আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৭৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٦) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حولاء بنت تو یت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزی میرے پاس سے گزری۔ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تھے۔ میں نے کہا : یہ حولاء بنت تویت ہے اور کہتے ہیں : یہ رات کو نہیں سوتی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : رات کو کیوں نہیں سوتی ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھو۔ اللہ کی قسم ! اللہ نہیں اکتائے گا تم اکتا جاؤ گی۔
(۴۷۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ الْحَوْلاَئَ بِنْتَ تُوَیْتِ بْنِ حَبِیبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی مَرَّتْ بِہَا وَعِنْدَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : ہَذِہِ الْحَوْلاَئُ بِنْتُ تُوَیْتٍ ، وَزَعَمُوا أَنَّہَا لاَ تَنَامُ اللَّیْلَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَلِمَ لاَ تَنَامُ اللَّیْلَ؟ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِیقُونَ ، فَوَاللَّہِ لاَ یَسْأَمُ اللَّہُ حَتَّی تَسْأَمُوا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیِّ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٧) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) کے پاس بنی اسد قبیلہ کی ایک عورت آئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ آپ (رض) نے بتایا : یہ فلانہ ہے رات کو سوتی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس کی نماز کا تذکرہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے اوپر اتنا کام لازم کرو جتنا عمل کرسکو۔ اللہ کی قسم ! اللہ نہیں اکتائے گا تم اکتا جاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں : عائشہ (رض) فرماتی ہیں : سب سے بہترین عبادت اس شخص کی ہے جس نے اپنی عبادت پر ہمیشگی کی۔
(۴۷۳۷) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ إِمْلاَئً وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِیہُ وَیَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَائِشَۃَ : کَانَتْ عِنْدَہَا امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی أَسَدٍ فَدَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ: ((مَنْ ہَذِہِ؟))۔قَالَتْ : ہَذِہِ فُلاَنَۃُ لاَ تَنَامُ اللَّیْلَ۔قَالَ فَذَکَرَتْ مِنْ صَلاَتِہَا۔فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَہْ عَلَیْکُمْ بِمَا تُطِیقُونَ فَوَاللَّہِ لاَ یَمَلُّ اللَّہُ حَتَّی تَمَلُّوا))۔قَالَ فَقَالَتْ : کَانَ أَحَبَّ الدِّینِ إِلَیْہِ الَّذِی یَدُومُ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَغَیْرِہِ عَنْ ہِشَامٍ ، وَقَالُوا عَنْہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ۔[صحیح۔ بخاری ۴۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٨) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، عائشہ (رض) کے پاس آئے تو فرمایا : یہ فلاں عورت ہے اور اس کی نماز کا تذکرہ کیا جاتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رک جا۔ اللہ نہیں اکتائے گا تم اکتا جاؤ گی اور سب سے زیادہ اچھی عبادت وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے۔

(ب) ابوبکر اسماعیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ( (فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا) ) کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ اللہ ثواب سے نہیں اکتائے گا تم عمل سے اکتا جاؤ گے۔

(نوٹ) اللہ کے لیے لفظ ملال کا استعمال درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تھکتے نہیں ہیں۔

(ج) صرف الفاظ کو برابر کرنے کے لیے لائے ہیں۔ یہ کلامِ عرب میں جائز ہے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے { وَجَزَائُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا } [الشوری : ٤٠] پہلا لفظ سیۃ اس سے مراد گناہ ہے اور دوسرے لفظ سے مراد بدلہ ہے۔

قصاص عدل ہے برائی نہیں جیسے اللہ کا فرمان ہے : { فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ } [البقرۃ : ١٩٤] ان پر اتنی زیادتی کرو جتنی انھوں نے تم پر کی ہے۔

قصاص میں نہ ظلم ہوتا ہے اور نہ ہی زیادتی، لیکن ایک جیسے الفاظ کا استعمال صرف الفاظ کی برابری کے لیے ہے۔
(۴۷۳۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَخَلَ عَلَیْہَا فَقَالَتْ : ہَذِہِ فُلاَنَۃُ تَذْکُرُ مِنْ صَلاَتِہَا۔فَقَالَ : ((مَہْ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا ، وَأَحَبُّ الدِّینِ مَا دُووِمَ عَلَیْہِ))۔

قَالَ الشَّیْخُ أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ : قَوْلُہُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : ((فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا))۔قَالَ فِیہِ بَعْضُہُمْ : لاَ یَمَلُّ مِنَ الثَّوَابِ حَتَّی تَمَلُّوا مِنَ الْعَمَلِ۔وَاللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یُوصَفُ بِالْمَلاَلِ ، وَلَکِنَّ الْکَلاَمَ أُخْرِجَ مَخْرَجَ الْمُحَاذَاۃِ اللَّفْظِ بِاللَّفْظِ ، وَذَلِکَ سَائِغٌ فِی کَلاَمِ الْعَرَبِ وَعَلَی ذَلِکَ خَرَجَ قَوْلُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَجَزَائُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا} [الشوری: ۴۰] قُوبِلَتْ السَّیِّئَۃُ الأُولَی الَّتِی ہِیَ ذَنْبٌ بِالْجَزَائِ عَلَی لَفْظِ السَّیِّئَۃِ ، وَالْقِصَاصُ عَدْلٌ لَیْسَ بِسَیِّئَۃٍ ، وَکَذَلِکَ قَوْلُہُ تَعَالَی { فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ } [البقرۃ: ۱۹۴] وَاقْتِصَاصُہُ لَیْسَ بِظُلْمٍ وَلاَ عُدْوَانٍ ، فَأُخْرِجَ فِی اللَّفْظِ لِلْمُحَاذَاۃِ عَلَی الاِعْتِدَائِ ، وَالْمَعْنَی لَیْسَ بِاعْتِدَائٍ ، فَکَذَلِکَ قَوْلُہُ : فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا ۔أُخْرِجَ مُحَاذِیًا للَّفْظِ حَتَّی تَمَلُّوا ، وَالْمَعْنَی لاَ یَقْطَعُ عَنْہُمْ ثَوابَ أَعْمَالِہِمْ مَا لَمْ یَمَلُّوا فَیَتْرُکُوہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٣٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا : دو ستونوں کے درمیان رسی باندھی ہوئی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : یہ زینب (رض) کی ہے وہ اس کے سہارے نماز پڑھتی ہیں جب وہ تھک جاتی ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کھول دو ۔ تم میں سے ہر ایک چستی کی حالت میں نماز پڑھے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے۔
(۴۷۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدُ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : دَخَلَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْمَسْجِدَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَیْنَ سَارِیَتَیْنِ، فَقَالَ: ((مَا ہَذَا؟))۔ قَالُوا: ہَذَا الْحَبْلُ لِزَیْنَبَ تُصَلِّی، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: (( حُلُّوہُ، لِیُصَلِّی أَحَدُکُمْ نَشَاطِہِ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْیَقْعُدْ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۰۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٤٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی نہیں تم میں سے جس کو اس کا عمل نجات دلوائے گا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو بھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں میں بھی نہیں اگر اللہ نے مجھے اپنی رحمت میں نہ ڈھانپ لیا۔ فرمایا : تم سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو یا فرمایا : تم قریب ہو رہو اور راحت کو اختیار کرو اور صبح کے وقت چلو اور رات کا کچھ حصہ اور میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پالو گے۔
(۴۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا مِنْکُمْ أَحَدٌ یُنْجِیہِ عَمَلُہُ))۔قَالُوا : وَلاَ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : ((وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللَّہُ مِنْہُ بِرَحْمَۃٍ ، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، أَوْ قَرِّبُوا وَرُوحُوا ، وَاغْدُوا وَحَظٌّ مِنَ الدُّلْجَۃِ ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٤١) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین آسان ہے۔ جو اس دین میں سختی کرے گا تو یہ دین اس پر غالب آجائے گا۔ تم سیدھے سیدھے رہو اور قریب رہو اور خوشخبری دو اور تم صبح و شام اور رات کی نماز کے ذریعہ مدد طلب کرو۔
(۴۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : (( إِنَّ ہَذَا الدِّینَ یُسْرٌ ، وَلَنْ یُشَادَّ ہَذَا الدِّینَ أَحَدٌ إِلاَّ غَلَبَہُ ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِینُوا بِالْغُدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ ، وَشَیْئٍ مِنَ الدُّلْجَۃِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ مُطَہِّرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٤٢) عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بریدہ (رض) فرماتے ہیں : میں چل رہا تھا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو گمان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ضرورت ہے۔ کبھی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آتا اور کبھی چھپ جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا ، وہ رکوع و سجود زیادہ کررہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو میرے دیکھنے کو دیکھ رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے الگ کرلیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میانہ روی اختیار کرو، تم میانہ روی اختیار کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا اور فرمایا : جس نے اس دین کے بارے میں سختی کی تو یہ اس پر غالب آجائے گا۔
(۴۷۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَشْہَلُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ بُرَیْدَۃُ : انْطَلَقْتُ فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَظَنَنْتُ أَنَّ لَہُ حَاجَۃً فَجَعَلْتُ أُعَارِضُہُ وَأَخْنَسُ عَنْہُ قَالَ فَدَعَانِی فَأَخَذَ بِیَدِی ، فَرَأَی رَجُلاً یُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ فَقَالَ : أَتَرَاہُ مُرَائِی أَتَرَاہُ مُرَائِی؟ ۔قَالَ : فَتَرَکَ یَدَہُ مِنْ یَدِی ، وَقَالَ : (( عَلَیْکُمْ ہَدْیًا قَاصِدًا عَلَیْکُمْ ہَدْیًا قَاصِدًا))۔وَضَرَبَ بِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی : (( فَإِنَّہُ مَنْ یُشَادَّ ہَذَا الدِّینَ یَغْلِبْہُ))۔ [صحیح لغیرہ۔ احمد ۵/۳۵۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٤٣) جابر بن عبداللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ دین مضبوط ہے، اس میں نرمی سے داخل ہو جاؤ اور اپنے نفس کو اللہ کی عبادت سے متنفر نہ کرو، وگرنہ اپنے مقصد کو کھو دو گے۔
(۴۷۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو عُقَیْلٍ : یَحْیَی بْنُ الْمُتَوَکِّلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : (( إِنَّ ہَذَا الدِّینَ مَتِینٌ فَأَوْغِلْ فِیہِ بِرِفْقٍ ، وَلاَ تُبَغِّضْ إِلَی نَفْسِکَ عِبَادَۃَ اللَّہِ ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لاَ أَرْضًا قَطَعَ ، وَلاَ ظَہْرًا أَبْقَی))۔

ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو عُقَیْلٍ۔وَقَدْ قِیلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَائِشَۃَ، وَقِیلَ عَنْہُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔وَقِیلَ عَنْہُ غَیْرُ ذَلِکَ۔ وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-

[منکر۔ ابن المبارک فی الزھد ۱۱۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٤٤) عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دین مضبوط ہے اس میں نرمی کے ساتھ شامل ہو اور اپنے نفس کو اپنے رب کی عبادت سے متنفر نہ کر اور نہ تو اتنا اگے نکل جا کہ اپنے مقصد کو کھو بیٹھے اور ایسے شخص کا سا عمل کر جس کا گمان ہے کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا اور ڈرنا چھوڑ دے کہ کہیں تجھے کل ہی موت نہ آجائے۔
(۴۷۴۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ مَوْلًی لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : (( إِنَّ ہَذَا الدِّینَ مَتِینٌ ، فَأَوْغِلْ فِیہِ بِرِفْقٍ ، وَلاَ تُبَغِّضْ إِلَی نَفْسِکَ عِبَادَۃَ رَبِّکَ ، فَإِنَّ الْمُنْبَتَّ لاَ سَفَرًا قَطَعَ ، وَلاَ ظَہْرًا أَبْقَی ، فَاعْمَلْ عَمَلَ امْرِئٍ یَظُنُّ أَنْ لَنْ یَمُوتَ أَبَدًا ، وَاحْذَرْ حَذَرًا تَخْشَی أَنْ تَمُوتَ غَدًا))۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٤٥) عبدالرحمن بن یزید حضرت عبداللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سنت میں میانہ روی اختیار کرنا بدعت میں کوشش کرنے سے بہتر ہے۔
(۴۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ وَمَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : الاِقْتِصَادُ فِی السُّنَّۃِ أَحْسَنُ مِنَ الاِجْتِہَادِ فِی الْبِدْعَۃِ۔ہَذَا مَوْقُوفٌ۔

وَرُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً بِزِیَادَۃِ أَلْفَاظٍ۔ [صحیح۔ حاکم ۱/۱۸۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عبادت میں میانہ روی اور ہمیشگی اپنانے کا بیان
(٤٧٤٦) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک رسی دو ستونوں کے درمیان بندھی ہوئی تھی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ رسی کس کی ہے ؟ لوگوں نے کہا : یہ فلاں عورت کی ہے وہ اس کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں، جب اس پر نیند غالب آجاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹک جاتی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک وہ بیدار رہے نماز پڑھے جب نیند کے غلبہ کا خطرہ ہو تو سو جائے۔
(۴۷۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَی حَبْلاً مَمْدُودًا بَیْنَ سَارِیَتَیْنِ ، فَقَالَ : ((مَا ہَذَا الْحَبْلُ؟))۔ قَالُوا : لِفُلاَنَۃَ تُصَلِّی ، فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِہِ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لِتُصَلِّی مَا عَقِلَتْ فَإِذَا خَشِیَتْ أَنْ تُغْلَبَ فَلْتَنَمْ))۔

[صحیح۔ تقدم برقم ۴۷۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٤٧) انس بن مالک (رض) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :{ کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } [الذاریات ١٧] ” وہ رات کو بہت کم سوتے ہیں۔ “ کہ وہ بیداری کی حالت میں مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لیتے تھے۔
(۴۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } [الذاریات: ۱۷] قَالَ : کَانُوا یَتَیَقَّظُونَ مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ یُصَلُّونَ مَا بَیْنَہُمَا۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٤٨) قتادہ حضرت انس (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } [الذاریات : ١٧] ” وہ رات کو بہت کم سوئے ہیں “ کہ وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لیتے تھے۔ یحییٰ کی حدیث میں کچھ زیادتی ہے۔ { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ } [السجدۃ : ١٦] ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں۔
(۴۷۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ} [الذاریات : ۱۷] قَالَ : کَانُوا یُصَلُّونَ فِیمَا بَیْنَہُمَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ زَادَ فِی حَدِیثِ یَحْیَی وَکَذَلِکَ { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ } [السجدۃ: ۱۶]۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۱۳۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٤٩) قتادہ انس بن مالک (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ } [السجدہ ١٦] الی { یُنْفِقُونَ } ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ بیداری کی حالت میں مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لیتے تھے۔ اور ” حسن “ کہتے ہیں : یہ قیام اللیل ہوتا تھا۔
(۴۷۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدۃ: ۱۶] إِلَی {یُنْفِقُونَ} قَالَ : کَانُوا یَتَیَقَّظُونَ مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ یُصَلُّونَ۔ قَالَ : وَکَانَ الْحَسَنُ یَقُولُ : قِیَامُ اللَّیْلِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٠) زہرۃ بن معبد کہتے ہیں : میں نے ابن المنکدر اور ابو حازم دونوں سے سنا کہ { تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ } [السجدۃ : ١٦] ” ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں “ یہ مغرب اور عشا کے درمیان والی نمازِ اوابین ہے۔
(۴۷۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا الأَشْیَبُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ قَالَ وَقَالَ أَبُو عُقَیْلٍ زُہْرَۃُ بْنُ مَعْبَدٍ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْکَدِرِ وَأَبَا حَازِمٍ یَقُولاَنِ {تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدۃ: ۱۶] ہِیَ مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَصَلاَۃِ الْعِشَائِ صَلاَۃُ الأَوَّابِینَ۔

[اخرجہ ابن نصر فی قیام الیل کما فی الدر المنثور ۶/۵۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥١) ابن ابی ملیکہ نے ابن زبیر (رض) سے نَاشِئَۃِ اللَّیْلِ کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : مغرب کے بعد رات کا ابتدائی حصہ اور کہتے ہیں : میں نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی اسی کی مثل فرمایا۔
(۴۷۵۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ ہَارُونَ عَنْ عِیسَی بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : سَأَلَ ابْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ نَاشِئَۃِ اللَّیْلِ فَقَالَ : أَوَّلُ اللَّیْلِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ۔ وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الطبری فی تفسیرہ ۱۲/۲۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٢) ثابت حضرت انس (رض) { نَاشِئَۃَ اللَّیْلِ } [المزمل : ٦] کے بارے میں فرماتے ہیں : مغرب اور عشا کا درمیانی وقت۔
(۴۷۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سُقَیْرٍ أَخْبَرَنَا عُمَارَۃُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ فِی قَوْلِہِ { نَاشِئَۃَ اللَّیْلِ} [المزمل: ۶] قَالَ : مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔

[ضعیف۔ ابن ابی شیبہ ۵۹۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٣) ابراہیم بن نافع فرماتے ہیں کہ حسن بن مسلم مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ حسن نے ذکر کیا ہے کہ طاؤس (رح) اس بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ احمد (رح) فرماتے ہیں کہ حسن بصری اس کو رات کی نماز میں شمار کرتے تھے۔
(۴۷۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ یُصَلِّی مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ ، قَالَ وَذَکَرَ الْحَسَنُ : أَنَّ طَاوُسًا لَمْ یَکُنْ یَرَاہُ شَیْئًا۔قَالَ أَحْمَدُ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَعُدُّہُ مِنْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ۔

[صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۵۹۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٤) فضالہ حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر وہ نماز جو عشا کے بعد ادا کی جائے یہی { نَاشِئَۃِ اللَّیْلِ } ہے۔
(۴۷۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا الْمُبَارَکُ بْنُ فَضَالَۃَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : کُلُّ صَلاَۃٍ بَعْدَ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ فَہِیَ مِنْ نَاشِئَۃِ اللَّیْلِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن الجعد ۳۲۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٥) علی بن حسین (رض) فرماتے ہیں کہ مغرب اور عشا کے درمیان قیام کرنا { نَاشِئَۃِ اللَّیْلِ } ہے۔
(۴۷۵۵) وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ أَنَّہُ قَالَ : النَّاشِئَۃُ مَا کَانَ بَعْدَ الْعِشَائِ إِلَی الصُّبْحِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن نصر فی قیام اللیل کما فی الدر المنثور ۸/۳۱۷]
tahqiq

তাহকীক: