আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৭৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٦) ابو ایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ جس کو زیادہ محبوب ہو کہ وہ پانچ وتر پڑھے تو وہ ایسا کرے اور جس کو پسند ہو کہ وہ تین وتر پڑھے تو وہ ایسا کرے اور جس کو پسند ہو کہ وہ ایک وتر پڑھے تو وہ ایسا کرلے۔
(۴۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا قُرَیْشُ بْنُ حَیَّانَ الْعِجْلِیُّ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ وَائِلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْیَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِثَلاَثٍ فَلْیَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِوَاحِدَۃٍ فَلْیَفْعَلْ))۔

[صحیح لغیرہ ۔ ابوداؤد ۱۴۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٧) ابو ایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر حق ہے جو چاہے پانچ یا تین وتر پڑھ لے اور جو ایک پڑھنا چاہے تو ایک پڑھ لے۔
(۴۷۷۷) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ الْوِتْرَ حَقٌّ ، فَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ ، وَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ ، وَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ))۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٨) ابو ایوب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ وتر پڑھو، اگر پانچ کی طاقت نہیں تو تین وتر پڑھو۔ اگر تین کی طاقت نہیں تو ایک وتر پڑھو۔ وگرنہ اشارے سے ادا کرلو۔
(۴۷۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَوْتِرْ بِخَمْسٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلاثٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَۃٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِ إِیمَائً))۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٧٩) ابو ایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر ثابت ہے (حق ہے) جو سات وتر پڑھنا چاہے اور جو تین وتر پڑھنا چاہے اور جو ایک وتر پڑھنا چاہے جو اس سے بھی عاجز آجائے تو وہ اشارے سے پڑھ لے۔
(۴۷۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ، وَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَۃٍ ، وَمَنْ غُلِبَ فَلْیُومِ إِیمَائً))۔

اتَّفَقَ ہَؤُلاَئِ عَلَی رَفْعِ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔وَتَابَعَہُمْ عَلَی ذَلِکَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ مِنْ رِوَایَۃِ وُہَیْبٍ عَنْہُ۔[صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٠) ابو ایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وتر حق ہے جو پانچ وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کرے اور جو تین وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایسا کرلے اور جو ایک وتر پڑھنا پسند کرے تو وہ ایسا کرلے۔ جو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو وہ اشارہ سے پڑھ لے۔

(ب) صحابہ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ نفل نماز یا وتر الگ ایک رکعت ادا کرنی چاہیے ۔ انہی میں سے عمر بن خطاب (رض) بھی ہیں۔
(۴۷۸۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبْوالْحُسَیْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بَنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْیَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِثَلاَثٍ فَلْیَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِوَاحِدَۃٍ فَلْیَفْعَلْ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَلْیُومِ إِیمَائً))

وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ مَوْقُوفًا عَلَی أَبِی أَیُّوبَ ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ مَوْقُوفًا عَلَی أَبِی أَیُّوبَ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرَوَیْہِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ : ہَذَا الْحَدِیثُ بِرِوَایَۃِ یُونُسَ وَالزُّبَیْدِیِّ وَابْنِ عُیَیْنَۃَ وَشُعَیْبٍ وَابْنِ إِسْحَاقَ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ أَشْبَہُ أَنْ یَکُونَ غَیْرَ مَرْفُوعٍ ، وَإِنَّہُ لَیَتَخَالَجُ فِی النَّفْسِ مِنْ رِوَایَۃِ الْبَاقِینَ مَعَ رِوَایَۃِ وُہَیْبٍ عَنْ مَعْمَرٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ التَّطَوُّعَ أَوِ الْوِتْرَ بِرَکْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ مَفْصُوْلَۃٍ عَمَّا قَبْلَہَا مِنْہُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨١) قابوس بن ابی ظبیان فرماتے ہیں کہ ان کے والد فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) مسجد نبوی کے پاس سے گزرے تو ایک رکعت نماز ادا کی ، پھر چلے تو پیچھے سے ایک شخص آ ملا اور کہا : اے امیرالمومنین ! آپ نے صرف ایک رکعت نماز ادا کی ہے۔ آپ فرمانے لگے : یہ نفل نماز ہے جو چاہے ایک رکعت پڑھ لے اور جو چاہے زیادہ کرلے کم کرلے۔
(۴۷۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرَوَیْہِ۔ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِی ظَبْیَانَ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَرَکَعَ رَکْعَۃً وَاحِدَۃً ، ثُمَّ انْطَلَقَ ، فَلَحِقَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ مَا رَکَعْتَ إِلاَّ رَکْعَۃً وَاحِدَۃً۔قَالَ: ہُوَ التَّطَوُّعُ، فَمَنْ شَائَ زَادَ، وَمَنْ شَائَ نَقَصَ۔

رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ قابُوسَ۔ وَمِنْہُمْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔[ضعیف۔ عبدالرزاق ۵۱۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٢) عبدالرحمن بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں مقامِ ابراہیم کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور میں نے ارادہ کرلیا کہ آج کی رات اس جگہ کسی کو کھڑے نہیں ہونے دوں گا۔ اچانک ایک شخص مجھے چونکے مارنے لگا، میں نے اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ پھر اس نے مجھے چونکا مارا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ عثمان بن عفان (رض) تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا تو وہ آگے بڑھے اور انھوں نے ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ دیا۔
(۴۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ : قُمْتُ خَلْفَ الْمَقَامِ وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ لاَ یَغْلِبَنِی عَلَیْہِ أَحَدٌ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ ، فَإِذَا رَجُلٌ یَغْمِزُنِی ، فَلَمْ أَلْتَفِتْ ثُمَّ غَمَزَنِی فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَتَنَحَّیْتُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ الْقُرْآنَ فِی رَکْعَۃٍ۔

[صحیح لغیرہ۔ ابن ابی شیبہ ۳۷۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٣) عبدالرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے کہا : آج رات میں مقام ابراہیم پر ضرور کھڑا ہوں گا تو میں سب سے پہلے پہنچ گیا، میں نماز پڑھ رہا تھا تو ایک شخص نے اپنا ہاتھ میری کمر پر رکھا، میں نے دیکھا وہ عثمان بن عفان تھے۔ ان دنوں وہ امیرالمومنین بھی تھے۔ میں پیچھے ہٹ گیا۔ وہ کھڑے ہوئے، انھوں نے مکمل قرآن پڑھ دیا، پھر رکوع کیا اور بیٹھ گئے، پھر تشہد پڑھ کر ایک رکعت میں سلام پھیر دیا، اس پر زیادہ نہیں کیا۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا : اے امیرالمومنین ! ایک رکعت ؟ تو وہ کہنے لگے : یہ میرا وتر ہے۔
(۴۷۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ بِلاَلٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ قُلْتُ : لأَغْلِبَنَّ عَلَی الْمَقَامِ اللَّیْلَۃَ فَسَبَقْتُ إِلَیْہِ ، فَبَیْنَا أَنَا قَائِمٌ أُصَلِّی إِذَا رَجُلٌ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی ظَہْرِی قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرٌ ، فَتَنَحَّیْتُ عَنْہُ ، فَقَامَ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ حَتَّی فَرَغَ مِنْہُ ، ثُمَّ رَکَعَ وَجَلَسَ وَتَشَہَّدَ ، وَسَلَّمَ فِی رَکْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ لَمْ یَزِدْ عَلَیْہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّمَا صَلَّیْتَ رَکْعَۃً ۔قَالَ: ہِیَ وِتْرِی۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٤) مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ سعد سے کہا گیا : آپ ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں ؟ کہنے لگے : ہاں۔ سات وتر مجھے پانچ سے زیادہ پسند ہیں اور پانچ وتر مجھے تین سے زیادہ پسند ہیں اور تین وتر مجھے ایک سے زیادہ پسند ہیں، لیکن میں اپنے اوپر تخفیف کرتا ہوں۔
(۴۷۸۴) وَمِنْہُمْ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْخَطِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَوْثَرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمِّہِ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قِیلَ لِسَعْدٍ : إِنَّکَ تُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ ۔قَالَ : نَعَمْ ، سَبْعٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ خَمْسٍ ، وَخَمْسٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ ثَلاَثٍ ، وَثُلاَثٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ وَاحِدَۃٍ ، وَلَکِنْ أُخَفِّفُ عَنْ نَفْسِی۔ [صحیح۔ عبدالرزاق ۴۶۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٥) محمد بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو دیکھا، وہ عشا کی نماز پڑھتے اور اس کے بعد ایک رکعت۔
(۴۷۸۵) وَأَخْبَرَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ خُصَیْفَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِیلَ قَالَ : رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَلِّی الْعِشَائَ ، ثُمَّ صَلَّی بَعْدَہَا رَکْعَۃً۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٦) عبداللہ بن ثعلبہ عذری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ہیں، انھوں نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا۔ فرماتے ہیں : میں نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو دیکھا، انھوں نے عشا کی نماز ادا کی، پھر ایک رکعت پڑھی اور یونس کی روایت میں ہے کہ انھوں نے آدھی رات تک قیام کیا۔
(۴۷۸۶) وَأَخْبَرَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ الأَیْلِیُّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْعُذْرِیِّ وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- قَدْ مَسَحَ عَلَی وَجْہِہِ قَالَ : رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا صَلَّی الْعِشَائَ أَوْتَرَ بِرَکْعَۃٍ۔زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنْ یُونُسَ : حَتَّی یَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ ، وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ شُعَیْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

[صحیح۔ عبدالرزاق ۴۶۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٧) ابن سیرین تمیم داری سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک رکعت میں مکمل قرآن پڑھا۔
(۴۷۸۷) وَمِنْہُمْ تَمِیمٌ الدَّارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ : أَنَّہُ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِی رَکْعَۃٍ۔ [صحیح۔ الطحاوی ۱/۳۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٨) ابو مجلز فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے۔ انھوں نے عشا کی دو رکعات پڑھیں۔ پھر ایک رکعت وتر پڑھی، پھر سو رہ نساء کی سو آیات کی تلاوت کی، پھر کہنے لگے : میں ذرا بھی کمی بیشی نہ کروں گا، میں اپنے قدم وہاں رکھوں گا جہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قدم رکھے تھے اور میں بھی وہاں سے پڑھوں گا جہاں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھا تھا۔
(۴۷۸۸) وَمِنْہُمْ أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ : أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ کَانَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ فَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَۃً أَوْتَرَ بِہَا ، فَقَرَأَ بِمَائَۃِ آیَۃٍ مِنَ النِّسَائِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَیَّ حَیْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَدَمَیْہِ ، وَأَنْ أَقْرَأَ بِمَا قَرَأَ بِہِ۔ [صحیح۔ نسائی ۱۷۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٨٩) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) وتر کی ایک یا دو رکعات میں سلام پھیر دیتے اور اپنے کسی کام کا حکم بھی دے دیتے۔
(۴۷۸۹) وَمِنْہُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُسَلِّمُ مِنَ الرَّکْعَۃِ وَالرَّکْعَتَیْنِ فِی الْوِتْرِ حَتَّی یَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِہِ ، وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ مِنَ الْوِتْرِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ مالک ۲۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٠) مطلب بن عبداللہ مخزومی فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا : اس نے کہا : میں وتر کیسے پڑھوں ؟ تو عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : ایک وتر پڑھ۔ وہ کہنے لگا : میں ڈرا تھا کہ لوگ کہیں گے ـ: یہ بتیرا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے پوچھا : کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی سنت کا ارادہ رکھتا ہے ! یہ اللہ اور اس کے رسول کا طریقہ ہے۔
(۴۷۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی التِّنِّیسِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ حَدَّثَنِی الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَخْزُومِیُّ قَالَ : أَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : کَیْفَ أُوتِرُ؟ قَالَ : أَوْتِرْ بِوَاحِدَۃٍ۔قَالَ : إِنِّی أَخْشَی أَنْ یَقُولَ النَّاسُ إِنَّہَا الْبُتَیْرَائُ ۔قَالَ قَالَ : أَسُنَّۃَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ تُرِیدُ؟ ہَذِہِ سُنَّۃُ اللَّہِ وَرَسُولِہِ۔

[ضعیف۔ ابن خزیمہ ۱۰۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩١) سعد بن ابی وقاص کے آزاد کردہ غلام ابو منصور فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے رات کے وتر کے بارہ میں سوال کیا تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : اے بیٹا ! کیا دن کے وتروں کو جانتے ہو۔ میں نے کہا : ہاں وہ مغرب ہے۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : تو نے سچ کہا، لیکن رات کا صرف ایک وتر ہے جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا۔ میں نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! لوگ تو اس کو بتیرا کہتے ہیں۔ کہنے لگے : اے بیٹا ! یہ بتیرا نہیں ہوتا بتیرا تو یہ ہے کہ آدمی ایک رکعت مکمل رکوع، سجود اور قیام کے ساتھ پڑھے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو تو نہ رکوع و سجود مکمل کرے اور نہ قیام۔ ان میں عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب ہیں۔
(۴۷۹۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الصَّغَانِیُّ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی مَنْصُورٍ مَوْلَی سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ عَنْ وِتْرِ اللَّیْلِ ، فَقَالَ : یَا بُنَیَّ ہَلْ تَعْرِفُ وِتْرَ النَّہَارِ؟ قُلْتُ : نَعَمِ الْمَغْرِبُ۔قَالَ : صَدَقْتَ وِتْرُ اللَّیْلِ وَاحِدَۃٌ ، بِذَلِکَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ۔فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ یَقُولُونَ إِنَّ تِلْکَ الْبُتَیْرَائُ ۔قَالَ : یَا بُنَیَّ لَیْسَ تِلْکَ الْبُتَیْرَائَ ، إِنَّمَا الْبُتَیْرَائُ أَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ الرَّکْعَۃَ التَّامَّۃَ فِی رُکُوعِہَا وَسُجُودِہَا وَقِیَامِہَا ، ثُمَّ یَقُومُ فِی الأُخْرَی وَلاَ یُتِمُّ لَہَا رُکُوعًا وَلاَ سُجُودًا وَلاَ قِیَامًا ، فَتِلْکَ الْبُتَیْرَائُ ۔ وَمِنْہُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٢) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں : میں نے عشا کی نماز ابن عباس کے پہلو میں پڑھی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے : کیا میں تجھے وتر نہ سکھا دوں۔ میں نے کہا : کیوں نہیں انھوں نے ایک رکعت پڑھی۔
(۴۷۹۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ وَسُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ أَخْبَرَنِی مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْعَطَّارُ قَالَ حَدَّثَنِی عِسْلُ بْنُ سُفْیَانَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْعِشَائَ الآخِرَۃَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : أَلاَ أُعَلِّمُکَ الْوِتْرَ؟ قُلْتُ : بَلَی ، فَقَامَ فَرَکَعَ رَکْعَۃً۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٣) کریب فرماتے ہیں : میں نے امیر معاویہ کو دیکھا، انھوں نے عشا کی نماز پڑھی، پھر ایک رکعت وتر پڑھا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ ابن عباس (رض) کے پاس کیا تو وہ فرمانے لگے : اس نے درست کیا۔
(۴۷۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفِرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ أَخْبَرَنِی کُرَیْبٌ قَالَ : رَأَیْتُ مُعَاوِیَۃَ صَلَّی الْعِشَائَ ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَکْعَۃٍ ، فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَصَابَ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۵۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٤) ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام کریب فرماتے ہیں کہ میں نے امیر معاویہ کو عشا کی نماز پڑھتے دیکھا، پھر انھوں نے ایک رکعت وتر پڑھا، اس پر کچھ زائد نہیں کیا۔ میں نے ابن عباس (رض) کو خبر دی تو ابن عباس فرمانے لگے : ہم میں سے کوئی امیر معاویہ سے زیادہ نہیں جانتا۔ وتر ایک، پانچ، سات یا اس سے بھی زائد ہوسکتے ہیں۔
(۴۷۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عُتْبَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ کُرَیْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ رَأَی مُعَاوِیَۃَ صَلَّی الْعِشَائَ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِرَکْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ لَمْ یَزِدْ عَلَیْہَا ، فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَصَابَ أَیْ بُنَیَّ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا أَعْلَمَ مِنْ مُعَاوِیَۃَ ، ہِیَ وَاحِدَۃٌ أَوْ خَمْسٌ أَوْ سَبْعٌ إِلَی أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ الْوِتْرُ مَا شَائَ ۔ وَمِنْہُمْ أَبُو أَیُّوبَ : خَالِدُ بْنُ زَیْدٍ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔

[حسن۔ اخرجہ الشافعی ۳۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٥) عطاء بن یزید لیثی نے ابو ایوب انصاری (رض) سے روایت کیا کہ وتر حق ہے، جو پانچ وتر پڑھنا چاہے وہ پڑھے اور جو تین وتر پڑھنا چاہے وہ تین پڑھ لے اور جو ایک وتر پڑھنا چاہے وہ ایک پڑھ لے اور جو طاقت نہ رکھے تو وہ اپنے سر کے اشارے سے پڑھ لے، وہ ایسا کرسکتا ہے۔
(۴۷۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ یَزِیدَ اللَّیْثِیُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا أَیُّوبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْیَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِثَلاَثٍ فَلْیَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُوتِرَ بِوَاحِدَۃٍ فَلْیَفْعَلْ ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ إِلاَّ أَنْ یُومِئَ بِرَأْسِہِ فَلْیَفْعَلْ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۷۸۰]
tahqiq

তাহকীক: