আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪৬৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣٦) عباس بن ولید بن مزید اپنے باپ سے نقل فرماتے ہیں کہ اوزاعی سے رمضان کے مہینہ میں قنوت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا : جماعت والی مساجد میں شروع مہینہ سے آخر تک قنوت پڑھی جاتی، لیکن مدینہ والے آخری نصف میں قنوت پڑھتے تھے۔
(۴۶۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ : سُئِلَ الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الْقُنُوتِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : أَمَّا مَسَاجِدُ الْجَمَاعَۃِ فَیَقْنُتُونَ مِنْ أَوَّلِ الشَّہْرِ إِلَی آخِرِہِ ، وَأَمَّا أَہْلُ الْمَدِینَۃِ فَإِنَّہُمْ یَقْنُتُونَ فِی النِّصْفِ الْبَاقِی إِلَی انْسِلاِخِہِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ لاَ یَصِحُّ إِسْنَادُہُ۔ [صحیح]
وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ لاَ یَصِحُّ إِسْنَادُہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے کہا کہ قنوت وتر صرف آخری نصف رمضان میں ہے
(٤٦٣٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نصف رمضان کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔
(۴۶۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاتِکَۃَ عَنْ أَنَسٍ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَقْنُتُ فِی النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ إِلَی آخِرِہِ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : أَبُو عَاتِکَۃَ : طَرِیفُ بْنُ سَلْمَانَ وَیُقَالَ ابْنُ سُلَیْمَانَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔
سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ یَذْکُرُہُ عَنِ الْبُخَارِیِّ۔ [ضعیف]
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : أَبُو عَاتِکَۃَ : طَرِیفُ بْنُ سَلْمَانَ وَیُقَالَ ابْنُ سُلَیْمَانَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔
سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ یَذْکُرُہُ عَنِ الْبُخَارِیِّ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے قیام کا بیان
(٤٦٣٨) سعد بن ہشام کہتے ہیں : میں ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور وتر کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : کیا میں تجھے بتاؤں کہ تمام لوگوں سے بڑھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے متعلق کون جانتا ہے ! راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : کون ؟ فرمایا : عائشہ، ان کے پاس جاؤ اور سوال کرو، جو جواب دیں مجھے بھی بتانا۔ میں عائشہ (رض) کی طرف چلا اور راستہ سے حکیم بن افلح کو ساتھ لے لیا۔ ہم عائشہ (رض) کے پاس آئے اجازت لے کر داخل ہوئے تو حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا : یہ کون ؟ میں نے کہا : حکیم بن افلح۔ پھر عائشہ (رض) نے پوچھا : آپ کے ساتھ کون ؟ میں نے کہا : سعد بن ہشام، کہنے لگی : ہشام کون ؟ میں نے کہا : ابن عامر۔ حضرت عائشہ (رض) فرمانے لگیں : عامر اچھا آدمی تھا ، احد کے دن زخمی کیا گیا۔ میں نے کہا : ام المؤمنین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کے بارے میں مجھے خبر دیں، فرمانے لگیں : کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اخلاق قرآن ہی تو تھا۔
سعد بن ہشام کہتے ہیں : میں اٹھنے کا ارادہ کرتا تو وہ پھر میرے لیے نئے سرے سے شروع کر دیتیں۔ میں نے کہا : اے مومنوں کی ماں ! مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں : کیا تو نے پڑھا نہیں :{ یایھا المزمل } اے کپڑا اوڑھنے والے ! میں نے کہا : کیوں نہیں۔ فرمایا : اس سورة کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا۔ پھر اس سورة کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی۔ قیام اللیل نفل ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو آپ نے میرے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کی بات شروع کردی۔ میں نے کہا : اے مومنوں کی ماں ! مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے۔ اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھتے۔ پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے۔ یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے ! جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساتویں رکعت وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر میں ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے : وہ سچ فرماتی ہیں اور سعد کا یہ پہلا کام تھا۔ ابن بشر کہتے ہیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہ اپنے گھر کا سامان بیچ کر ہتھیار خریدیں۔ پھر انھوں نے مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کیا، ان کو اپنی قوم کا ایک قافلہ ملا جس میں چھ آدمی تھے۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس زندگی کا ارادہ کیا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منع کردیا۔
سعد بن ہشام کہتے ہیں : میں اٹھنے کا ارادہ کرتا تو وہ پھر میرے لیے نئے سرے سے شروع کر دیتیں۔ میں نے کہا : اے مومنوں کی ماں ! مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کے بارے میں خبر دیں۔ فرمانے لگیں : کیا تو نے پڑھا نہیں :{ یایھا المزمل } اے کپڑا اوڑھنے والے ! میں نے کہا : کیوں نہیں۔ فرمایا : اس سورة کی ابتدا میں اللہ نے رات کا قیام فرض قرار دیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اتنا قیام کرتے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اللہ نے اس حکم کو آسمانوں میں بارہ مہینے روکے رکھا۔ پھر اس سورة کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی۔ قیام اللیل نفل ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو آپ نے میرے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کی بات شروع کردی۔ میں نے کہا : اے مومنوں کی ماں ! مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرمانے لگیں : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کا جتنا حصہ بیدار کرنا چاہتے کردیتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسواک اور وضو کرتے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو رکعات پڑھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے۔ اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھتے۔ پھر کھڑے ہوجاتے اور سلام نہیں پھیرتے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نویں رکعت پڑھتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور بیٹھ جاتے، پھر اللہ کی حمد بیان کرتے اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے تھے۔ یہ گیارہ رکعات ہیں۔ اے بیٹے ! جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر بڑھ گئی اور بدن بھاری ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساتویں رکعت وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات پڑھیں۔ اے بیٹے ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی نماز پڑھتے اور پسند فرماتے تھے کہ اس پر ہمیشگی کی جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیام اللیل اگر کسی وجہ سے رہ جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ہو، پوری رات کا قیام کیا ہو، رمضان کے علاوہ کسی مہینہ کے کامل روزے رکھے ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر میں ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور ان کو خبر دی تو وہ کہنے لگے : وہ سچ فرماتی ہیں اور سعد کا یہ پہلا کام تھا۔ ابن بشر کہتے ہیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ وہ اپنے گھر کا سامان بیچ کر ہتھیار خریدیں۔ پھر انھوں نے مرتے دم تک رومیوں سے جہاد کیا، ان کو اپنی قوم کا ایک قافلہ ملا جس میں چھ آدمی تھے۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس زندگی کا ارادہ کیا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منع کردیا۔
(۴۶۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ زُرَارَۃُ بْنُ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ : أَلاَ أَدُلُّکَ عَلَی أَعْلَمِ أَہْلِ الأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ؟ قَالَ قُلْتُ : مَنْ؟ قَالَ : عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأْتِہَا ، فَسَلْہَا ثُمَّ أَعْلِمْنِی مَا تَرُدُّ عَلَیْکَ۔قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَیْہَا فَأَتَیْتُ عَلَی حَکِیمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَصْحَبْتُہُ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی عَائِشَۃَ فَاسْتَأْذَنَّا فَدَخَلْنَا فَقَالَتْ : مَنْ ہَذَا؟ قَالَ : حَکِیمُ بْنُ أَفْلَحَ۔فَقَالَتْ : مَنْ ہَذَا مَعَکَ؟ قُلْتُ : سَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ۔قَالَتْ : وَمَنْ ہِشَامٌ؟ قُلْتُ : ابْنُ عَامِرٍ۔قَالَتْ : نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ ، أُصِیبَ یَوْمَ أُحُدٍ۔قُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَنْبِئِینِی عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ۔فَقَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ قُلْتُ : بَلَی۔قَالَتْ : فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ کَانَ الْقُرْآنَ۔قَالَ : فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِی فَقُلْتُ : أَنْبِئِینِی عَنْ قِیَامِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ؟ قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } قَالَ قُلْتُ : بَلَی۔قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی افْتَرَضَ الْقِیَامَ فِی أَوَّلِ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَأَصْحَابُہُ حَوْلاً حَتَّی انْتَفَخَتْ أَقْدَامُہُمْ ، وَأَمْسَکَ اللَّہُ خَاتِمَتَہَا اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا فِی السَّمَائِ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ التَّخْفِیفَ فِی آخِرِ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، وَصَارَ قِیَامُ اللَّیْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِیضَۃٍ۔قَالَ : فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِی وِتْرُ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَقُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَنْبِئِینِی عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ۔فَقَالَتْ : کُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّہِ ﷺ سِوَاکَہُ وَطَہُورَہُ ، فَیَبْعَثُہُ اللَّہُ مَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَہُ مِنَ اللَّیْلِ یَتَسَوَّکُ وَیَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ یُصَلِّی تِسْعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَجْلِسُ فِیہِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَۃِ ، فَیَدْعُو رَبَّہُ وَیُصَلِّی عَلَی نَبِیِّہِ ، ثُمَّ یَنْہَضُ وَلاَ یُسَلِّمُ ، ثُمَّ یُصَلِّی التَّاسِعَۃَ فَیَقْعُدُ ، ثُمَّ یَحْمَدُ رَبَّہُ وَیُصَلِّی عَلَی نَبِیِّہِ ، وَیَدْعُو ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیمَۃً یُسْمِعُنَا ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ وَہُوَ قَاعِدٌ ، فَتِلْکَ إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یَا بُنَیَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، وَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ یَا بُنَیَّ ، وَکَانَ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ إِذَا صَلَّی صَلاَۃً أَحَبَّ أَنْ یُدَاوِمَ عَلَیْہَا ، وَکَانَ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ إِذَا غَلَبَہُ قِیَامُ اللَّیْلِ صَلَّی مِنَ النَّہَارِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، وَلاَ أَعْلَمُ نَبِیَّ اللَّہِ ﷺ قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ فِی لَیْلَۃٍ ، وَلاَ قَامَ لَیْلَۃً حَتَّی الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَہْرًا قَطُّ کَامِلاً غَیْرَ رَمَضَانَ۔فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِحَدِیثِہَا فَقَالَ : صَدَقَتْ۔وَکَانَ أَوَّلُ أَمْرِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ بِشْرٍ : یَعْنِی أَوَّلَ أَمْرِہِ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ لِیَبِیعَ عَقَارًا لَہُ بِہَا وَیَجْعَلَہُ فِی السِّلاَحِ وَالْکُرَاعِ ، ثُمَّ یُجَاہِدُ الرُّومَ حَتَّی یَمُوتَ ، فَبَلَغَ رَہْطًا مِنْ قَوْمِہِ ، فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ رَہْطًا مِنْہُمْ سِتَّۃً أَرَادُوا ذَلِکَ فِی حَیَاۃِ نَبِیِّ اللَّہِ ﷺ فَنَہَاہُمْ عَنْ ذَلِکَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۴۶]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ زُرَارَۃُ بْنُ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ : أَلاَ أَدُلُّکَ عَلَی أَعْلَمِ أَہْلِ الأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ؟ قَالَ قُلْتُ : مَنْ؟ قَالَ : عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأْتِہَا ، فَسَلْہَا ثُمَّ أَعْلِمْنِی مَا تَرُدُّ عَلَیْکَ۔قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَیْہَا فَأَتَیْتُ عَلَی حَکِیمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَصْحَبْتُہُ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی عَائِشَۃَ فَاسْتَأْذَنَّا فَدَخَلْنَا فَقَالَتْ : مَنْ ہَذَا؟ قَالَ : حَکِیمُ بْنُ أَفْلَحَ۔فَقَالَتْ : مَنْ ہَذَا مَعَکَ؟ قُلْتُ : سَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ۔قَالَتْ : وَمَنْ ہِشَامٌ؟ قُلْتُ : ابْنُ عَامِرٍ۔قَالَتْ : نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ ، أُصِیبَ یَوْمَ أُحُدٍ۔قُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَنْبِئِینِی عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ۔فَقَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ قُلْتُ : بَلَی۔قَالَتْ : فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ کَانَ الْقُرْآنَ۔قَالَ : فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِی فَقُلْتُ : أَنْبِئِینِی عَنْ قِیَامِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ؟ قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ { یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ } قَالَ قُلْتُ : بَلَی۔قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی افْتَرَضَ الْقِیَامَ فِی أَوَّلِ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ وَأَصْحَابُہُ حَوْلاً حَتَّی انْتَفَخَتْ أَقْدَامُہُمْ ، وَأَمْسَکَ اللَّہُ خَاتِمَتَہَا اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا فِی السَّمَائِ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ التَّخْفِیفَ فِی آخِرِ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، وَصَارَ قِیَامُ اللَّیْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِیضَۃٍ۔قَالَ : فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِی وِتْرُ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَقُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَنْبِئِینِی عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ۔فَقَالَتْ : کُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّہِ ﷺ سِوَاکَہُ وَطَہُورَہُ ، فَیَبْعَثُہُ اللَّہُ مَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَہُ مِنَ اللَّیْلِ یَتَسَوَّکُ وَیَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ یُصَلِّی تِسْعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَجْلِسُ فِیہِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَۃِ ، فَیَدْعُو رَبَّہُ وَیُصَلِّی عَلَی نَبِیِّہِ ، ثُمَّ یَنْہَضُ وَلاَ یُسَلِّمُ ، ثُمَّ یُصَلِّی التَّاسِعَۃَ فَیَقْعُدُ ، ثُمَّ یَحْمَدُ رَبَّہُ وَیُصَلِّی عَلَی نَبِیِّہِ ، وَیَدْعُو ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیمَۃً یُسْمِعُنَا ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ وَہُوَ قَاعِدٌ ، فَتِلْکَ إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یَا بُنَیَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، وَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ یَا بُنَیَّ ، وَکَانَ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ إِذَا صَلَّی صَلاَۃً أَحَبَّ أَنْ یُدَاوِمَ عَلَیْہَا ، وَکَانَ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ إِذَا غَلَبَہُ قِیَامُ اللَّیْلِ صَلَّی مِنَ النَّہَارِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، وَلاَ أَعْلَمُ نَبِیَّ اللَّہِ ﷺ قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ فِی لَیْلَۃٍ ، وَلاَ قَامَ لَیْلَۃً حَتَّی الصَّبَاحِ وَلاَ صَامَ شَہْرًا قَطُّ کَامِلاً غَیْرَ رَمَضَانَ۔فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِحَدِیثِہَا فَقَالَ : صَدَقَتْ۔وَکَانَ أَوَّلُ أَمْرِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ بِشْرٍ : یَعْنِی أَوَّلَ أَمْرِہِ أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ لِیَبِیعَ عَقَارًا لَہُ بِہَا وَیَجْعَلَہُ فِی السِّلاَحِ وَالْکُرَاعِ ، ثُمَّ یُجَاہِدُ الرُّومَ حَتَّی یَمُوتَ ، فَبَلَغَ رَہْطًا مِنْ قَوْمِہِ ، فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ رَہْطًا مِنْہُمْ سِتَّۃً أَرَادُوا ذَلِکَ فِی حَیَاۃِ نَبِیِّ اللَّہِ ﷺ فَنَہَاہُمْ عَنْ ذَلِکَ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے قیام کا بیان
(٤٦٣٩) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : سو رہ مزمل { قُمِ اللَّیْلَ إِلاْ قَلِیلاً نِصْفَہُ } ” رات کا قیام کم کریں “ اس کو منسوخ کردیا اس آیت نے { عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوہُ فَتَابَ عَلَیْکُمْ فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ } [المزمل : ٢٠] ” اللہ جانتا ہے کہ تم اس کو ہرگز نہ نبھا سکو گے پس اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا جتنا قرآن تمہارے لیے آسان ہے اتنا ہی پڑھو۔ “ یہ ان کی ابتدائی رات کی نماز تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ مناسب ہے کہ تم شمار کرسکو جو اللہ نے رات کی نماز سے تمہارے اوپر فرض کیا ہے۔ جب انسان سو جاتا ہے وہ نہیں جانتا وہ کب بیدار ہوگا اور اللہ کا فرمان { أَقْوَمُ قِیلاً } [المزمل : ٦] ” اور بات کو بہت درست کردینے والا ہے۔ “ یہ زیادہ لائق ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ سکے اور اللہ کا فرمان {إِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیلاً } [المزمل : ٧] ” یقیناً دن میں آپ کو بہت مصروفیت رہتی ہے۔ “ سے مراد زیادہ فراغت ہے۔
(۴۶۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَیْہِ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ النَّحْوِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِی الْمُزَّمِّلِ {قُمِ اللَّیْلَ إِلاْ قَلِیلاً نِصْفَہُ} نَسَخَتْہَا الآیَۃُ الَّتِی فِیہَا { عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوہُ فَتَابَ عَلَیْکُمْ فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ } [المزمل: ۲۰] وَنَاشِئَۃُ اللَّیْلِ أَوَّلُہُ ، کَانَتْ صَلاَتُہُمْ لأَوَّلِ اللَّیْلِ ، یَقُولُ : ہُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ مِنْ قِیَامِ اللَّیْلِ ، وَذَلِکَ أَنَّ الإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ یَدْرِ مَتَی یَسْتَیْقِظُ ، وَقَوْلُہُ { أَقْوَمُ قِیلاً } [المزمل: ۶] ہُوَ أَجْدَرُ أَنْ یَفْقَہَ فِی الْقُرْآنِ وَقَوْلُہُ {إِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیلاً} [المزمل: ۷] یَقُولُ فَرَاغًا طَوِیلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے قیام کا بیان
(٤٦٤٠) سماک حنفی فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ جب سورة مزمل کا ابتدائی حصہ نازل ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کا قیام ماہ رمضان کی طرح کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ سورة مزمل کا آخری حصہ نازل ہوا۔ سو رہ مزمل کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ کے نزول میں ایک سال کا وقفہ ہے۔
(۴۶۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سِمَاکٍ یَعْنِی الْحَنَفِیَّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : لَمَّا نَزَلَ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ کَانُوا یَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِمْ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ حَتَّی نَزَلَ آخِرُہَا، فَکَانَ بَیْنَ أَوَّلِہَا وَآخِرِہَا قَرِیبٌ مِنْ سَنَۃٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤١) حسین بن علی فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب نے ان کو بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے تو ہمیں بیدار کردیتا ہے، جب میں نے جواب دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ جواب نہیں دیا اور میں نے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ اپنی ران پر مار رہے تھے { وَکَانَ الإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلاً } [الکہف : ٥٤] ۔” انسان بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔ “
(۴۶۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنِ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ أَنَّ حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ طَرَقَہُ وَفَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ لَیْلاً فَقَالَ : أَلاَ تُصَلِّیَانِ؟ ۔فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِیَدِ اللَّہِ ، فَإِذَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَنَا بَعَثَنَا۔فَانْصَرَفَ حِینَ قُلْتُ ذَلِکَ وَلَمْ یَرْجِعْ إِلَیَّ شَیْئًا ثُمَّ سَمِعْتُہُ وَہُوَ مُوَلٍّ یَضْرِبُ فَخِذَہُ وَیَقُولُ : {وَکَانَ الإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلاً} [الکہف:۵۴] ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٢) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو اپنا خواب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیان کرتا۔ فرماتے ہیں : میری بھی تمنا تھی کہ میں خواب دیکھوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیان کروں اور میں کنوارہ نوجوان تھا اور مسجد میں سوتا تھا۔ میں نے دیکھا : دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک نے کہا : اس کو آگ کی طرف لے چلو ، میں نے کہنا شروع کردیا کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جہنم سے ۔ پھر ہمیں دوسرا فرشتہ ملا اس نے مجھے کہا : گھبراؤ نہیں وہ مجھے جہنم کی طرف لے کر چلے اور ہم جہنم کے کنارے پر کھڑے تھے۔ اس کے دو منڈیر تھیں جیسے کنوئیں کی ہوتی ہیں، میں نے ان میں مرد دیکھے جن کو میں جانتا تھا۔ صبح کے وقت میں نے اپنا خواب حضرت حفصہ (رض) کو سنایا تو حفصہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عبداللہ اچھا آدمی ہے۔ اگر وہ رات کا قیام کرے۔ سالم فرماتے ہیں کہ اس کے بعد عبداللہ بن عمر (رض) رات کو بہت کم سوتے تھے۔
(۴۶۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ ﷺ إِذَا رَأَی رُؤْیَا قَصَّہَا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ قَالَ فَتَمَنَّیْتُ أَنْ أَرَی رُؤْیَا فَأَقُصَّہَا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ قَالَ وَکُنْتُ غُلاَمًا شَابًّا أَعْزَبَ ، فَکَنْتُ أَنَامُ فِی الْمَسْجِدِ قَالَ فَرَأَیْتُ کَأَنَّ مَلَکَیْنِ أَتَیَانِی ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِلآخَرِ : انْطَلِقْ بِہِ إِلَی النَّارِ۔قَالَ : فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ النَّارِ۔قَالَ : فَلَقِیَنَا مَلَکٌ آخَرُ فَقَالَ لِی : لَمْ تُرَعْ۔قَالَ : فَانْطَلَقُوا بِی حَتَّی وَقَفْنَا عَلَی النَّارِ ، فَإِذَا ہِی مَطْوِیَّۃٌ ، وَإِذَا لَہَا قَرْنَانِ کَقَرْنَیِ الْبِئْرِ قَالَ وَرَأَیْتُ فِیہَا رِجَالاً أَعْرِفُہُمْ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتَ عَلَی حَفْصَۃَ فَقَصَصْتُہَا عَلَیْہَا ، فَقَصَّتْہَا حَفْصَۃُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّہِ لَوْ کَانَ یَقُومُ مِنَ اللَّیْلِ))۔قَالَ سَالِمٌ : فَکَانَ لاَ یَنَامُ مِنَ اللَّیْلِ إِلاَّ قَلِیلاً۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۴۷۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۴۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٣) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہ لگا دیتا ہے۔ ہر گرہ لگاتے وقت وہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے تو سو جا، جب وہ بیدار ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کی گرہ کھل جاتی ہے۔ اگر وضو کرلے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور انسان صبح خوشی کی حالت میں کرتا ہے۔ اگر وہ یہ کام نہ کرے تو صبح کرتا ہے اور وہ بالکل سست ہوتا ہے۔
(۴۶۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ہُوَ الأَعْرَجُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((یَعْقِدُ الشَّیْطَانُ عَلَی قَافِیَۃِ رَأْسِ أَحَدِکُمْ إِذَا نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ ، کُلُّ عُقْدَۃٍ یَضْرِبُ مَکَانَہَا عَلَیْکَ لَیْلٌ طَوِیلٌ فَارْقُدْ ، فَإِذَا اسْتَیْقَظَ فَإِنْ ذَکَرَ رَبَّہُ انْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ ، فَإِنْ صَلَّی انْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ فَأَصْبَحَ نَشِیطًا طَیِّبَ النَّفْسِ ، وَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ أَصْبَحَ خَبِیثَ النَّفْسِ کَسْلاَنَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۷۷۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۷۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ رحم فرمائے اس شخص پر جو رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس پر پانی کے چھینے مارتا ہے اور اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بیدار کرتی ہے اگر وہ بیدار ہونے سے انکار کر دے تو اس کے چہرہ پر چھینٹے مارتی ہے۔
(۴۶۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((رَحِمَ اللَّہُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّی ، وَأَیْقَظَ امْرَأَتَہُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِی وَجْہِہَا الْمَائَ ، رَحِمَ اللَّہُ امْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ وَأَیْقَظَتْ زَوْجَہَا ، فَإِنْ أَبَی نَضَحَتْ فِی وَجْہِہِ الْمَائَ))۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۱۱۴۸]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((رَحِمَ اللَّہُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّی ، وَأَیْقَظَ امْرَأَتَہُ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِی وَجْہِہَا الْمَائَ ، رَحِمَ اللَّہُ امْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ وَأَیْقَظَتْ زَوْجَہَا ، فَإِنْ أَبَی نَضَحَتْ فِی وَجْہِہِ الْمَائَ))۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۱۱۴۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٥) ابو سعید (رض) اور ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے اور دونوں اکٹھے نماز پڑھیں تو ان دونوں کو کثرت سے ذکر کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
(۴۶۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمِہْرَجَانِیُّ ابْنُ السَّقَّائِ وَأَبُو صَادِقِ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ أَخُو الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ عَنِ الأَغَرِّ أَبِی مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((مَنِ اسْتَیْقَظَ مِنَ اللَّیْلِ ، وَأَیْقَظَ امْرَأَتَہُ فَصَلَّیَا رَکْعَتَیْنِ جَمِیعًا کُتِبَا لَیْلَتَئِذٍ مِنَ الذَّاکِرِینَ اللَّہَ کَثِیرًا وَالذَّاکِرَاتِ))۔ [صحیح۔ ابن حبان ۲۵۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٦) ایضاً
(۴۶۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ فَذَکَرَہُ وَلَمْ یَرْفَعْہُ وَلاَ ذَکَرَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَعَلَہُ فِی کَلاَمِ أَبِی سَعِیدٍ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاہُ ابْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ وَأُرَاہُ ذَکَرَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِیثُ سُفْیَانَ مَوْقُوفٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَاہُ عِیسَی بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنْ سُفْیَانَ مَرْفُوعًا نَحْوَ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاہُ ابْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ وَأُرَاہُ ذَکَرَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِیثُ سُفْیَانَ مَوْقُوفٌ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَاہُ عِیسَی بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِیُّ عَنْ سُفْیَانَ مَرْفُوعًا نَحْوَ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٧) عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں بھی لوگوں کے ساتھ مل کر آیا، تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کروں۔ جب میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا، سب سے پہلی جو بات میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی یہ ہے کہ اے لوگو ! کھانا کھلاؤ، سلام کرو، صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
(۴۶۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ الأَعْرَابِیُّ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ : لَمَّا أَنْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ ، وَانْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَہُ فَقَالُوا : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ قَالَ فَجِئْتُ فِی النَّاسِ لأَنْظُرَ إِلَی وَجْہِہِ ، فَلَمَّا أَنْ رَأَیْتُ وَجْہَہُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْہَہُ لَیْسَ بِوَجْہِ کَذَّابٍ ، فَکَانَ أَوَّلُ شَیْئٍ سَمِعْتُ مِنْہُ أَنْ قَالَ : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، وَأَفْشُوا السَّلاَمَ ، وَصِلُوا الأَرْحَامَ ، وَصَلُّوا بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ ، تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِسَلاَمٍ))۔ [صحیح۔ ترمذی ۲۴۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٨) ابو امامہ باھلی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم قیام اللیل کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی عادت ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ، گناہوں کا کفارہ ہے اور گناہوں سے روکتی ہے۔
(۴۶۴۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ ، فَإِنَّہُ دَأْبُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ ، وَہُوَ قُرْبَۃٌ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ ، وَمَکْفَرَۃٌ لِلسَّیِّئَاتِ ، وَمَنْہَاۃٌ عَنِ الإِثْمِ))۔کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ۔
[حسن۔ ابن خزیمہ ۱۱۳۵]
[حسن۔ ابن خزیمہ ۱۱۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٤٩) بلال بن رباح سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم رات کے قیام کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی عادت ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ، غلطیوں کا کفارہ ہے، گناہوں سے روکتی ہے اور جسم سے بیماریوں کو دور رکھنے کا سبب ہے۔
(۴۶۴۹) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : خَالِدُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ بِلاَلِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ أَنَّہُ قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ ، فَإِنَّہُ دَأْبُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ ، وَقُرْبَۃٌ إِلَی اللَّہِ ، وَتَکْفِیرٌ لِلسَّیِّئَاتِ ، وَمَنْہَاۃٌ عَنِ الإِثْمِ ، وَمَطْرَدَۃٌ لِلدَّائِ عَنِ الْجَسَدِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الْقَطَّانِ : وَإِنَّ قِیَامَ اللَّیْلِ قُرْبَۃٌ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : خَالِدُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ بِلاَلِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ أَنَّہُ قَالَ : ((عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ ، فَإِنَّہُ دَأْبُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ ، وَقُرْبَۃٌ إِلَی اللَّہِ ، وَتَکْفِیرٌ لِلسَّیِّئَاتِ ، وَمَنْہَاۃٌ عَنِ الإِثْمِ ، وَمَطْرَدَۃٌ لِلدَّائِ عَنِ الْجَسَدِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الْقَطَّانِ : وَإِنَّ قِیَامَ اللَّیْلِ قُرْبَۃٌ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٥٠) بلال بن رباح (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم رات کے قیام کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم پہلے نیک لوگوں کی عادت ہے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ، غلطیوں کا کفارہ ہے، گناہوں سے روکتی ہے اور جسم سے بیماریوں کو دور رکھنے کا سبب ہے۔
(۴۶۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ خُنَیْسٍ عَنْ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ ، فَإِنَّہُ دَأْبُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ ، وَإِنَّ قِیَامَ اللَّیْلِ قُرْبَۃٌ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی ، وَتَکْفِیرٌ لِلسَّیِّئَاتِ ، وَمَنْہَاۃٌ عَنِ الإِثْمِ ، وَمَطْرَدَۃٌ لِلدَّائِ عَنِ الْجَسَدِ))۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ خُنَیْسٍ عَنْ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِیِّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ بِلاَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ ، فَإِنَّہُ دَأْبُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ ، وَإِنَّ قِیَامَ اللَّیْلِ قُرْبَۃٌ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی ، وَتَکْفِیرٌ لِلسَّیِّئَاتِ ، وَمَنْہَاۃٌ عَنِ الإِثْمِ ، وَمَطْرَدَۃٌ لِلدَّائِ عَنِ الْجَسَدِ))۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب
(٤٦٥١) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کی نماز کی فضیلت دن کی نماز پر ایسے ہے جیسے جہری صدقہ کرنے کی فضیلت پوشیدہ صدقہ کرنے پر۔
(۴۶۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زُبَیْدٍ عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : فَضْلُ صَلاَۃِ اللَّیْلِ عَلَی صَلاَۃِ النَّہَارِ کَفَضْلِ صَدَقَۃِ السِّرِّ عَلَی صَدَقَۃِ الْعَلاَنِیَۃِ۔ [صحیح۔ عبدالرزاق ۴۷۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصے کے قیام کی ترغیب
(٤٦٥٢) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے، میں اس کی دعا کو قبول کروں۔ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو عطا کروں۔ کون ہے جو مجھ سے استغفار کرے میں اس کو معاف کر دوں۔
(۴۶۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَغَرِّ وَعَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((یَنْزِلُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ کُلَّ لَیْلَۃٍ إِلَی سَمَائِ الدُّنْیَا حِینَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الآخِرُ فَیَقُولُ : مَنْ یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لَہُ؟ وَمَنْ یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ؟ وَمَنْ یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لَہُ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی
وَفِی رِوَایَۃِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَالْقَعْنَبِیِّ مِنْ مِنْ لَمْ یَذْکُرَا الْوَاوَ وَقَدَّمَا أَبَا سَلَمَۃَ عَلَی أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَغَرِّ ، رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ بخاری ۱۰۹۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ مَالِکٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَغَرِّ وَعَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ قَالَ : ((یَنْزِلُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ کُلَّ لَیْلَۃٍ إِلَی سَمَائِ الدُّنْیَا حِینَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الآخِرُ فَیَقُولُ : مَنْ یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لَہُ؟ وَمَنْ یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ؟ وَمَنْ یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرَ لَہُ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی
وَفِی رِوَایَۃِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَالْقَعْنَبِیِّ مِنْ مِنْ لَمْ یَذْکُرَا الْوَاوَ وَقَدَّمَا أَبَا سَلَمَۃَ عَلَی أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَغَرِّ ، رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ بخاری ۱۰۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصے کے قیام کی ترغیب
(٤٦٥٣) سعید بن مرجانہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نصف رات یا رات کے آخری تہائی میں تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا کو قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو عطا کروں۔ پھر فرماتے ہیں : کون ہے جو قرضہ دے اور اس کے قرضے میں ظلم بھی نہ کیا جائے اور ہڑپ بھی نہ کیا جائے۔
(۴۶۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ ابْنُ مُرْجَانَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((یَنْزِلُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا لِشَطْرِ اللَّیْلِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّیْلِ الآخِرِ ، فَیَقُولُ : مَنْ یَدْعُونِی فَأَسْتَجِیبَ لَہُ؟ أَوْ یَسْأَلُنِی فَأُعْطِیَہُ؟ ثُمَّ یَقُولُ : مَنْ یُقْرِضُ غَیْرَ عَدِیمٍ وَلاَ ظَلُومٍ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ مُحَاضِرٍ۔ [صحیح۔ تقدم]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ مُحَاضِرٍ۔ [صحیح۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصے کے قیام کی ترغیب
(٤٦٥٤) ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ اوزاعی، مالک، سفیان اور لیث بن سعد سے ان احادیث کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا : ان کو ویسے ہی مانا جائے گا بغیر کیفیت کے معلوم کیے۔
(ب) ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری، شعبہ، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، شریک اور ابو عوانہ ان احادیث کو روایت کرتے ہوئے تشبیہ و تمثیل نہیں دیتے تھے اور نہ ہی کیفیت بیان کرتے تھے، جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ کہتے : آثار میں سے ہیں۔
(ب) ابوداؤد طیالسی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری، شعبہ، حماد بن زید، حماد بن سلمہ، شریک اور ابو عوانہ ان احادیث کو روایت کرتے ہوئے تشبیہ و تمثیل نہیں دیتے تھے اور نہ ہی کیفیت بیان کرتے تھے، جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ کہتے : آثار میں سے ہیں۔
(۴۶۵۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَارِجَۃَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ : سُئِلَ الأَوْزَاعِیُّ وَمَالِکٌ وَسُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ الَّتِی جَائَ تْ فِی التَّشْبِیہِ ، فَقَالُوا : أَمِرُّوہَا کَمَا جَائَ تْ بِلاَ کَیْفِیَّۃٍ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِہْرَقَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَہُوَ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ : کَانَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَشَرِیکٌ وَأَبُو عَوَانَۃَ لاَ یَحُدُّونَ وَلاَ یُشَبِّہُونَ وَلاَ یُمَثِّلُونَ یَرْوُونَ الْحَدِیثَ وَلاَ یَقُولُونَ کَیْفَ ، وَإِذَا سُئِلُوا أَجَابُوا بِالأَثَرِ۔
[صحیح۔ ابن عبدالبر فی التمھید ۷/۱۴۹]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِہْرَقَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَہُوَ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ : کَانَ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَشَرِیکٌ وَأَبُو عَوَانَۃَ لاَ یَحُدُّونَ وَلاَ یُشَبِّہُونَ وَلاَ یُمَثِّلُونَ یَرْوُونَ الْحَدِیثَ وَلاَ یَقُولُونَ کَیْفَ ، وَإِذَا سُئِلُوا أَجَابُوا بِالأَثَرِ۔
[صحیح۔ ابن عبدالبر فی التمھید ۷/۱۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصے کے قیام کی ترغیب
(٤٦٥٥) عبداللہ مزنی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر آنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے { وَجَائَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا } [الفجر : ٢٢] ” اترنے اور آنے کی دونوں صفات اللہ تعالیٰ سے حرکت کے اعتبار سے نفی نہیں ہیں اور ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے کے اعتبار سے بھی، بلکہ یہ دونوں صفات اللہ کے لیے بغیر تشبیہ کے ثابت ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو معطلہ اور مشبھہ جو کہتے ہیں ان سے بہت بلند ہے۔
ابو سلیمان خطابی کہتے ہیں کہ اس جیسی احادیث کا انکار اس نے کیا ہے جو ان امور کو مشاہدات پر قیاس کرتا ہے جیسا کہ وہ اوپر سے نیچے کو آتی ہیں اور منتقل ہوتی ہیں اور یہ صفات جسم کی ہوتی ہیں۔ لیکن اس ذات کا نزول جس پر صفات اجسام صادق نہیں آسکتیں۔ ان معانی کے اندر کچھ وہم نہیں ہے، یہ تو اس کی قدرت، بندوں پر نرمی اور شفقت ہے، ان کی دعائیں قبول کرنے اور ان کو معاف کرنے کی خبر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کی صفات کی کیفیت اور افعال کی کیمیت نہیں دیکھی جاتی۔ وہ پاک ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
ابو سلیمان خطابی کہتے ہیں کہ اس جیسی احادیث کا انکار اس نے کیا ہے جو ان امور کو مشاہدات پر قیاس کرتا ہے جیسا کہ وہ اوپر سے نیچے کو آتی ہیں اور منتقل ہوتی ہیں اور یہ صفات جسم کی ہوتی ہیں۔ لیکن اس ذات کا نزول جس پر صفات اجسام صادق نہیں آسکتیں۔ ان معانی کے اندر کچھ وہم نہیں ہے، یہ تو اس کی قدرت، بندوں پر نرمی اور شفقت ہے، ان کی دعائیں قبول کرنے اور ان کو معاف کرنے کی خبر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کی صفات کی کیفیت اور افعال کی کیمیت نہیں دیکھی جاتی۔ وہ پاک ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
(۴۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ : أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیَّ یَقُولُ حَدِیثُ النُّزُولِ قَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ مِنْ وُجُوہٍ صَحِیحَۃٍ ، وَوَرَدَ فِی التَّنْزِیلِ مَا یُصَدِّقُہُ وَہُوَ قَوْلُہُ تَعَالَی {وَجَائَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا} [الفجر: ۲۲] وَالنُّزُولُ والْمَجِیئُ صِفَتَانِ مَنْفِیَّتَانِ عَنِ اللَّہِ تَعَالَی مِنْ طَرِیقِ الْحَرَکَۃِ ، وَالاِنْتِقَالِ مِنْ حَالٍ إِلَی حَالٍ ، بَلْ ہُمَا صِفَتَانِ مِنْ صِفَاتِ اللَّہِ تَعَالَی بِلاَ تَشْبِیہٍ ، جَلَّ اللَّہُ تَعَالَی عَمَّا تَقُولُ الْمُعَطِّلَۃُ لِصِفَاتِہِ وَالْمُشَبِّہَۃُ بِہَا عُلُوًّا کَبِیرًا۔
قُلْتُ : وَکَانَ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ یَقُولُ : إِنَّمَا یُنْکِرُ ہَذَا وَمَا أَشْبَہَہُ مِنَ الْحَدِیثِ مَنْ یَقِیسُ الأُمُورَ فِی ذَلِکَ بِمَا یُشَاہِدُہُ مِنَ النُّزُولِ الَّذِی ہُوَ تَدَلِّی مِنْ أَعْلَی إِلَی أَسْفَلَ ، وَانْتِقَالٌ مِنْ فَوْقٍ إِلَی تَحْتٍ ، وَہَذِہِ صِفَۃُ الأَجْسَامِ وَالأَشْبَاحِ ، فَأَمَّا نُزُولُ مَنْ لاَ تَسْتَوْلِی عَلَیْہِ صِفَاتُ الأَجْسَامِ فَإِنَّ ہَذِہِ الْمَعَانِی غَیْرُ مُتَوَہَّمَۃٍ فِیہِ ، وَإِنَّمَا ہُوَ خَبَرٌ عَنْ قُدْرَتِہِ وَرَأْفَتِہِ بِعِبَادِہِ وَعَطْفِہِ عَلَیْہِمْ ، وَاسْتِجَابَتِہِ دُعَائَ ہُمْ ، وَمَغْفِرَتِہِ لَہُمْ ، یَفْعَلُ مَا یَشَائُ لاَ یَتَوَجَّہُ عَلَی صِفَاتِہِ کَیْفِیَّۃٌ وَلاَ عَلَی أَفْعَالِہِ کَمِّیَّۃٌ ، سُبْحَانَہُ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ وَہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ۔ [صحیح]
قُلْتُ : وَکَانَ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ یَقُولُ : إِنَّمَا یُنْکِرُ ہَذَا وَمَا أَشْبَہَہُ مِنَ الْحَدِیثِ مَنْ یَقِیسُ الأُمُورَ فِی ذَلِکَ بِمَا یُشَاہِدُہُ مِنَ النُّزُولِ الَّذِی ہُوَ تَدَلِّی مِنْ أَعْلَی إِلَی أَسْفَلَ ، وَانْتِقَالٌ مِنْ فَوْقٍ إِلَی تَحْتٍ ، وَہَذِہِ صِفَۃُ الأَجْسَامِ وَالأَشْبَاحِ ، فَأَمَّا نُزُولُ مَنْ لاَ تَسْتَوْلِی عَلَیْہِ صِفَاتُ الأَجْسَامِ فَإِنَّ ہَذِہِ الْمَعَانِی غَیْرُ مُتَوَہَّمَۃٍ فِیہِ ، وَإِنَّمَا ہُوَ خَبَرٌ عَنْ قُدْرَتِہِ وَرَأْفَتِہِ بِعِبَادِہِ وَعَطْفِہِ عَلَیْہِمْ ، وَاسْتِجَابَتِہِ دُعَائَ ہُمْ ، وَمَغْفِرَتِہِ لَہُمْ ، یَفْعَلُ مَا یَشَائُ لاَ یَتَوَجَّہُ عَلَی صِفَاتِہِ کَیْفِیَّۃٌ وَلاَ عَلَی أَفْعَالِہِ کَمِّیَّۃٌ ، سُبْحَانَہُ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ وَہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ۔ [صحیح]
তাহকীক: