আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৬৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٥٦) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے محبوب روزے اللہ کے ہاں داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے اور نمازوں میں سے سب سے زیادہ محبوب نماز اللہ کے ہاں داؤد (علیہ السلام) کی ہے، کیونکہ وہ پہلے نصف رات سوتے، پھر تہائی حصہ قیام کرتے، پھر چھٹا حصہ سویا کرتے تھے۔
(۴۶۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ۔قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِیَّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((أَحَبُّ الصِّیَامِ إِلَی اللَّہِ صِیَامُ دَاوُدَ ، کَانَ یَصُومُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا ، وَأَحَبُّ الصَّلاَۃِ إِلَی اللَّہِ صَلاَۃُ دَاوُدَ، کَانَ یَنَامُ نِصْفَ اللَّیْلِ وَیَقُومُ ثُلُثَہُ وَیَنَامُ سُدُسَہُ))۔لَفْظُ حَدِیثِ الْحُمَیْدِیِّ

وَقَالَ غَیْرُہُ عَنْ عَنْ ، رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَأَبِی خَیْثَمَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٥٧) ابی سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کے آخری حصہ میں سوتے ہوئے پایا ہے۔
(۴۶۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا۔وَقَالَ أَبُو زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : مَا أَلْفَی النَّبِیَّ ﷺ عِنْدِی السَّحَرَ الآخِرَ إِلاَّ نَائِمًا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مِسْعَرٍ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ۔[صحیح بخاری ۱۰۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٥٨) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات میں بیدار کردیتا ہے، پھر سحری کا وقت آنے سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حصہ سے فارغ ہوجاتے تھے۔
(۴۶۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ داَسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ یَزِیدَ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ لَیُوقِظُہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِاللَّیْلِ ، فَمَا یَجِیئُ السَّحَرُ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْ جُزْئِہِ۔ [حسن۔ ابوداؤد ۱۳۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٥٩) مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل کے بارے میں سوال کیا تو فرمانے لگیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمیشگی کے عمل زیادہ محبوب تھے۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کب قیام کے لیے کھڑے ہوتے ؟ فرمایا : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرغ کی آواز کو سنتے۔
(۴۶۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَقَالَتْ : کَانَ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَیْہِ الدَّائِمُ۔قُلْتُ : فَأَیَّ حِینٍ کَانَ یَقُومُ؟ قَالَتْ : کَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ : تَعْنِی الدِّیکَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٦٠) مسروق کہتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشگی والے عمل کو پسند فرماتے تھے۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس وقت نماز پڑھتے تھے ؟ فرمایا : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرغ کی آواز سنتے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔
(۴۶۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ فَقَالَتْ : کَانَ یُحِبُّ الدَّائِمَ۔

فَقُلْتُ لَہَا : فَأَیَّ حِینٍ کَانَ یُصَلِّی؟ قَالَتْ : کَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّی۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ، وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٦١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ نماز جو آدھی رات کو پڑھی جائے۔ پھر اس نے پوچھا : رمضان کے روزوں کے بعد کون سے روزے افضل ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس مہینہ کے جس کو تم محرم کہتے ہو۔
(۴۶۶۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ یَعْنِی ابْنَ عُمَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَیْدٍ الْحِمْیَرِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ أَیُّ الصَّلاَۃِ أَفْضَلُ بَعْدَ صَلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ؟ ((قَالَ : الصَّلاَۃُ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ ۔ قَالَ : فَأَیُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ قَالَ : شَہْرُ اللَّہِ الَّذِی تَدْعُونَہُ الْمُحَرَّمَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ حُسَیْنٍ الْجُعْفِیِّ۔

(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو بِشْرٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۱۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٦٢) جندب بن عبداللہ بجلی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز وہ ہے جو رات کے درمیانی حصہ میں پڑھی جائے اور رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزے اس مہینہ کے ہیں جس کو تم محرم کہتے ہو۔
(۴۶۶۲) وَرَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَجَلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : ((مِنْ أَفْضَلِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَۃِ الصَّلاَۃُ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الصِّیَامِ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ شَہْرُ اللَّہِ الَّذِی تَدْعُونَہُ الْمُحْرَّمَ))۔

أَخْبَرَنَاہُ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٦٣) عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عکاظ میں تھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کون سی دعا زیادہ قرب کا ذریعہ بنتی ہے ؟ یا کون سا وقت ہے جس میں ہم اللہ کا قرب حاصل کرسکیں یا اس کا ذکر کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اپنے بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتے ہیں۔ اگر تو طاقت رکھے تو ان لوگوں میں سے ہوجا جو اللہ کا ذکر اس گھڑی کرتے ہیں۔

(ب) عمرو بن عبسہ ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! رات کے کس حصہ میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کے آخری حصہ میں۔
(۴۶۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمُ بْنُ عَامِرٍ وَضَمْرَۃُ بْنُ حَبِیبٍ وَنُعَیْمُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ وَہُوَ نَازِلٌ بِعُکَاظٍ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ مِنْ دَعْوَۃٍ أقْرَبُ مِنْ أُخْرَی أَوْ سَاعَۃٍ نَبْغِی أَوْ نَبْتَغِی ذِکْرَہَا؟ قَالَ : ((نَعَمْ إِنَّ أقْرَبَ مَا یَکُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفُ اللَّیْلِ الآخِرُ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَکُونَ مِمَّنْ یَذْکُرُ اللَّہَ فِی تِلْکَ السَّاعَۃِ فَکُنْ))۔

ت) وَقَدْ رَوَیْنَا فِیمَا مَضَی عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ : أَیُّ اللَّیْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ : ((جَوْفُ اللَّیْلِ الآخِرُ))۔ [حسن۔ احمد ۴/۳۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں قیام کی ترغیب
(٤٦٦٤) ابو مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے ابوذر (رض) سے کہا : رات کی نماز کس گھڑی میں افضل ہے ؟ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدھی رات لیکن اس کے کرنے والے تھوڑے ہیں۔
(۴۶۶۴) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِیِّ عَنْ أَبِی الْخَالِدِ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَال

حَدَّثَنِی أَبُو مُسْلِمٍ قَالَ قُلْتُ لأَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّ صَلاَۃِ اللَّیْلِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ : ((نِصْفُ اللَّیْلِ ، وَقَلِیلٌ فَاعِلُہُ))۔ [حسن۔ احمد ۵/۱۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کے لیے اٹھتے تو کیا پڑھتے
(٤٦٦٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو کھڑے ہوتے تو تہجد پڑھتے۔

(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو اٹھتے تو تہجد پڑھتے اور فرماتے : اے اللہ ! تمام تعریف تیرے لیے ہے اور آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے، تو ان کا نور ہے۔ تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے تو ان کا بادشاہ ہے اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ تو سچا، تیرا وعدہ سچا، تیری بات سچی اور تیری ملاقات حق ہے اور جنت، جہنم، قیامت، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، انبیاء تمام حق ہیں۔ اے اللہ ! میں تیرا مطیع ہو اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ ہی پر میرا بھروسہ ہے اور تیری طرف میں عاجزی و انکساری کرتا ہوں۔ میرے پہلے اور بعد والے گناہ معاف فرما اور جو میں نے پوشیدہ اور ظاہری گناہ کیے ہیں، سب معاف فرما۔ مقدم اور موخر تو ہی ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے یا فرمایا : صرف تو ہی معبود ہے (الفاظ کا فرق ہے) ۔
(۴۶۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ إِذَا قَامَ یَتَہَجَّدُ مِنَ اللَّیْلِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ الأَحْوَلُ خَالُ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : کَانَ النَّبِیُّ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یَتَہَجَّدُ قَالَ : ((اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورٌ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ ، وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَیِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِکُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُکَ حَقٌّ ، وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَۃُ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ ﷺ حَقٌّ ، وَالنَّبِیُّونَ حَقٌّ ، اللَّہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ ، وَبِکَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ))۔أَوْ قَالَ : ((لاَ إِلَہَ غَیْرُکَ))۔ شَکَّ سُفْیَانُ۔

قَالَ الْحُمَیْدِیُّ قَالَ سُفْیَانُ وَزَادَ عَبْدُ الْکَرِیمِ أَبُو أُمَیَّۃَ : وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ ۔وَلَمْ یَقُلْہَا سُلَیْمَانُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَغَیْرِہِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنَ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۶۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کے لیے اٹھتے تو کیا پڑھتے
(٤٦٦٦) طاؤس کہتے ہیں کہ اس نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو تہجد پڑھتے تو فرماتے : اے اللہ ! تیرے لیے تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے کا انتظام فرماتا ہے اور تو، تیرا وعدہ، تیری بات اور تیری ملاقات حق ہے جنت، جہنم، انبیاء بھی حق ہیں۔ اے اللہ ! میں تیرا مطیع ہوں اور تجھ پر ایمان رکھتا ہوں اور تیرے اوپر میرا بھروسہ ہے اور تیری طرف میں عاجزی کرتا ہوں۔ میرے پہلے اور بعد والے تمام گناہ معاف کر دے اور جو گناہ میں نے پوشیدہ یا ظاہراً کیے ہوں تمام معاف کر دے تو ہی میرا الٰہ ہے تیرے علاوہ میرا کوئی الٰہ نہیں۔
(۴۶۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ صَالِحٍ الصَّفَّارُ فِی الْمُحَرَّمِ سَنَۃَ إِحْدَی وَأَرْبَعِینَ وَثَلاَثِمِائَۃٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ الأَحْوَلُ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ إِذَا تَہَجَّدَ مِنَ اللَّیْلِ قَالَ : ((اللَّہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَیِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِیہِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُکَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُکَ الْحَقُّ ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالنَّبِیُّونَ حَقٌّ ، اللَّہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ ، وَإِلَیْکَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِی مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَہِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کے لیے اٹھتے تو کیا پڑھتے
(٤٦٦٧) عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو بیدار ہوتے تو فرماتے : اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے۔ اسی کے لیے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، برائی سے پھرنے اور نیک کام کرنے کی میرے اندر طاقت نہیں اللہ کی توفیق کے بغیر ۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! مجھے معاف فرما تو اسے معاف کردیا جائے گا یا فرمایا : وہ دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرلوں گا، اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور کھڑا ہوا پھر وضو کیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کرلی جائے گی۔
(۴۶۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّائُ الْعَسْکَرِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ الْقَصْرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی عُمَیْرُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنِی جُنَادَۃُ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ حَدَّثَنِی عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ : ((مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لا شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِی غُفِرَ لَہُ أَوْ قَالَ فَدَعَا اسْتُجِیبَ لَہُ ، فَإِنْ ہُوَ عَزَمَ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی قُبِلَتْ صَلاَتُہُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ الْفَضْلِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ابتدا کس سے کی جائے
(٤٦٦٨) عبدالرحمن بن عوف (رض) فرماتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تو نماز کی ابتدا کس سے کرتے تھے ؟ فرماتی ہیں : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اٹھتے تو نماز کی ابتدا ان الفاظ سے فرماتے : اے اللہ ! جو جبرئیل، میکائیل اور اسرافیل کا رب ہے۔ آسمانوں و زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے ! تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اے اللہ ! حق کی طرف میری رہنمائی فرما، اپنے حکم سے جس میں انھوں نے اختلاف کیا۔ بیشک تو سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا جسے چاہتا ہے۔
(۴۶۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ یُونُسَ أَخْبَرَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِأَیِّ شَیْئٍ کَانَ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ؟ قَالَتْ : کَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یَفْتَتِحُ صَلاَتَہُ : ((اللَّہُمَّ رَبَّ جِبْرِیلَ وَمِیکَائِیلَ وَإِسْرَافِیلَ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یَخْتَلِفُونَ اہْدِنِی لِمَا اخْتَلَفُوا فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ ، إِنَّکَ تَہْدِی مَنْ تَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَجَمَاعَۃٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ابتدا دو ہلکی رکعتوں سے کرنے کا بیان
(٤٦٦٩) سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنی نماز کی ابتدا دو ہلکی رکعتوں سے فرماتے۔
(۴۶۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ لِیُصَلِّیَ افْتَتَحَ صَلاَتَہُ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۶۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ابتدا دو ہلکی رکعتوں سے کرنے کا بیان
(٤٦٧٠) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی رات کو نماز کے لیے اٹھے تو اپنی نماز کی ابتدا دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔
(۴۶۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ فَلْیَفْتَتِحْ صَلاَتَہُ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ۔[صحیح۔ مسلم ۱۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ابتدا دو ہلکی رکعتوں سے کرنے کا بیان
(٤٦٧١) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی تہجد کی ابتدا دو ہلکی رکعتوں سے کیا کرتے تھے۔
(۴۶۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَکِیلُ أَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَفْتَتِحُ صَلاَتَہُ مِنَ اللَّیْلِ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ۔

وَرَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہِشَامٍ مَوْقُوفًا عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِنْہُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَیُّوبُ وَابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ۔ [حسن۔ ابن ابی شیبہ ۶۶۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ابتدا دو ہلکی رکعتوں سے کرنے کا بیان
(٤٦٧٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : پھر اس کے بعد جتنی مرضی لمبی نماز پڑھیں۔
(۴۶۷۲) وَرُوِیَ فِی حَدِیثِ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ثُمَّ لْیُطَوِّلْ بَعْدُ مَا شَائَ ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ رَبَاحٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مِنْ قَوْلِہِ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۲۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تہجد کی رکعتوں کی تعداد اور طریقہ
(٤٦٧٣) ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا تو وہ فرمانے لگیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعات پڑھتے، اس کی لمبائی اور خوبصورتی کے متعلق سوال نہ کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعات پڑتے، ان کی لمبائی اور خوبصورتی کے متعلق بھی سوال نہ کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین رکعات پڑھتے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل جاگتا ہے۔
(۴۶۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ یَعْنِی زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ النَّبِیِّ ﷺ فِی رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ : مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ ، وَلاَ فِی غَیْرِ رَمَضَانَ عَلَی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ، ثُمَّ یُصَلِّی ثَلاَثًا ، قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ : ((یَا عَائِشَۃُ إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ بخاری ۱۰۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تہجد کی رکعتوں کی تعداد اور طریقہ
(٤٦٧٤) ابی سلمہ بن عبدالرحمن عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے بارے میں سوال کیا فرمایا : تو انھوں نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز رمضان اور غیر رمضان میں تیرہ رکعات ہوتی تھیں اور اس میں فجر کی دو رکعات بھی ہیں۔
(۴۶۷۴) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَ : سَأَلْتُہَا عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ ﷺ قَالَتْ : کَانَتْ صَلاَتُہُ بِاللَّیْلِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ وَغَیْرِہِ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، مِنْہَا رَکْعَتَا الْفَجْرِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تہجد کی رکعتوں کی تعداد اور طریقہ
(٤٦٧٥) قاسم بن محمد حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کی نماز تیرہ رکعات پڑھتے تھے، اس میں وتر اور فجر کی دو رکعات بھی ہوتی تھیں۔
(۴۶۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الوَرَّاقُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا حَنْظَلَۃُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، مِنْہَا الْوِتْرُ وَرَکْعَتَا الْفَجْرِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۸۹]
tahqiq

তাহকীক: