আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪৭৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٦) نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) رات کو دو دو رکعات نماز پڑھتے تھے ، جو ان کے مقدر میں ہوتی۔ اگر صبح ہونے کا ڈر ہوتا تو ایک رکعت پڑھتے، یہ ان کی نماز کے آخر میں ہوتی۔ آپ (رض) بیٹھ جاتے اور ان دو رکعات میں سلام پھیرتے، جس کے بعد وتر ہوتا تھا۔ پھر اللہ اکبر کہتے اور وتر پڑھ لیتے۔ نافع فرماتے ہیں : معاذ القاری بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(۴۷۹۶) وَمِنْہُمْ مُعَاذُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو حَلِیمَۃَ الْقَارِی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَہِدَ الْجِسْرَ مَعَ أَبِی عُبَیْدٍ الثَّقَفِیِّ فِی خِلاَفَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ قِیلَ لَہُ صُحْبَۃٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ قَالَ قَالَ نَافِعٌ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُصَلِّی بِاللَّیْلِ مَا قُدِّرَ لَہُ سَجْدَتَیْنِ سَجْدَتَیْنِ ، فَإِنْ خَشِیَ الصُّبْحَ صَلَّی وَاحِدَۃً فَجَعَلَہَا آخِرَ صَلاَتِہِ، وَنَزَلَ وَسَلَّمَ فِی السَّجْدَتَیْنِ اللَّتَیْنِ فِی أَثَرِہِمَا الْوِتْرُ، ثُمَّ کَبَّرَ فَصَلَّی الْوِتْرَ۔ وَقَالَ قَالَ نَافِعٌ: سَمِعْتُ مُعَاذًا الْقَارِی یَفْعَلُ ذَلِکَ۔
(ت) تَابَعَہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ وَأَیُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ نَافِعٍ عَنھُمَا جَمِیعًا۔[صحیح۔ موطاء ۲۵۱]
(ت) تَابَعَہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أُمَیَّۃَ وَأَیُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ نَافِعٍ عَنھُمَا جَمِیعًا۔[صحیح۔ موطاء ۲۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٧) ابی ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ نے عشا کے بعد ایک رکعت وتر پڑھا تو ان کے پاس ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام کریب بھی تھے۔ کریب نے ابن عباس (رض) کو بتایا تو وہ فرمانے لگے : ان کو چھوڑو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں۔
(۴۷۹۷) وَمِنْہُمْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامُ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَلْمٍ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا الْمُعَافَی بْنُ عِمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : أَوْتَرَ مُعَاوِیَۃُ بَعْدَ الْعِشَائِ بِرَکْعَۃٍ وَعِنْدَہُ مَوْلًی لاِبْنِ عَبَّاسٍ ، فَأَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ فَقَالَ : دَعْہُ فَإِنَّہُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ بِشْرٍ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۷۹۳]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ بِشْرٍ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۷۹۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر ایک رکعت ہے اور نفل نماز ایک رکعت پڑھنے کے جواز کا بیان
(٤٧٩٨) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے کہا گیا : آپ کا امیر معاویہ کے بارے میں کیا خیال ہے وہ صرف ایک وتر ہی پڑھتے ہیں ؟ تو وہ فرمانے لگے : اس نے درست کام کیا وہ فقیہ شخص ہے۔
(۴۷۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو مَنْصُورٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْحَلَبِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الإِمَامُ قَالاَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ۔
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٌ الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ قِیلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : ہَلْ لَکَ فِی مُعَاوِیَۃَ مَا أَوْتَرَ إِلاَّ بِرَکْعَۃٍ۔قَالَ : أَصَابَ۔إِنَّہُ فَقِیہٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم ۴۷۹۳]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٌ الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ قِیلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : ہَلْ لَکَ فِی مُعَاوِیَۃَ مَا أَوْتَرَ إِلاَّ بِرَکْعَۃٍ۔قَالَ : أَصَابَ۔إِنَّہُ فَقِیہٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم ۴۷۹۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٧٩٩) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز رات کو تیرہ رکعات ہوتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانچ وتر پڑھتے اور ان میں سلام نہ پھیرتے، پھر آخری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔
(۴۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ صَلاَتُہُ مِنَ اللَّیْلِ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُوتِرُ بِخَمْسٍ ، وَلاَ یُسَلِّمُ فِی شَیْئٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّی یَجْلِسَ فِی الآخِرَۃِ یُسَلِّمُ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۳۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٠) ہشام بن عرو ہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے پانچ وتر ہوتے۔ ان پانچ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھتے نہ تھے اور سلام آخری رکعت میں پھیرتے۔
(ب) ابوبکر کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی۔ ان میں سے پانچ وتر ہوتے اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
(ب) ابوبکر کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی۔ ان میں سے پانچ وتر ہوتے اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
(۴۸۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ وَعَبْدَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُوتِرُ مِنْہَا بِخَمْسٍ ، وَلاَ یَجْلِسُ فِی شَیْئٍ مِنْہَا حَتَّی یَجْلِسَ فِی آخِرِہِنَّ فَیُسَلِّمُ۔لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی۔
وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی بَکْرٍ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِاللَّیْلِ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُوتِرُ مَنْ ذَلِکَ بِخَمْسٍ لاَ یَجْلِسُ فِی شَیْئٍ مِنْہَا إِلاَّ فِی آخِرِہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُوتِرُ مِنْہَا بِخَمْسٍ ، وَلاَ یَجْلِسُ فِی شَیْئٍ مِنْہَا حَتَّی یَجْلِسَ فِی آخِرِہِنَّ فَیُسَلِّمُ۔لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی۔
وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی بَکْرٍ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِاللَّیْلِ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُوتِرُ مَنْ ذَلِکَ بِخَمْسٍ لاَ یَجْلِسُ فِی شَیْئٍ مِنْہَا إِلاَّ فِی آخِرِہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو جاتے، جب بیدار ہوتے تو مسواک کرتے اور وضو فرماتے، پھر آٹھ رکعات نماز پڑھتے تو ہر دو رکعات میں بیٹھتے تھے اور سلام پھیرتے، پھر پانچ رکعات پڑھتے۔ صرف پانچویں رکعت میں بیٹھتے اور سلام بھی صرف پانچویں رکعت میں پھیرتے۔
(ب) محمد بن جعفر بن زبیر کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھ رکعات دو دو کر کے پڑھتے۔
(ب) محمد بن جعفر بن زبیر کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھ رکعات دو دو کر کے پڑھتے۔
(۴۸۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبْغَدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا
ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ عَائِشَۃَ حَدَّثَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَرْقُدُ ، فَإِذَا اسْتَیْقَظَ تَسَوَّکَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّی ثَمَانِ رَکَعَاتٍ یَجْلِسُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ، وَیُسَلِّمُ ثُمَّ یُوتِرُ بِخَمْسِ رَکَعَاتٍ ، لاَ یَجْلِسُ إِلاَّ فِی الْخَامِسَۃِ ، وَلاَ یُسَلِّمُ إِلاَّ فِی الْخَامِسَۃِ۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہِشَامٍ۔ وَتَابَعَہُ عَلَی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنْ عُرْوَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: سِتَّ رَکَعَاتٍ ، مَثْنَی مَثْنَی۔ [صحیح۔ احمد ۶/۱۲۳]
ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ عَائِشَۃَ حَدَّثَتْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَرْقُدُ ، فَإِذَا اسْتَیْقَظَ تَسَوَّکَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّی ثَمَانِ رَکَعَاتٍ یَجْلِسُ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ، وَیُسَلِّمُ ثُمَّ یُوتِرُ بِخَمْسِ رَکَعَاتٍ ، لاَ یَجْلِسُ إِلاَّ فِی الْخَامِسَۃِ ، وَلاَ یُسَلِّمُ إِلاَّ فِی الْخَامِسَۃِ۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ ہِشَامٍ۔ وَتَابَعَہُ عَلَی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَنْ عُرْوَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: سِتَّ رَکَعَاتٍ ، مَثْنَی مَثْنَی۔ [صحیح۔ احمد ۶/۱۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٢) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرہ رکعات پڑھتے، دو رکعتیں صبح کی نماز سے پہلے۔ چھ رکعات دو دو کرے اور پانچ وتر، ان کے درمیان بیٹھتے نہ تھے صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
(۴۸۰۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً بِرَکْعَتَیْہِ قَبْلَ الصُّبْحِ ، یُصَلِّی سِتًّا مَثْنَی مَثْنَی ، وَیُوتِرُ بِخَمْسٍ لاَ یَقْعُدُ بَیْنَہُنَّ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ۔ [صحیح لغیرہ۔ ابوداؤد ۱۳۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٣) سعد بن ہشام حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین وتر پڑھتے اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے۔
(ب) سعد بن ہشام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نو اور کبھی سات وتر بھی پڑھتے۔
(ب) سعد بن ہشام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نو اور کبھی سات وتر بھی پڑھتے۔
(۴۸۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُوتِرُ بِثَلاَثٍ لاَ یَقْعُدُ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ۔ کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ۔
وَقَدْ رُوِّینَا فِی حَدِیثِ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ وِتْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِتِسْعٍ ثُمَّ بِسَبْعٍ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حاکم ۱/۴۴۷]
وَقَدْ رُوِّینَا فِی حَدِیثِ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ وِتْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِتِسْعٍ ثُمَّ بِسَبْعٍ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حاکم ۱/۴۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٤) عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کتنے تھے ؟ وہ فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار اور تین، چھ اور تین، آٹھ اور تین، دس اور تین اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور تیرہ سے زیادہ اور احمد نے زیادہ کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی دو رکعات سے وتر نہیں پڑھتے تھے۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کیسے تھے ؟ فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کبھی نہیں چھوڑا۔ احمد نے چھ اور تین کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ ممکن ہے ان کی مراد یہ ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین وتر پڑھتے نہ تو درمیان میں بیٹھتے اور نہ سلام پھیرتے تھے۔
(ب) ہشام بن عروہ وتر کی پانچ رکعات کے متعلق فرماتے ہیں۔
(ب) ہشام بن عروہ وتر کی پانچ رکعات کے متعلق فرماتے ہیں۔
(۴۸۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْمُرَادِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَیْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : بِکَمْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُوتِرُ؟ قَالَتْ : کَانَ یُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلاَثٍ وَسِتٍّ وَثَلاَثٍ وَثَمَانٍ وَثَلاَثٍ وَعَشْرٍ وَثَلاَثٍ ، وَلَمْ یَکُنْ یُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ ، وَلاَ بِأَکْثَرَ مِنْ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ۔زَادَ أَحْمَدُ : وَلَمْ یَکُنْ یُوتِرُ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔
قُلْتُ : مَا یُوتِرُ؟ قَالَتْ : لَمْ یَکُنْ یَدَعُ ذَلِکَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ أَحْمَدُ : وَسِتٍّ وَثَلاَثٍ۔وَہَذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یُرِیدُ بِہِ ثَلاَثًا لاَ یَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِجُلُوسٍ وَلاَ تَسْلِیمٍ ، فَیَکُونُ فِی مَعْنَی رِوَایَۃِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَی رِوَایَۃِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فِی الْوِتْرِ بِخَمْسِ رَکَعَاتٍ۔
[قوی۔ ابوداؤد ۱۳۰۶۲]
قُلْتُ : مَا یُوتِرُ؟ قَالَتْ : لَمْ یَکُنْ یَدَعُ ذَلِکَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ أَحْمَدُ : وَسِتٍّ وَثَلاَثٍ۔وَہَذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یُرِیدُ بِہِ ثَلاَثًا لاَ یَفْصِلُ بَیْنَہُنَّ بِجُلُوسٍ وَلاَ تَسْلِیمٍ ، فَیَکُونُ فِی مَعْنَی رِوَایَۃِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمَعْنَی رِوَایَۃِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فِی الْوِتْرِ بِخَمْسِ رَکَعَاتٍ۔
[قوی۔ ابوداؤد ۱۳۰۶۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٥) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے گھر رات گزاری۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز پڑھی، اس کے بعد چار رکعات ادا کیں۔ پھر سو گئے، پھر کھڑے ہوئے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے دائیں جانب کرلیا اور پانچ رکعات پڑھیں، پھر دو رکعت نماز ادا کی، پھر سو گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کی طرف چلے گئے۔
(۴۸۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بَنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ فِی بَیْتِ خَالَتِی مَیْمُونَۃَ ، فَصَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- الْعِشَائَ ، ثم جَائَ فَصَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ ، فَحَوَّلَنِی عَنْ یَمِینِہِ فَصَلَّی خَمْسَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ نَامَ حَتَّی سَمِعْتُ غَطِیطَہُ أَوْ قَالَ خَطِیطَہُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۷]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٦) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب نے ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کسی کام کے لیے بھیجا۔ اس دن ابن عباس (رض) کی خالہ میمونہ کی باری تھی۔ وہ ان کے پاس گئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت مسجد میں تھے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ میں لیٹ گیا۔ میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ آج میں شمار کروں گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کتنی نماز پڑھتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کا کچھ حصہ گزر جانے کے بعد آئے، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ میں لیٹا ہوا تھا۔ پھر فرمایا : سوجاؤ، آپ نے میمونہ (رض) سے چادر لی، اس کا بعض حصہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوپر تھا اور کچھ حصہ میمونہ (رض) کے اوپر تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں۔ پھر آٹھ رکعات ادا کیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ وتر پڑھے، درمیان میں نہیں بیٹھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تو اللہ کی تعریف کی، جس کا وہ اہل تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ ثنا کی اور آخر میں یہ الفاظ فرمائے : اے اللہ ! میرے دل میں نور بنا، اے اللہ ! میرے کانوں میں نور بنا دے اور میری آنکھوں میں نور بنا دے، اے اللہ ! میرے دائیں، بائیں، آگے اور پیچھے نور بنا دے اور مجھے نور میں زیادہ کر، مجھے نور میں زیادہ کر۔
(۴۸۰۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ سُہَیْلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بَعَثَہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَاجَۃٍ ، وَکَانَتْ لَیْلَۃُ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ خَالَۃِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْمَسْجِدِ۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَاضْطَجَعْتُ فِی حُجْرَتِہِ ، فَجَعَلْتُ فِی نَفْسِی أَنْ أُحْصِیَ کَمْ یُصَلِّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَجَائَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فِی الْحُجْرَۃِ بَعْدَ أَنْ ذَہَبَ اللَّیْلُ ، ثُمَّ قَالَ : ارْقُدْ أَوْ بَعْدُ قَالَ ثُمَّ تَنَاوَلَ مِلْحَفَۃً عَلَی مَیْمُونَۃَ ، فَارْتَدَی بِبَعْضِہَا وَعَلَیْہَا بَعْضُہَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ حَتَّی صَلَّی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ لَمْ یَجْلِسْ بَیْنَہُنَّ ، ثُمَّ قَعَدَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ، فَأَکْثَرَ مِنَ الثَّنَائِ ، ثُمَّ کَانْ آخِرُ کَلاَمِہِ أَنْ قَالَ : ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ لِی نُورًا فِی قَلْبِی، وَاجْعَلْ لِی نُورًا فِی سَمْعِی ، وَاجْعَلْ لِی نُورًا فِی بَصَرِی ، وَاجْعَلْ لِی نُورًا عَنْ یَمِینِی ، وَنُورًا عَنْ شِمَالِی، وَاجْعَلْ لِی نُورًا بَیْنَ یَدَیَّ ، وَنُورًا خَلْفِی ، وَزِدْنِی نُورًا وَزِدْنِی نُورًا))۔ [حسن۔ النسائی فی الکبرٰی ۴۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٧) اسماعیل بن زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ زید پانچ وتر پڑھتے تھے اور صرف آخری رکعت میں سلام پھیرتے تھے اور ابی بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
(۴۸۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیمٍ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عُرْوَۃَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ زَیْدًا کَانَ یُوتِرُ بِخَمْسٍ ، لاَ یُسَلِّمُ إِلاَّ فِی الْخَامِسَۃِ۔وَکَانَ أُبَیٌّ یَفْعَلُہُ۔کَذَا وَجَدْتُہُ فِی الْکِتَابِ أُبَیٌّ مُقَیَّدًا ۔ [حسن۔ بخاری فی تابخہ ۱/۳۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٨) حبیب معلم فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) سے کہا گیا کہ ابن عمر (رض) وتر کی دو رکعات میں سلام پھیرتے تھے۔ وہ کہنے لگے : ابن عمر (رض) ان سے زیادہ سمجھدار تھے، وہ تو تیسری رکعت میں تکبیر کے ذریعہ اٹھتے تھے۔
(۴۸۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ السَّمَرْقَنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حَبِیبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ قِیلَ لِلْحَسَنِ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُسَلِّمُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْوِتْرِ۔فَقَالَ : کَانَ عُمَرُ أَفْقَہَ مِنْہُ کَانَ یَنْہَضُ فِی الثَّالِثَۃِ بِالتَّکْبِیرِ۔ [صحیح۔ حاکم ۱/۴۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو پانچ یا تین وتر پڑھے وہ درمیان میں نہ بیٹھے اور سلام صرف آخری رکعت میں پھیرے
(٤٨٠٩) قیس بن سعد عطاء سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے تھے اور درمیان میں نہ بیٹھتے تھے اور تشہد بھی آخری رکعت میں پڑھتے تھے۔
(۴۸۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبِ قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ یُوْتِرُ بِثَلاَثٍ لاَ یَجْلِسُ فِیہِنَّ ، وَلاَ یَتَشَہَّدُ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ۔ [صحیح۔ حاکم ۱/۴۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو نو یا سات وتر پڑھے وہ آخری دو میں بیٹھے، لیکن سلام آخری رکعت میں پھیرے گا
(٤٨١٠) زرارہ بن ابی اوفی سعد بن ہشام سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر مدینہ کی طرف کوچ کیا تاکہ اپنے گھر کا سامان بیچ ڈالیں اور اس سے اسلحہ خرید کر روم کے جہاد میں شامل ہوجائیں اور اپنی شہادت تک جہاد کرتے رہیں۔ کہتے ہیں : میرے قوم کے لوگوں کا ایک گروہ مجھے ملا انھوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں چھ آدمیوں نے اس بات کا ارادہ کیا تھا، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ طریقہ اچھا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منع کردیا اور ان کو واپس کردیا۔ پھر وہ ہماری طرف لوٹے اور انھوں نے بتایا کہ وہ ابن عباس (رض) کے پاس آئے اور وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : کیا میں تجھے اس کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام لوگوں سے زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کو جانتا ہے ! میں نے کہا : ہاں، ابن عباس (رض) فرمانے لگے : عائشہ (رض) کے پاس جاؤ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں سوال کرو۔ واپس آ کر مجھے بھی بتانا جو وہ جواب دیں۔ سعد بن ہشام فرماتے ہیں : میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور میں نے ان کو ساتھ لیا۔ فرماتے ہیں : میں ان کے قریب نہیں جاؤں گا، میں نے ان کو منع کیا تھا کہ وہ ان دو بیعتوں کے بارے میں کچھ نہ کہیں، مگر انھوں نے کہا : میں نے قسم کھالی ہے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میرے ساتھ حکیم بن افلح آئے اور ہم عائشہ (رض) کے پاس آئے تو عائشہ کہنے لگیں : حکیم ! عائشہ (رض) نے اس کو پہچان لیا تو انھوں نے کہا : ہاں۔ عائشہ (رض) نے پوچھا : تیرے ساتھ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : سعد بن ہشام۔ فرماتی ہیں : عامر کا بیٹا اس پر رحم کھایا اور فرمایا : عامر اچھا آدمی ہے۔ میں نے کہا : اے ام المومنین ! مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کے بارے میں بتاؤ۔ فرماتی ہیں : کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اخلاق قرآن ہی ہے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں : میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو حکیم بن افلح نے میرے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کی بات شروع کردی تو عائشہ (رض) نے فرمایا : کیا تو نے یہ سورت نہیں پڑھی :{ یایھا المزمل } میں نے کہا : کیوں نہیں ! فرماتی ہیں کہ اس سورت کی ابتدا میں اللہ نے رات کے قیام کو فرض کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے ایک سال تک رات کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے اور اس کے اختتام پر اللہ نے بارہ مہینے مقرر کیے ہیں۔ پھر اللہ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل کردی تو فرض ہونے کے بعد رات کا قیام نفل بنادیا گیا۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں : میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا تو حکیم نے پھر میرے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کی بات شروع کردی۔ میں نے کہا : اے ام المؤمنین ! مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں بتاؤ۔ فرماتی ہیں کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کردیتے پھر جتنا وقت اللہ چاہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیدار کردیتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسواک اور وضو فرماتے، پھر آٹھ رکعات نماز ادا کرتے، صرف آخری رکعت میں تشہد کرتے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ جاتے، اللہ کا ذکر کرتے، دعا اور استغفار کرتے، کھڑے ہوتے لیکن سلام نہیں پھیرتے تھے۔ بعد میں سلام پھیرتے، پھر نویں رکعت پڑھتے تو بیٹھ جاتے، اللہ کی حمد بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے، دعا کرتے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام پھیرتے جو ہمیں سنوا دیا کرتے تھے۔ سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات بیٹھ کر نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر بڑی ہوگئی اور جسم بھاری ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات وتر پڑھے تو سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات ادا کیں۔ اے بیٹے یہ نو رکعات تھیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی نماز پڑھتے تھے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے تھے۔ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کے قیام سے نیند، تکلیف مرض اور مشغول کردیتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن کو ١٢ رکعات ادا کرلیتے اور مجھے معلوم نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات میں مکمل قرآن پڑھا ہو یا مکمل رات قیام کیا ہو اور رمضان کے علاوہ مکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں۔ میں ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور ان کو حدیث سنائی تو وہ فرمانے لگے : عائشہ (رض) نے سچ فرمایا ہے۔ اگر میں ان کے پاس جاتا تو آمنے سامنے بات کرلیتا۔
(۴۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ۔وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامِ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَی الْمَدِینَۃِ لِیَبِیعَ عَقَارًا لَہُ بِہَا ، وَیَجْعَلَہُ فِی السِّلاَحِ وَالکُرَاعِ ، ثُمَّ یُجَاہِدُ الرُّومَ حَتَّی یَمُوتَ ، فَلَقِیَ رَہْطًا مِنْ قَوْمِہِ فَحَدَّثُوہُ : أَنَّ رَہْطًا مِنْ قَوْمِہِ سِتَّۃً أَرَادُوا ذَلِکَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَلَیْسَ فِیکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ۔فَنَہَاہُمْ عَنْ ذَلِکَ ، وَأَشْہَدَہُمْ عَلَی رَجْعَتِہَا ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْنَا فَحَدَّثَنَا أَنَّہُ أَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَہُ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : أَلاَ أُنَبِّئُکَ بِأَعْلَمِ أَہْلِ الأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ : نَعَمْ۔قَالَ : ائْتِ عَائِشَۃَ فَسَلْہَا ، ثُمَّ ارْجِعْ إِلَیَّ فَأَخْبِرْنِی بِرَدِّہَا عَلَیْکَ۔قَالَ : فَأَتَیْتُ حَکِیمَ بْنَ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُہُ إِلَیْہَا ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِقَارِبِہَا ، إِنِّی نَہَیْتُہَا أَنْ تَقُولَ فِی ہَاتَیْنِ الْبَیْعَتَیْنِ شَیْئًا ، فَأَبَتْ فِیہِمَا إِلاَّ مُضِیًّا۔فَأَقْسَمْتُ فَجَائَ مَعِی فَدَخَلْنَا عَلَیْہَا فَقَالَتْ : حَکِیمُ؟ وَعَرَفَتْہُ قَالَ : نَعَمْ أَوْ بَلَی۔قَالَتْ : مَنْ ہَذَا مَعَکَ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ ۔قَالَتِ : ابْنُ عَامِرٍ۔فَتَرَحَّمَتْ عَلَیْہِ ، وَقَالَتْ : نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ۔فَقُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَنْبِئِینِی عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ : بَلَی۔قَالَتْ : فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ فِی الْقُرْآنِ۔فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِی قِیَامَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ ہَذِہِ السُّورَۃَ {یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ} قُلْتُ : بَلَی۔قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِیَامَ اللَّیْلِ فِی أَوَّلِ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَصْحَابُہُ حَوْلاً حَتَّی انْتَفَخَتْ أَقْدَامُہُمْ ، وَأَمْسَکَ اللَّہُ خَاتِمَتَہَا فِی السَّمَائِ اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِیفَ فِی آخِرِ ہَذِہِ السُّورَۃِ ، فَصَارَ قِیَامُ اللَّیْلِ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِیضَۃٍ ، فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ، ثُمَّ بَدَا لِی وِتْرُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔قُلْتُ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ أَنْبِئِینِی عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَتْ : کُنَّا نُعِدُّ لَہُ سِوَاکَہُ وَطَہُورَہُ فَیَبْعَثُہُ اللَّہُ بِمَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَہُ مِنَ اللَّیْلِ ، فَیَتَسَوَّکُ ، ثُمَّ یَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ یُصَلِّی ثَمَانِ رَکَعَاتٍ لاَ یَجْلِسُ فِیہِنَّ إِلاَّ عِنْدَ الثَّامِنَۃِ ، فَیَجْلِسُ وَیَذْکُرُ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَیَدْعُو وَیَسْتَغْفِرُ ، ثُمَّ یَنْہَضُ وَلاَ یُسَلِّمُ ثُمَّ یُسَلِّمُ ، ثُمَّ یُصَلِّی التَّاسِعَۃَ فَیَقْعُدُ فَیَحْمَدُ رَبَّہُ ، وَیَذْکُرُہُ وَیَدْعُو ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیمًا ، یُسْمِعُنَا ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ ، فَتِلْکَ إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یَا بُنَیَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ ، فَتِلْکَ تِسْعٌ یَا بُنَیَّ ، وَکَانَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا صَلَّی صَلاَۃً أَحَبَّ أَنْ یَدُومَ عَلَیْہَا ، وَکَانَ إِذَا شَغَلَہُ عَنْ قِیَامِ اللَّیْلِ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّی مِنَ النَّہَارِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، وَلاَ أَعْلَمُ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ فِی لَیْلَۃً ، وَلاَ قَامَ لَیْلَۃً حَتَّی أَصْبَحَ ، وَمَا صَامَ شَہْرًا کَامِلاً غَیْرَ رَمَضَانَ۔ فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُہُ بِحَدِیثِہَا فَقَالَ : صَدَقَتْ ، أَمَا لَوْ کُنْتُ أَدْخُلُ عَلَیْہَا لأَتَیْتُہَا حَتَّی تُشَافِہَنِی مُشَافَہَۃً۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ ابْنِ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۴۶]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ ابْنِ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۷۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو نو یا سات وتر پڑھے وہ آخری دو میں بیٹھے، لیکن سلام آخری رکعت میں پھیرے گا
(٤٨١١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر بڑھ گئی اور جسم بھاری ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات رکعات پڑھتے اور چھٹی رکعت میں تشہد کرتے اور اللہ کی حمد و ثنا کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر کھڑے ہوجاتے، لیکن سلام نہ پھیرتے تھے۔ پھر ساتویں رکعت میں بیٹھ جاتے۔ اللہ کی حمد کرتے، اللہ سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنوا دیا کرتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے، اے بیٹے ! یہ نو رکعات تھیں۔
(۴۸۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاہُ
قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّی سَبْعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَجْلِسُ إِلاَّ فِی السَّادِسَۃِ، فَیَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُو رَبَّہُ ، ثُمَّ یَقُومُ وَلاَ یُسَلِّمُ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی السَّابِعَۃِ ، فَیَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُو رَبَّہُ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیمَۃً یُسْمِعُنَا ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَتِلْکَ تِسْعٌ یَا بُنَیَّ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّی سَبْعَ رَکَعَاتٍ لاَ یَجْلِسُ إِلاَّ فِی السَّادِسَۃِ، فَیَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُو رَبَّہُ ، ثُمَّ یَقُومُ وَلاَ یُسَلِّمُ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی السَّابِعَۃِ ، فَیَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُو رَبَّہُ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیمَۃً یُسْمِعُنَا ، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَتِلْکَ تِسْعٌ یَا بُنَیَّ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کی تین رکعات دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ اکٹھے ادا کرنا
(٤٨١٢) عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ فرماتے ہیں : وتر تین ہیں جیسے دن کا وتر مغرب ہے، یہ عبداللہ بن مسعود کا قول ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں ہے۔
(۴۸۱۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ الْوِتْرُ : ثَلاَثٌ کَوِتْرِ النَّہَارِ الْمَغْرِبِ۔ہَذَا صَحِیحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِہِ غَیْرَ مَرْفُوعٍ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔
وَقَدْ رَفَعَہُ یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی الْحَوَاجِبِ الْکُوفِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَرِوَایَتُہُ تُخَالِفُ رِوَایَۃَ الْجَمَاعَۃِ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۹۴۲۰]
وَقَدْ رَفَعَہُ یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی الْحَوَاجِبِ الْکُوفِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَرِوَایَتُہُ تُخَالِفُ رِوَایَۃَ الْجَمَاعَۃِ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۹۴۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کی تین رکعات دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ اکٹھے ادا کرنا
(٤٨١٣) اعمش (رح) بعض صحابہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : وتر سات یا پانچ ہیں تین سے کم نہیں ہیں۔
(۴۸۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : الْوِتْرُ سَبْعٌ أَوْ خَمْسٌ وَلاَ أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ۔
وَقِیلَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ۔ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ وَمَوْقُوفٌ۔ [ضعیف]
وَقِیلَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ۔ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ وَمَوْقُوفٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کی تین رکعات دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ اکٹھے ادا کرنا
(٤٨١٤) سعد بن ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کی دو رکعات میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔
(ب) ابان قتادہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے اور آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
(ب) ابان قتادہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ تین وتر پڑھتے اور آخری رکعت میں بیٹھتے تھے۔
(۴۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یُسَلِّمُ فِی رَکْعَتَیِ الْوَتْرِ۔
کَذَا رَوَاہُ عَبْدُالْوَہَّابِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔وَقَالَ أَبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ : یُوتِرُ بِثَلاَثٍ لاَ یَقْعُدُ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ۔
وَرَوَاہُ الْجَمَاعَۃُ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ ، وَہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنْ قَتَادَۃَ کَمَا سَبَقَ ذِکْرُہُ فِی وِتْرِہِ بِتِسْعٍ ثُمَّ بِسَبْعٍ ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بَہْزُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الْوَہَّابِ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ اخْتِصَارًا مِنَ الْحَدِیثِ ، وَرِوَایَۃُ أَبَانَ خَطَأٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ وَرَدَ الْخَبَرُ بِالنَّہْیِ عَنِ الْوِتْرِ بِثَلاَثِ رَکَعَاتٍ مُشَبَّہَۃٍ بِصَلاَۃِ الْمَغْرِبِ۔ [حاکم ۱/۴۴۶]
کَذَا رَوَاہُ عَبْدُالْوَہَّابِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔وَقَالَ أَبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ : یُوتِرُ بِثَلاَثٍ لاَ یَقْعُدُ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ۔
وَرَوَاہُ الْجَمَاعَۃُ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ ، وَہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنْ قَتَادَۃَ کَمَا سَبَقَ ذِکْرُہُ فِی وِتْرِہِ بِتِسْعٍ ثُمَّ بِسَبْعٍ ، وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بَہْزُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الْوَہَّابِ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ اخْتِصَارًا مِنَ الْحَدِیثِ ، وَرِوَایَۃُ أَبَانَ خَطَأٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
وَقَدْ وَرَدَ الْخَبَرُ بِالنَّہْیِ عَنِ الْوِتْرِ بِثَلاَثِ رَکَعَاتٍ مُشَبَّہَۃٍ بِصَلاَۃِ الْمَغْرِبِ۔ [حاکم ۱/۴۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کی تین رکعات دو تشہد اور ایک سلام کے ساتھ اکٹھے ادا کرنا
(٤٨١٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تین وتر نہ پڑھو تم اس کو مغرب کی نماز کے مشابہہ کر دو گے وتر سات یا پانچ پڑھو۔
(۴۸۱۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنِ الأَعْرَجِ وَأَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تُوتِرُوا بِثَلاَثٍ تُشَبِّہُوہُ بِصَلاَۃِ الْمَغْرِبِ ، أَوْتِرُوا بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ))۔ [صحیح۔ ابن حبان ۲۴۲۹]
তাহকীক: