আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪৩৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٦) ابو سلمہ (رض) نے حضرت عائشہ (رض) سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر سے پہلے پڑھتے تھے، لیکن مصروفیت یا بھول کی وجہ سے عصر کے بعد پڑھیں، پھر ان پر ہمیشگی کی ہے۔
(۴۳۹۶) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حَرْمَلَۃَ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ : أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ السَّجْدَتَیْنِ اللَّتَیْنِ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّیہِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ : کَانَ یُصَلِّیہِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ إِنَّہُ شُغِلَ عَنْہُمَا أَوْ نَسِیَہُمَا فَصَلاَّہُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ أَثْبَتَہُمَا ، وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلاَۃً أَثْبَتَہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَغَیْرِہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۳۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَغَیْرِہِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پاس عصر کے بعد دو رکعت کبھی بھی ترک نہیں کی۔
(۴۳۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الطُّوسِیُّ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّاذْیَاخِیُّ وَأَبُو صَادَقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ اللَّیْثِیُّ الْمَدَنِیُّ عَنْ ہِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : وَاللَّہِ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ رَکْعَتَیْنِ عِنْدِی بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ۔أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۱، مسلم ۸۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٨) عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر کو عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ہے اور حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی میرے گھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دو رکعت ترک نہیں کیں۔
(۴۳۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً سَنَۃَ أَرْبَعُمِائَۃٍ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ رُفَیْعٍ قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَیُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ لَمْ یَدْخُلْ بَیْتَہَا إِلاَّ صَلاَّہُمَا۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۳۱، مسلم ۸۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٣٩٩) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس دن بھی عصر کے بعد میرے گھر آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت ضرور ادا کیں۔
(۴۳۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : رَأَیْتُ الأَسْوَدَ وَمَسْرُوقًا شَہِدَا عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یَأْتِینِی فِی یَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۹۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۹۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٠) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
(۴۴۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ أَبِی الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی الصِّدِّیقَۃُ بِنْتُ الصِّدِّیقِ حَبِیبَۃُ حَبِیبِ اللَّہِ الْمُبَرَّأَۃُ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہَا : أَنَّہُ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ کَانَ یُصَلِّیہِمَا الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔ [صحیح۔ احمد ۲۵۵۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠١) عبدالواحد بن ایمن فرماتے ہیں : میرے باپ نے حضرت عائشہ (رض) سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : قسم اس ذات کی جو مجھے مارنے والا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنی وفات تک کبھی نہیں چھوڑا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آخری وقت میں نماز پڑھنا مشکل ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ان دو رکعت کی وجہ سے پٹائی بھی کردیتے تھے اور منع بھی کرتے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : آپ نے درست کہا، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں نہیں پڑھتے تھے تاکہ امت پر بھاری نہ ہوجائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تخفیف کو پسند فرماتے تھے۔
(۴۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَیْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہُ دَخَلَ عَلَیْہَا یَسْأَلُہَا عَنْ رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ : وَالَّذِی ہُوَ ذَہَبَ بِنَفْسِہِ تَعْنِی رَسُولَ اللَّہِ ﷺ مَا تَرَکَہُمَا حَتَّی لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَا لَقِیَ اللَّہَ حَتَّی ثَقُلَ عَنِ الصَّلاَۃِ ، وَکَانَ یُصَلِّی کَثِیرًا مِنْ صَلاَتِہِ وَہُوَ قَاعِدٌ أَوْ جَالِسٌ۔فَقَالَ لَہَا : إِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَنْہَی عَنْہُمَا وَیَضْرِبُ عَلَیْہِمَا۔ فَقَالَتْ: صَدَقْتَ وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّیہِمَا، وَلاَ یُصَلِّیہِمَا فِی الْمَسْجِدِ مَخَافَۃَ أَنْ یُثْقِلَ عَلَی أُمَّتِہِ ، وَکَانَ یُحِبُّ مَا یُخَفِّفُ عَنْہُمْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٢) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذات خود عصر کے بعد دو رکعت ادا کرتے تھے اور دوسروں کو منع فرمایا کرتے تھے اور خود صوم وصال کرتے تھے دوسروں کو صوم وصال سے منع کرتے تھے۔
(ب) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا کہ سورج کے طلوع یا غروب کا انتظار کیا جائے۔ (حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوام کو دیکھا تو انہی کو ان دو وقتوں پر محمول فرمایا۔ حالانکہ نہی ان دونوں میں بھی ثابت ہے اور ان کے بعد بھی۔ لہٰذا یہی درست ہے کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اختصاص تھا)
(ب) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا کہ سورج کے طلوع یا غروب کا انتظار کیا جائے۔ (حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوام کو دیکھا تو انہی کو ان دو وقتوں پر محمول فرمایا۔ حالانکہ نہی ان دونوں میں بھی ثابت ہے اور ان کے بعد بھی۔ لہٰذا یہی درست ہے کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اختصاص تھا)
(۴۴۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَمِّی حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا حَدَّثَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّی بَعْدَ الْعَصْرِ وَیَنْہَی عَنْہَا ، وَیُوَاصِلُ وَیَنْہَی عَنِ الْوِصَالِ۔ فَفِی ہَذَا وَفِی بَعْضِ مَامَضَی إِشَارَۃٌ إِلَی اخْتِصَاصِہِ ﷺ بِاسْتِدَامَۃِ ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ وُقُوعِ الْقَضَائِ بِمَا فَعَلَ فِی بَیْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ، وَقَدْ مَضَی فِی رِوَایَۃِ طَاوُسٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : إِنَّمَا نَہَی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ أَنْ یُتَحَرَّی طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُہَا ، وَکَأَنَّہَا لَمَّا رَأَتْہُ ﷺ أَثْبَتَہُمَا حَمَلَتِ النَّہْیَ عَلَی ہَاتَیْنِ السَّاعَتَیْنِ ، وَالنَّہْیُ ثَابِتٌ فِیہِمَا وَقَبْلَہُمَا کَمَا مَضَی ، فَحَمْلُ ذَلِکَ عَلَی اخْتِصَاصِہِ بِذَلِکَ أَوْلَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مَا دَلَّ عَلَی جَوَازِہَا إِذَا صُلِّیَتِ الْعَصْرُ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ۔ [ضعیف]
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مَا دَلَّ عَلَی جَوَازِہَا إِذَا صُلِّیَتِ الْعَصْرُ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٣) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عصر کے بعد نماز ادا نہ کرو۔ اگر تم نماز پڑھو تو اس وقت جب سورج چمک رہا ہو۔
(۴۴۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ہِلاَلٍ یَعْنِی ابْنَ یَسَافٍ عَنْ وَہْبِ بْنِ الأَجْدَعِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((لاَ تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ نَقِیَّۃٌ))۔
وَقَالَ شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ۔ [صحیح۔ الطیالسی ۱۱۰]
وَقَالَ شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ۔ [صحیح۔ الطیالسی ۱۱۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عصر کے بعد نماز نہ پڑھو ، مگر جب سورج روشن ہو، یعنی چمک رہا ہو۔
(۴۴۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ ہِلاَلَ بْنَ یَسَافٍ یُحَدِّثُ عَنْ وَہْبِ بْنِ الأَجْدَعِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((لاَ تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ))۔لَفْظُ حَدِیثِ الطَّیَالِسِیِّ۔
وَہَذَا وَإِنْ کَانَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ أَخْرَجَہُ فِی کِتَابِ السُّنَنِ فَلَیْسَ بِمُخَرَّجٍ فِی کِتَابِ الْبُخَارِیِّ وَمُسْلِمٍ۔وَوَہْبُ بْنُ الأَجْدَعِ لَیْسَ مِنْ شَرْطِہِمَا ، وَہَذَا حَدِیثٌ وَاحِدٌ ، وَمَا مَضَی فِی النَّہْیِ عَنْہُمَا مُمْتَدًا إِلَی غُرُوبِ الشَّمْسِ حَدِیثُ عَدَدٍ فَہُوَ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا۔وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا یُخَالِفُ ہَذَا وَرُوِیَ مَا یُوَافِقُہُ۔ أَمَّا الَّذِی یُخَالِفُہُ فِی الظَّاہِرِ فَفِیمَا
[صحیح تقدم۔ یہ ایک حدیث ہے لیکن نہی کی کئی احادیث ہیں کہ یہ وقت غروب شمس تک ہے یہی بہتر ہے۔]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ ہِلاَلَ بْنَ یَسَافٍ یُحَدِّثُ عَنْ وَہْبِ بْنِ الأَجْدَعِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : ((لاَ تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ))۔لَفْظُ حَدِیثِ الطَّیَالِسِیِّ۔
وَہَذَا وَإِنْ کَانَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ أَخْرَجَہُ فِی کِتَابِ السُّنَنِ فَلَیْسَ بِمُخَرَّجٍ فِی کِتَابِ الْبُخَارِیِّ وَمُسْلِمٍ۔وَوَہْبُ بْنُ الأَجْدَعِ لَیْسَ مِنْ شَرْطِہِمَا ، وَہَذَا حَدِیثٌ وَاحِدٌ ، وَمَا مَضَی فِی النَّہْیِ عَنْہُمَا مُمْتَدًا إِلَی غُرُوبِ الشَّمْسِ حَدِیثُ عَدَدٍ فَہُوَ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا۔وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا یُخَالِفُ ہَذَا وَرُوِیَ مَا یُوَافِقُہُ۔ أَمَّا الَّذِی یُخَالِفُہُ فِی الظَّاہِرِ فَفِیمَا
[صحیح تقدم۔ یہ ایک حدیث ہے لیکن نہی کی کئی احادیث ہیں کہ یہ وقت غروب شمس تک ہے یہی بہتر ہے۔]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتے تھے، سوائے فجر اور عصر کے۔
(۴۴۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ مَکْتُوبَۃٍ إِلاَّ الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔
وَأَمَّا الَّذِی یُوَافِقُہُ فَفِیمَا۔ [ضعیف]
وَأَمَّا الَّذِی یُوَافِقُہُ فَفِیمَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٦) عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں : ہم حضرت علی (رض) کے ساتھ سفر میں تھے، انھوں نے عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے، میں دیکھ رہا تھا، پھر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : اس کی اتباع واجب ہے، اس میں اختلاف نہیں۔ پھر یہ عذر والی نماز کے لیے ہے۔ ام سلمہ کی حدیث کی وجہ سے عذر والی نماز مستثنیٰ ہے۔ (واللہ اعلم)
شیخ (رح) فرماتے ہیں : اس کی اتباع واجب ہے، اس میں اختلاف نہیں۔ پھر یہ عذر والی نماز کے لیے ہے۔ ام سلمہ کی حدیث کی وجہ سے عذر والی نماز مستثنیٰ ہے۔ (واللہ اعلم)
(۴۴۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفَ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ قَالَ : کُنَّا مَعَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی سَفَرٍ ، فَصَلَّی بِنَا الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ فُسْطَاطَہُ وَأَنَا أَنْظُرُ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔
وَقَدْ حَکَی الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذِہِ الأَحَادِیثَ الثَّلاَثَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ : ہَذِہِ أَحَادِیثٌ یُخَالِفُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔
قَالَ الشَّیْخُ : فَالْوَاجِبُ عَلَیْنَا اتِّبَاعُ مَا لَمْ یَقَعْ فِیہِ الْخِلاَفُ ، ثُمَّ یَکُونُ مَخْصُوصًا بِمَا لاَ سَبَبَ لَہَا مِنَ الصَّلَوَاتِ ، وَیَکُونُ مَا لَہَا سَبَبٌ مُسْتَثْنَاۃً مِنَ النَّہْیِ بِخَبَرِ أُمِّ سَلَمَۃَ وَغَیْرِہَا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
وَقَدْ حَکَی الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ہَذِہِ الأَحَادِیثَ الثَّلاَثَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ : ہَذِہِ أَحَادِیثٌ یُخَالِفُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔
قَالَ الشَّیْخُ : فَالْوَاجِبُ عَلَیْنَا اتِّبَاعُ مَا لَمْ یَقَعْ فِیہِ الْخِلاَفُ ، ثُمَّ یَکُونُ مَخْصُوصًا بِمَا لاَ سَبَبَ لَہَا مِنَ الصَّلَوَاتِ ، وَیَکُونُ مَا لَہَا سَبَبٌ مُسْتَثْنَاۃً مِنَ النَّہْیِ بِخَبَرِ أُمِّ سَلَمَۃَ وَغَیْرِہَا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٧) عبداللہ بن عمر (رض) عصر اور فجر کے بعد نمازِ جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے، جب وہ دونوں اپنے وقت پر ادا کی گئی ہوں۔
(۴۴۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُصَلِّی عَلَی الْجَنَائِزِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ إِذَا صُلِّیَتَا لِوَقْتِہِمَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٨) نافع (رح) کا قول ہے کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت عائشہ (رض) پر نماز جنازہ پڑھی۔
(ب) حضرت ابوہریرہ (رض) نے نماز جنازہ پڑھائی اور سورج ابھی حیطان کے اطراف میں تھا۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ نماز جنازہ طلوع اور غروب آفتاب کے وقت نہ پڑھی جائے۔
(ب) حضرت ابوہریرہ (رض) نے نماز جنازہ پڑھائی اور سورج ابھی حیطان کے اطراف میں تھا۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ نماز جنازہ طلوع اور غروب آفتاب کے وقت نہ پڑھی جائے۔
(۴۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ وَحَرْمَلَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّہُ صَلَّی مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ حِینَ صَلَّوُا الصُّبْحَ۔
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ : مَرْوَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ وَالشَّمْسُ عَلَی أَطْرَافِ الْحِیطَانِ۔
(ق) وَکَرِہَ الصَّلاَۃَ عَلَی الْجَنَازَۃِ جَمَاعَۃٌ مِنْہُمْ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِہَا۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۴۲۷۸]
وَرُوِیَ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ : مَرْوَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ وَالشَّمْسُ عَلَی أَطْرَافِ الْحِیطَانِ۔
(ق) وَکَرِہَ الصَّلاَۃَ عَلَی الْجَنَازَۃِ جَمَاعَۃٌ مِنْہُمْ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِہَا۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ۴۲۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤٠٩) رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو۔ بلکہ جب مکمل طلوع یا غروب ہوجائیں تب نماز ادا کرو۔
(۴۴۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ فِی جَنَازَۃِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ یَقُولُ : إِنْ لَمْ تُصَلُّوا عَلَیْہِ حَتَّی تَطْفُلَ الشَّمْسُ ، فَلاَ تُصَلُّوا عَلَیْہِ حَتَّی تَغِیبَ۔
[صحیح۔ اخرجہ الفسوی فی المعرفۃ والتاریخ ۱/۸۵]
[صحیح۔ اخرجہ الفسوی فی المعرفۃ والتاریخ ۱/۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤١٠) ابی سفیان بن حویطب فرماتے ہیں کہ ام سلمہ کی بیٹی زینب فوت ہوگئی اور طارق مدینہ کے امیر تھے، صبح کی نماز کے بعد ان کا جنازہ لایا گیا اور بقیع قبرستان میں رکھ دیا اور طارق صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھاتے تھے۔
(ب) عبداللہ بن عمر (رض) اپنے گھر والوں سے کہا کرتے تھے : اگر تم چاہو تو اسی وقت نماز جنازہ پڑھا دی جائے یا سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کیا جائے۔
(ب) عبداللہ بن عمر (رض) اپنے گھر والوں سے کہا کرتے تھے : اگر تم چاہو تو اسی وقت نماز جنازہ پڑھا دی جائے یا سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کیا جائے۔
(۴۴۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ قَعْنَبٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی حَرْمَلَۃَ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حُوَیْطِبٍ : أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ تُوُفِّیَتْ وَطَارَقٌ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ ، فَأُتِیَ بِجَنَازَتِہَا بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، فَوُضِعَتْ بِالْبَقِیعِ قَالَ وَکَانَ طَارِقٌ یُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ۔
قَالَ ابْنُ أَبِی حَرْمَلَۃَ فَسَمِعَتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ لأَہْلِہَا : إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَی جَنَازَتِکُمُ الآنَ ، وَإِمَّا أَنْ تَتَرُکُوہَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔
وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الأَنْصَارِیِّ۔
وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ ذَہَبَ إِلَی ہَذَا الْقَوْلِ بِحَدِیثِ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی النَّہْیِ عَنِ الصَّلاَۃِ ، وَعَنِ الْقَبْرِ فِی السَّاعَاتِ الثَّلاَثِ ، وَذَلِکَ حَدِیثٌ صَحِیحٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ موطا امام مالک ۵۳۶]
قَالَ ابْنُ أَبِی حَرْمَلَۃَ فَسَمِعَتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ لأَہْلِہَا : إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَی جَنَازَتِکُمُ الآنَ ، وَإِمَّا أَنْ تَتَرُکُوہَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔
وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الأَنْصَارِیِّ۔
وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ ذَہَبَ إِلَی ہَذَا الْقَوْلِ بِحَدِیثِ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی النَّہْیِ عَنِ الصَّلاَۃِ ، وَعَنِ الْقَبْرِ فِی السَّاعَاتِ الثَّلاَثِ ، وَذَلِکَ حَدِیثٌ صَحِیحٌ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ موطا امام مالک ۵۳۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا اوقات میں بعض نمازیں (فرض ) مکروہ ہیں البتہ دیگر نمازیں (قضاء وغیرہ) جائز ہیں
(٤٤١١) عبداللہ اپنے والد کعب بن مالک (رض) کو لے کر جایا کرتے تھے جب ان کی نظر ختم ہوگئی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک کو فرماتے ہوئے سنا، وہ اپنی توبہ کے بارے میں لمبی حدیث ذکر کرتے ہیں اپنا غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے کا واقعہ خود سناتے ہیں کہ میں نے فجر کی نماز پچاس دن اپنے گھر کی چھت پر پڑھی، میں اس حالت پر بیٹھا ہوا تھا جو اللہ نے قرآن میں بیان کی ہے کہ زمین اپنی کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگی ہوگئی۔ میں نے اپنے گھر کی چھت پر یا سلع نامی پہاڑ پر کسی کی بلند آواز کو سنا وہ کہہ رہے تھے : اے کعب ! خوش ہو جاؤ۔ میں سجدہ میں گرپڑا اور سمجھ لیا کہ خوشی کی خبر ہے۔ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز کے بعد ہماری توبہ کی قبولیت کی اطلاع دی تھی۔ لوگ ہمیں خوشخبریاں دے رہے تھے۔
(۴۴۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَاللَّفْظُ لَہُمَا قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ وَکَانَ قَائِدَ کَعْبٍ مِنْ بَنِیہِ حِینَ عَمِیَ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی تَوْبَتِہِ۔قَالَ : ثُمَّ صَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِینَ لَیْلَۃَ عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِنَا ، فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَکَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِی ، وَضَاقَتْ عَلَیَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلٍ سَلْعٍ ، یَقُولُ بِأَعْلَی صَوْتِہِ : یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ۔قَالَ : فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ فَرَجٌ ، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی صَلاَۃَ الْفَجْرِ ، فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُونَنَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی طَاہِرٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
ثُمَّ ظَاہِرُ ہَذَا أَنَّہُ سَجَدَ سُجُودَ الشُّکْرِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَقَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَسُجُودُ التِّلاَوَۃِ مَقِیسٌ عَلَیْہِ ، وَقَدْ کَرِہَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فِیمَا رُوِیَ عَنْہُ ، وَہَذَا أَوْلَی لِثُبُوتِہِ وَکَوْنِہِ فِی مَعْنَی مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی قَضَائِ الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ شَغَلَہُ عَنْہُمَا الْوَفْدُ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَکُلُّ صَلاَۃٍ وَسُجُودٍ لَہُ سَبَبٌ یَکُونُ مَقِیسًا عَلَیْہِمَا، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح تقدم۔ مسلم ۲۷۶۹]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَاللَّفْظُ لَہُمَا قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ کَعْبٍ وَکَانَ قَائِدَ کَعْبٍ مِنْ بَنِیہِ حِینَ عَمِیَ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ حَدِیثَہُ حِینَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی تَوْبَتِہِ۔قَالَ : ثُمَّ صَلَّیْتُ صَلاَۃَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِینَ لَیْلَۃَ عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِنَا ، فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَکَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِی ، وَضَاقَتْ عَلَیَّ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَی عَلَی جَبَلٍ سَلْعٍ ، یَقُولُ بِأَعْلَی صَوْتِہِ : یَا کَعْبُ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ۔قَالَ : فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّہُ قَدْ جَائَ فَرَجٌ ، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ بِتَوْبَۃِ اللَّہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی صَلاَۃَ الْفَجْرِ ، فَذَہَبَ النَّاسُ یُبَشِّرُونَنَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی طَاہِرٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
ثُمَّ ظَاہِرُ ہَذَا أَنَّہُ سَجَدَ سُجُودَ الشُّکْرِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ وَقَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَسُجُودُ التِّلاَوَۃِ مَقِیسٌ عَلَیْہِ ، وَقَدْ کَرِہَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فِیمَا رُوِیَ عَنْہُ ، وَہَذَا أَوْلَی لِثُبُوتِہِ وَکَوْنِہِ فِی مَعْنَی مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی قَضَائِ الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ شَغَلَہُ عَنْہُمَا الْوَفْدُ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَکُلُّ صَلاَۃٍ وَسُجُودٍ لَہُ سَبَبٌ یَکُونُ مَقِیسًا عَلَیْہِمَا، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح تقدم۔ مسلم ۲۷۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٢) جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی عبدالمطلب ! یا فرمایا اے بنی عبد مناف ! اگر تم اس گھر کے نگران بنو تو تم نے کسی کو اس کا طواف کرنے سے نہیں روکنا اور نہ ہی رات، دن کے اوقات میں سے کسی وقت نماز پڑھنے سے۔
(۴۴۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ وَابْنُ قَعْنَبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بَابَاہْ یُحَدِّثُ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوْ یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ وُلِّیتُمْ مِنْ ہَذَا الأَمْرِ شَیْئًا فَلاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِہَذَا الْبَیْتِ وَصَلَّی أَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَائَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْحُمَیْدِیِّ۔ [صحیح۔ حمیدی ۵۶۱، ترمذی ۸۶۸]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ وَابْنُ قَعْنَبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بَابَاہْ یُحَدِّثُ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوْ یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ وُلِّیتُمْ مِنْ ہَذَا الأَمْرِ شَیْئًا فَلاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِہَذَا الْبَیْتِ وَصَلَّی أَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَائَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْحُمَیْدِیِّ۔ [صحیح۔ حمیدی ۵۶۱، ترمذی ۸۶۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٣) جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی عبد مناف ! تم میں سے کوئی بھی لوگوں کے معاملات کا نگران بنا تو وہ بیت اللہ کے طواف سے لوگوں کو مت روکے اور وہ جس گھڑی نماز پڑھنا چاہے رات یا دن کے اوقات میں سے تو اسے منع نہ کرے۔
مذکورہ نماز سے مراد طواف کی دو رکعتیں ہیں۔ یہ سببی نماز ہے، یہ مخصوص نہیں۔ اگر اس سے مراد تمام نوافل ہوں تو پھر جگہ مخصوص ہے۔ پہلی بات آثار کے زیادہ مشابہہ ہے۔
مذکورہ نماز سے مراد طواف کی دو رکعتیں ہیں۔ یہ سببی نماز ہے، یہ مخصوص نہیں۔ اگر اس سے مراد تمام نوافل ہوں تو پھر جگہ مخصوص ہے۔ پہلی بات آثار کے زیادہ مشابہہ ہے۔
(۴۴۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَابَاہَ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ مَنْ وَلِیَ مِنْکُمْ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَیْئًا ، فَلاَ تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِہَذَا الْبَیْتِ ، وَصَلَّی أَیَّ سَاعَۃٍ شَائَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ))۔
أَقَامَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ إِسْنَادَہُ ، وَمَنْ خَالَفَہُ فِی إِسْنَادِہِ لاَ یُقَاوِمُہُ فَرِوَایَۃُ ابْنِ عُیَیْنَۃَ أَوْلَی أَنْ تَکُونَ مَحْفُوظَۃً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَعَنْ عَطَائٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مُرْسَلاً۔
فَإِنْ کَانَ الْمُرَادُ بِالصَّلاَۃِ الْمَذْکُورَۃِ مَعَ الطَّوَافِ رَکْعَتَا الطَّوَافِ کَانَ الْمَعْنَی مِنْ جَوَازِہَا أَنَّہَا صَلاَۃٌ لَہَا سَبَبٌ، فَرَجَعَ إِلَی الْبَابِ الأَوَّلِ فِی التَّخْصِیصِ، وَإِنْ کَانَ الْمُرَادُ بِہَا سَائِرَ النَّوَافِلِ عَادَ التَّخَصِیصُ إِلَی الْمَکَانِ، وَالأَوَّلُ أَشْبَہُہُمَا بِالآثَارِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِی تَقْوِیَۃِ الْوَجْہِ الثَّانِی خَبَرٌ مُنْقَطِعٌ فِی ثُبُوتِہِ نَظَرٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ [صحیح تقدم]
أَقَامَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ إِسْنَادَہُ ، وَمَنْ خَالَفَہُ فِی إِسْنَادِہِ لاَ یُقَاوِمُہُ فَرِوَایَۃُ ابْنِ عُیَیْنَۃَ أَوْلَی أَنْ تَکُونَ مَحْفُوظَۃً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ وَعَنْ عَطَائٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ مُرْسَلاً۔
فَإِنْ کَانَ الْمُرَادُ بِالصَّلاَۃِ الْمَذْکُورَۃِ مَعَ الطَّوَافِ رَکْعَتَا الطَّوَافِ کَانَ الْمَعْنَی مِنْ جَوَازِہَا أَنَّہَا صَلاَۃٌ لَہَا سَبَبٌ، فَرَجَعَ إِلَی الْبَابِ الأَوَّلِ فِی التَّخْصِیصِ، وَإِنْ کَانَ الْمُرَادُ بِہَا سَائِرَ النَّوَافِلِ عَادَ التَّخَصِیصُ إِلَی الْمَکَانِ، وَالأَوَّلُ أَشْبَہُہُمَا بِالآثَارِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِی تَقْوِیَۃِ الْوَجْہِ الثَّانِی خَبَرٌ مُنْقَطِعٌ فِی ثُبُوتِہِ نَظَرٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ [صحیح تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٤) ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے کعبہ کے دروازے کے کنڈے کو پکڑ لیا اور کہنے لگے : جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو مجھے نہیں جانتا (وہ سن لے) میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحابی جندب ہوں۔ دو مرتبہ فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں اور فجر کی نماز کے بعد سورج کے طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں سوائے مکہ کے اور یہ تین مرتبہ فرمایا۔
(۴۴۱۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخَوَارِزِمِّیُّ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ حَدَّثَنَا ابْنُ مِقْلاَصٍ یَعْنِی عَبْدَ الْعَزِیزِ بْنَ عِمْرَانَ بْنِ مِقْلاَصٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ حُمَیْدٍ مَوْلَی عَفْرَائَ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ قَامَ فَأَخَذَ بِحَلَقَۃِ بَابِ الْکَعْبَۃِ ثُمَّ قَالَ : مَنْ عَرَفَنِی فَقَدْ عَرَفَنِی وَمَنْ لَمْ یَعْرَفْنِی ، فَأَنَا جُنْدُبٌ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ : ((لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلاَّ بِمَکَّۃَ إِلاَّ بِمَکَّۃَ إِلاَّ بِمَکَّۃَ))۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ سَخْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَأَخَذَ بِحَلَقَۃِ بَابِ الْکَعْبَۃِ ثُمَّ نَادَی بِصَوْتِہِ الأَعْلَی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ فَذَکَرَ بِمَعْنَاہُ۔
وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ عَنْ حُمَیْدٍ مَوْلَی عَفْرَائَ عَنْ مُجَاہِدٍ لَمْ یَذْکُرْ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ یُعَدَّ فِی أَفْرَادِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ضَعِیفٌ إِلاَّ أَنَّ إِبْرَاہِیمَ بْنَ طَہْمَانَ قَدْ تَابَعَہُ فِی ذَلِکَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَقَامَ إِسْنَادَہُ۔ [ضعیف]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ سَخْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَأَخَذَ بِحَلَقَۃِ بَابِ الْکَعْبَۃِ ثُمَّ نَادَی بِصَوْتِہِ الأَعْلَی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ فَذَکَرَ بِمَعْنَاہُ۔
وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ عَنْ حُمَیْدٍ مَوْلَی عَفْرَائَ عَنْ مُجَاہِدٍ لَمْ یَذْکُرْ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ عَنْ حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ مُجَاہِدٍ۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ یُعَدَّ فِی أَفْرَادِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ضَعِیفٌ إِلاَّ أَنَّ إِبْرَاہِیمَ بْنَ طَہْمَانَ قَدْ تَابَعَہُ فِی ذَلِکَ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَقَامَ إِسْنَادَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٥) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ابوذر (رض) آئے اور کعبہ کے دروازے کے کنڈے کو پکڑ لیا۔ پھر فرمایا : میں نے اپنے دونوں کانوں سے سنا ہے کہ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں اور فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں سوائے مکہ کے، یہ تین مرتبہ فرمایا۔
(۴۴۱۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ ہُوَ ابْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ مَوْلَی عَفْرَائَ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : جَائَ نَا أَبُو ذَرٍّ ، فَأَخَذَ بِحَلَقَۃِ الْبَابِ ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ بِأُذُنَیَّ ہَاتَیْنِ : ((لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلاَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلاَّ بِمَکَّۃَ إِلاَّ بِمَکَّۃَ إِلاَّ بِمَکَّۃَ))۔
حُمَیْدٌ الأَعْرَجُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ ، وَمُجَاہِدٌ لاَ یَثْبُتُ لَہُ سَمَاعٌ مِنْ أَبِی ذَرٍّ۔
وَقَوْلُہُ جَائَ نَا یَعْنِی جَائَ بَلَدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مُجَاہِدٍ۔[ضعیف]
حُمَیْدٌ الأَعْرَجُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ ، وَمُجَاہِدٌ لاَ یَثْبُتُ لَہُ سَمَاعٌ مِنْ أَبِی ذَرٍّ۔
وَقَوْلُہُ جَائَ نَا یَعْنِی جَائَ بَلَدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مُجَاہِدٍ۔[ضعیف]
তাহকীক: