আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৪১৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٦) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ابوذر (رض) نے فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کے دروازے کے کنڈے کو پکڑے ہوئے دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ فرمایا : عصر کے بعد کوئی نماز نہیں سوائے مکہ کے۔
(۴۴۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ الْعُصْفُرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنِی الْیَسَعُ بْنُ طَلْحَۃَ الْقُرَشِیُّ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یَقُولُ بَلَغَنَا أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ أَخَذَ بِحَلَقَتَیِ الْکَعْبَۃِ یَقُولُ ثَلاَثًا : ((لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ بِمَکَّۃَ))۔

الْیَسَعَ بْنُ طَلْحَۃَ قَدْ ضَعَّفُوہُ ، وَالْحَدِیثُ مُنْقَطِعٌ مُجَاہِدٌ لَمْ یُدْرِکْ أَبَا ذَرٍّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَرُوِیَ فِی تَقْوِیَۃِ الْوَجْہِ الأَوَّلِ خَبَرٌ ضَعِیفٌ ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں، لیکن جو بیت اللہ کا طواف کرے وہ پڑھ سکتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جس وقت بھی طواف کرے تو وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔
(۴۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی رَاشِدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلاَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، مَنْ طَافَ فَلْیُصَلِّ)) أَیَّ حِینٍ طَافَ ۔قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَہَذَا یَرْوِیہِ عَنْ عَطَائٍ سَعِیدٌ وَزَادَ فِی مَتْنِہِ : ((مَنْ طَافَ فَلْیُصَلِّ أَیَّ حِینٍ طَافَ))۔ قَالَ : وَہُوَ یُحَدِّثُ عَنْ عَطَائٍ وَغَیْرِہِ بِمَا لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہِ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ وَقَالَ : لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٨) عبدالعزیز بن رفیع (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر کو دیکھا، وہ فجر کے بعد بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی۔

(ب) ابن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو دیکھا، وہ عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔

(ج) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ میں داخل ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے تھے۔
(۴۴۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ صَاحِبُ الْبُخَارِیِّ وَعَبْدُ اللَّہِ الْبَغَوِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ أَحَدُہُمَا : الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ رُفَیْعٍ قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یَطُوفُ بَعْدَ الْفَجْرِ فَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ۔

قَالَ عَبِیدَۃُ وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ : وَرَأَیْتُ۔وَقَالَ ابْنُ صَالِحٍ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَیُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَدَّثَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ لَمْ یَدْخُلْ بَیْتَہَا إِلاَّ صَلاَّہَا۔وَقَالَ ابْنُ صَالِحٍ : إِلاَّ صَلاَّہُمَا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۳۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤١٩) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ فجر کے بعد لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے تھے، پھر ذکر کے لیے بیٹھ جاتے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب ممنوع وقت شروع ہوتا تو اٹھ کر نماز پڑھتے۔

(ب) پھر وہ ذکر کے لیے بیٹھ جاتے، جب سورج طلوع ہوتا تو نماز پڑھتے۔

(ج) حضرت عائشہ (رض) طواف کی دو رکعات فجر کے بعد جائز خیال کرتی تھیں، لیکن طلوعِ شمس کے وقت ناپسند کرتی تھیں۔
(۴۴۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ نَاسًا طَافُوا بِالْبَیْتِ بَعْدَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ جَلَسُوا إِلَی الْمُذَکِّرِ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : قَعَدُوا حَتَّی إِذَا کَانَتْ سَاعَۃٌ یُکْرَہُ فِیہَا الصَّلاَۃُ قَامُوا یُصَلُّونَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ وَزَادَ فِی مَتْنِہِ : ثُمَّ قَعَدُوا إِلَی الْمُذَکِّرِ حَتَّی إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامُوا یُصَلُّونَ۔

وَکَأَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَبَاحَتْ رَکْعَتَیِ الطَّوَافِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، وَکَرِہَتْہُمَا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۶۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٠) عمرو بن دینار فرماتے ہیں : میں اور عطاء بن ابی رباح نے حضرت عمر کو دیکھا، وہ فجر کے بعد طواف کرتے اور طلوعِ آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے۔
(۴۴۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : رَأَیْتُ أَنَا وَعَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ ابْنَ عُمَرَ طَافَ بَعْدَ الصُّبْحِ وَصَلَّی قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢١) عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو صبح کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے طواف کرتے دیکھا، پھر انھوں نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں : اس بات کا تذکرہ میں نے نافع کے سامنے کیا تو نافع (رح) فرمانے لگے : مکہ والوں کو ابن عمر (رض) کے متعلق غلطی لگ گئی ہے۔

نافع کی یہ تکذیب مقبول نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کی عدالت کے متعلق نہیں جانتے۔ جو ابن عمر کی مکہ والوں سے روایت ہے، اگر وہ جانتے تو اس کی تصدیق کرتے تکذیب نہیں اور ابن عمر عصر اور صبح کے بعد نماز جنازہ پڑھ لیتے تھے۔ اسی طرح طواف کی دو رکعات بھی، لیکن طلوعِ شمس اور غروب کے وقت ان کے نزدیک نماز ممنوع ہے اور اہل مکہ جو ان سے روایت کرتے ہیں ممکن ہے وہ ان کے اپنے مذہب کے مطابق ہو۔ (واللہ اعلم)
(۴۴۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ طَافَ بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، ثُمَّ رَکَعَ۔

فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِنَافِعٍ ، فَقَالَ نَافِعٌ : کَذِبَ أَہْلُ مَکَّۃَ عَلَی ابْنِ عُمَرَ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ أَیْضًا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔

وَہَذَا التَّکْذِیبُ غَیْرُ مَقْبُولٍ مِنْ نَافِعٍ ، وَکَأَنَّہُ لَمْ یَعْلَمُ عَدَالَۃَ مَنْ رَوَاہُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، وَلَوْ عَلَمِہَا لأَشْبَہَ أَنْ یُصَدِّقَ وَلاَ یُکَذِّبَ ، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُجِیزُ الصَّلاَۃَ عَلَی الْجَنَازَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ ، وَکَذَلِکَ رَکْعَتَا الطَّوَافِ ، وَإِنَّمَا النَّہْیُ عِنْدَہُ عَنْ تَحَرِّی طُلُوعِ الشَّمْسِ وَغُرُوبِہَا بِالصَّلاَۃِ ، فَمَا رَوَاہُ أَہْلُ مَکَّۃَ عَنْہُ فِی رَکْعَتَیِ الطَّوَافِ لاَئِقٌ بِمَذْہَبِہِ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٢) ابی شعبہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن و حسین (رض) نے عصر کے بعد کا طواف کیا اور نماز پڑھی۔
(۴۴۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمَّارٍ الدُّہْنِیِّ عَنْ أَبِی شُعْبَۃَ : أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ طَافَا بَعْدَ الْعَصْرِ وَصَلَّیَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٣) ابن ابی ملیکہ (رح) فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عباس (رض) کو عصر کے بعد طواف کرتے دیکھا اور انھوں نے نماز بھی پڑھی۔
(۴۴۲۳) وَبِإِسْنَادِہِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَعَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَصَلَّی۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٤) ابو درداء (رض) نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے کے وقت طواف کیا اور غروبِ شمس سے پہلے دو رکعت ادا کرلیں، ابودرداء (رض) سے کہا گیا : آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں اور خود فرماتے ہیں کہ عصر کے بعد غروبِ شمس تک کوئی نماز نہیں ہے۔ ابودرداء (رض) نے جواب دیا : یہ شہر دوسرے شہروں کی طرح نہیں ہے۔
(۴۴۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابَقٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَابَاہْ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ : أَنَّہُ طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ مَغَارِبِ الشَّمْسِ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقِیلَ لَہُ : یَا أَبَا الدَّرْدَائِ أَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ تَقُولُونَ : لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔فَقَالَ : إِنَّ ہَذِہِ الْبَلْدَۃَ بَلْدَۃٌ لَیْسَتْ کَغَیْرِہَا۔

وَہَذَا الْقَوْلُ مِنْ أَبِی الدَّرْدَائِ یُوجِبُ تَخْصِیصَ الْمَکَانِ بِذَلِکَ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَرُوِیَ فِی فِعْلِہِمَا بَعْدَ الطَّوَافِ فِی ہَذَا الْوَقْتِ عَنْ طَاوُسٍ وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ۔

وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ : إِذَا طُفْتَ فَصَلِّ۔

وَرُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ أَنَّہُمْ کَانُوا یُؤَخِّرُونَہُمَا حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَتَرْتَفِعَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٥) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مکہ میں صبح کی نماز پڑھی، پھر بیت اللہ کے سات چکر کاٹے۔ پھر چلے اور مدینہ منورہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، جب ” ذی طوی “ نامی جگہ پر پہنچے تو سورج طلوع ہوگیا، انھوں نے دو رکعت نماز ادا کی۔
(۴۴۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی الْمَدَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ قَالَ : صَلَّی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الصُّبْحَ بِمَکَّۃَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا ، ثُمَّ خَرَجَ وَہُوَ یُرِیدُ الْمَدِینَۃَ، فَلَمَّا کَانَ بِذِی طُوًی وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ ، وَالصَّحِیحُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٦) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مل کر صبح کی نماز کے بعد طواف کیا۔ جب حضرت عمر (رض) نے طواف مکمل کیا تو سورج کو دیکھا وہ ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ حضرت عمر (رض) اپنی سواری پر سوار ہوئے اور ذی طویٰ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اور وہاں دو رکعت نفل ادا کیے۔
(۴۴۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ طَافَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ بِالْکَعْبَۃِ ، فَلَمَّا قَضَی عُمَرُ طَوَافَہُ نَظَرَ فَلَمْ یَرَ الشَّمْسَ ، فَرَکِبَ حَتَّی أَنَاخَ بِذِی طُوًی فَسَبَّحَ رَکْعَتَیْنِ۔

وَہَکَذَا رَوَاہُ مَعْمَرٌ وَغَیْرُہُ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٧) ایضاً
(۴۴۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّافِقِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی قِرَائَ ۃً حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِ رِوَایَۃِ الْمَدَائِنِیِّ

قَالَ یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی قَالَ لِی الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : اتَّبَعَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فِی قَوْلِہِ الزُّہْرِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَجَرَّۃَ یُرِیدُ لُزُومَ الطَّرِیقِ۔

قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ : وَذَلِکَ أَنَّ مَالِکًا وَیُونُسَ وَغَیْرَہُمَا رَوَوُا الْحَدِیثَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ عَنْ عُمَرَ ، فَأَرَادَ الشَّافِعِیُّ أَنَّ سُفْیَانَ وَہِمَ ، وَأَنَّ الصَّحِیحَ مَا رَوَاہُ مَالِکٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٨) ابن ابی نجیح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوسعید خدری (رض) ہمارے پاس آئے اور صبح کی نماز کے بعد طواف کیا، ہم نے دیکھا کہ کیا وہ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔ ابو سعید خدری بیٹھے رہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، پھر انھوں نے نماز پڑھی۔
(۴۴۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ فَطَافَ بَعْدَ الصُّبْحِ فَقُلْنَا : انْظُرُوا الآنَ کَیْفَ یَصْنَعُ أَیُصَلِّی أَمْ لاَ؟ قَالَ : فَجَلَسَ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا نہی کے بعض جگہوں کے ساتھ مخصوص ہونے کا بیان
(٤٤٢٩) معاذ بن عفراء (رض) نے عصر کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا اور نماز نہیں پڑھی تو ان سے معاذ نامی قریشی شخص نے کہا : آپ نے نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ انھوں نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو نمازوں (عصر، فجر) کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ عصر کے بعد غروبِ شمس تک اور فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک۔
(۴۴۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَوْضِیُّ وَأَبُو الْوَلِیدِ قَالاَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَائَ : أَنَّہُ کَانَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَلاَ یُصَلِّی ، فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ : مَا لَکَ لاَ تُصَلِّی؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصَّلاَتَیْنِ : بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ۔وَرَوَاہُ أَبُودَاوُدَ عَنْ شُعْبَۃَ فَقَالَ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّہُ طَافَ مَعَ مُعَاذِ ابْنِ عَفْرَائَ۔

وَہَذَا یَکُونُ مَحْمُولاً عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَبْلُغْہُ التَّخْصِیصُ ، وَلَوْ بَلَغَہُ لَصَارَ إِلَیْہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورج سر کے برابر ہو تو نماز پڑھنے کی ممانعت تمام ایام کو محیط نہیں، بلکہ جمعہ کے دن امام کے آنے تک نفل پڑھنا جائز ہیں
(٤٤٣٠) سلمان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اپنی طاقت کے مطابق پاکیزگی اختیار کی اور اپنے گھر کے تیل یا خوشبو سے کچھ لگایا۔ پھر جمعہ کے لیے چلا گیا اور نماز پڑھی، جو اس کے مقدر میں تھی۔ جب امام آگیا تو اس کی بات کو غور سے سنا اور خاموش رہا تو دو جمعوں کے درمیان والے ایام کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
(۴۴۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو النَّضْرِ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ وَدِیعَۃَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ سَلْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَتَطَہَّرَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرِہِ ، وَمَسَّ مِنْ دُہْنِ بَیْتِہِ أَوْ طِیبِہِ ، ثُمَّ رَاحَ إِلَی الْجُمُعَۃِ فَصَلَّی مَا بَدَا لَہُ ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ ، غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۱۰، ابن حبان ۲۷۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورج سر کے برابر ہو تو نماز پڑھنے کی ممانعت تمام ایام کو محیط نہیں، بلکہ جمعہ کے دن امام کے آنے تک نفل پڑھنا جائز ہیں
(٤٤٣١) ابو قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا ناپسند کرتے تھے، سوائے جمعہ کے دن، کیونکہ ہر دن جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے سوائے جمعہ کے دن کے۔
(۴۴۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ الْکِرْمَانِیُّ حَدَّثَنَا لَیْثٌ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : ((أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُصَلَّی نِصْفَ النَّہَارِ إِلاَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، لأَنَّ جَہَنَّمَ تُسْجَرُ کُلَّ یَوْمٍ إِلاَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ))۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورج سر کے برابر ہو تو نماز پڑھنے کی ممانعت تمام ایام کو محیط نہیں، بلکہ جمعہ کے دن امام کے آنے تک نفل پڑھنا جائز ہیں
(٤٤٣٢) ایضاً
(۴۴۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ۔قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ہَذَا مُرْسَلٌ۔

أَبُو الْخَلِیلِ لَمْ یَلْقَ أَبَا قَتَادَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَلَہُ شَوَاہِدُ وَإِنْ کَانَتْ أَسَانِیدُہَا ضَعِیفَۃٌ مِنْہَا مَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورج سر کے برابر ہو تو نماز پڑھنے کی ممانعت تمام ایام کو محیط نہیں، بلکہ جمعہ کے دن امام کے آنے تک نفل پڑھنا جائز ہیں
(٤٤٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے سوائے جمعہ کے دن کے۔
(۴۴۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ نَہَی عَنِ الصَّلاَۃِ نِصْفَ النَّہَارِ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ إِلاَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورج سر کے برابر ہو تو نماز پڑھنے کی ممانعت تمام ایام کو محیط نہیں، بلکہ جمعہ کے دن امام کے آنے تک نفل پڑھنا جائز ہیں
(٤٤٣٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا جائز نہیں، سوائے جمعہ کے دن کے۔
(۴۴۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ أَبُو الشَّیْخِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ شَیْخٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ ﷺ : ((تَحْرُمُ یَعْنِی الصَّلاَۃَ إِذَا انْتَصَفَ النَّہَارُ کُلَّ یَوْمٍ إِلاَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ))۔

وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَعَمْرِو بْنِ عَبْسَۃَ وَابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا۔

وَالاِعْتِمَادُ عَلَی أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ اسْتَحَبَّ التَّبْکِیرَ إِلَی الْجُمُعَۃِ ، ثُمَّ رَغَّبَ فِی الصَّلاَۃِ إِلَی خُرُوجِ الإِمَامِ مِنْ غَیْرِ تَخْصِیصٍ وَلاَ اسْتِثْنَائٍ نَذْکُرُہَا إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِ الْجُمُعَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ سورج سر کے برابر ہو تو نماز پڑھنے کی ممانعت تمام ایام کو محیط نہیں، بلکہ جمعہ کے دن امام کے آنے تک نفل پڑھنا جائز ہیں
(٤٤٣٥) بشر بن غالب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (رض) سے سنا کہ جمعہ کے دن کسی وقت بھی نماز پڑھنامنع نہیں، کیونکہ جہنم جمعہ کے دن نہیں بھڑکائی جاتی۔
(۴۴۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا سَیَّارٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ غَالِبٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنُ یَقُولُ : یَوْمُ الْجُمُعَۃِ صَلاَۃٌ کُلُّہُ إِنَّ جَہَنَّمَ لاَ تُسْجَرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔وَرُوِّینَا الرُّخْصَۃَ فِی ذَلِکَ عَنْ طَاوُسٍ وَمَکْحُولٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: