আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪৬১৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦١٦) سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات کا قیام کروایا کریں اور قاری دو سو آیات کی تلاوت کرتا تو ہم لمبے قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر سہارا لیتے اور ہم فجر طلوع ہونے پر واپس پلٹتے۔
(۴۶۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ ابْنِ أُخْتِ السَّائِبِ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ أَنَّہُ قَالَ : أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَتَمِیمًا الدَّارِیَّ أَنْ یَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، وَکَانَ الْقَارِئُ یَقْرَأُ بِالْمِئِینَ ، حَتَّی کَنَّا نَعْتَمِدُ عَلَی الْعِصِیِّ مِنْ طُولِ الْقِیَامِ ، وَمَا کَنَّا نَنْصَرِفُ إِلاَّ فِی فُرُوعِ الْفَجْرِ۔ ہَکَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ۔ [صحیح۔ مالک ۲۵۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦١٧) سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم رمضان میں حضرت عمر (رض) کے دور میں بیس رکعات کا قیام کرتے تھے اور وہ دو سو آیات کی تلاوت کرتے تھے، لوگ لمبے قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر سہارا لیتے تھے۔
(۴۶۱۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ بِالدَّامِغَانِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : کَانُوا یَقُومُونَ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِینَ رَکْعَۃً قَالَ وَکَانُوا یَقْرَئُ ونَ بِالْمِئِینِ ، وَکَانُوا یَتَوَکَّئُونَ عَلَی عُصِیِّہِمْ فِی عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ شِدَّۃِ الْقِیَامِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦١٨) یزید بن رومان کہتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر (رض) کے دور میں قیامِ رمضان ٢٣ رکعات کیا کرتے تھے۔
دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ گیارہ رکعات قیام کیا کرتے تھے، پھر انھوں نے بیس رکعات قیام شروع کردیا اور آخر میں تین وتر پڑھتے تھے۔
دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ گیارہ رکعات قیام کیا کرتے تھے، پھر انھوں نے بیس رکعات قیام شروع کردیا اور آخر میں تین وتر پڑھتے تھے۔
(۴۶۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رُومَانَ قَالَ : کَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی رَمَضَانَ بِثَلاَثٍ وَعِشْرِینَ رَکْعَۃً۔
وَیُمْکِنُ الْجَمْعُ بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ ، فَإِنَّہُمْ کَانُوا یَقُومُونَ بِإِحْدَی عَشْرَۃَ ، ثُمَّ کَانُوا یَقُومُونَ بِعِشْرِینَ وَیُوتِرُونَ بِثَلاَثٍ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مالک ۲۵۴]
وَیُمْکِنُ الْجَمْعُ بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ ، فَإِنَّہُمْ کَانُوا یَقُومُونَ بِإِحْدَی عَشْرَۃَ ، ثُمَّ کَانُوا یَقُومُونَ بِعِشْرِینَ وَیُوتِرُونَ بِثَلاَثٍ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مالک ۲۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦١٩) ابو الحصیب فرماتے ہیں کہ سوید بن غفلہ رمضان میں ہماری امامت کرواتے تھے اور پانچ مرتبہ میں بیس رکعات پڑھاتے تھے، (یعنی اکٹھی چار چار رکعات) ۔
(ب) شیتر بن شکل حضرت علی (رض) کے ساتھیوں میں سے ہیں، وہ رمضان میں ان کی امامت کرواتے تو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے۔
(ب) شیتر بن شکل حضرت علی (رض) کے ساتھیوں میں سے ہیں، وہ رمضان میں ان کی امامت کرواتے تو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے۔
(۴۶۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَصِیبِ قَالَ : کَانَ یَؤُمُّنَا سُوَیْدُ بْنُ غَفَلَۃَ فِی رَمَضَانَ فَیُصَلِّی خَمْسَ تَرْوِیحَاتٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً۔
وَرُوِّینَا عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَؤُمُّہُمْ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِینَ رَکْعَۃً ، وَیُوتِرُ بِثَلاَثٍ۔ وَفِی ذَلِکَ قُوَّۃٌ لِمَا۔ [صحیح]
وَرُوِّینَا عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکَلٍ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَؤُمُّہُمْ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِینَ رَکْعَۃً ، وَیُوتِرُ بِثَلاَثٍ۔ وَفِی ذَلِکَ قُوَّۃٌ لِمَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦٢٠) ابی عبدالرحمن سلمی، حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رمضان میں قراء کو بلاتے اور ان میں سے کسی ایک کو حکم دیتے، وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھاتا اور حضرت علی (رض) وتر ان کے ساتھ پڑھتے تھے۔
(۴۶۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِیسَی بْنِ عَبْدَکٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ : عَمْرُو بْنُ تَمِیمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : دَعَا الْقُرَّائَ فِی رَمَضَانَ ، فَأَمَرَ مِنْہُمْ رَجُلاً یُصَلِّی بِالنَّاسِ عِشْرِینَ رَکْعَۃً۔قَالَ : وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُوتِرُ بِہِمْ۔وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِیٍّ۔ وَأَمَّا التَّرَاوِیحُ فَفِیمَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦٢١) ابو الحسناء کہتے ہیں : حضرت علی (رض) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ پانچ وقفوں میں لوگوں کو بیس رکعات پڑھا دے۔
(۴۶۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مَرْوَانَ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِی سَعْدٍ الْبَقَّالِ عَنْ أَبِی الْحَسْنَائِ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَ رَجُلاً أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ خَمْسَ تَرْوِیحَاتٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً۔وَفِی ہَذَا الإِسْنَادِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦٢٢) زید بن وھب فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) رمضان میں ہمیں راحت کے لیے وقت دیتے، یعنی دو رکعت تراویح کے درمیان اتنا وقفہ دیتے کہ کوئی مسجد سے نکل کر سَلْع پہاڑی تک چلا جائے۔ شاید ان کی مراد وہ ہو جو عمر بن خطاب (رض) کے حکم سے تراویح پڑھتا ہے۔
(۴۶۲۲) وَأَخْبَرَنَا ابْنُ فَنْجُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ الْبُزُورِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ سُحَیْمٍ الْکَاہِلِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُرَوِّحُنَا فِی رَمَضَانَ ، یَعْنِی بَیْنَ التَّرْوِیحَتَیْنِ قَدْرَ مَا یَذْہَبُ الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَی سَلْعٍ۔کَذَا قَالَ۔
(ق) وَلَعَلَّہُ أَرَادَ مَنْ یُصَلِّی بِہِمُ التَّرَاوِیحَ بِأَمْرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(ق) وَلَعَلَّہُ أَرَادَ مَنْ یُصَلِّی بِہِمُ التَّرَاوِیحَ بِأَمْرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تراویح کی رکعات کی تعداد کا بیان
(٤٦٢٣) عطا حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو چار رکعات پڑھا کرتے تھے، پھر آرام کرتے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکعت اتنی لمبی کردیتے کہ مجھے آپ پر رحم آجاتا، میں کہتی : میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان ہوں، اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلے اور بعد والے تمام گناہ معاف کردیے ہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں۔
(۴۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِطَوْسٍ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا الْمُعَافَی بْنُ عِمْرَانَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ زِیَادٍ الْمَوْصِلِیُّ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِی اللَّیْلِ ، ثُمَّ یَتَرَوَّحُ ، فَأَطَالَ حَتَّی رَحِمْتُہُ فَقُلْتُ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ۔قَالَ : ((أَفَلاَ أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا؟))۔
تَفَرَّدَ بِہِ الْمُغِیرَۃُ بْنُ زِیَادٍ۔(ج) وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔(ق) وَقَوْلُہُ : ثُمَّ یَتَرَوَّحُ۔إِنْ ثَبَتَ فَہُوَ أَصْلٌ فِی تَرَوُّحِ الإِمَامِ فِی صَلاَۃِ التَّرَاوِیحِ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
تَفَرَّدَ بِہِ الْمُغِیرَۃُ بْنُ زِیَادٍ۔(ج) وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔(ق) وَقَوْلُہُ : ثُمَّ یَتَرَوَّحُ۔إِنْ ثَبَتَ فَہُوَ أَصْلٌ فِی تَرَوُّحِ الإِمَامِ فِی صَلاَۃِ التَّرَاوِیحِ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام رمضان میں قرأت کی مقدار کا بیان
(٤٦٢٤) ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے تین قراء کو بلوایا اور ان کی قرأت سنی، ان میں سے جلدی قرأت کرنے والے سے فرمایا کہ وہ تیس آیات کی تلاوت سے لوگوں کو قیام کروائے اور درمیانی قرات کرنے والے سے کہا کہ وہ پچیس آیات کی تلاوت کرے اور سب سے آہستہ پڑھنے والے سے کہا کہ وہ بیس آیات کی تلاوت کرے۔
(۴۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجُوَیْہِ الدِّینَوَرِیُّ بِالدَّامِغَانِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرَوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ : دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِثَلاَثَۃِ قُرَّائٍ فَاسْتَقْرَأَہُمْ ، فَأَمَرَ أَسْرَعَہُمْ قِرَائَ ۃً أَنْ یَقْرَأَ لِلنَّاسِ ثَلاَثِینَ آیَۃً ، وَأَمَرَ أَوْسَطَہُمْ أَنْ یَقْرَأَ خَمْسًا وَعِشْرِینَ آیَۃً، وَأَمَرَ أَبْطَأَہُمْ أَنْ یَقْرَأَ عِشْرِینَ آیَۃً۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَاصِمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ النمیری فی اخبار المدینہ ۱۱۸۴]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَاصِمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ النمیری فی اخبار المدینہ ۱۱۸۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام رمضان میں قرأت کی مقدار کا بیان
(٤٦٢٥) داؤد بن حصین نے عبدالرحمن بن ھرمز سے نقل کیا کہ لوگ صرف رمضان میں کافروں پر لعنت کرتے تھے، قاری آٹھ رکعات میں سورة بقرہ پڑھا کرتا تھا اور جب قاری بارہ رکعات میں سو رہ بقرہ مکمل کرتے تو لوگ اس قیام کو ہلکا محسوس کرتے تھے۔
(۴۶۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ ہُرْمُزَ الأَعْرَجَ یَقُولُ : مَا أَدْرَکْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَہُمْ یَلْعَنُونَ الْکَفَرَۃَ فِی رَمَضَانَ۔قَالَ : فَکَانَ الْقَارِئُ یَقُومُ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی ثَمَانِ رَکَعَاتٍ ، وَإِذَا قَامَ بِہَا فِی اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً رَأَی النَّاسُ أَنَّہُ قَدْ خَفَّفَ۔ [صحیح۔ مالک ۲۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام رمضان میں قرأت کی مقدار کا بیان
(٤٦٢٦) عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ ہم قیام رمضان سے واپس پلٹتے تو طلوع فجر کے خوف سے خادم سے جلدی کھانا طلب کیا کرتے تھے۔
(۴۶۲۶) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ أَنَّہُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : کُنَّا نَنْصَرِفُ مِنَ الْقِیَامِ فِی رَمَضَانَ ، فَنَسْتَعْجِلُ الْخَادِمُ بِالطَّعَامِ مَخَافَۃَ الْفَجْرِ۔ [صحیح۔ مالک ۲۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
(٤٦٢٧) حسن بن علی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چند کلمات سکھائے، میں ان کو وتر میں پڑھتا ہوں، ابن حواس کہتے ہیں : قنوتِ وتر میں، ترجمہ : اے اللہ ! تو مجھے ہدایت والوں میں ہدایت عطا فرما اور مجھے صحت مند لوگوں میں صحت عطا فرما اور مجھے ان لوگوں میں داخل فرما جن کا تو والی ہے اور جو کچھ مجھے دیا ہے اس میں برکت فرما اور اپنی قضا کی شر مجھے بچا۔ تو فیصلہ فرماتا ہے، تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ جس کا تو والی ہے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا۔ اے میرے رب ! تو بابرکت اور بلند ہے۔
(۴۶۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسِ الْحَنَفِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی الْحَوْرَائِ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : عَلَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ کَلِمَاتٍ أَقُولُہُنَّ فِی الْوِتْرِ ، قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ : فِی قُنُوتِ الْوِتْرِ : ((اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِی فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ ، وَإِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مِنْ وَالَیْتَ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ))۔ [ضعیف۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
(٤٦٢٨) حسن بن علی کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا : اے اللہ ! مجھے ہدایت والوں میں سے کر دے جن کو تو نے ہدایت دی ہے، پھر انھوں نے مکمل حدیث کو ذکر کی اور آخر میں ہے کہ تو ان کلمات کو قنوتِ وتر میں پڑھ۔
(۴۶۲۸) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا عَمْرٌو یَعْنِی ابْنَ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی الْحَوْرَائِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ : قَالَ عَلَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ۔فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِی آخِرِہِ : تَقُولُہَا فِی الْقُنُوتِ فِی الْوِتْرِ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٢٩) ابن سیرین اپنے بعض ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ ابی بن کعب (رض) رمضان میں ان کی امامت کروائی اور وہ رمضان کے آخری پندرہ دنوں میں قنوت پڑھتے تھے۔
(۴۶۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ ہُوَ ابْنُ سِیرِینَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ : أَنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ أَمَّہُمْ یَعْنِی فِی رَمَضَانَ وَکَانَ یَقْنُتُ فِی النِّصْفِ الآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو ابی بن کعب پر جمع کردیا، وہ بیس راتیں تراویح پڑھاتے، صرف آخری دس دن میں قنوت پڑھتے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو ابی بن کعب اپنے گھر میں نماز پڑھتے۔ لوگ کہتے : ابی بھاگ گئے ۔
(۴۶۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَمَعَ النَّاسَ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، فَکَانَ یُصَلِّی بِہِمْ عِشْرِینَ لَیْلَۃً ، وَلاَ یَقْنُتُ بِہِمْ إِلاَّ فِی النِّصْفِ الْبَاقِی ، فَإِذَا کَانَتِ الْعَشْرُ الأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّی فِی بَیْتِہِ ، فَکَانُوا یَقُولُونَ : أَبِقَ أُبَیٌّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣١) حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) رمضان کے آخری پندرہ دن قنوت پڑھتے تھے۔
(۴۶۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ یَقْنُتُ فِی النِّصْفِ الأَخِیرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے حضرت عثمان بن عفان کے دور میں بیس راتیں ہماری امامت کروائی، پھر رک گئے۔ بعض نے کہا : انھوں نے اپنے لیے فراغت حاصل کرلی۔ پھر ان کی امامت ابو حلمہ معاذ نے کروائی تو وہ قنوت پڑھتے تھے۔
(۴۶۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : أَمَّنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فِی زَمَنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عِشْرِینَ لَیْلَۃً ثُمَّ احْتَبَسَ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : قَدْ تَفَرَّغَ لِنَفْسِہِ۔ثُمَّ أَمَّہُمْ أَبُو حَلِیمَۃَ : مُعَاذٌ الْقَارِئُ ، فَکَانَ یَقْنُتُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣٣) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) قنوت وتر نصف رمضان کے بعد پڑھتے تھے۔
(۴۶۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی تَوْبَۃَ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ الآمُلِیُّ النَّجَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ لاَ یَقْنُتُ فِی الْوِتْرِ إِلاَّ فِی النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣٤) سلام بن مسکین کہتے ہیں کہ ابن سیرین وتر میں قنوت ناپسند کرتے تھے، لیکن نصف رمضان کے بعد جائز فرماتے تھے۔
(۴۶۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْمَاسَرْجِسِیُّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ یَعْنِی ابْنَ فَرُّوخٍ الأُبُلِّیَّ حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ یَعْنِی ابْنَ مِسْکِینٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ سِیرِینَ یَکْرَہُ الْقُنُوتَ فِی الْوِتْرِ إِلاَّ فِی النِّصْفِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣٥) قتادہ کہتے ہیں کہ قنوتِ وتر آخری نصف رمضان میں ہے۔
(۴۶۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ : الْقُنُوتُ فِی النِّصْفِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ [ضعیف]
তাহকীক: