আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৪৮৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر رات وتر پڑھا
(٤٨٣٦) عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں : میں نے عائشہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : بعض اوقات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے ابتدائی حصہ میں اور کبھی رات کے آخری حصہ میں، میں نے کہا : کیا نماز میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرأت جہری کرتے یا سری ؟ فرماتی ہیں : ہر طرح کرتے، یعنی بعض اوقات سری اور کبھی جہری اور بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل فرماتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔
(۴۸۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَیْسٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتْ : رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلِ اللَّیْلِ ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِہِ۔ قُلْتُ : کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ تُہُ کَانَ یُسِرُّ بِالْقِرَائَ ۃِ أَمْ یَجْہَرُ؟ قَالَتْ : کُلَّ ذَلِکَ کَانَ یَفْعَلُ ، رُبَّمَا أَسَرَّ ، وَرُبَّمَا جَہَرَ ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کا مختار وقت اور اس میں احتیاط کا بیان
(٤٨٣٧) ابو سفیان جابر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو رات کے آخری حصہ میں بیدار نہ ہوسکنے کا خوف ہو تو وہ وتر رات کے ابتدائی حصہ میں پڑھ لے، پھر سو جائے اور جو رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کا لالچ رکھتا ہو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصہ کی قرأت پیش کی جاتی ہے اور یہ افضل ہے۔
(۴۸۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ خَافَ أَنْ لاَ یَسْتَیْقِظَ آخِرَ اللَّیْلِ فَلْیُوتِرْ أَوَّلُ اللَّیْلِ ، ثُمَّ لْیَرْقُدْ ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ یَسْتَیْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَلْیُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ، فَإِنَّ قِرَائَ ۃَ آخِرِ اللَّیْلِ مَحْضُورَۃٌ، وَذَلِکَ أَفْضَلُ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۵۵]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کا مختار وقت اور اس میں احتیاط کا بیان
(٤٨٣٨) ابو زبیر، جابر سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جس کو خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار نہیں ہو سکے گا۔ وہ وتر پڑھ کر سو جائے اور جس کو پختہ یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوجائے گا تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر ادا کرے، کیونکہ آخری رات کی قرآت پیش کی جاتی ہے اور یہ افضل ہے۔
(۴۸۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْیَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : ((أَیُّکُمْ خَافَ أَنْ لاَ یَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَلْیُوتِرْ ثُمَّ لْیَرْقُدْ، وَمَنْ وَثِقَ بِقِیَامِ اللَّیْلِ فَلْیُوتِرْ مِنْ آخِرِہِ ، فَإِنَّ قِرَائَ ۃَ آخِرِ اللَّیْلِ مَحْضُورَۃٌ وَذَلِکَ أَفْضَلُ))
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۵۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کا مختار وقت اور اس میں احتیاط کا بیان
(٤٨٣٩) عبداللہ بن رباح ابو قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر سے پوچھا : کب وتر پڑھتے ہو ؟ کہنے لگے : سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر (رض) سے پوچھا آپ کب وتر پڑھتے ہیں ؟ کہنے لگے : میں سونے کے بعد اٹھ کر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر سے کہا : تو نے احتیاط کو اختیار کیا ہے اور عمر (رض) سے فرمایا : آپ نے عزیمت کو اختیار کیا ہے۔
(۴۸۳۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ السَّیْلَحِینِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ((مَتَی تُوتِرُ؟))۔قَالَ : أُوتِرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ۔ وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَتَی تُوتِرُ؟ ۔قَالَ : ((أَنَامُ ثُمَّ أُوتِرُ))۔ فَقَالَ لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ((أَخَذْتَ بِالْحَزْمِ أَوْ بِالْوَثِیقَۃِ))۔ وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ((أَخَذْتَ بِالْقُوَّۃِ)) [صحیح۔ ابن حبان ۲۴۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کا مختار وقت اور اس میں احتیاط کا بیان
(٤٨٤٠) یحییٰ بن اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے احتیاط کو لیا ہے، انھیں شک نہیں ہے۔
(۴۸۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ الطَّرْسُوسِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَخَذَ بِالْحَزْمِ ۔وَلَمْ یَشُکَّ۔
[قوی۔ انظر ماقبلہ]
[قوی۔ انظر ماقبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کا مختار وقت اور اس میں احتیاط کا بیان
(٤٨٤١) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر سے کہا : کب وتر پڑھتے ہو ؟ انھوں نے کہا : وتر پڑھ کر سو جاتا ہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے احتیاط کو اختیار کیا ہے اور حضرت عمر (رض) سے سوال کیا : تم کب وتر پڑھتے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : میں سونے کے بعد کھڑا ہوتا ہوں، پھر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مضبوط لوگوں والا آپ نے کام کیا ہے۔
(۴۸۴۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ((مَتَی تُوتِرُ؟))۔قَالَ : أَوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ۔ قَالَ : ((بِالْحَزْمِ أَخَذْتَ))۔ وَسَأَلَ عُمَرَ فَقَالَ : ((مَتَی تُوتِرُ؟))۔قَالَ : أَنَامُ ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّیْلِ ، فَأُوتِرُ۔ قَالَ : ((فِعْلَ الْقَوِیِّ فَعَلْتَ))۔
[صحیح لغیرہ]
[صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کا مختار وقت اور اس میں احتیاط کا بیان
(٤٨٤٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میرے دوست یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تین چیزوں کے بارے میں وصیت کی۔ ” ہر مہینہ کے تین روزے، چاشت کی دو رکعات اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں “
(۴۸۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّیَّاحِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : أَوْصَانِی خَلِیلِی -ﷺ- بِثَلاَثٍ : بِصِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ، وَرَکْعَتَیِ الضُّحَی ، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَرْقُدَ۔
[صحیح۔ بخاری ۱۱۲۴]
[صحیح۔ بخاری ۱۱۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ وتر کا مختار وقت اور اس میں احتیاط کا بیان
یہ سابقہ حدیث کی ایک سند ہے
(۴۸۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو عُثْمَانَ یَعْنِی النَّہْدِیَّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کو قیام کرنے والا اپنا وتر نہیں توڑے گا
(٤٨٤٤) عبداللہ بن بدر قیس بن طلق سے نقل فرماتے ہیں کہ طلق بن علی رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، انھوں نے ہمارے پاس افطاری کی، رات کا قیام کیا اور وتر ہمارے ساتھ پڑھے، پھر اپنی مسجد کی طرف پلٹے۔ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور ان میں سے ایک شخص کو وتر کے لیے آگے کردیا کہ اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ۔ کیونکہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ہوتے۔
(۴۸۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَدْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ قَالَ : زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِیٍّ فِی یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأَمْسَی عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ ، ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْکَ اللَّیْلَۃَ وَأَوْتَرَ بِنَا ، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَی مَسْجِدِہِ فَصَلَّی بِأَصْحَابِہِ حَتَّی إِذَا بَقِیَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلاً ، فَقَالَ : أَوْتِرْ بِأَصْحَابِکَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لاَ وِتْرَانِ فِی لَیْلَۃٍ))۔
[حسن۔ ابوداؤد ۱۴۳۹]
[حسن۔ ابوداؤد ۱۴۳۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کو قیام کرنے والا اپنا وتر نہیں توڑے گا
(٤٨٤٥) عمرو بن مرۃ نے سعید بن مسیب سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے : عبداللہ بن عمر (رض) رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے، جب رات کو بیدار ہوتے تو اپنے وتر کو توڑ دیتے، پھر نماز پڑھتے، پھر وتر کی نماز رات کے آخری حصہ میں ہوتی اور حضرت عمر (رض) رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھتے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ابوبکر (رض) بھی رات کے ابتدائی حصہ میں نماز پڑھتے اور آخری حصہ میں اس کو جوڑ لیتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ وہ رات کی نماز دو دو رکعات پڑھتے اور اپنے وتر کو نہیں توڑتے تھے۔
(۴۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ : سَعِیدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ : أَنَّہُ سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یُوتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ ، فَإِذَا قَامَ نَقَضَ وِتْرَہُ ، ثُمَّ صَلَّی ، ثُمَّ أَوْتَرَ آخِرَ صَلاَتِہِ أَوَاخِرَ اللَّیْلِ ، وَکَانَ عُمَرُ یُوتِرُ آخِرَ اللَّیْلِ ، وَکَانَ خَیْرٌ مِنِّی وَمِنْہُمَا أَبُو بَکْرٍ یُوتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَیَشْفَعُ آخِرَہُ۔
یُرِیدُ بِذَلِکَ یُصَلِّی مَثْنَی مَثْنَی وَلاَ یَنْقُضُ وِتْرَہُ۔ [حسن۔ ابن ابی شیبہ ۶۷۰۶]
یُرِیدُ بِذَلِکَ یُصَلِّی مَثْنَی مَثْنَی وَلاَ یَنْقُضُ وِتْرَہُ۔ [حسن۔ ابن ابی شیبہ ۶۷۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کو قیام کرنے والا اپنا وتر نہیں توڑے گا
(٤٨٤٦) ابی جمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے نقض وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : جب آپ رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لیں تو آخری حصہ میں وتر نہ پڑھیں اور جب رات کے آخر میں وتر پڑھ لو تو ابتدا میں وتر نہ پڑھو۔ میں نے عائد بن عمرو سے وتر کو توڑنے کے متعلق سوال کیا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے وہ فرمانے لگے : جب آپ رات کے شروع میں وتر پڑھ لیں تو رات کے آخری حصہ میں نہ پڑھیں۔ جب رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھ لیں تو ابتدائی حصہ میں نہ پڑھیں۔
(۴۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ہُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ نَقْضِ الْوِتْرِ ، قَالَ : إِذَا أَوْتَرْتَ أَوَّلَ اللَّیْلِ فَلاَ تُوتِرْ آخِرَہُ ، وَإِذَا أَوْتَرْتَ آخِرَہُ فَلاَ تُوتِرْ أَوَّلَہُ۔ وَسَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ نَقْضِ الْوِتْرِ فَقَالَ : إِذَا أَوْتَرْتَ أَوَّلَہُ فَلاَ تُوتِرْ آخِرَہُ ، وَإِذَا أَوْتَرْتَ آخِرَہُ فَلاَ تُوتِرْ أَوَّلَہُ۔أَخْرَجَ الْبُخَارِیُّ حَدِیثَ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِی الصَّحِیحِ۔قَالَ : وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ بخاری ۳۹۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کو قیام کرنے والا اپنا وتر نہیں توڑے گا
(٤٨٤٧) عقیل بن ابی طالب نے ابوہریرہ (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کے بارے میں سوال کیا : تو آپ (رض) خاموش ہوگئے پھر اس نے سوال کیا وہ پھر خاموش ہوگئے پھر سوال کیا تو فرمانے لگے : اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کو خبر دیتا ہوں کہ میں کیسے کیا کرتا تھا۔ عقیل کہتے ہیں : میں نے کہا : مجھے خبر دو ۔ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : میں پانچ رکعات پڑھتا، پھر سو جاتا۔ اگر میں رات کو بیدار ہوتا تو پھر دو دو رکعات پڑھ لیتا۔ اگر میں صبح کرتا تو صبح کے وقت وتر پڑھ لیتا۔
(۴۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ : أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُوتِرُ؟ قَالَ : فَسَکَتَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ ، ثُمَّ سَأَلَہُ فَسَکَتَ ، ثُمَّ سَأَلَہُ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُکَ کَیْفَ أَصْنَعُ أَنَا۔قَالَ فَقُلْتُ : فَأَخْبِرْنِی۔ فَقَالَ : إِذَا صَلَّیْتُ الْعِشَائَ صَلَّیْتُ بَعْدَہَا خَمْسَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ أَنَامُ ، فَإِنْ قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ صَلَّیْتُ مَثْنَی مَثْنَی ، فَإِنْ أَصْبَحْتُ أَصْبَحْتُ عَلَی وِتْرٍ۔ [صحیح۔ مالک ۲۵۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کو قیام کرنے والا اپنا وتر نہیں توڑے گا
(٤٨٤٨) ابی عطیہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے وتر سے کھیلتے تھے، یعنی وتر پڑھتے، پھر سو جاتے جب رات کو کھڑے ہوتے ایک رکعت پڑھ کر اس کو جوڑا بنا دیتے۔ پھر نماز پڑھتے، یعنی وتر دوبارہ پڑھتے۔
(۴۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أُسَیْدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : ذَاکَ الَّذِی یَلْعَبُ بِوِتْرِہِ ، یَعْنِی الَّذِی یُوتِرُ ثُمَّ یَنَامُ ، فَإِذَا قَامَ شَفَعَ بِرَکْعَۃٍ ، ثُمَّ صَلَّی یَعْنِی ثُمَّ أَعَادَ وِتْرَہُ۔ [حسن لغیرہ۔ ابن ابی شیبہ ۶۷۴۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کو قیام کرنے والا اپنا وتر نہیں توڑے گا
(٤٨٤٩) ربیع بن سلیمان فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے مجھے خبر دی کہ جس نے رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھا تو وہ دو رکعات نماز پڑھے صبح تک۔
(ب) حطان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : وتر تین قسم کے ہیں : جو رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنا چاہے تو پڑھ لے، پھر وہ بیدار ہو تو ایک رکعت کے ذریعہ جوڑا بنا لے، پھر دو دو رکعات کر کے صبح تک نماز پڑھے، پھر وہ وتر پڑھ لے۔ اگر چاہے تو دو دو رکعات صبح تک پڑھے، اگر چاہے تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھ لے۔
(ب) حطان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : وتر تین قسم کے ہیں : جو رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنا چاہے تو پڑھ لے، پھر وہ بیدار ہو تو ایک رکعت کے ذریعہ جوڑا بنا لے، پھر دو دو رکعات کر کے صبح تک نماز پڑھے، پھر وہ وتر پڑھ لے۔ اگر چاہے تو دو دو رکعات صبح تک پڑھے، اگر چاہے تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھ لے۔
(۴۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی یَقُولُ : مَنْ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّیْلِ صَلَّی مَثْنَی حَتَّی یُصْبِحَ۔وَذَکَرَ حَدِیثَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ أَبِی ہَارُونَ الْغَنَوِیِّ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : الْوِتْرُ ثَلاَثَۃُ أَنْوَاعٍ ، فَمَنْ شَائَ أَنْ یُوتِرَ أَوَّلَ اللَّیْلِ أَوْتَرَ ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ فَشَائَ أَنْ یَشْفَعَہَا بِرَکْعَۃٍ وَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی یُصْبِحَ ثُمَّ یُوتِرُ فَعَلَ ، وَإِنْ شَائَ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی یُصْبِحَ ، وَإِنْ شَائَ أَوْتَرَ آخِرَ اللَّیْلِ۔
[صحیح۔ کتاب الام ۱/۲۵۹]
[صحیح۔ کتاب الام ۱/۲۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ رات کو قیام کرنے والا اپنا وتر نہیں توڑے گا
(٤٨٥٠) حطان بن عبداللہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت علی (رض) سے سنا کہ وتر کی تین اقسام ہیں : جو چاہے رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھ لے۔ پھر اگر وہ نماز پڑھنا چاہے تو صبح تک دو دو رکعات پڑھتا رہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک رکعت پڑھ کر اپنے وتر کو جوڑا بنا لے، پھر صبح تک دو دو رکعات پڑھے، پھر وتر پڑھ لے اور جو چاہے وتر نہ پڑھے اور رات کے آخری حصہ میں ادا کرلے۔
(۴۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی ہَارُونَ الْغَنَوِیِّ قَالَ سَمِعْتُ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : الْوِتْرُ ثَلاَثَۃُ أَنْوَاعٍ ، فَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّیْلِ ، ثُمَّ إِنْ صَلَّی صَلَّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی یُصْبِحَ ، وَمَنْ شَائَ أَوْتَرَ ثُمَّ إِنْ صَلَّی صَلَّی رَکْعَۃً شَفْعًا لِوِتْرِہِ ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ، وَمَنْ شَائَ لَمْ یُوتِرْ حَتَّی یَکُونَ آخِرَ صَلاَتِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی فی مسندہ ۱۷۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ کے بعد وتر میں کیا پڑھا جائے
(٤٨٥١) عمرہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کی پہلی رکعت میں { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } پڑھتے اور دوسری رکعت میں { قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ } اور تیسری رکعت میں { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} ، { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } اور { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } پڑھتے۔
(۴۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَیْہِ بْنِ سَہْلٍ الْمُطَوَّعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی وَعَمْرِو بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ طَارِقٍ وَسَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الْوِتْرِ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی بِ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَفِی الثَّانِیَۃِ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ ، وَفِی رِوَایَۃِ الْعَلَوِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔
[ضعیف۔ ابوداؤد ۱۴۲۴]
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی وَعَمْرِو بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ طَارِقٍ وَسَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الْوِتْرِ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی بِ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَفِی الثَّانِیَۃِ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ ، وَفِی رِوَایَۃِ الْعَلَوِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔
[ضعیف۔ ابوداؤد ۱۴۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ کے بعد وتر میں کیا پڑھا جائے
(٤٨٥٢) عمرہ حضرت عائشہ سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتروں کے بعد والی دو رکعات میں { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } اور { قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ } اور وتر میں { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} اور { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ } اور { قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ } پڑھتے۔
(۴۸۵۲) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الزَّاہِدُ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السَّلَمِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ کَثِیرِ بْنِ عُفَیْرٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ یُوتِرُ بَعْدَہُمَا بِ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَیَقْرَأُ فِی الْوِتْرِ بِـــ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [صحیح لغیرہ۔ انطر ماقبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ کے بعد وتر میں کیا پڑھا جائے
یہ سابقہ حدیث کی ایک سند ہے
(۴۸۵۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُفَیْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ کے بعد وتر میں کیا پڑھا جائے
(٤٨٥٤) عبدالعزیز بن جریج فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر میں کیا پڑھتے تھے ؟ وہ فرمانے لگیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی رکعت میں { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } اور دوسری رکعت میں { قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ } اور تیسری رکعت میں { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} اور ” معوذتین “ پڑھتے تھے۔
(۴۸۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْجَزَرِیُّ حَدَّثَنَا خُصَیْفٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ جُرَیْجٍ قَالَ : سَأَلْنَا عَائِشَۃَ بِأَیِّ شَیْئٍ کَانَ یَقْرَأُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْوِتْرِ؟ فَقَالَتْ : کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی بِ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَفِی الثَّانِیَۃِ بِ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ بِ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ فاتحہ کے بعد وتر میں کیا پڑھا جائے
(٤٨٥٥) ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر میں { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } اور { قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ } اور { قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} پڑھا کرتے تھے۔
(۴۸۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ ذَرٍّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُوتِرُ بِ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ} وَ {قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ} [صحیح لغیرہ۔ النسائی ۱۶۹۹]
তাহকীক: