আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৩৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے

فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧٦) معبد جہنی فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ (رض) نے خطبہ دیا اور فرمایا : تم کیسی نماز پڑھتے ہو ؟ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں رہا، ہم نے نہیں دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ نماز پڑھتے ہوں۔
(۴۳۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی أَبُو التَّیَّاحِ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ : خَطَبَ مُعَاوِیَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَلاَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ یُصَلُّونَ صَلاَۃً ، لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ فَمَا رَأَیْنَاہُ یُصَلِّیہَا ، وَقَدْ سَمِعْنَاہُ یَنْہَی عَنْہَا ، یَعْنِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ، وَکَأَنَّ أَبَا التَّیَّاحِ سَمِعَہُ مِنْہُمَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ان اوقات کا ذکر جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے

فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد غروب ہونے تک (نفل) نماز پڑھنا منع ہے
(٤٣٧٧) ہشام بن حجیر فرماتے ہیں کہ طاؤس (رح) عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو اور فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر ہمیشگی کرنے سے منع کیا۔

(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا۔ میں نہیں جانتا اس پر تجھے اجر ملے یا عذاب؛ کیونکہ اللہ فرماتے ہیں : { وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمْرًا أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ } [الاحزاب : ٣٦] کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کے لیے مناسب نہیں جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں، پھر ان کے لیے اپنے معاملہ میں اختیار ہو۔
(۴۳۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حُجَیْرٍ قَالَ : کَانَ طَاوُسٌ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : اتْرُکْہُمَا۔

قَالَ : إِنَّمَا نَہَی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَنْہُمَا أَنْ تُتَّخَذَ سُلَّمًا۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّہُ قَدْ نَہَی النَّبِیُّ ﷺ عَنْ صَلاَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَلاَ أَدْرِی أَتَعَذَّبُ عَلَیْہِمَا أَمْ تُؤْجَرُ لأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَالَ {وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمْرًا أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ} [الاحزاب: ۳۶] [صحیح۔ الدارمی ۴۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ طلوعِ شمس اور غروبِ شمس کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت
(٤٣٧٨) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی بھی نماز پڑھنے کے لیے سورج کے طلوع یا غروب ہونے کا انتظار نہ کرے۔
(۴۳۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((لاَ یَتَحَرَّی أَحَدُکُمْ فَیُصَلِّی عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلاَ عِنْدَ غُرُوبِہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۵۸۵، مسلم ۸۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ طلوعِ شمس اور غروبِ شمس کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت
(٤٣٧٩) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت تک مؤخر نہ کرو۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
(۴۳۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((لاَ تَتَحَرَّوْا بِصَلاَتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَہَا ، فَإِنَّہَا تَطْلُعُ بِقَرْنَیْ شَیْطَانٍ))۔

أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم۔ بخاری، مسلم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ طلوعِ شمس اور غروبِ شمس کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت
(٤٣٨٠) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سورج طلوع ہونا شروع ہوجائے تو اس کے مکمل طلوع ہونے تک نماز کو مؤخر کر دو اور جب سورج ڈوبنا شروع ہوجائے تو اس کے مکمل غروب ہونے تک نماز کو مؤخر کر دو ۔
(۴۳۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَۃَ حَتَّی تَرْتَفِعَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَۃَ حَتَّی تَغِیبَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ نُمَیْرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ طلوعِ شمس اور غروبِ شمس کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت
(٤٣٨١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو وہم ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو منع فرمایا تھا کہ سورج کے طلوع یا غروب کا انتظار کیا جائے۔
(۴۳۸۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : وَہِمَ عُمَرُ ، إِنَّمَا نَہَی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَنْ یُتَحَرَّی طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُہَا۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وُہَیْبٍ۔

وَإِنَّمَا قَالَتْ ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لأَنَّہَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ صَلَّی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَکَانَتَا بِمَا ثَبَتَ عَنْہَا وَعَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَضَائً ، وَکَانَ ﷺ إِذَا عَمِلَ عَمَلاً أَثْبَتَہُ ، فَأَمَّا النَّہْیُ فَہُوَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ثَابِتٌ مِنْ جِہَۃِ عُمَرَ وَغَیْرِہِ کَمَا تَقَدَّمَ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دو اوقات (یعنی عصر، فجر کے بعد) اور جب سورج سر پر ہو نماز پڑھنا مکروہ ہے جب تک سورج ڈھل نہ جائے
(٤٣٨٢) عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا ہے، جب سورج طلوع ہو کر چمک رہا ہو یہاں تک کہ وہ اونچا ہوجائے اور جس وقت دوپہر ہوجائے یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج ڈوبنے کے لیے ڈھلنے لگے یہاں تک کہ غروب ہوجائے۔
(۴۳۸۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِیِّ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ سَمِعْتُ

عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ یَقُولُ : ثَلاَثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَنْہَی أَنْ نُصَلِّیَ فِیہِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِیہِنَّ مَوْتَانَا : حِینَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتَّی تَرْتَفِعَ وَحِینَ یَقُومُ قَائِمُ الظَّہِیرَۃِ حَتَّی تَمِیلَ الشَّمْسُ ، وَحِینَ تَضَیَّفُ الشَّمْسُ إِلَی الْغُرُوبِ حَتَّی تَغْرُبَ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۳۱، ابن حبان ۱۵۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دو اوقات (یعنی عصر، فجر کے بعد) اور جب سورج سر پر ہو نماز پڑھنا مکروہ ہے جب تک سورج ڈھل نہ جائے
(٤٣٨٣) ایضاً
(۴۳۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : یَنْہَانَا۔وَقَالَ : الْغُرُوبِ۔وَلَمْ یَقُلْ : قَائِمُ۔وَقَالَ : حَتَّی تَمِیلَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دو اوقات (یعنی عصر، فجر کے بعد) اور جب سورج سر پر ہو نماز پڑھنا مکروہ ہے جب تک سورج ڈھل نہ جائے
(٤٣٨٤) عبداللہ صنابحی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ جب سورج بلند ہوجاتا ہے تو شیطان اس سے جدا ہوجاتا ہے۔ پھر جب نصف النہار ہوتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ مل جاتا ہے اور جب سورج زائل ہوجاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہوجاتا ہے۔ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے شیطان پھر اس کے ساتھ مل جاتا ہے۔ جب سورج غروب ہوجاتا ہے تو اس سے جدا ہوجاتا ہے، ان اوقات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
(۴۳۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ قَعْنَبٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَہَا قَرْنُ الشَّیْطَانِ ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَہَا ، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَہَا ، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَہَا ، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَہَا ، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَہَا)) ۔وَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ عَنِ الصَّلاَۃِ فِی تِلْکَ السَّاعَاتِ۔کَذَا رَوَاہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ۔وَرَوَاہُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ۔

قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ : الصَّحِیحُ رِوَایَۃُ مَعْمَرٍ وَہُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیُّ وَاسْمُہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُسَیْلۃَ۔ [ضعیف۔ مالک ۱۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ روایت جس میں نماز کے تمام ممنوع اوقات کا بیان ہے
(٤٣٨٥) عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں تمام لوگوں کو گمراہ خیال کرتا تھا کہ وہ کسی دین پر نہیں تھے اور بتوں کے پجاری تھے ۔ میں نے مکہ میں ایک شخص کے متعلق خبریں سن رکھی تھیں، میں اپنی سواری پر مکہ آیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھپے ہوئے تھے، لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی کرتے تھے۔ مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ترس آیا، میں مکہ میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نبی ہوں۔ میں نے کہا : کس نے آپ کو نبی بنایا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے کہا : کیا چیز دے کر اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صلہ رحمی اور بتوں کو توڑنا۔ اکیلے اللہ کو ماننا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اس دین پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اور کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آزاد اور غلام۔ عمرو بن عبسہ کہتے ہیں : اس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ابوبکر (رض) اور بلال (رض) ایمان لائے تھے۔ میں نے کہا : میں بھی آپ کی پیروی کرنے والا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ابھی اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ میرا اور لوگوں کا کیا حال ہے۔ تم اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ۔ جب آپ سنیں کہ میں نے غلبہ پا لیا ہے تو میرے پاس آجانا۔ میں گھر واپس پلٹ آیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے اور میں اپنے گھر میں ہی لوگوں سے خبریں پوچھتا رہتا تھا، یہاں تک کہ مدینہ والوں کا ایک گروہ آیا۔ میں نے کہا : اس شخص نے کیا کیا ہے جو مدینہ میں آیا ہے ؟ انھوں نے کہا : لوگ اس کی طرف جلدی کر رہے ہیں اور اس کی قوم نے اس کو قتل کرنا چاہا لیکن وہ اس کی طاقت نہ پا سکے ہیں، پھر میں مدینہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے پہنچانتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو وہی نہیں جو مجھے مکہ میں ملا تھا۔ میں نے کہا : آپ مجھے اس کی چیز کی خبر دیں جو میں نہیں جانتا اور آپ کو اللہ نے سکھائی ہیں، مجھے نماز کے متعلق بتائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صبح کی نماز پڑھ، پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج بلند ہوجائے۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں، پھر نماز پڑھ، جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے، پھر نماز سے رک جا کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ جب سایہ بڑھ جائے تو نماز پڑھ، یہ بھی ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھے۔ پھر تو نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی ہمیشہ باوضو رہتا ہے اور وہ کلی کرتا ہے، ناک میں پانی چڑھانے کے بعد ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک، چہرے اور داڑھی کے گناہ پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں سے بھی خطائیں جھڑ جاتی ہیں، پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو مسح کرنے کی وجہ سے اس کے بالوں سے پانی کے ذریعہ گناہ مٹ جاتے ہیں، پھر وہ پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کی انگلیوں کے پوروں سے خطائیں بہہ جاتی ہیں، پھر وہ کھڑا ہو کر نماز میں اللہ کی حمدو ثنا اور تمجید بیان کرتا ہے جس کے وہ لائق ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کرلیتا ہے تو وہ اپنی غلطیوں سے اس طرح صاف ہوجاتا ہے جس طرح کہ اس کی ماں نے اس کو آج ہی جنم دیا ہے۔ عامر بن البزہ نے یہ حدیث ابو امامہ (رض) کو بیان کی تو وہ کہنے لگے : دیکھو تم ایک ہی جگہ یہ کہہ رہے ہو کہ آدمی کو یہ کچھ دیا جائے گا۔ عمرو کہنے لگے : اے ابوامامہ ! میری عمر بڑھ گئی۔ میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں، میری موت قریب آگئی، مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ باندھوں۔ اگر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک، دو ، نہیں بلکہ سات بار تک نہ سنا ہوتا تو میں کبھی بیان نہ کرتا۔ میں نے یہ حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت مرتبہ سنی ہے۔

(ب) نضر بن محمد نے کچھ الفاظ زائد ذکر کیے ہیں کہ جب انسان پانی سے ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک اور چہرے کی ساری غلطیاں پانی کے ساتھ نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ حکم الٰہی کے ساتھ چہرہ دھوتا ہے تو اس کی خطائیں چہرے اور داڑھی کے اطراف سے نکل جاتی ہیں۔
(۴۳۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو عَمَّارٍ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ عِکْرِمَۃُ وَقَدْ لَقِیَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَۃَ وَوَاثِلَۃَ ، وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَی الشَّامِ، وَأَثْنَی عَلَیْہِ فَضْلاً وَخَیْرًا عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ السُّلَمِیُّ : کُنْتُ وَأَنَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَی ضَلاَلَۃٍ ، وَإِنَّہُمْ لَیْسُوا عَلَی شَیْئٍ ، وَہُمْ یَعْبَدُونَ الأَوْثَانَ قَالَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَکَّۃَ یُخْبِرُ أَخْبَارًا ، فَقَعَدْتُ عَلَی رَاحِلَتِی ، فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ مُسْتَخْفِیًا جُرَئَ ائُ عَلَیْہِ قَوْمُہُ ، فَتَلَطَّفْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَیْہِ بِمَکَّۃَ فَقُلْتُ لَہُ : مَا أَنْتَ؟ قَالَ : ((أَنَا نَبِیٌّ)) ۔فَقُلْتُ : وَمَا نَبِیٌّ؟ قَالَ : ((أَرْسَلَنِی اللَّہُ))۔فَقُلْتُ : بِأَیِّ شَیْئٍ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ : ((أَرْسَلَنِی بِصِلَۃِ الأَرْحَامِ ، وَکَسْرِ الأَوْثَانَ ، وَأَنْ یُوَحَّدَ اللَّہُ لاَ یُشْرَکَ بِہِ شَیْئًا)) ۔فَقُلْتُ لَہُ : مَنْ مَعَکَ عَلَی ہَذَا؟ قَالَ : ((حُرٌّ وَعَبْدٌ)) ۔قَالَ : وَمَعَہُ یَوْمَئِذٍ أَبُو بَکْرٍ وَبِلاَلٌ مِمَّنْ آمَنَ بِہِ ، فَقُلْتُ : إِنِّی مُتَّبِعُکَ۔قَالَ : ((إِنَّکَ لاَ تَسْتَطِیعُ ذَلِکَ یَوْمَکَ ہَذَا ، أَلاَ تَرَی حَالِی وَحَالَ النَّاسِ؟ وَلَکِنِ ارْجِعْ إِلَی أَہْلِکَ ، فَإِذَا سَمِعْتَ بِی قَدْ ظَہَرْتُ فَأْتِنِی))۔فَذَہَبْتُ إِلَی أَہْلِی وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ ، وَکُنْتُ فِی أَہْلِی فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الأَخْبَارَ ، وَأَسْأَلُ کُلَّ مَنْ قَدِمَ مِنَ النَّاسِ حَتَّی قَدِمَ عَلِیَّ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ یَثْرِبَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ ہَذَا الرَّجُلُ الَّذِی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ؟ فَقَالُوا : النَّاسُ إِلَیْہِ سِرَاعٌ ، وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُہُ قَتْلَہُ ، فَلَمْ یَسْتَطِیعُوا ذَلِکَ۔قَالَ : فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَعْرِفُنِی؟ قَالَ : نَعَمْ أَلَسْتَ الَّذِی لَقِیتَنِی بِمَکَّۃَ؟ ۔قَالَ قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَخْبَرْنِی عَمَّا عَلَّمَکَ اللَّہُ وَأَجْہَلُہُ ، أَخْبَرْنِی عَنِ الصَّلاَۃِ۔قَالَ : ((صَلِّ صَلاَۃَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّی تَرْتَفِعَ ، فَإِنَّہَا تَطْلُعُ حِینَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ ، وَحَیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ ، ثُمَّ صَلِّ فَالصَّلاَۃُ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ حَتَّی یَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلاَۃِ ، فَإِنَّ حِینَئِذٍ تُسْجَرُ جَہَنَّمُ ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَیْئُ فَصَلِّ ، فَإِنَّ الصَّلاَۃَ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ ، وَحَیْنَئِذٍ تَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ)) ۔ قَالَ قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ فَالْوُضُوئُ حَدِّثْنِی عَنْہُ۔قَالَ : ((مَا مِنْکُمْ رَجُلٌ یُقَرِّبُ وَضُوئَ ہُ ، فَیُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ فَیَنْتَثِرُ إِلاَّ خَرَّتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ وَخَیَاشِیمِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ إِلاَّ خَرَّتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ أَنَامِلِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہُ إِلاَّ خَرَّتْ خَطَایَا رَأْسَہُ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ إِلاَّ خَرَّتْ خَطَایَا رِجْلَیْہِ مِنْ أَنَامِلِہِ مَعَ الْمَائِ ، فَإِنْ ہُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ وَمَجَّدَہُ بِالَّذِی ہُوَ لَہُ أَہْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَہُ لِلَّہِ إِلاَّ انْصَرَفَ مِنْ خَطِیئَتِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ))۔فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ بِہَذَا الْحَدِیثِ أَبَا أُمَامَۃَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ لَہُ أَبُو أُمَامَۃَ : یَا عَمْرُو انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ فِی مَقَامٍ وَاحِدٍ یُعْطَی ہَذَا الرَّجُلُ؟ فَقَالَ عَمْرُو : یَا أَبَا أُمَامَۃَ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّی وَرَقَّ عَظْمِی ، وَاقْتَرَبَ أَجَلِی ، وَمَا بِی حَاجَۃٌ أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللَّہِ وَلاَ عَلَی رَسُولِہِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ إِلاَّ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا حَتَّی عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِہِ أَبَدًا ، وَلَکِنِّی قَدْ سَمِعْتُہُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِیِّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلاَّ أَنَّہُ زَادَ فِی ذِکْرِ الْوُضُوئِ عِنْدَ قَوْلِہِ : فَیَنْتَثِرُ إِلاَّ خَرَّتْ خَطَایَا وَجْہِہِ وَفِیہِ وَخَیَاشِیمِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ إِلاَّ خَرَّتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مَعَ الْمَائِ ۔وَکَأَنَّہُ سَقَطَ مِنْ کِتَابِنَا۔ وَلَہُ شَاہِدٌ مِنْ حَدِیثِ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ۔ [صحیح۔ احمد ۱۶۵۷۱، مسلم ۸۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ روایت جس میں نماز کے تمام ممنوع اوقات کا بیان ہے
(٤٣٨٦) عمرو بن عبسہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! رات کے کس حصہ میں (دُعا) زیادہ سنی جاتی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کے آخری حصہ میں۔ نماز پڑھ جتنی تو چاہے۔ کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیں، پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جاؤ جب تک سورج ایک یا دو نیزے بلند ہوجائے، وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھ جتنی تو چاہے، کیونکہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے۔ پھر نماز سے رک جا ؛کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جب سورج ڈھل جائے تو جتنی چاہو نماز پڑھو۔ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو۔ پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر انھوں نے لمبی حدیث بیان کی۔
(۴۳۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُہَاجِرٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ أَنَّہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ اللَّیْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : ((جَوْفُ اللَّیْلِ الآخِرِ فَصَلِّ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّ الصَّلاَۃَ مَشْہُودَۃٌ مَکْتُوبَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَتَرْتَفِعَ قِیسَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ ، فَإِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ وَیُصَلِّی لَہَا الْکُفَّارُ ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّ الصَّلاَۃَ مَشْہُودَۃٌ مَکْتُوبَۃٌ حَتَّی یَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّہُ ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَہَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُہَا ، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ ، فَإِنَّ الصَّلاَۃَ مَشْہُودَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ فَیُصَلِّی لَہَا الْکُفَّارُ))۔قَالَ : وَقَصَّ حَدِیثًا طَوِیلاً۔ [ابن خزیمہ ۲۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وہ روایت جس میں نماز کے تمام ممنوع اوقات کا بیان ہے
(٤٣٨٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ صفوان بن معطل (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے ایسے معاملہ کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں کہ آپ اس کو جانتے ہیں میں نہیں جانتا۔ کیا رات اور دن میں ایسے اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنا ممنوع ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں جب تو فجر کی نماز پڑھ لے تو سورج کے طلوع ہونے تک نماز چھوڑ دے کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ یہ ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ مقبول ہے۔ پھر جب سورج تیرے سر پر نیزے کی طرح بلند ہوجائے تو نماز سے رک جا؛کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے کھولے جاتے ہیں یہاں تک کہ سورج تیری دائیں جانب بلند ہوجائے۔ جب سورج ڈھل جائے تو نماز پڑھ اس میں بھی فرشتے موجود ہوتے ہیں یہاں تک کہ تو عصر کی نماز پڑھ لے، پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز چھوڑ دے۔
(۴۳۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنِی الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی سَائِلُکَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِہِ عَالِمٌ وَأَنَا بِہِ جَاہِلٌ ، ہَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سَاعَۃٌ تُکْرَہُ فِیہَا الصَّلاَۃُ؟ قَالَ : ((نَعَمْ إِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَدَعِ الصَّلاَۃَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّہَا تَطْلُعَ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ ، ثُمَّ الصَّلاَۃُ مَحْضُورَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتَّی تَسْتَوِیَ الشَّمْسُ عَلَی رَأْسِکَ کَالرُّمْحِ ، فَإِذَا اسْتَوَتْ عَلَی رَأْسِکَ کَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلاَۃَ ، فَإِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ تُسْجَرُ فِیہَا جَہَنَّمُ ، وَتُفْتَحُ فِیہَا أَبْوَابُہَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ عَنْ جَانِبِکَ الأَیْمَنِ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَالصَّلاَۃُ مَحْضُورَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعِ الصَّلاَۃَ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ))۔

وَرَوَاہُ عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْقُرَشِیُّ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُسَمِّ السَّائِلَ وَزَادَ فِی آخِرِہِ : ثُمَّ الصَّلاَۃُ مَشْہُودَۃٌ مَحْضُورَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتَّی تُصَلِّیَ الصُّبْحَ۔ [منکر ۔ قال الدارقطنی فی العلل ۱۴۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٨٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اس کے علاوہ کوئی کفارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی } [طٰہٰ : ١٤] میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔
(۴۳۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا لاَ کَفَّارَۃَ لَہَا غَیْرُ ذَلِکَ)) وَحَدَّثَنَا بَعْدُ ذَلِکَ فَزَادَ فِیہِ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی} [طٰہ: ۱۴]

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ : مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہُدْبَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٨٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی } [طٰہٰ : ١٤] نماز قائم کر میری یاد کے لیے۔
(۴۳۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَکَّامٍ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی الْقَصِیرُ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((إِذَا رَقَدَ أَحَدُکُمْ عَنِ الصَّلاَۃِ أَوْ غَفَلَ عَنْہَا فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی}[طٰہ: ۱۴])) ۔لَفْظُ حَدِیثِ الْمُثَنَّی وَفِی حَدِیثِ سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یَقُولُ (أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی) ۔أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَالْمُثَنَّی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ خیبر سے واپس آئے۔ حدیث کے آخر میں ہے۔ جب آدمی نماز بھول جائے جب یاد آئے تو نماز پڑھ لے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی } [طٰہٰ : ١٤] میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔
(۴۳۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ حِینَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِی آخِرِہِ قَالَ : ((مَنْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَالَ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ لِذِکْرِی})) ۔قَالَ یُونُسُ : وَکَانَ ابْنُ شِہَابٍ یَقْرَؤُہَا کَذَلِکَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩١) سعد کے دادا بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھ لیا، میں صبح کی نماز کے بعد فجر کی دو رکعت پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : اے قیس ! یہ دو رکعت کیسی ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ وہ دو رکعت ہیں جو میں فجر کی دو رکعت نہیں پڑھ سکا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔
(۴۳۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ قَیْسٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِینِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَوْثَرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ قَیْسٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ قَیْسٍ جَدِّ سَعْدٍ قَالَ : رَآنِی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَأَنَا أُصَلِّی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَقَالَ : مَا ہَاتَانِ الرَّکْعَتَانِ یَا قَیْسُ؟ ۔فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لَمْ أَکُنْ صَلَّیْتُ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ ، فَہُمَا ہَاتَانِ الرَّکْعَتَانِ ، فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ۔

زَادَ الْحُمَیْدِیُّ فِی حَدِیثِہِ قَالَ سُفْیَانُ : وَکَانَ عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ یَرْوِی ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ سَعْدٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ الشافی فی الام ۱/۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٢) قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے صبح کے بعد دو رکعت پڑھتے ہوئے دیکھ لیا۔
(۴۳۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِیدٍ أَخُو یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ قَیْسِ بْنِ قَہْدٍ قَالَ : أَبْصَرَنِی النَّبِیُّ ﷺ وَأَنَا أُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ۔فَذَکَرَ مَعْنَاہُ وَذَکَرَ قَوْلَ سُفْیَانَ کَذَا قَالَ قَیْسُ بْنُ قَہْدٍ ، وَکَذَلِکَ قَالَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ سَعْدٍ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتِینِ عَنْہُ وَقَالَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْہُ قَیْسُ بْنُ عَمْرٍو۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٣) ابن عباس سے منقول ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمن بن ازھر اور مسور بن مخرمہ نے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت عائشہ (رض) کی طرف بھیجا اور کہا : ہمارا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں سوال کرنا کیونکہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ پڑھتی ہیں حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کیا تھا۔ ابن عباس (رض) فرماتے کہ میں اور حضرت عمر (رض) اس وجہ سے لوگوں کو مارتے تھے۔ کریب کہتے ہیں : میں نے پوچھا تو انھوں نے مجھے ام سلمہ کی طرف روانہ کردیا۔ میں واپس ان کے پاس آیا اور کہا : انھوں نے تو ام سلمہ کی طرف روانہ کردیا ہے۔ وہ مجھ سے کہنے لگے : ام سلمہ (رض) کی طرف جاؤ۔ جب میں ام سلمہ (رض) کے پاس آیا اور پوچھا تو وہ فرمانے لگی : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے منع کرتے تھے لیکن میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عصر کے بعد پڑھتے بھی دیکھا ہے۔ میرے پاس اس وقت بنی حرام کی عورتیں موجود تھیں، میں نے ایک بچی کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں کھڑی ہوجانا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہنا کہ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! آپ تو ان دو رکعتوں سے منع فرماتے ہیں اور خود پڑھ رہے ہیں، اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیں تو پیچھے ہٹ جانا۔ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ بچی نے ایسے ہی کیا، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمانے لگے : اے ابو امیہ کی بیٹی ! تو نے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے، میرے پاس عبدالقیس قبیلہ کے لوگ آئے تھے جو مسلمان ہوئے تو ان کی وجہ سے میں ظہر کے بعد والی دو رکعتیں نہ پڑھ سکا، یہ وہ ہیں۔
(۴۳۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَزْہَرِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَرْسَلُوہُ إِلَی عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ فَقَالُوا : اقْرَأَ عَلَیْہَا السَّلاَمَ مِنَّا جَمِیعًا ، وَسَلْہَا عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّکِ تُصَلِّیہَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنْہَا ۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَکُنْتُ أَضْرِبُ النَّاسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَیْہَا۔قَالَ کُرَیْبٌ : فَدَخَلْتُ عَلَیْہَا وَبَلَّغْتُہَا مَا أَرْسَلُونِی بِہِ فَقَالَتْ : سَلْ أُمَّ سَلَمَۃَ۔فَخَرَجْتُ إِلَیْہِمْ فَأَخْبَرْتُہُمْ بِقَوْلِہَا ، فَرَدُّونِی إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِی بِہِ إِلَی عَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَنْہَی عَنْہَا ، ثُمَّ رَأَیْتُہُ یُصَلِّیَہَا ، أَمَّا حِینَ صَلاَّہُمَا فَإِنَّہُ صَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِی نِسْوَۃٌ مِنْ بَنِی حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَصَلاَّہُمَا ، فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ الْجَارِیَۃَ فَقُلْتُ : قُومِی بِجَنْبِہِ وَقُولِی لَہُ : تَقُولُ أُمُّ سَلَمَۃَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَسْمَعُکَ تَنْہَی عَنْ ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ ، وَأَرَاکَ تُصَلِّیہِمَا ، فَإِنْ أَشَارَ بِیَدِہِ فَاسْتَأْخِرِی عَنْہُ۔قَالَتْ : فَفَعَلَتِ الْجَارِیَۃُ فَأَشَارَ بِیَدِہِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْہُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : یَا بِنْتَ أَبِی أُمَیَّۃَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، إِنَّہُ أَتَانِی أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ بِالإِسْلاَمِ مِنْ قَوْمِہِمْ ، فَشَغَلُونِی عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ فَہُمَا ہَاتَانِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ۔[صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٤) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عصر کے بعد صرف ایک مرتبہ نماز پڑھتے دیکھا ہے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ آئے تو ظہر کے بعد والی دو رکعت نہ پڑھ سکے، پھر میرے گھر ان کو عصر کے بعد پڑھ لیا۔
(۴۳۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلْمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ صَلَّی بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ إِلاَّ مَرَّۃً ، جَائَ ہُ قَوْمٌ فَشَغَلُوہُ فَلَمْ یُصَلِّ بَعْدَ الظُّہْرِ شَیْئًا ، فَلَمَّا صَلَّی الْعَصْرَ دَخَلَ بَیْتِی فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔

(ب) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے گھر عصر کے بعد دو رکعت ادا کیں۔ میں نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دو رکعت تو کبھی نہیں پڑھی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ظہر کے بعد والی دو رکعت ہیں جن سے میں مشغول ہوگیا تھا۔
(۴۳۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابَجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْجُدِّیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یُصَلِّی عَلَی الْخُمْرَۃِ۔

قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَحَدَّثَتْنِی أُمُّ سَلَمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ دَخَلَ عَلَیْہَا فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قُلْتُ : ہَاتَانِ الصَّلاَتَانِ لَمْ تَکُنْ تُصَلِّیہِمَا۔قَالَ : أَتَانِی مَا أَشْغَلَنِی عَنْ رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ فَہُمَا ہَاتَانِ۔

(ق) اتَّفَقَتْ ہَذِہِ الأَخْبَارُ عَلَی أَنَّ أَوَّلَ مَا صَلاَّہُمَا رَسُولُ اللَّہِ ﷺ صَلاَّہُمَا قَضَائً لِصَلاَۃٍ کَانَ یُصَلِّیہَا فَأَغْفَلَہَا ، وَإِنْ لَمْ تَکُنْ فَرَضًا ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ﷺ أَثْبَتَہَا لِنَفْسِہِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلاَۃً أَثْبَتَہَا۔

[حسن]
tahqiq

তাহকীক: