আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৫১৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کے وقت کا بیان
(٤٥١٦) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جو رات کو نماز پڑھے تو اپنی آخری نماز وتر کو بنائے؛ کیونکہ اس کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا، جب فجر طلوع ہوجائے تو پھر رات کی نماز اور وتر کا وقت ختم ہوجاتا ہے، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر فجر سے پہلے ہے۔

(ب) فحام کی ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم فجر میں وتر پڑھو۔
(۴۵۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : مَنْ صَلَّی مِنَ اللَّیْلِ فَلْیَجْعَلْ آخِرَ صَلاَتِہِ وِتْرًا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ أَمَرَ بِذَلِکَ ، فَإِذَا کَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَہَبَ صَلاَۃُ اللَّیْلِ وَالْوِتْرُ لأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((الْوِتْرُ قَبْلَ الْفَجْرِ))۔وَفِی رِوَایَۃِ الْفَحَّامِ لأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((أَوْتِرُوا بِالْفَجْرِ))۔ [صحیح۔ مسلم ۷۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥١٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا تو وہ وتر پڑھ لے۔
(۴۵۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِی بْنُ قَانِعٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ الْخَلِیلِ التُّسْتَرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُکُمْ وَلَمْ یُوتِرْ فَلْیُوتِرْ)) ۔

[حسن۔ حاکم ۱۱۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥١٨) ابو درداء (رض) نے خطبہ دیا کہ جس کو صبح کا وقت پالے اس کا کوئی وتر نہیں ہے۔ یہ بات حضرت عائشہ (رض) کے پاس ذکر کی گئی تو انھوں نے فرمایا : حضرت ابودرداء کو غلطی لگی ہے؛ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کرتے اور وتر پڑھ لیتے۔
(۴۵۱۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُفْیَانَ الْفَارِسِیُّ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ النَّبِیلُ یَقُولُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ زِیَادٍ أَنَّ أَبَا نَہِیکٍ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ خَطَبَ فَقَالَ : مَنْ أَدْرَکَہُ الصُّبْحُ فَلاَ وِتْرَ لَہُ۔فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : کَذِبَ أَبُو الدَّرْدَائِ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصْبِحُ فَیُوتِرُ۔

قِیلَ لأَبِی عَاصِمٍ مَنْ دُونَ زِیَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی زِیَادٌ یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ۔

[حسن۔ احمد ۲۵۵۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥١٩) ابودرداء (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وتر پڑھتے ہوئے دیکھا اور لوگ صبح کی نماز کے لیے کھڑے تھے۔
(۴۵۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ سَالِمٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: رُبَّمَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ یُوتِرُ وَقَدْ قَامَ النَّاسُ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ۔ تَفَرَّدَ بِہِ حَاتِمُ بْنُ سَالِمٍ الْبَصْرِیُّ ، وَیُقَالُ لَہُ الأَعْرَجِیُّ ، وَحَدِیثُ ابْنُ جُرَیْجٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِکَ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[ضعیف۔ حاکم ۱۰۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٠) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی اور وتر پڑھے۔
(۴۵۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ أَصْبَحَ فَأَوْتَرَ۔

کَذَا وَجَدْتُہُ فِی الْفَوَائِدِ الْکَبِیرِ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢١) ابو مجلز (رض) فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھے صبح قریب تھی یا اس نے صبح کی اور پھر وتر پڑھے۔
(۴۵۲۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو فِی ہَذَا الْجُزْئِ وَقَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ قَالَ : أَصْبَحَ ابْنُ عُمَرَ وَلَمْ یُوتِرْ، أَوْ کَادَ یُصْبِحُ أَوْ أَصْبَحَ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی ، ثُمَّ أَوْتَرَ۔

وَہَذَا أَشْبَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٢) معاویہ بن قرۃ فرماتے ہیں : اغر مزنی سے منقول ہے کہ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر رات کی نماز ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین یا چار مرتبہ فرمایا : کھڑا ہو اور وتر پڑھ۔
(۴۵۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السَّجْزِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو شُعَیْبٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِی کَرِیمَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِیِّ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ إِنِّی أَصْبَحْتُ وَلَمْ أَوْتِرْ۔قَالَ : ((إِنَّمَا الْوِتْرُ بِاللَّیْلِ ۔ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعًا : قُمْ فَأَوْتِرْ))۔

[حسن۔ عبدالرزاق ۴۶۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٣) ابی ظبیان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بازار کی طرف چلے اور میں ان کے پیچھے تھا۔ وہ ایک راستے کی طرف ٹھہرے اور فجر کی طرف متوجہ ہوئے، پھر فرمایا؛ { وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ } ” رات جب چھا جائے اور صبح جب پھوٹے “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ یہ وقت وتر کے لیے بہتر ہے۔
(۴۵۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ قَالَ : خَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی السُّوقِ وَأَنَا بِأَثَرِہِ ، فَقَامَ عَلَی الدَّرَجِ فَاسْتَقْبَلَ الْفَجْرَ فَقَالَ {وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ} أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ نِعْمَ سَاعَۃُ الْوِتْرِ ہَذِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٤) ابو عبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اس دروازے سے نکلے، پھر کہا : وتر کا یہ وقت افضل ہے، پھر اسی وقت اقامت ہوگئی۔
(۴۵۲۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالَ : خَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ ہَذَا الْبَابِ فَقَالَ : نِعْمَ سَاعَۃُ الْوِتْرِ۔ثُمَّ کَانَتِ الإِقَامَۃُ عِنْدَ ذَلِکَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٥) ابو عبدالرحمن کہتے ہیں : حضرت علی (رض) نکلے جس وقت ابن نباح نے اذان کہی اور پڑھا : { وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّس } پھر فرمایا : وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ وتر پڑھنے کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔
(۴۵۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : خَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ ثَوَّبَ ابْنُ النَّبَّاحِ فَقَالَ {وَاللَّیْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ} أَیْنَ السَّائِلُونَ عَنِ الْوِتْرِ؟ نِعْمَ سَاعَۃُ الْوِتْرِ ہَذِہِ۔ [حسن۔ عبدالرزاق ۴۶۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٦) عاصم بن ضمرہ (رض) فرماتے ہیں : کچھ لوگ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور وتر کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی (رض) فرمانے لگے : کیا تم نے کسی اور سے بھی اس کے بارے میں سوال کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم نے ابو موسیٰ (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : اذان کے بعد وتر نہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : انھوں نے سخت تنقید کی ہے۔ فتویٰ دینے میں تجاوز کیا ہے۔ عشا اور صبح کی نماز کے درمیان وتر کا وقت ہے۔ جب بھی آپ وتر پڑھ لیں اچھا ہے۔
(۴۵۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ : أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلُوہُ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : سَأَلْتُمْ عَنْہُ أَحَدًا؟ فَقَالُوا : سَأَلْنَا أَبَا مُوسَی فَقَالَ : لاَ وِتْرَ بَعْدَ الأَذَانِ۔ فَقَالَ : لَقَدْ أَغْرَقَ النَّزْعَ فَأَفْرَطَ فِی الْفَتْوَی، کُلُّ شَیْئٍ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ وِتْرٌ، مَتَی أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٧) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : وتر دو نمازوں کے درمیان ہے، یعنی عشا اور فجر کے درمیان۔
(۴۵۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ ہُوَ ابْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ : الْوِتْرُ مَا بَیْنَ صَلاَتَیْنِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ إِلَی صَلاَۃِ الْفَجْرِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٨) اسود (رض) فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے سنا کہ وتر دو نمازوں یعنی عشا اور فجر کے درمیان ہے، جب بھی آپ وتر پڑھ لیں اچھا ہے۔
(۴۵۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْبَغَوِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ یَعْنِی ابْنَ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ یُنَادِی بِہِ نِدَائً : الْوِتْرُ مَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ صَلاَۃِ الْعِشَائِ وَصَلاَۃِ الْفَجْرِ ، مَتَی مَا أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٢٩) اسود کہتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ آپ وتر کب پڑھتی ہیں ؟ فرمانے لگیں : اذان اور اقامت کے درمیان مؤذن اذان نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ وہ صبح کردیتے۔ راوی کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ یہ قول اسودکا ہے یا ابواسحاق کا اور اس میں نظر ہے۔

(ب) حجاز میں پہلی اذان طلوعِ فجر سے پہلے ہوتی تھی ، حضرت عائشہ (رض) طلوعِ فجر سے پہلے نماز پڑھتی تھیں یا اس نے دوسری اذان مراد لی ہے۔

(ج) ابو سعد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) اذان اور اقامت کے درمیان وتر پڑھا کرتیں تھیں۔

(نوٹ) لیکن راجع مذہب حضرت علی اور ابو مسعود کا ہے۔
(۴۵۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَتَی تُوتِرِینَ؟ قَالَتْ : بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ۔وَمَا یُؤَذِّنُونَ حَتَّی یُصْبِحُوا۔(ق) قَوْلُہُ : وَمَا یُؤَذِّنُونَ حَتَّی یُصْبِحُوا۔أَظُنُّہُ مِنْ قَوْلِ الأَسْوَدِ أَوْ أَبِی إِسْحَاقَ ، وَفِیہِ نَظَرٌ فَقَدْ رُوِّینَا أَنَّ الأَذَانَ الأَوَّلَ بِالْحِجَازِ کَانَ قَبْلَ الصُّبْحِ ، وَکَأَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَتْ تُصَلِّی قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، أَوْ أَرَادَ بِہِ الأَذَانَ الثَّانِی ، وَعَلَی ذَلِکَ تَدُلُّ رِوَایَۃُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُوتِرُ فِیمَا بَیْنَ التَّثْوِیبِ وَالإِقَامَۃِ ، فَیَرْجِعُ مَذْہَبُہَا فِی ذَلِکَ إِلَی مَا رُوِّینَا عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٣٠) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر (رض) سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو کہا : دیکھو لوگوں نے کیا کیا ہے ؟ ان دنوں عبداللہ بن عباس نابینا ہوچکے تھے۔ خادم گیا اور لوٹا تو کہنے لگا : لوگ صبح کی نماز پڑھ کر واپس آ رہے ہیں۔ عبداللہ بن عباس (رض) کھڑے ہوئے اور وتر پڑھے۔
(۴۵۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ أَبِی الْمُخَارِقِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَقَدَ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ فَقَالَ لِخَادِمِہِ: انْظُرْ مَا صَنَعَ النَّاسُ؟ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ قَدْ ذَہَبَ بَصَرُہُ ، فَذَہَبَ الْخَادِمُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: قَدِ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الصُّبْحِ۔فَقَامَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ فَأَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٣١) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : مجھے کوئی پروا نہیں اگر نماز کی اقامت کہہ دی جائے اور میں وتر پڑھ رہا ہوں۔
(۴۵۳۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا أُبَالِی لَوْ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ وَأَنَا أَوْتِرُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے صبح کی اور وتر نہیں پڑھا وہ طلوع فجر اور صبح کی نماز سے پہلے پڑھ لے
(٤٥٣٢) عبادہ بن صامت اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے، ایک دن صبح کی نماز کے لیے نکلے تو مؤذن اقامت کہنے لگا۔ عبادہ بن صامت نے اسے خاموش کروا دیا، پھر وتر پڑھے، اس کے بعد انھوں نے صبح کی نماز پڑھائی۔

(ب) امام مالک (رح) فرماتے ہیں : جو وتر سے سو گیا وہ فجر کے بعد وتر پڑھ لے، لیکن کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ جان بوجھ کر طلوعِ فجر کے بعد وتر پڑھے۔
(۴۵۳۲) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ یَؤُمُّ قَوْمَنَا ، فَخَرَجَ یَوْمًا إِلَی الصُّبْحِ ، فَأَقَامَ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاَۃَ ، فَأَسْکَتَہُ عُبَادَۃُ حَتَّی أَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّی لَہُمُ الصُّبْحَ۔

قَالَ مَالِکٌ : وَإِنَّمَا یُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ ، وَلاَ یَنْبَغِی لأَحَدٍ أَنْ یَتَعَمَّدَ ذَلِکَ حَتَّی یَضَعَ وِتْرَہُ بَعْدَ الْفَجْرِ۔ [ضعیف۔ مالک ۲۸۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب بھی یاد آئے تو وتر پڑھ لے
(٤٥٣٣) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے وتر سے سو گیا یا اسے بھول گیا تو وہ صبح کے وقت یا جب بھی اس کو یاد پڑھ لے۔
(۴۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ کَثِیرِ بْنِ دِینَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِہِ أَوْ نَسِیَہُ فَلْیُصَلِّہِ إِذَا أَصْبَحَ أَوْ ذَکَرَہُ))۔ [صحیح۔ احمد ۳/۳۱/۱۱۲۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب بھی یاد آئے تو وتر پڑھ لے
(٤٥٣٤) وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے اس شخص بارے میں پوچھا جو وتر طلوع شمس تک چھوڑ دیتا ہے کہ کیا وہ اسے پڑھے ؟ وہ کہنے لگے : آپ کا خیال ہے کہ اگر آپ صبح کی نماز کو سورج طلوع ہونے تک چھوڑ دیں تو کیا آپ اس کو پڑھیں گے : راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : ٹھہر ٹھہر۔
(۴۵۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَمَّنْ تَرَکَ الْوِتْرَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَیُصَلِّیہَا؟ قَالَ : أَرَأَیْتَ لَوْ تَرَکْتَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، ہَلْ کُنْتَ تُصَلِّیہَا؟ قَالَ قُلْتُ : فَمَہْ۔قَالَ : فَمَہْ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب بھی یاد آئے تو وتر پڑھ لے
(٤٥٣٥) ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجد عمرو بن شرحبیل میں تھے۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی۔ لوگ ان کا انتظار کر رہے تھے، وہ آئے تو انھوں نے کہا : میں وتر پڑھ رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا اذان کے بعد وتر ہے تو وہ فرمانے لگے : ہاں اقامت کے بعد بھی۔ راوی کہتے ہیں : انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوا پھر آپ بیدار ہوئے اور نماز پڑھی۔
(۴۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ فِی مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ ، فَجَعَلُوا یَنْتَظِرُونَہُ فَجَائَ فَقَالَ : إِنِّی کُنْتُ أَوْتِرُ۔وَقَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ ہَلْ بَعْدَ الأَذَانِ وِتْرٌ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَبَعْدَ الإِقَامَۃِ۔قَالَ وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ : أَنَّہُ نَامَ عَنِ الصَّلاَۃِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: