَیْنِ : عَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ تقدم]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧٣) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف تین مسجدوں کی طرف سفر اختیار کیا جائے۔ مسجد ابراہیم (یعنی بیت اللہ) مسجد محمد (یعنی مسجد نبوی) اور بیت المقدس اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کیا۔ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک۔ دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا : عیدالفطر اور عیدالاضحی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو اپنے محرم کے بغیر تین دن کا سفر کرنے سے منع فرمایا۔
(۴۳۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عِبَادَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ وَہِشَامُ بْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ قَزَعَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((إِنَّمَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ إِبْرَاہِیمَ ، وَمَسْجِدِ مُحَمَّدٍ ، وَبَیْتِ الْمَقْدِسِ))۔وَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَنْ صَلاَۃٍ فِی سَاعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْغَدَاۃِ حَتَّی تَشْرُقَ الشَّمْسُ ، وَعَنْ صَوْمِ یَوْمَیْنِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ الأَضْحَی ، وَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَۃُ فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ إِلاَّ مَعَ ذِی مَحْرَمٍ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَہِشَامٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ وَیَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ فِی النَّہْیِ عَنْ ہَاتَیْنِ الصَّلاَتَیْنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۹۷]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَہِشَامٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ وَیَحْیَی بْنِ عُمَارَۃَ الْمَازِنِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ فِی النَّہْیِ عَنْ ہَاتَیْنِ الصَّلاَتَیْنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۹۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧٤) ابو بصرہ غفاری فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مخمص نامی جگہ پر عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا : یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر پیش کی گئی، انھوں نے اس کو ضائع کردیا۔ جس نے اس کی محافظت کی اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور اس کے بعد نماز نہیں یہاں تک کہ شاہد طلوع ہوجائے۔
(۴۳۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ عَنْ خَیْرِ بْنِ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنِ ابْنِ ہُبَیْرَۃَ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ عَنْ أَبِی تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیِّ عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الْعَصْرَ بِالْمُخْمَصِ وَقَالَ : ((إِنَّ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَیَّعُوہَا ، فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا کَانَ لَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ ، وَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَہَا حَتَّی یَطْلُعَ الشَّاہِدُ))۔
وَالشَّاہِدُ النَّجْمُ لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ مسلم ۸۳۰، ابن حبان ۱۷۴۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ عَنْ خَیْرِ بْنِ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیِّ عَنِ ابْنِ ہُبَیْرَۃَ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ عَنْ أَبِی تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیِّ عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الْعَصْرَ بِالْمُخْمَصِ وَقَالَ : ((إِنَّ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَیَّعُوہَا ، فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا کَانَ لَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ ، وَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَہَا حَتَّی یَطْلُعَ الشَّاہِدُ))۔
وَالشَّاہِدُ النَّجْمُ لَفْظُ حَدِیثِ قُتَیْبَۃَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ مسلم ۸۳۰، ابن حبان ۱۷۴۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧٥) حمران بن ابان حضرت امیر معاویہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھتے نہیں دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے سے منع فرمایا تھا۔
(۴۳۷۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ یُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ : إِنَّکُمْ لَتُصَلُّونَ صَلاَۃً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّہِ ﷺ فَمَا رَأَیْنَاہُ یُصَلِّیہَا ، وَلَقَدْ نَہَی عَنْہَا ، یَعْنِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ غُنْدَرٍ۔(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ غُنْدَرٍ۔(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۷]
তাহকীক: