আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৫৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٥٩٦) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
(۴۵۹۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔[صحیح۔ مسلم ۷۵۹-۷۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٥٩٧) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
(۴۵۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقَیْہُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٥٩٨) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جس نے رمضان کا قیام کیا ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔

(ب) ابو سلمہ سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور فرمایا : جس نے لیلۃ القدر کا قیام کیا۔
(۴۵۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبْعِیُّ وَأَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُزَاحِمٍ الصَّفَّارُ الأَدِیبُ لَفْظًا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ

أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ یَقُولُ لِرَمَضَانَ : ((مَنْ قَامَہُ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو الْحَسَنِ السَّبْعِیُّ وَأَبُو سَعِیدٍ الأَدِیبُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ وَحُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ مِثْلَہُ سَوَائٌ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ فَقَالَ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ۔وَقَالَ : مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٥٩٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کے قیام کی ترغیب دیتے تھے، لیکن حکم نہیں فرماتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو معاملہ اسی طرح تھا۔
(۴۵۹۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ کَانَ یُرَغِّبُ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَأْمُرَہُمْ فِیہِ بِعَزِیمَۃٍ فَیَقُولُ : ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَالأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ۔

زَادَ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ فِی رِوَایَتِہِ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ وَصَدْرٍ مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٦٠٠) ابن شہاب کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو معاملہ ایسے ہی تھا۔ ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کی ابتدا میں بھی معاملہ ایسے ہی تھا۔
(۴۶۰۰) وَرَوَاہُ أَیْضًا مَالِکٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَالأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ وَکَانَ الأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ فِی صَدْرِ خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ ، وَصَدْرٍ مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا

أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٦٠١) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن مسجد تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر اگلی رات دوبارہ نماز پڑھائی۔ لوگ زیادہ جمع ہوگئے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیسری یا چوتھی رات ان کے پاس نہیں آئے، جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تم نے کیا میں نے دیکھا، لیکن میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں تمہارے اوپر فرض نہ کردی جائیں۔ راوی کہتے ہیں : یہ رمضان میں تھا۔
(۴۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ صَلَّی فِی الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَصَلَّی بِصَلاَتِہِ نَاسٌ ، ثُمَّ صَلَّی مِنَ الْقَابِلَۃِ فَکَثُرَ النَّاسُ ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ أَوِ الرَّابِعَۃِ ، فَلَمْ یَخْرُجْ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : ((قَدْ رَأَیْتُ الَّذِی صَنَعْتُمْ ، فَلَمْ یَمْنَعْنِی مِنَ الْخُرُوجِ إِلَیْکُمْ إِلاَّ أَنِّی خَشِیتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ))۔قَالَ : وَذَلِکَ فِی رَمَضَانَ۔لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَائٌ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ أَبِی أُوَیْسٍ قَالَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۷۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٦٠٢) عروہ بن زبیر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں گئے تو بہت سارے لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر نماز پڑھی اور صبح کے وقت لوگوں نے آپس میں اس بارے میں باتیں کیں تو دوسری رات پھر اکثر جمع ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی دوسری رات آئے، نماز پڑھی تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھی۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کے متعلق باتیں کیں۔ تیسری رات تو اژدحام ہوگیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔ چوتھی رات لوگ مسجد میں پورے نہیں آ رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نہیں آئے لوگ آوازیں دینا شروع ہوئے اور کہہ رہے تھے : نماز ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں نکلے، پھر صبح کی نماز کے لیے آئے ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہاری رات کی حالت مجھ سے مخفی نہیں۔ لیکن میں نے ڈر محسوس کیا کہ کبھی تمہارے اوپر فرض نہ کردی جائیں اور تم عاجز آ جاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامِ رمضان کی صرف ترغیب دیتے تھے۔ اس کا حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو معاملہ ایسے ہی رہا، پھر ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت عمر فاروق (رض) کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ ایسے ہی رہا۔
(۴۶۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ خَرَجَ لَیْلَۃً مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ یُصَلِّی فِی الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّی رِجَالٌ یُصَلُّونَ بِصَلاَتِہِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِکَ ، فَاجْتَمَعَ أَکْثَرُ مِنْہُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ اللَّیْلَۃَ الثَّانِیَۃَ ، فَصَلَّی فَصَلَّوْا مَعَہُ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِکَ ، فَکَثُرَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَصَلَّوْا بِصَلاَتِہِ ، فَلَمَّا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الرَّابِعَۃُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَہْلِہِ ، فَلَمْ یَخْرُجْ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْہُمْ یَقُولُونَ الصَّلاَۃُ ، فَلَمْ یَخْرُجْ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ حَتَّی خَرَجَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَۃَ الْفَجْرِ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَتَشَہَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ شَأْنُکُمُ اللَّیْلَۃَ ، وَلَکِنِّی خَشِیتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْہَا))۔وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُرَغِّبُہُمْ فِی قِیَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَأْمُرَہُمْ بِعَزِیمَۃِ أَمْرٍ فِیہِ فَیَقُولُ : ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَالأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ ، ثُمَّ کَانَ الأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ خِلاَفَۃَ أَبِی بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٦٠٣) عبدالرحمن بن عبدالقاری حضرت عمر (رض) کے زمانے میں حکام میں سے تھے اور یہ عبداللہ بن ارقم کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے بیت المال پر کام کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر (رض) ایک رات نکلے، ان کے ساتھ عبدالرحمن بھی تھے۔ وہ مسجد میں گھومے اور مسجد میں لوگ مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی گروہ کے ساتھ مل کر نماز میں مصروف ہے۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : اگر ان کو ایک قاری پر جمع کردیا جائے تو یہ زیادہ افضل ہے اور حضرت عمر (رض) نے اس بات کا ارادہ کرلیا تو ابی بن کعب کو حکم دیا کہ وہ ان کو قیام کروایا کریں۔ پھر ایک دن حضرت عمر (رض) نکلے تو سارے لوگ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے ساتھ عبدالرحمن بن عبدالقاری بھی موجود تھے۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : یہ اچھا طریقہ ہے۔ وہ لوگ جو سو جاتے ہیں وہ افضل ہیں ان قیام کرنے والوں سے (رات کا آخری مراد لے رہے تھے) اور لوگ رات کے ابتدائی حصہ میں قیام کرتے تھے۔
(۴۶۰۳) قَالَ عُرْوَۃُ وَأَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِیُّ ، وَکَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ ، وَکَانَ یَعْمَلُ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَرْقَمِ عَلَی بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِینَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَرَجَ لَیْلَۃً فِی رَمَضَانَ فَخَرَجَ مَعَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَطَافَ فِی الْمَسْجِدِ وَأَہْلُ الْمَسْجِدِ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ ، یُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہِ ، وَیُصَلِّی الرَّجُلُ فَیُصَلِّی بِصَلاَتِہِ الرَّہْطُ۔قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ لأَظُنُّ لَوْ جَمَعْنَاہُمْ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ لَکَانَ أَمْثَلَ۔فَعَزَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی أَنْ یَجْمَعُہُمْ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ۔فَأَمَرَ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یَقُومَ بِہِمْ فِی رَمَضَانَ ، فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ قَارِئٍ لَہُمْ ، وَمَعَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ الْقَارِیُّ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ہَذِہِ ، وَالَّتِی یَنَامُونَ عَنْہَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِی یَقُومُونَ۔یُرِیدُ آخِرَ اللَّیْلِ ، وَکَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ فِی أَوَّلِہِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ دُونَ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ ، وَإِنَّمَا أَخْرَجَ حَدِیثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۱۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٦٠٤) عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتے ہیں : میں رمضان کی رات حضرت عمر (رض) کے ساتھ مسجد میں آیا اور لوگ بکھرے ہوئے تھے۔ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کہیں جماعت تھی۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : میرا خیال ہے کہ میں ان کو ایک قاری پر جمع کر دوں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ پھر انھوں نے اپنے عزم کے مطابق ان کو ابی بن کعب پر جمع کردیا۔ پھر میں ان کے ساتھ ایک دوسری رات نکلا تو سارے لوگ ایک قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : یہ اچھا طریقہ ہے اور وہ لوگ جو سوئے ہوئے ہیں وہ افضل ہیں ان سے جو قیام کر رہے ہیں۔ وہ آخر اللیل کا ارادہ کر رہے تھے اور لوگ رات کے ابتدائی حصہ میں قیام کرتے تھے۔
(۴۶۰۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَیْلَۃً فِی رَمَضَانَ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ یُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہِ وَیُصَلِّی الرَّجُلُ فَیُصَلِّی بِصَلاَتِہِ الرَّہْطُ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ إِنِّی لأَرَی لَوْ جَمَعْتُ ہَؤُلاَئِ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ لَکَانَ أَمْثَلَ۔ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَہُمْ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہُ لَیْلَۃً أُخْرَی ، وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ قَارِئِہِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ہَذِہِ ، وَالَّتِی یَنَامُونَ عَنْہَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِی یَقُومُونَ۔یُرِیدُ آخِرَ اللَّیْلِ وَکَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ أَوَّلَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٦٠٥) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو قیامِ رمضان کے لیے ابی بن کعب پر جمع کردیا اور عورتوں کو سلیمان بن ابی حثمہ پر جمع کردیا۔
(۴۶۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنَبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَمَعَ النَّاسَ عَلَی قِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ ، الرِّجَالَ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، وَالنِّسَائَ عَلَی سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ۔ [حسن۔ ابن عساکر فی تاریخ دمشق ۲۲/۲۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ماہ رمضان کے قیام (تراویح) کا بیان
(٤٦٠٦) عرفجہ ثقفی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) لوگوں کو قیام رمضان کا حکم دیتے تھے اور مردوں کے لیے الگ امام اور عورتوں کے لیے الگ امام کا تقرر کیا۔ عرفجہ کہتے ہیں کہ عورتوں کا امام میں تھا۔
(۴۶۰۶) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ فَنْجُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی بْنِ مَاہَانَ الرَّازِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیِّ حَدَّثَنَا عَرْفَجَۃُ الثَّقَفِیُّ قَالَ : کَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْمُرُ النَّاسَ بِقِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ ، وَیَجْعَلُ لِلرِّجَالِ إِمَامًا ، وَلِلنِّسَائِ إِمَامًا۔قَالَ عَرْفَجَۃُ : فَکُنْتُ أَنَا إِمَامُ النِّسَائِ۔ [ضعیف۔ عبدالرزاق ۷۷۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز تراویح اور تہجد اکیلے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
(٤٦٠٧) زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان میں ایک چٹائی کا حجرہ بنایا۔ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند راتیں نماز پڑھی۔ مرثدی کی روایت میں ہے کہ دو راتیں اور لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تھکاوٹ کو جان لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہاری حالت کو دیکھ لیا، لوگو ! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو؛کیونکہ آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو وہ گھر میں پڑھتا ہے، سوائے فرض نماز کے۔
(۴۶۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ قَادِمٍ الْمَرْوَزِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ اتَّخَذَ حُجْرَۃً قَالَ حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ مِنْ حَصِیرٍ فِی رَمَضَانَ ، فَصَلَّی فِیہَا لَیَالِیَ وَفِی رِوَایَۃِ الْمَرْثَدِیِّ : لَیْلَتَیْنِ فَصَلَّی بِصَلاَتِہِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِہِ ، فَلَمَّا عَلِمَ بِہِمْ جَعَلَ یَقْعُدُ فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ : ((قَدْ عَرَفْتُ الَّذِی رَأَیْتُ مِنْ صَنِیعِکُمْ ، فَصَلُّوا أَیُّہَا النَّاسُ فِی بُیُوتِکُمْ ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَۃِ صَلاَۃُ الْمَرْئِ فِی بَیْتِہِ إِلاَّ الْمَکْتُوبَۃَ))۔ وَفِی رِوَایَۃِ الْمَرْوَزِیِّ وَالْمَرْثَدِیِّ عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِالأَعْلَی بْنِ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔[صحیح۔ بخاری ۷۳۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز تراویح اور تہجد اکیلے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
(٤٦٠٨) مجاہد عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کو کسی شخص نے کہا : میں رمضان میں امام کے پیچھے نماز پڑھ لیا کروں ؟ ابن عمر (رض) نے فرمایا : کیا تو حافظ نہیں ہے ؟ کہنے لگا : جی ہاں ! حافظ ہوں۔ ابن عمر (رض) کہنے لگے : کیا تو گدھے کی طرح خاموش رہے گا تو اپنے گھر میں نماز پڑھ۔
(۴۶۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لَہُ رَجُلٌ: أُصَلِّی خَلْفَ الإِمَامِ فِی رَمَضَانَ؟ قَالَ یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ : أَلَیْسَ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : أَفَتُنْصِتُ کَأَنَّکَ حِمَارٌ ؟ صَلِّ فِی بَیْتِکَ۔ [صحیح۔ عبدالرزاق ۷۷۴۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز تراویح اور تہجد اکیلے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
(٤٦٠٩) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رمضان میں اپنے گھر قیام کیا کرتے تھے۔ جب لوگ نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتے تو وہ پانی کا لوٹا پکڑتے اور مسجد نبوی کی طرف چلے جاتے، پھر وہ مسجد سے نہ نکلتے تھے یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیتے ۔
(۴۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ : مُوسَی بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یَقُومُ فِی بَیْتِہِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ ، فَإِذَا انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَخَذَ إِدَاوَۃً مِنْ مَائٍ ، ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ ثُمَّ لاَ یَخْرُجُ مِنْہُ حَتَّی یُصَلِّیَ فِیہِ الصُّبْحَ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت کا بیان
(٤٦١٠) جبیر بن نفیر ابوذر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اور مہینہ میں کچھ بھی قیام نہیں کیا حتیٰ کہ تیئیسویں رات آگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ رات کے تیسرے حصے تک قیام کیا، پھر چوبیسویں کی رات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام نہیں کیا، پھر پچیسویں رات آدھی رات تک قیام کیا۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر ہم باقی رات نفل پڑھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب انسان امام کے ساتھ قیام کرلیتا ہے تو اس کو باقی رات کا بھی ثواب مل جاتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٢٦ کی رات قیام نہیں کیا اور ٢٧ کو قیام کیا اور اپنے گھر والوں کی طرف چلے گئے اور لوگ جمع ہوگئے ۔ ہم ڈرے کہیں ہماری سحری بھی نہ رہ جائے۔

(ب) وہیب داؤد سے بیان کرتے ہیں کہ چوبیس کی رات باقی میں سے ساتویں اور اس نے کہا : ٢٦ کی رات، باقی میں سے پانچویں اور ٢٨ کی رات باقی میں سے تیسری۔
(۴۶۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ الصَّنْعَانِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی الصَّنْعَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَشِیِّ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ رَمَضَانَ ، فَلَمْ یَقُمْ بِنَا مِنَ الشَّہْرِ شَیْئًا حَتَّی کَانَتْ لَیْلَۃُ ثَلاَثٌ وَعِشْرِینَ قَامَ بِنَا حَتَّی ذَہَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا مِنَ اللَّیْلَۃِ الرَّابِعَۃِ ، وَقَامَ بِنَا فِی اللَّیْلَۃِ الْخَامِسَۃِ حَتَّی ذَہَبَ نَحْوٌ مِنْ نِصْفِ اللَّیْلِ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِیَّۃَ اللَّیْلَۃِ۔ فَقَالَ : ((إِنَّ الإِنْسَانَ إِذَا قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّی یَنْصَرِفَ کُتِبَ لَہُ بَقِیَّۃُ لَیْلَتِہِ))۔ثُمَّ لَمْ یَقُمْ بِنَا السَّادِسَۃَ ، وَقَامَ السَّابِعَۃَ ، وَبَعَثَ إِلَی أَہْلِہِ ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ حَتَّی خَشِینَا أَنْ یَفُوتَنَا الْفَلاَحُ۔

قَالَ قُلْتُ : وَمَا الْفَلاَحُ؟ قَالَ : السُّحُورُ۔

وَرَوَاہُ وُہَیْبٌ عَنْ دَاوُدَ قَالَ : لَیْلَۃُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِینَ ، السَّابِعُ مِمَّا یَبْقَی۔وَقَالَ : لَیْلَۃُ سِتٍّ وَعِشْرِینَ ، الْخَامِسُ مِمَّا یَبْقَی ، وَلَیْلَۃُ ثَمَانِ وَعِشْرِینَ ، الثَّالِثُ مِمَّا یَبْقَی۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ وَیَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ وَغَیْرُہُمَا عَنْ دَاوُدَ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ غَیْرُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ ، وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوُدَ نَحْوَ رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ ، وَکَذَلِکَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الأَنْصَارِیُّ عَنْ دَاوُدَ ، وَرِوَایَۃُ وُہَیْبٌ وَمَنْ تَابَعَہُ أَصَحُّ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز تراویح غیر حافظ کے لیے باجماعت افضل ہے
(٤٦١١) ثعلبہ بن ابی مالک قرضی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کی ایک رات نکلے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو دیکھا ، وہ مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ کہنے والے نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن یاد نہیں ہے اور ابی بن کعب (رض) کے ساتھ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھوں نے اچھا کیا یا فرمایا : انھوں نے درست کام کیا۔
(۴۶۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ وَبَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْہَادِ أَنَّ ثَعْلَبَۃَ بْنَ أَبِی مَالِکٍ الْقُرَظِیَّ حَدَّثَہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِی رَمَضَانَ ، فَرَأَی نَاسًا فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ یُصَلُّونَ فَقَالَ : ((مَا یَصْنَعُ ہَؤُلاَئِ؟))۔قَالَ قَائِلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَؤُلاَئِ نَاسٌ لَیْسَ مَعَہُمْ قُرْآنٌ ، وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یَقْرَأُ وَہُمْ مَعَہُ یُصَلُّونَ بِصَلاَتِہِ۔قَالَ : ((قَدْ أَحْسَنُوا ، أَوْ قَدْ أَصَابُوا))۔وَلَمْ یَکْرَہْ ذَلِکَ لَہُمْ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی بَکْرُ بْنُ مُضَرَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ الْحَجَرِیُّ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔قَالَ ابْنُ وَہْبٍ وَأَحَدُہُمَا یَزِیدُ عَلَی صَاحِبِہِ الْکَلِمَۃَ وَنَحْوَہَا۔

قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ۔

ثَعْلَبَۃُ بْنُ أَبِی مَالِکٍ الْقُرَظِیُّ مِنَ الطَّبَقَۃِ الأُولَی مِنْ تَابِعِی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، وَقَدْ أَخْرَجَہُ ابْنُ مَنْدَہْ فِی الصَّحَابَۃِ، وَقِیلَ لَہُ رُؤْیَۃٌ ، وَقِیلَ سِنُّہُ سِنُّ عَطِیَّۃَ الْقُرَظِیِّ ، أُسِرَا یَوْمَ قُرَیْظَۃَ وَلَمْ یُقْتَلاَ ، وَلَیْسَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز تراویح غیر حافظ کے لیے باجماعت افضل ہے
(٤٦١٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو دیکھا چند لوگ رمضان میں مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن یاد نہیں ہے اور وہ ابی بن کعب کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھوں نے درست کام کیا اور انھوں نے اچھا کیا۔
(۴۶۱۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الْہَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ فَإِذَا أُنَاسٌ فِی رَمَضَانَ یُصَلُّونَ فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : ((مَا ہَؤُلاَئِ؟))۔فَقِیلَ : ہَؤُلاَئُ أُنَاسٌ لَیْسَ مَعَہُمْ قُرْآنٌ ، وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یُصَلِّی وَہُمْ یُصَلُّونَ بِصَلاَتِہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ : ((أَصَابُوا ، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا))۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ہَذَا الْحَدِیثُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔(ج) مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز تراویح غیر حافظ کے لیے باجماعت افضل ہے
(٤٦١٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم کتابت سیکھنے والے بچوں کو بلا لیتیں، تاکہ وہ ہمارے ساتھ رمضان کے مہینے کا قیام کریں، پھر ہم ان کے لیے بھنا ہوا گوشت اور حلوا تیاری کرتیں۔
(۴۶۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْفَضْلِ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عُمَرَ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التُّرْقُفِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِیُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : کُنَّا نَأْخُذُ الصِّبْیَانَ مِنَ الْکُتَّابِ لِیَقُومُوا بِنَا فِی شَہْرِ رَمَضَانَ ، فَنَعْمَلُ لَہُمُ الْقَلِیَّۃَ وَالْخَشْکَنَانْجَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦١٤) ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز رمضان میں کیسی ہوتی تھی ؟ انھوں نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعات پڑھتے ۔ آپ ان کے عمدہ اور لمبی ہونے کا تو کچھ نہ پوچھیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعات پڑھتے اور ان کی عمدگی اور طوالت کا کوئی حساب نہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین رکعات پڑھتے۔ میں کہتی : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میری آنکھیں سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل جاگتا ہے۔
(۴۶۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فِی رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ : مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ وَلاَ فِی غَیْرِ رَمَضَانَ عَلَی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ، ثُمَّ یُصَلِّی ثَلاَثًا قَالَتْ عَائِشَۃُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ : ((یَا عَائِشَۃُ إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی حَدِیثِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ : أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ بخاری ۱۱۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦١٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان میں جماعت کے علاوہ بیس رکعات اور وتر پڑھتے تھے۔
(۴۶۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِی مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو شَیْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّی فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فِی غَیْرِ جَمَاعَۃٍ بِعِشْرِینَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔

تَفَرَّدَ بِہِ أَبُو شَیْبَۃَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَبْسِیُّ الْکُوفِیُّ۔(ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: