আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৭১৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرنے کا بیان
(٤٧١٦) ابو جمرہ ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ (رض) نے فرمایا : تم قرآن پڑھو اور اس قرآن کے ذریعے دلوں کو متحرک رکھو اور تم میں سے کسی کا بھی آخری سورت کا ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔
(۴۷۱۶) وَحَدَّثَنَا شَبَابَۃُ عَنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : اقْرَئُ وا الْقُرْآنَ ، وَحَرِّکُوا بِہِ الْقُلُوبَ ، لاَ یَکُونُ ہَمُّ أَحَدِکُمْ آخِرَ السُّورَۃِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرنے کا بیان
(٤٧١٧) خرشہ بن حر ابوذر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ رات نماز پڑھ رہے تھے اور ایک ہی آیت کو بار بار دہرا رہے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ آپ رکوع و سجود کرتے رہے اور آیت یہ ہے : {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۔۔۔} [المائدہ ١١٨] اے اللہ ! اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ ایک آیت کو بار بار دہراتے رہے اور صبح کردی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے اپنی امت کی شفاعت کا سوال کیا یہ سفارش اس کے لیے ہوگی جس نے شرک نہیں کیا۔
(۴۷۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی أَبُو بَکْرٍ الطَّلْحِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ کُلَیْبٍ الْعَامِرِیِّ عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یُصَلِّی ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، وَہُوَ یُرَدِّدُ آیَۃً حَتَّی أَصْبَحَ بِہَا یَرْکَعُ وَبِہَا یَسْجُدُ {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ} [المائدۃ: ۱۱۸] قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا زِلْتَ تُرَدِّدُ ہَذِہِ الآیَۃَ حَتَّی أَصْبَحْتَ۔قَالَ : ((إِنِّی سَأَلْتُ رَبِّی الشَّفَاعَۃَ لأُمَّتِی ، وَہِیَ نَائِلَۃٌ لِمَنْ لاَ یُشْرِکُ بِاللَّہِ شَیْئًا))۔[حسن۔ احمد ۱۴۵۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرنے کا بیان
(٤٧١٨) جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آیت کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی آیت کو دہراتے رہے : { إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ } [المائدۃ : ١١٨] اگر تو ان کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں اگر تو ان کو معاف کر دے گا تو تو غالب حکمت والا ہے۔
(۴۷۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا قُدَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَتْنِی جَسْرَۃُ بِنْتُ دِجَاجَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِآیَۃٍ حَتَّی أَصْبَحَ یُرَدِّدُہَا ، وَالآیَۃُ { إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ } [المائدۃ : ۱۱۸]

تَابَعَہُ فُلَیْتٌ الْعَامِرِیُّ عَنْ جَسْرَۃَ وَزَادَ بِہَا یَرْکَعُ وَبِہَا یَسْجُدُ۔ [حسن۔ نسائی ۱۰۱۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل کرتا ہے اس کے لیے رات کا قیام چھوڑ دینا ناپسندیدہ ہے
(٤٧١٩) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو فلاں کی مثل نہ ہوجا کیونکہ وہ رات کا قیام کرتا تھا، پھر اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔
(۴۷۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی التِّنِّیسِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : (( لاَ تَکُنْ مِثْلَ فُلاَنٍ ، کَانَ یَقُومُ اللَّیْلَ فَتَرَکَ قِیَامَ اللَّیْلِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُوسُفَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی الْعِشْرِینَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔ثُمَّ قَالَ وَتَابَعَہُ عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَرَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَمُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ فَلَمْ یَذْکُرَا عُمَرَ بْنَ الْحَکَمِ فِی إِسْنَادِہِ ، وَکَذَلِکَ قَالَہُ الْوَلِیدُ بْنُ مَزْیَدٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۱۰۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بیمار کے لیے رات کا قیام چھوڑنا اور بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے
(٤٧٢٠) اسود بن قیس فرماتے ہیں : میں نے جندب (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یا دو راتیں قیام نہ کیا تو ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اے محمد ! میرا خیال ہے (معاذ اللہ) تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں :{ وَالضُّحَی وَاللَّیْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی } قسم ہے روز روشن کی اور رات جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے، تمہارے رب نے تمہیں نہیں چھوڑا اور نہ ہی وہ ناراض ہوا ہے۔
(۴۷۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا یَقُولُ : اشْتَکَی النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمْ یَقُمْ لَیْلَۃً أَوْ لَیْلَتَیْنِ ، فَأَتَتِ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : یَا مُحَمَّدُ مَا أُرَی شَیْطَانَکَ إِلاَّ قَدْ تَرَکَکَ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالضُّحَی وَاللَّیْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی}

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔[صحیح۔ بخاری ۱۰۷۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بیمار کے لیے رات کا قیام چھوڑنا اور بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے
(٤٧٢١) اسود کہتے ہیں : میں نے جندب (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یا دو راتیں قیام نہ کیا۔ ایک عورت کہنے لگی : اے محمد ! میں امید کرتی ہوں کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے (معاذ اللہ) ، میں نے اس کو آپ کے قریب دو یا تین راتوں سے نہیں دیکھا۔ اللہ نے یہ آیات اتار دیں : { وَالضُّحَی وَاللَّیْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی } قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔ تمہارے رب نے تمہیں نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا ہے۔
(۴۷۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا یَقُولُ : اشْتَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ یَقُمْ لَیْلَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ، فَجَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : یَا مُحَمَّدُ إِنِّی أَرْجُو أَنْ یَکُونَ شَیْطَانُکَ قَدْ تَرَکَکَ ، لَمْ أَرَہُ قَرِبَکَ مُنْذُ لَیْلَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثٍ۔فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی {وَالضُّحَی وَاللَّیْلِ إِذَا سَجَی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی}

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ زُہَیْرٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بیمار کے لیے رات کا قیام چھوڑنا اور بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے
(٤٧٢٢) عبداللہ بن ابی موسیٰ نصری فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) نے مجھے کہا : تو رات کا قیام نہ چھوڑنا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو نہیں چھوڑا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوتے یا کمزور ہوتے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے۔
(۴۷۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبْعِیِّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُوسَی النَّصْرِیِّ قَالَ قَالَتْ لِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لاَ تَدَعْ قِیَامَ اللَّیْلِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ لا یَدَعُہُ ، وَکَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ قَالَتْ کَسِلَ صَلَّی قَاعِدًا۔

کَذَا قَالَ شُعْبَۃُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ۔وَقَالَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی قَیْسٍ۔وَہُوَ أَصَحُّ۔

[ابوداؤد ۱۳۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو بیدار ہونے کی نیت سے سو گیا لیکن بیدار نہ ہوسکا
(٤٧٢٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بندہ رات کا قیام کرتا ہے اور اس پر نیند غالب آجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتے ہیں اور نیند اس کے لیے صدقہ ہوتی ہے۔
(۴۷۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ رَجُلٍ عِنْدَہُ رَضًی أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَا مِنِ امْرِئٍ تَکُونُ لَہُ صَلاَۃٌ بِلَیْلٍ فَیَغْلِبُہُ عَلَیْہَا نَوْمٌ إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ أَجْرَ صَلاَتِہِ ، وَکَانَ نَوْمُہُ صَدَقَۃً عَلَیْہِ))۔ [ضعیف۔ مالک ۲۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو بیدار ہونے کی نیت سے سو گیا لیکن بیدار نہ ہوسکا
(٤٧٢٤) سوید بن غفلہ ابودردا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے بستر پر آتا ہے اور رات کے قیام کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن نیند اس پر غالب آجاتی ہے یہاں تک کہ وہ صبح کرتا ہے تو اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند اس پر اللہ کی جانب سے صدقہ ہوتی ہے۔
(۴۷۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ وَمُوسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَتَی فِرَاشَہُ وَہُوَ یَنْوِی أَنْ یَقُومَ یُصَلِّی بِاللَّیْلِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہُ حَتَّی یُصْبِحَ کُتِبَ لَہُ مَا نَوَی ، وَکَانَ نَوْمُہُ صَدَقَۃً عَلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ))۔ [منکر۔ نسائی ۱۷۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو بیدار ہونے کی نیت سے سو گیا لیکن بیدار نہ ہوسکا
یہ بھی سابقہ حدیث کی ایک سند ہے
(۴۷۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِنْ قَوْلِ أَبِی الدَّرْدَائِ ۔

وَرَوَاہُ جَرِیرٌ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ مَوْقُوفًا۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عَبْدَۃَ عَنْ زِرٍّ أَوْ عَنْ سُوَیْدٍ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ أَوْ عَنْ أَبِی ذَرٍّ مَوْقُوفًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو بندہ قیام کی نیت کے بغیر صبح تک سوتا رہا
(٤٧٢٦) ابو واثل عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا گیا کہ یہ صبح تک سویا رہتا ہے نماز کے لیے نہیں اٹھتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کانوں میں پیشاب کردیا ہے یا فرمایا : کان میں۔
(۴۷۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : ذُکِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّی أَصْبَحَ ، مَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ۔فَقَالَ : ((ذَاکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّیْطَانُ فِی أُذُنَیْہِ ۔أَوْ قَالَ : فِی أُذُنِہِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔[صحیح۔ بخاری ۱۰۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو بندہ قیام کی نیت کے بغیر صبح تک سوتا رہا
(٤٧٢٧) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شیطان تمہارے سر کی گدی پر تین گرہ لگاتا ہے، جب تم سوتے ہو۔ ہر گرہ لگانے کے بعد وہ کہتا ہے : رات بڑی لمبی ہے تو سو جا۔ جب بندہ بیدار ہوتا ہے اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اگر وضو کرلے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ پھر وہ صبح چست اور خوشگوار موڈ میں ہوتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ صبح کرتا ہے اور سست اور خبیث النفس ہوتا ہے۔
(۴۷۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((یَعْقِدُ الشَّیْطَانُ عَلَی قَافِیَۃِ رَأْسِ أَحَدِکُمْ ثَلاَثَ عُقَدٍ إِذَا نَامَ ، کُلُّ عُقْدَۃٍ یَضْرِبُ مَکَانَہَا : عَلَیْکَ لَیْلٌ طَوِیلٌ فَارْقُدْ۔فَإِذَا اسْتَیْقَظَ فَذَکَرَ اللَّہَ انْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ الثَّانِیَۃُ، فَإِنْ صَلَّی انْحَلَّتْ الثَّالِثَۃُ ، فَأَصْبَحَ نَشِیطًا طَیِّبَ النَّفْسِ ، فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ أَصْبَحَ لَقْسًا کَسْلاَنَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ أَخِیہِ أَبِی بَکْرٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس کو حالت نماز میں نیند آئے تو وہ سو جائے تاکہ نیند ختم ہوجائے
(٤٧٢٨) عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو نماز میں نیند آئے تو وہ سو کر اپنی نیند پوری کرے، جب تم میں سے کوئی ایک نماز کی حالت میں سو رہا ہو تو ممکن ہے وہ اپنے لیے استغفار طلب کررہا ہو لیکن حقیقت میں اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہو۔
(۴۷۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَرْقُدْ حَتَّی یَذْہَبَ عَنْہُ النَّوْمُ ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا صَلَّی وَہُوَ نَاعِسٌ ، لَعَلَّہُ یَذْہَبُ یَسْتَغْفِرُ فَیَسُبُّ نَفْسَہُ))۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِیُّ وَأَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعُمَرِیُّ وَسَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِیُّ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فَذَکَرُوا الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ جَمِیعًا عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۲۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس کو حالت نماز میں نیند آئے تو وہ سو جائے تاکہ نیند ختم ہوجائے
(٤٧٢٩) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نماز کی حالت میں کسی کو نیند آئے تو وہ اپنے بستر پر سو جائے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے لیے دعا کررہا ہے یا بددعا۔
(۴۷۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : (( إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ وَہُوَ یُصَلِّی فَلْیَنَمْ عَلَی فِرَاشِہِ ، فَإِنَّہُ لا یَدْرِی أَیَدْعُو عَلَی نَفْسَہِ أَوْ یَدْعُو لَہَا؟))۔[صحیح۔ عبدالرزاق ۴۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس کو حالت نماز میں نیند آئے تو وہ سو جائے تاکہ نیند ختم ہوجائے
(٤٧٣٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی رات کے وقت نماز کے لیے کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر درست نہ آ رہا ہو اور وہ نہیں جانتا کہ کیا کہہ رہا ہے تو وہ لیٹ جائے۔
(۴۷۳۰) وَحَدَّثَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ بَالُوَیْہِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَی لِسَانِہِ ، فَلَمْ یَدْرِ مَا یَقُولُ فَلْیَضْطَجِعْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے اپنے آپ کو باندھ لیا اور عبادت میں اپنے اوپر سختی کی
(٤٧٣١) مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیام کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں سوج جاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : کیا اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے اور بعد والے گناہ معاف نہیں کردیے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
(۴۷۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ بِالطَّابِرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِیُّ بِطَوسٍ فِی سَنَۃِ سِتٍّ وَعِشْرِینَ وَثَلاَثِمِائَۃٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ النَّجَاحِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ ، فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلَیْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: ((أَفَلاَ أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا؟))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ الْفَضْلِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٢) سائب بن فروخ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم دن کو روزہ اور رات کو قیام کرتے ہو۔ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کیا کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو نظر جاتی رہے گی اور تھک جاؤ گے۔ تیری آنکھوں اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے، روزہ رکھ، افطار کر، قیام کر اور سو بھی۔
(۴۷۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ وَہُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الشَّاعِرُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ النَّہَارَ وَتَقُومُ اللَّیْلَ؟ ۔قُلْتُ : بَلَی۔قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ ، فَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ ہَجَمَتْ عَیْنَاکَ ، وَنَفِہَتْ نَفْسُکَ ، إِنَّ لِعَیْنِکَ حَقٌّ ، وَلِنَفْسِکَ حَقٌّ ، وَلأَہْلِکَ عَلَیْکَ حَقٌّ ، صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۰۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٣) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب تم نماز پڑھنا دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو، اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہو تو پھر بھی دیکھ سکتے ہو۔
(۴۷۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ تَشَائُ أَنْ تَرَاہُ مِنَ اللَّیْلِ مُصَلِّیًا إِلاَّ رَأَیْتَہُ ، وَلاَ نَائِمًا إِلاَّ رَأَیْتَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأُوَیْسِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ۔[صحیح۔ بخاری ۱۸۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٤) حمید فرماتے ہیں کہ انس (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز اور نفلی روزہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہینہ میں روزے رکھنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہینہ کے روزے چھوڑنے شروع کردیتے تو ہم خیال کرتے کہ آپ اس مہینے کے روزے نہیں رکھیں گے۔ رات کے جس حصہ میں ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے اور جب سوئے ہوئے دیکھنا چاہتے تو بھی دیکھ لیتے۔
(۴۷۳۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَصَوْمِہِ تَطَوُّعًا قَالَ : کَانَ یَصُومُ مِنَ الشَّہْرِ حَتَّی نَقُولَ مَا یُرِیدُ أَنْ یُفْطِرَ مِنْہُ شَیْئًا ، وَیُفْطِرُ مِنَ الشَّہْرِ حَتَّی نَقُولَ مَا یُرِیدُ أَنْ یَصُومَ مِنْہُ شَیْئًا ، وَمَا کُنَّا نَشَائُ أَنْ نُرَاہُ مِنَ اللَّیْلِ مُصَلِّیًا إِلاَّ رَأَیْنَاہُ ، وَلاَ نُرَاہُ نَائِمًا إِلاَّ رَأَیْنَاہُ۔ [صحیح۔ تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعمال میں ہمیشگی کو پسند کرتے تھے۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے کس حصہ میں بیدار ہوتے تھے ؟ فرمایا : جب مرغ اذان دیتا۔
(۴۷۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی أَشْعَثُ بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ یُحِبُّ الدَّائِمَ مِنَ الْعَمَلِ۔قُلْتُ : أَیَّ اللَّیْلِ کَانَ یَقُومُ؟ قَالَتْ : إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ۔

أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی الأَحْوَصِ وَغَیْرِہِ عَنْ أَشْعَثَ فِی الصَّحِیحِ۔

[صحیح۔ معنی تخریجہ فی الحدیث ۴۶۵۹]
tahqiq

তাহকীক: