আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৭৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
سابقہ حدیث کی ایک اور سند
(۴۷۵۶) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالَ : نَاشِئَۃُ اللَّیْلِ قِیَامُ مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٧) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے {إِنَّ نَاشِئَۃَ اللَّیْلِ } [المزمل : ٦] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد رات کا قیام ہے اور { نَاشِئَۃُ } یہ حبشی زبان کا لفظ ہے، جب بندہ قیام کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں :{ نَشَأَ }

(ب) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ { نَاشِئَۃُ اللَّیْلِ } سے مراد رات کا ابتدائی حصہ ہے۔
(۴۷۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {إِنَّ نَاشِئَۃَ اللَّیْلِ} [المزمل: ۶] قَالَ : یَعْنِی قِیَامَ اللَّیْلِ ، وَالنَّاشِئَۃُ بِالْحَبَشِیَّۃِ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ قَالُوا نَشَأَ۔

وَرُوِّینَا فِیمَا مَضَی عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ نَاشِئَۃُ اللَّیْلِ أَوَّلُہُ۔ [صحیح۔ حاکم ۲/۵۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٨) شعبہ تیمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ابو عثمان کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص ہمارے پاس آیا۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام عبید سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : مغرب اور عشا کے درمیان پڑھی جانے والی نماز۔
(۴۷۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ التَّیْمِیِّ قَالَ : کُنَّا فِی مَجْلِسِ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ فَطَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ فَحَدَّثَنَا عَنْ عُبَیْدٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-: أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ صَلاَۃَ مَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔

وَرُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِیَّۃِ مَرْفُوعًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو قیام اللیل میں سستی کرے تو وہ مغرب اور عشا کے درمیان نماز پڑھ لے
(٤٧٥٩) ابو شعثاء محاربی کہتے ہیں : میں اس لشکر میں تھا جس میں سلمان تھے۔ سلمان نے فرمایا : تم ان چوپاؤں کا خیال رکھوجن کے رزق کا اللہ نے تمہیں کفیل بنایا ہے، آرام سے چلاؤ اور ان کو خوراک دو اور تم مغرب اور عشا کے درمیانی وقت میں نماز کو لازم پکڑو۔ کیونکہ یہ تمہاری رات کی نماز میں تخفیف کا باعث ہے اور تمہیں بےفائدہ گفتگو سے محفوظ رکھتی ہے۔
(۴۷۵۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ بَدْرٍ عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ الْمُحَارِبِیِّ قَالَ : کُنْتُ فِی جَیْشٍ فِیہِمْ سَلْمَانُ قَالَ فَقَالَ سَلْمَانُ : عَلَیْکُمْ بِہَذِہِ الْبَہَائِمِ الَّتِی تَکَفَّلَ اللَّہُ بِأَرْزَاقِہَا فَارْفُقُوا بِہَا فِی السَّیْرِ ، وَأَعْطُوہَا قُوتَہَا ، وَعَلَیْکُمْ بِالصَّلاَۃِ فِیمَا بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ ، فَإِنَّہَا تُخَفِّفُ عَنْکُمْ مِنْ جُزْئِ لَیْلَتِکُمْ وَتَکْفِیکُمُ الْہَذَرَ۔

[حسن۔ اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر ۶/۵۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات میں کتنی قرأت کفایت کر جائے گی
(٤٧٦٠) عبدالرحمن بن یزید ابن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے سورة بقرہ کی آخری دو آیات کی رات کو تلاوت کرلی تو یہ اس کو کفایت کر جائیں گی۔
(۴۷۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَوَارِسِ : الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ بِانْتِخَابِ أَخِیہِ أَبِی الْفَتْحِ الْحَافِظِ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ قَرَأَ بِالآیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۷۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات میں کتنی قرأت کفایت کر جائے گی
(٤٧٦١) سفیان کہتے ہیں کہ ابن شبرمہ فرماتے ہیں : میرے خیال میں قرآن کی کتنی قرأت آدمی کو کفایت کر جائے گی ، کیونکہ میں تو کوئی سورة تین آیات سے کم نہیں پاتا، میں نے کہا : تو پھر تین آیات سے کم پڑھنا مناسب نہیں ہے۔

(ب) عبدالرحمن بن یزید ابو مسعود سے نقل فرماتے ہیں اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں : جس نے رات کو سورة بقرہ کی دو آیات تلاوت کرلیں تو یہ اس کو کفایت کر جائیں گی۔
(۴۷۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا یَعْنِی ابْنَ الْمَدِینِیِّ یَقُولُ قَالَ سُفْیَانُ قَالَ ابْنُ شُبْرُمَۃَ : نَظَرْتُ کَمْ یَکْفِی الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَلَمْ أَجِدْ سُورَۃً أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِ آیَاتٍ ، فَقُلْتُ : لاَ یَنْبَغِی أَنْ یُقْرَأَ أَقَلُّ مِنْ ثَلاَثِ آیَاتٍ ۔

قَالَ سُفْیَانُ فَقُلْتُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- : ((مَنْ قَرَأَ بِالآیَتَیْنِ مِنْ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی لَیْلَۃٍ کَفَتَاہُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات میں کتنی قرأت کفایت کر جائے گی
(٤٧٦٢) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے سے سنا وہ { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} ” کہہ دیجیے اللہ ایک ہے “ پڑھ رہا تھا اور اس کو بار بار دہرا رہا تھا۔ جب اس نے صبح کی تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور وہ ذکر کیا جو اس نے دیکھا تھا گویا وہ اس کو کم خیال کررہا تھا۔ قعنبی کہتے ہیں : وہ اس سورت کو کم خیال کررہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ سورت قرآن کے تہائی حصہ کے برابر ہے۔
(۴۷۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ وَحَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَجُلاً سَمِعَ رَجُلاً یَقْرَأُ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} یُرَدِّدُہَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَکَأَنَّ الرَّجُلَ یَتَقَلَلُہَا ، وَقَالَ الْقَعْنَبِیُّ یَتَقَالُّہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّہَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَغَیْرِہِ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ وَہُوَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ الَّذِی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات میں کتنی قرأت کفایت کر جائے گی
(٤٧٦٣) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے قتادہ بن لقمان نے بتایا کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں قیام کیا تو اس نے { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} ” کہہ دیجیے اللہ ایک ہے “ بار بار پڑھا۔ اس سے زائد کچھ نہیں پڑھا۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم نے صبح کی تو ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایک شخص نے رات کے قیام میں { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ اللَّہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ} ” کہہ دیجیے اللہ ایک ہے، اللہ بےنیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور اس کا کوئی ہمسر بھی نہیں “ بار بار اسی کو دہراتا رہا اس کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔ گویا وہ شخص اس سورت کو کم سمجھ رہا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ سورت قرآن کے تہائی حصہ کے برابر ہے۔
(۴۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّیُّ حَدَّثَنِی أَبُو مَعْمَرٍ الْبَغْدَادِیُّ الْبَزَّازُ فِی قَطِیعَۃِ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَہُوَ ابْنُ أَبِی صَعْصَعَۃَ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی قَتَادَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ : أَنَّ رَجُلاً قَامَ فِی زَمَنِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَرَأَ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} السُّورَۃَ کُلَّہَا یُرَدِّدُہَا لاَ یَزِیدُ عَلَیْہَا قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ رَجُلاً قَامَ لَیْلَۃً یَقْرَأُ مِنَ السَّحَرِ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ اللَّہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ} یُرَدِّدُہَا لاَ یَزِیدُ عَلَیْہَا ۔قَالَ : کَاَنَ الرَّجُلَ یَتَقَالُّہَا۔قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إِنَّہَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ))۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٦٤) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعات ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو صبح کا ڈر ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے اور جو اس نے پڑھ لی ہے وتر بنا دے ۔
(۴۷۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((صَلاَۃُ اللَّیْلِ مَثْنَی مَثْنَی ، فَإِذَا خَشِیَ أَحَدُکُمُ الصُّبْحَ صَلَّی رَکْعَۃً وَاحِدَۃً تُوتِرُ لَہُ مَا قَدْ صَلَّی))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔[صحیح۔ بخاری]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٦٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو سنا ، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کررہا تھا اور آپ منبر پر تھے کہ ہم میں سے کوئی رات کی نماز کیسے پڑھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو دو رکعات جب آپ کو صبح کا خطرہ ہو تو پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنانے کے لیے ایک رکعت مزید پڑھ لو ۔
(۴۷۶۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْخَطِیبُ الإِسْفِرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً یَسْأَلُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ : کَیْفَ یُصَلِّی أَحَدُنَا بِاللَّیْلِ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: (( مَثْنَی مَثْنَی ، فَإِذَا خَشِیتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَۃٍ تُوتِرُ لَکَ مَا مَضَی مِنْ صَلاَتِکَ))۔[صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٦٦) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رات کی نماز کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو دو رکعات، جب آپ کو صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔
(۴۷۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- عَنْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ فَقَالَ : ((مَثْنَی مَثْنَی ، فَإِذَا خَشِیتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَکْعَۃٍ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَکِّیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٦٧) سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : مسلمانوں میں سے کسی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! رات کی نماز کیسے ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو دو رکعات، جب آپ کو صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔ عبداللہ بن عمر (رض) ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے۔ پھر ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
(۴۷۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ صَلاَۃُ اللَّیْلِ؟ فَقَالَ : ((مَثْنَی مَثْنَی، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَۃٍ))۔وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یُسَلِّمُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یُوتِرُ بِوَاحِدَۃٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٦٨) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کے آخری حصہ میں وتر ایک رکعت ہے۔
(۴۷۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ فَذَکَرَہُ۔

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۵۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٦٩) ابی مجلز فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
(۴۷۶۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((الْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ))۔ [صحیح۔ سبق فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٠) ابو مجلز فرماتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ وہ ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں۔
(۴۷۷۰) وَبِإِسْنَادِہِ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہَمَّامِ بْنِ یَحَّیَی۔ [صحیح۔ سبق فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧١) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : ایک شخص آیا اور اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وتر کے بارے میں سوال کیا اور میں ان کے درمیان تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعات ہیں۔ جب رات کا آخری حصہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ، پھر فجر سے پہلے دو رکعات پڑھ۔ یعنی نماز فجر سے پہلے دو رکعات۔

(ب) عاصم احول اور لاحق بن حمید اس کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو صبح سے پہلے جلدی ایک رکعت پڑھ۔
(۴۷۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَحْمَسِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ الْوِتْرِ وَأَنَا بَیْنَہُمَا ، فَقَالَ : ((صَلاَۃُ اللَّیْلِ مَثْنَی ، فَإِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَأَوْتِرْ بِرَکْعَۃٍ ، ثُمَّ صَلِّی رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ))۔یُرِیدُ قَبْلَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ۔

قَالَ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ وَقَالَ لاَحِقُ بْنُ حُمَیْدٍ مِثْلَ ہَذَا الْحَدِیثِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : ((بَادِرِ الصُّبْحَ بِرَکْعَۃٍ))۔

[صحیح۔ تقدم برقم ۴۷۶۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٢) عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے ان کو بتایا کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تھے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں رات کی نماز کو طاق کیسے بناؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو رات کو نماز پڑھے تو دو دو رکعات نماز ادا کرے، اگر وہ صبح ہونے سے ڈرے تو اپنی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا لے یعنی ایک رکعت مزید ادا کرلے۔
(۴۷۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُمْ : أَنَّ رَجُلاً نَادَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ أُوتِرُ صَلاَۃَ اللَّیْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ صَلَّی فَلْیُصَلِّ مَثْنَی مَثْنَی ، فَإِنْ خَشِیَ أَنْ یُصْبِحَ سَجَدَ سَجْدَۃً فَأَوْتَرَتْ لَہُ مَا صَلَّی))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٣) شعبہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن حریث سے سنا کہ ابن عمر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کی نماز دو د رکعات ہیں۔ اگر آپ کو یہ خطرہ ہو کہ صبح کا وقت ہوجائے گا تو ایک رکعت وتر پڑھو۔ ابن عمر (رض) سے کہا گیا : دو دو سے کیا مراد ہے ؟ تو فرمایا : ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا۔

(ب) آدم کی روایت میں ہے : ایک رکعت وتر پڑھ۔ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے کہا : دو دو سے کیا مراد ہے ؟ وہ کہتے ہیں : دو رکعات کے بعد سلام پھیرنا۔
(۴۷۷۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَۃَ بْنَ حُرَیْثٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((صَلاَۃُ اللَّیْلِ مَثْنَی مَثْنَی ، فَإِذَا رَأَیْتَ أَنَّ الصُّبْحَ یُدْرِکُکَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَۃٍ))۔فَقِیلَ لاِبْنِ عُمَرَ : مَا مَثْنَی مَثْنَی؟ قَالَ : ((تُسَلِّمُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ)) لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بَشَّارٍ۔

وَفِی رِوَایَۃِ آدَمَ: ((فَأَوْتِرْ بِرَکْعَۃٍ))۔ فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عُمَرَ: مَا مَثْنَی مَثْنَی؟ فَقَالَ: السَّلاَمُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ، وَقَالَ فِی إِسْنَادِہِ عَنْ شُعْبَۃَ حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ حُرَیْثٍ وَقَالَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٤) عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ ان میں ایک وتر پڑھتے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوتے تو دائیں جانب لیٹ جاتے۔ جب مؤذن آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو ہلکی رکعات ادا کرتے۔
(۴۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی بِاللَّیْلِ إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُوتِرُ مِنْہَا بِوَاحِدَۃٍ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْہَا اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّہِ الأَیْمَنِ حَتَّی یَأْتِیَہُ الْمُؤَذِّنُ فَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۶۷۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٥) عروہ بن زبیر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فجر تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیرتے تھے۔ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور سجدہ اتنا لمبا فرماتے تھے، جتنے وقت میں تم میں سے کوئی پچاس آیت کی تلاوت کرلے اور جب مؤذن فجر کی اذان سے خاموش ہوتا اور فجر واضح ہوجاتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر دو ہلکی رکعات ادا کرتے۔ پھر دائیں جانب لیٹ جاتے۔ پھر مؤذن اقامت کے لیے آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ساتھ چلے جاتے۔
(۴۷۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی فِیمَا بَیْنَ أَنْ یَفْرُغَ مِنْ صَلاَۃِ الْعِشَائِ إِلَی الْفَجْرِ إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُسَلِّمُ مِنْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ، وَیُوتِرُ بِوَاحِدَۃٍ ، وَیَسْجُدُ سَجْدَۃً قَدْرَ مَا یَقْرَأُ أَحَدُکُمْ خَمْسِینَ آیَۃً قَبْلَ أَنْ یَرْفَعَ رَأْسَہُ ، فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، وَتَبَیَّنَ لَہُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ خَفِیفَتَیْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّہِ الأَیْمَنِ حَتَّی یَأْتِیَہُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَۃِ ، فَیَخْرُجُ مَعَہُ۔

قَالَ وَبَعْضُہُمْ یَزِیدُ عَلَی بَعْضٍ فِی قِصَّۃِ الْحَدِیثِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَیُونُسَ بْنِ یَزِیدَ۔

[صحیح۔ تقدم برقم ۴۶۷۸]
tahqiq

তাহকীক: