আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪৬৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کثیر رکوع و سجود والی نماز کی فضیلت کا بیان
(٤٦٩٦) مخارق فرماتے ہیں : میں ابوذر (رض) کے پاس ربذہ سے گزرا اور حج کا ارادہ رکھتا تھا۔ میں ان کے گھر میں داخل ہوا تو میں نے ان کو پایا کہ وہ خفیف قیام والی نماز پڑھ رہے ہیں جیسے { إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ } { إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّہِ } لیکن رکوع و سجود زیادہ کرتے ہیں، جب انھوں نے نماز پوری کی تو میں نے کہا : میں نے دیکھا کہ آپ قیام تھوڑا اور رکوع و سجود زیادہ کرتے ہیں ؟ وہ کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ یا ایک رکوع کرتا ہے تو اللہ اس کی غلطی مٹا دیتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔
(۴۶۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْمُخَارِقِ قَالَ : مَرَرْتُ بِأَبِی ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ وَأَنَا حَاجٌّ ، فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ مَنْزِلَہُ ، فَوَجَدْتُہُ یُصَلِّی یُخَفِّفُ الْقِیَامَ قَدْرَ مَا یَقْرَأُ { إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ } وَ { إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّہِ } وَیُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قُلْتُ لَہُ : یَا أَبَا ذَرٍّ رَأَیْتُکَ تُخَفِّفُ الْقِیَامَ وَتُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ۔قَالَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَا مِنْ عَبْدٍ یَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً أَوْ یَرْکَعُ لِلَّہِ رَکْعَۃً إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ عَنْہُ بِہَا خَطِیئَۃً وَرَفَعَہُ بِہَا دَرَجَۃً))۔ [صحیح لغیرہ۔ احمد ۵/۱۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کثیر رکوع و سجود والی نماز کی فضیلت کا بیان
(٤٦٩٧) جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے ایک نوجوان کو دیکھا ، وہ نماز پڑھ رہا تھا، اس نے اپنی نماز کو لمبا کردیا (یعنی قیام لمبا کیا) اور رکوع و سجود چھوٹے کیے تو عبداللہ بن عمر (رض) نے پوچھا : کوئی ہے جو اس کو جانتا ہو ؟ ایک شخص نے کہا : میں اس کو جانتا ہوں تو عبداللہ بن عمر (رض) کہنے لگے : اگر میں اس پہچانتا تو میں اس کو حکم دیتا کہ وہ رکوع و سجود کو لمبا کرے۔ کیونکہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہ لا کر اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ جب وہ رکوع و سجود کرتا ہے تو وہ گناہ اس سے گرجاتے ہیں۔
(۴۶۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبِ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ وَہُوَ ابْنُ صَالِحٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَأَی فَتیً وَہُوَ یُصَلِّی ، وَقَدْ أَطَالَ صَلاَتَہُ وَأطْنَبَ فِیہَا ، فَقَالَ : مَنْ یَعْرِفُ ہَذَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا۔فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ کُنْتُ أَعْرِفُہُ لأَمَرْتُہُ أَنْ یُطِیلَ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : (( إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ یُصَلِّی أُتِیَ بِذُنُوبِہِ ، فَجُعِلَتْ عَلَی رَأْسِہِ وَعَاتِقَیْہِ ، فَکُلَّمَا رَکَعَ أَوْ سَجَدَ تَسَاقَطَتْ عَنْہُ ))۔ [صحیح لغیرہ۔ ابن حبان ۱۷۳۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں قرأت بلند آواز سے اور آہستہ پڑھنے کا طریقہ
(٤٦٩٨) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرأت اس قدر بلند آواز سے کرتے کہ جو حجرہ میں ہو وہ سن لے اور آپ کا حجرہ گھر میں تھا۔
(ب) سعید بن منصور ابن ابی زناد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت حجرہ کے باہر تک سنائی دیتی تھی اور حجرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گھر میں ہی تھا۔
(ب) سعید بن منصور ابن ابی زناد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت حجرہ کے باہر تک سنائی دیتی تھی اور حجرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گھر میں ہی تھا۔
(۴۶۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْکَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی قَدْرِ مَا یَسْمَعُہُ مَنْ فِی الْحُجْرَۃِ وَہُوَ فِی الْبَیْتِ۔
وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ أَبِی الزِّنَادِ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ: یَسْمَعُ قِرَائَ تَہُ مَنْ وَرَائِ الْحُجْرَۃِ وَہُوَ فِی الْبَیْتِ۔
[حسن۔ ابوداؤد ۱۳۲۷]
وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ أَبِی الزِّنَادِ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ: یَسْمَعُ قِرَائَ تَہُ مَنْ وَرَائِ الْحُجْرَۃِ وَہُوَ فِی الْبَیْتِ۔
[حسن۔ ابوداؤد ۱۳۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں قرأت بلند آواز سے اور آہستہ پڑھنے کا طریقہ
(٤٦٩٩) کریب فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز کیسی تھی ؟ وہ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی حجرہ میں تلاوت کرتے تو جو باہر ہوتا اس کو سن لیتا تھا۔
(۴۶۹۹) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ سُلَیْمَانَ أَنَّ کُرَیْبًا أَخْبَرَہُ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِاللَّیْلِ؟ فَقَالَ : کَانَ یَقْرَأُ فِی بَعْضِ حُجَرِہِ فَیَسْمَعُ قِرَائَ تَہُ مَنْ کَانَ خَارِجًا۔ [صحیح۔ النسائی فی الکبری ۴۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں قرأت بلند آواز سے اور آہستہ پڑھنے کا طریقہ
(٤٧٠٠) عبداللہ بن رباح ابوقتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر کے پاس سے گزرے، وہ آہستہ آواز سے تلاوت کر رہے تھے اور حضرت عمر (رض) کے پاس سے گزرے تو وہ بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے۔ جب دونوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو ابوبکر (رض) سے فرمایا : اے ابوبکر ! میرا گزر تیرے پاس سے ہوا تو تم نماز کی حالت میں اپنی آواز کو پست کیے ہوئے تھے۔ ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : میں سنوا رہا تھا اس کو جس سے میں سرگوشی کررہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! میں تیرے پاس گزرا تو نے اپنی آواز کو بلند کیا ہوا تھا تو وہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : اپنی آواز کو تھوڑا سا بلند کرو اور حضرت عمر (رض) سے فرمایا : اپنی آواز کو پست کرو۔
(۴۷۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِیمٍ الْقَنْطَرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِینِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- مَرَّ بِأَبِی بَکْرٍ وَہُوَ یُصَلِّی یَخْفِضُ مِنْ صَوْتِہِ ، وَمَرَّ بِعُمَرَ وَہُوَ یُصَلِّی رَافِعًا صَوْتَہُ ، فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ لأَبِی بَکْرٍ : ((یَا أَبَا بَکْرٍ مَرَرْتُ بِکَ وَأَنْتَ تُصَلِّی تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِکَ))۔قَالَ : قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَیْتُ۔فَقَالَ : مَرَرْتُ بِکَ یَا عُمَرُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَکُ ۔قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَحْتَسِبُ بِہِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ۔فَقَالَ لأَبِی بَکْرٍ : ((ارْفَعْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْئًا)) ۔وَقَالَ لِعُمَرَ : ((اخْفِضْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْئًا))۔ [ابوداؤد ۱۳۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں قرأت بلند آواز سے اور آہستہ پڑھنے کا طریقہ
(٤٧٠١) ثابت بنانی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں سونے والوں کو بیدار کرنا چاہتا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔
(۴۷۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَہُ مُرْسَلاً إِلَی قَوْلِہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ ، وَأَطْرُدُ الشَّیْطَانَ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں قرأت بلند آواز سے اور آہستہ پڑھنے کا طریقہ
(٤٧٠٢) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس قصہ کو نقل فرماتے ہیں، لیکن انھوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر سے کہا کہ اپنی آواز کو بلند کرو اور نہ ہی یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ عمر (رض) سے فرمایا کہ اپنی آواز کو پست کر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! میں نے سنا ہے تو فلاں فلاں سورة پڑھتا ہے۔ وہ کہنے لگے : عمدہ اور پاکیزہ کلام ہے اللہ بعض کو بعض کے ساتھ جمع کر دے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے درستگی کو پا لیا۔
(۴۷۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو حَصَیْنِ بْنُ یَحْیَی الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ لَمْ یَذْکُرْ فَقَالَ لأَبِی بَکْرٍ : ارْفَعْ شَیْئًا ۔وَلاَ لِعُمَرَ : اخْفِضْ شَیْئًا ۔
قَالَ : ((وَقَدْ سَمِعْتُکَ یَا بِلاَلُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، وَمِنْ ہَذِہِ السُّورَۃِ))۔قَالَ : کَلاَمٌ طَیِّبٌ یَجْمَعُہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْضُہُ إِلَی بَعْضٍ۔فَقَالَ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((کُلُّکُمْ قَدْ أَصَابَ))۔ [حسن۔ ابوداؤد ۱۳۳۰]
قَالَ : ((وَقَدْ سَمِعْتُکَ یَا بِلاَلُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، وَمِنْ ہَذِہِ السُّورَۃِ))۔قَالَ : کَلاَمٌ طَیِّبٌ یَجْمَعُہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْضُہُ إِلَی بَعْضٍ۔فَقَالَ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((کُلُّکُمْ قَدْ أَصَابَ))۔ [حسن۔ ابوداؤد ۱۳۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد کے لوگ تکلیف محسوس کریں تو قرأت بلند آواز سے نہیں کرنی چاہیے
(٤٧٠٣) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں اعتکاف کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا کہ صحابہ بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خیمہ میں تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ ہٹایا اور فرمایا : کیا تم اپنے رب سے سرگوشی نہیں کر رہے۔ تم ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور تم ایک دوسرے سے نماز میں قرأت بلند نہ کرو۔
(۴۷۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : اعْتَکَفَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی الْمَسْجِدِ فَسَمِعَہُمْ یَجْہَرُونَ بِالْقِرَائَ ۃِ وَہُوَ فِی قُبَّۃٍ لَہُ ، فَکَشَفَ الْمَسْتُورَۃَ وَقَالَ : ((أَلاَ إِنَّ کُلَّکُمْ یُنَاجِی رَبَّہُ ، فَلاَ یُؤْذِیَنَّ بَعْضُکُمْ بَعْضًا ، وَلاَ یَرْفَعَنَّ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الْقِرَائَ ۃِ فِی الصَّلاَۃِ))۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۳۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد کے لوگ تکلیف محسوس کریں تو قرأت بلند آواز سے نہیں کرنی چاہیے
(٤٧٠٤) ابوحازم تمار بیاضی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف آئے اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور قرأت کی وجہ سے ان کی آوازیں بلند تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ وہ دیکھے، وہ کیا سرگوشی کررہا ہے اور تم ایک دوسرے سے قرأت بلند نہ کرو۔
(۴۷۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی حَازِمٍ التَّمَّارِ عَنِ الْبَیَاضِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ عَلَی النَّاسِ وَہُمْ یُصَلُّونَ، وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُہُمْ بِالْقِرَائَ ۃِ ، فَقَالَ : (( إِنَّ الْمُصَلِّی مُنَاجٍ رَبَّہُ ، فَلْیَنْظُرْ مَا یُنَاجِیہِ بِہِ ، وَلاَ یَجْہَرْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الْقِرَائَ ۃِ))۔ [صحیح۔ مالک ۱۷۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧٠٥) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سنا وہ رات کے وقت مسجد میں قرأت کررہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد کروا دی ہے، جو میں فلاں سورت سے بھول گیا تھا۔
(۴۷۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الزُّہْرِیُّ أَبُو إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : سَمِعَ النَّبِیُّ -ﷺ- رَجُلاً یَقْرَأُ بِاللَّیْلِ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ : ((یَرْحَمُہُ اللَّہُ ، لَقَدْ أَذْکَرَنِی کَذَا وَکَذَا آیَۃً نُسِّیتُہَا مِنْ سُورَۃِ کَذَا وَکَذَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ آدَمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ ، وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۱۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ آدَمَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ ، وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧٠٦) ہشام بن عروہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک شخص نے رات کا قیام کیا اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فلاں آدمی پر اللہ رحم کرے کہ اس نے مجھے فلاں آیت یاد کروا دی جو میں بھول گیا تھا۔
(۴۷۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَقَرَأَ ، فَرَفَعَ صَوْتَہُ بِالْقُرْآنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَرْحَمُ اللَّہُ فُلاَنًا ، کَأَیِّنْ مِنْ آیَۃٍ أَذْکَرَنِیہَا اللَیْلَۃَ کُنْتُ أَسْقَطْتُہَا)) ۔ [صحیح۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧٠٧) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سنا وہ رات کو قرأت کررہا تھا، آپ نے فرمایا : اللہ اس پر رحم فرمائے اس نے مجھے فلاں سورت کی آیت یاد کروا دی۔
(۴۷۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- سَمِعَ رَجُلاً یَقْرَأُ مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ : ((رَحِمَہُ اللَّہُ ، لَقَدْ أَذْکَرَنِی کَذَا وَکَذَا آیَۃً کُنْتُ أَسْقَطْتُہَا مِنْ سُورَۃِ کَذَا وَکَذَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی رَجَائٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی رَجَائٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧٠٨) ابوبردہ (رض) ابو موسیٰ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اگر آپ مجھے دیکھ لیتے جب گزشتہ رات میں آپ کی قرأت سن رہا تھا۔ آپ کو تو آل داؤد کی خوبصورت آواز دی گئی ہے۔
ابو موسیٰ (رض) کہنے لگے : اگر میں جان لیتا تو مزید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس کو مزین کر کے پڑھتا۔
ابو موسیٰ (رض) کہنے لگے : اگر میں جان لیتا تو مزید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس کو مزین کر کے پڑھتا۔
(۴۷۰۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِیُّ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا طَلْحَۃُ بْنُ یَحْیَی عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : (( لَوْ رَأَیْتَنِی وَأَنَا أَسْمَعُ قِرَاَئَ تَکَ الْبَارِحَۃَ ، لَقَدْ أُوتِیتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیرِ آلِ دَاوُدَ))۔فَقَالَ : لَوْ عُلِّمْتُ لحَبَّرْتُہُ لَکَ تَحْبِیرًا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَیْدٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ أَبِی مُوسَی ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِیثِ بُرَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ جَدِّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۶۱]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَیْدٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ أَبِی مُوسَی ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِیثِ بُرَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ جَدِّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۶۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧٠٩) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جتنی اجازت اچھی آواز سے قرآن پڑھنے کی دی اتنی کسی چیز کی نہیں دی۔
(۴۷۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَہْرِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ مَالِکٍ وَحَیْوَۃُ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَا أَذِنَ اللَّہُ لِشَیْئٍ مَا أَذِنَ لِنَبِیٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ ، یَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ یَجْہَرُ بِہِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عَمِّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۳۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عَمِّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧١٠) عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی قرأت کیسی ہوتی تھی ؟ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز سے قرأت کرتے تھے یا پست آواز سے ؟ فرماتی ہیں : کبھی بلند آواز سے اور کبھی پست آواز سے میں نے کہا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔
(۴۷۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی قَیْسٍ حَدَّثَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ اللَّیْلِ؟ أَکَانَ یَجْہَرُ أَمْ یُسِرُّ؟ قَالَتْ : کُلُّ ذَلِکَ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا جَہَرَ ، وَرُبَّمَا أَسَرَّ۔قَالَ قُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِی الأَمْرِ سَعَۃً۔ [صحیح لغیرہ۔ ترمذی ۴۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧١١) ابو خالد والبی فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) جب رات کا قیام کرتے تو کبھی قرأت بلند آواز سے اور کبھی آہستہ آواز سے کرتے اور فرماتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ایسے ہی کرتے تھے۔
(۴۷۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ زَائِدَۃَ بْنِ نَشِیطٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی خَالِدٍ الْوَالِبِیِّ قَالَ : کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ رَفَعَ طَوْرًا ، وَخَفَضَ طَوْرًا ، وَکَانَ یَذْکُرُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عِمْرَانَ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۱۳۲۸]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عِمْرَانَ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۱۳۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب اردگرد والے بلند آواز سے تکلیف محسوس نہ کریں تو بلند آواز سے قرأت جائز ہے
(٤٧١٢) عقبہ بن عامر جہنی (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے اعلانیہ صدقہ دینے والا ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے پوشیدہ صدقہ کرنے والا۔
(۴۷۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بَرْہَانَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَغَیْرُہُمْ بِبَغْدَادَ قَالُوا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ الْحِمْصِیُّ عَنْ بَحِیرِ بْنِ سَعْدٍ الْکُلاَعِیِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُرَّۃَ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((الْجَاہِرُ بِالْقُرْآنِ کَالْجَاہِرِ بِالصَّدَقَۃِ ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ))۔
تَابَعَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُرَّۃَ ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۳۳]
تَابَعَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُرَّۃَ ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرنے کا بیان
(٤٧١٣) یعلی بن مملک نے ام سلمہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت اور رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : پھر تمہیں آپ کی نماز اور قراءت سے کیا نسبت ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے، پھر اتنی دیر سو جاتے جتنی دیر نماز پڑھتے۔ پھر اتنی دیر نماز پڑھتے جتنی دیر سوتے، پھر سو جاتے اتنا وقت جتنی دیر نماز پڑھتے۔ یہاں تک کہ صبح ہوجاتی۔ ام سلمہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت کا طریقہ بیان فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرأت حرف، حرف ہوتی تھی (یعنی ایک ایک حرف سمجھ آتا تھا) ۔
(۴۷۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ : أَنَّہُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَۃَ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَصَلاَتِہِ بِاللَّیْلِ ، فَقَالَتْ : وَمَا لَکُمْ وَصَلاَتِہِ؟ کَانَ یُصَلِّی ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ، ثُمَّ یُصَلِّی قَدْرَ مَا نَامَ ، ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی حَتَّی یُصْبِحَ۔وَنَعَتَتْ لَہُ قِرَائَ تَہُ فَإِذَا ہِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۱۴۶۶]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ : أَنَّہُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَۃَ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَصَلاَتِہِ بِاللَّیْلِ ، فَقَالَتْ : وَمَا لَکُمْ وَصَلاَتِہِ؟ کَانَ یُصَلِّی ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ، ثُمَّ یُصَلِّی قَدْرَ مَا نَامَ ، ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی حَتَّی یُصْبِحَ۔وَنَعَتَتْ لَہُ قِرَائَ تَہُ فَإِذَا ہِیَ تَنْعَتُ قِرَائَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۱۴۶۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرنے کا بیان
(٤٧١٤) ابی جمرہ فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : میں تیز اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتا ہوں ! ابن عباس (رض) نے فرمایا : اگر میں سورة بقرہ کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں مکمل قرآن تیزی سے پڑھ جاؤں۔
(۴۷۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : إِنِّی سَرِیعُ الْقِرَائَ ۃِ ، إِنِّی أَہُذُّ الْقُرْآنَ۔فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لأَنْ أَقْرَأَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ فَأُرَتِّلُہَا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ ہَذْرَمَۃً۔ [صحیح۔ عبدالرزاق ۴۱۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرنے کا بیان
(٤٧١٥) ابو جمرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : میں ایسا آدمی ہوں جو بہت زیادہ تیز قرأت کرتا ہوں اور بعض اوقات رات کے اندر ایک یا دو مرتبہ قرآن کی تلاوت کرلیتا ہوں۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : میں ایک سورت پڑھ لوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں ویسے ہی کروں جو تم کرتے ہو۔ اگر آپ ایسا ہی کرتے ہیں تو پھر ایسی قرأت کرو جو تمہارے کان سن سکیں اور تیرا دل اس کو یاد رکھے۔
(۴۷۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَۃَ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : إِنِّی رَجُلٌ سَرِیعُ الْقِرَائَ ۃِ ، وَرُبَّمَا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فِی لَیْلَۃٍ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لأَنْ أَقْرَأَ سُورَۃً وَاحِدَۃً أَعْجَبُ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ مِثْلَ الَّذِی تَفْعَلُ ، فَإِنْ کُنْتَ فَاعِلاً لاَ بُدَّ فَاقْرَأْہُ قِرَائَ ۃً تُسْمِعُ أُذُنَیْکَ وَیَعِیہِ قَلْبُکَ۔ [صحیح]
তাহকীক: