আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৯১৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صلوٰۃِ تسبیح کا بیان
(٤٩١٦) عکرمہ ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن عباس (رض) سے فرمایا : اے عباس، اے چچا ! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں، کیا میں آپ کو دس خوبیاں نہ بتاؤں۔ جب آپ یہ کریں گے تو اللہ آپ کے پہلے اور بعد والے، نئے اور پرانے، جان بوجھ کر کیے ہوئے اور غلطی سے ہوجانے والے، ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہ معاف کردیں گے وہ دس چیزیں یہ ہیں کہ تو چار رکعات ادا کر اور تکبیر کہہ کر ابتدا کر۔ پھر سو رہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھو، پھر سورت سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہو کر ” سُبْحَانَ اللَّہِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ “ پندرہ بار پڑھ، پھر رکوع کر اور رکوع کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر رکوع سے سر اٹھا اور کھڑے ہونے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ۔ پھر سجدہ کر اور سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھ، پھر سجدے سے سر اٹھا کر دس مرتبہ۔ ہر رکعت میں یہ کل ٧٥ مرتبہ ہوجائے گا۔ اگر تو ہر روز پڑھ سکے تو ایسا کر اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ہر ہفتہ میں، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو مہینہ میں ایک مرتبہ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو عمر میں ایک مرتبہ تو پڑھ ہی لو۔
(۴۹۱۶) حَدَّثَنَا السَّیِّدُ : أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً عَلَیْنَا مِنْ حِفْظِہِ سَنَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ وَثَلاَثِ مِائَۃٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْقِنْبَارِیُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : ((یَا عَبَّاسُ یَا عَمَّاہُ أَلاَ أُعْطِیکَ أَلاَ أَحْبُوکَ أَلاَ أُجِیزُکَ أَلاَ أَفْعَلُ لَکَ عَشْرَ خِصَالٍ ۔إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِکَ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ ذَنْبَکَ أَوَّلَہُ وَآخِرَہُ قَدِیمَہُ وَحَدِیثَہُ عَمْدَہُ وَخَطَأَہُ سِرَّہُ وَعَلاَنِیَتَہُ۔عَشْرَ خِصَالٍ أَنْ تُصَلِّیَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ تَبْدَأُ فَتُکَبِّرُ ، ثُمَّ تَقْرَأُ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ ، ثُمَّ تَقُولُ عِنْدَ فَرَاغِکَ مِنَ السُّورَۃِ وَأَنْتَ قَائِمٌ سُبْحَانَ اللَّہِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ خَمْسَ عَشْرَۃَ مَرَّۃً ، ثُمَّ تَرْکَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاکِعٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ قَائِمٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُ عَشْرًا۔فَذَلِکَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ مَرَّۃً فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ۔إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّیَ کُلَّ یَوْمٍ مَرَّۃً فَافْعَلْ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِی کُلِّ شَہْرٍ مَرَّۃً ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِی عُمُرِکَ مَرَّۃً))۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۱۲۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صلوٰۃِ تسبیح کا بیان
(٤٩١٧) عبدالرحمن بن بشر بن حکم نیشاپوری نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ چھوٹے اور بڑے گناہ بھی، اس قول سے قبل کہ اس کے پوشیدہ اور ظاہری گناہ معاف کیے جائیں گے۔
(۴۹۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ النَّیْسَابُورِیُّ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ ، وَزَادَ صَغِیرَہُ وَکَبِیرَہُ قَبْلَ قَوْلِہِ سِرَّہُ وَعَلاَنِیَتَہُ وَکَأَنَّہُ سَقَطَ عَلَیَّ أَوْ عَلَی شَیْخِی فِی الإِمْلاَئِ۔ [ضعیف۔ ابوداؤد ۱۲۹۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صلوٰۃِ تسبیح کا بیان
(٤٩١٨) عکرمہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عباس، اے اللہ کے رسول کے چچا ! کیا میں تجھے تحفہ نہ دوں۔
(۴۹۱۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَکَمِ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((یَا عَبَّاسُ یَا عَمَّ رَسُولِ اللَّہِ أَلاَ أُہْدِی لَکَ))۔فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ مُرْسَلاً وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الْمَشْہُورِینَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صلوٰۃِ تسبیح کا بیان
(٤٩١٩) ابوالجوزا فرماتے ہیں کہ مجھے ایک دوست یعنی عبداللہ بن عمرو نے کہا : میرے پاس آنا، میں تجھے ہدیہ دوں گا، میں نے سمجھا وہ مجھے کوئی چیز تحفہ دیں گے۔ میں گیا تو فرمانے لگے : جب دن ڈھل جائے تو کھڑا ہو اور چار رکعات پڑھ۔ اسی کی مثل ذکر کیا۔ پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا بیٹھ جا اور کھڑا نہ ہو یہاں تک کہ سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ دس دس مرتبہ نہ پڑھ لے، پھر چاروں رکعات میں اسی طرح کر۔

راوی کہتے ہیں : اگر تمام لوگوں سے زیادہ تیرے گناہ ہوں گے تو معاف کردیا جائے گا۔ میں نے کہا : اگر میں اس وقت پڑھنے کی طاقت نہ رکھوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن اور رات میں جب چاہے پڑھ لے۔

(ب) عبداللہ بن عمرو (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں، مگر وہ پندرہ مرتبہ تسبیح کا ذکر قرأت سے پہلے کرتے ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد۔
(۴۹۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْیَانَ الأُبُلِّیُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ ہِلاَلٍ أَبُو حَبِیبٍ حَدَّثَنِی مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ حَدَّثَنِی رَجُلٌ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ یُرَوْنَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ : ائْتِنِی غَدًا أَحْبُوکَ وَأُثِیبُکَ وَأُعْطِیکَ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّہُ یُعْطِینِی عَطِیَّۃً قَالَ : إِذَا زَالَ النَّہَارُ فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ۔فَذَکَرَ نَحْوَہُ قَالَ : ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَکَ یَعْنِی مِنَ السَّجْدَۃِ الثَّانِیَۃِ فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلاَ تَقُمْ حَتَّی تُسَبِّحَ عَشْرًا ، وَتَحْمَدَ عَشْرًا ، وَتُکَبِّرَ عَشْرًا ، وَتُہَلِّلَ عَشْرًا ، ثُمَّ تَصْنَعُ ذَلِکَ فِی الأَرْبَعِ رَکَعَاتٍ۔قَالَ : فَإِنَّکَ لَوْ کُنْتَ أَعْظَمَ أَہْلِ الأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَکَ بِذَلِکَ۔قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّیَہَا تِلْکَ السَّاعَۃَ؟ قَالَ : صَلِّہَا مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ۔قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاہُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّیَّانِ عن أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا۔

قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَاہُ أَبُو جَنَابٍ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَرْفُوعًا غَیْرَ أَنَّہُ جَعَلَ التَّسْبِیحَ خَمْسَ عَشْرَۃَ مَرَّۃً قَبْلَ الْقِرَائَ ۃِ وَجَعَلَ مَا بَعْدَ السَّجْدَۃِ الثَّانِیَۃِ بَعْدَ الْقِرَائَ ۃِ۔قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِکٍ النُّکْرِیِّ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَہُ وَقَالَ فِی حَدِیثِ رَوْحٍ فَقَالَ حَدِیثُ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ صلوٰۃِ تسبیح کا بیان
(٤٩٢٠) انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر کو بھی اس طرح حکم کیا اور فرمایا : پہلی رکعت کے دوسرے سجدے میں بھی، جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔
(۴۹۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُہَاجِرِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ رُوَیْمٍ قَالَ حَدَّثَنِی الأَنْصَارِیُّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ لِجَعْفَرٍ بِہَذَا الْحَدِیثِ فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ثُمَّ قَالَ فِی السَّجْدَۃِ الثَّانِیَۃِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الأُولَی کَمَا قَالَ فِی حَدِیثِ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نمازِ استخارہ کا بیان
(٤٩٢١) محمد بن منکدر جابر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو کاموں کا استخارہ ایسے سکھاتے جیسے قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعات ادا کرے۔ فرض نماز کے علاوہ پھر وہ یہ دعا پڑھے :

( (اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ ، وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ ولا أَعْلَمُ وَتَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ۔ اللَّہُمَّ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الأَمْرَ یُسَمِّیہِ بِعَیْنِہِ الَّذِی یُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَمَعَادِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی وَبَارِکْ لِی فِیہِ ۔ اللَّہُمَّ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُہُ شَرًّا لِی مِثْلَ الأَوَّلِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِی بِہِ ۔ أَوْ قَالَ : فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِہِ ) ) ۔

” اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت کا طلب گار ہوں اور تیرے فضل عظیم کا خواست گار ہوں تو سب کچھ جانتا ہے جبکہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔ بلاشبہ تو ہی طاقت کا سرچشمہ ہے اور میرے پاس کوئی طاقت نہیں۔ تو ہی غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک یہ کام (اس جگہ مطلوبہ کام کا نام لے) میرے دین و دنیا اور آخرت کے انجام کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس پر مجھے قدرت عطا فرما اور اس کو میرے لیے آسان فرما اور اس میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک میرے لیے بہتر نہیں تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے دور ہٹا دے اور بھلائی جہاں بھی ہو، اس کے حصول کی قدرت و ہمت عطا فرما۔ پھر اس کے ساتھ مجھے خوش کر دے یا یوں کہے کہ جلد یا دیر سے پیش آنے والے کاموں میں۔ “
(۴۹۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی الْمَوَالِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا الاِسْتِخَارَۃَ فِی الأَمْرِ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ یَقُولُ لَنَا : ((إِذَا ہَمَّ أَحَدُکُمْ بِالأَمْرِ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ مِنْ غَیْرِ الْفَرِیضَۃِ ثُمَّ لِیَقُلْ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ ، وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ ولا أَعْلَمُ وَتَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ۔اللَّہُمَّ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ ہَذَا الأَمْرَ یُسَمِّیہِ بِعَیْنِہِ الَّذِی یُرِیدُ خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَمَعَاشِی وَمَعَادِی وَعَاقِبَۃِ أَمْرِی فَاقْدُرْہُ لِی وَیَسِّرْہُ لِی وَبَارِکْ لِی فِیہِ۔اللَّہُمَّ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُہُ شَرًّا لِی مِثْلَ الأَوَّلِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِی بِہِ ۔أَوْ قَالَ : فِی عَاجِلِ أَمْرِی وَآجِلِہِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تحیۃ المسجد کا بیان
(٤٩٢٢) ابو قتادہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعات پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔
(۴۹۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یَجْلِسَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۴۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تحیۃ المسجد کا بیان
(٤٩٢٣) ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعات پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔
(۴۹۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُجِیبِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ زُہَیْرِ بْنِ أَبِی خَالِدٍ الْحُلْوَانِیُّ بِحُلْوَانَ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ وَکَانَ امْرَأً ذَا ہَیْبَۃٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلاَ یَجْلِسْ حَتَّی یُصَلِّیَ رَکْعَتَیْنِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز کی جماعت کا حکم
(٤٩٢٤) عتبان بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے گھر آئے تو نہیں بیٹھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کہاں پسند کریں گے کہ میں آپ کے گھر میں نماز پڑھوں۔ عتبان بن مالک کہتے ہیں : میں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ اکبر کہا، ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صفیں بنالیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعات پڑھیں۔

(ب) ابراہیم کی روایت میں کچھ اضافہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت میرے پاس آئے اور ابوبکر بھی ساتھ تھے۔
(۴۹۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْبَرْتِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَتَاہُ فِی مَنْزِلِہِ فَلَمْ یَجْلِسْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی قَالَ : ((أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِکَ))۔ قَالَ : فَأَشَرْتُ لَہُ إِلَی الْمَکَانِ قَالَ فَکَبَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَصَفَّنَا خَلْفَہُ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ ہَکَذَا۔

زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : فَغَدَا عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّہَارُ۔[صحیح۔ بخاری ۴۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز کی جماعت کا حکم
(٤٩٢٥) عتبان بن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے کہا : میری نظر ختم ہوگئی اور سیلاب آتا ہے، جو میرے اور مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت فرمائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر آ کر ایک جگہ نماز پڑھ دیں، میں اس جگہ نماز پڑھ لیا کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایسا کرتا ہوں۔ اگلے روز دوپہر کے وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے نہیں بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کہاں پسند کریں گے کہ میں آپ کے گھر نماز پڑھوں۔ میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ اکبر کہا تو ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صفیں بنالیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے دو رکعات پڑھیں۔
(۴۹۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْفَارَیَابِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : قَدْ أَنْکَرْتُ مِنْ بَصَرِی وَإِنَّ السَّیْلَ یَأْتِی فَیَحُولُ بَیْنِی وَبَیْنَ مَسْجِدِ قَوْمِی۔فَإِنْ رَأَیْتَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْکَ أَنْ تَأْتِیَ فَتُصَلِّیَ فِی بَیْتِی مَکَانًا أَتَّخِذُہُ مُصَلًّی فَقَالَ : ((أَفْعَلُ)) فَغَدَا عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّہَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنْتُ لَہُ۔فَلَمْ یَجْلِسْ حَتَّی قَالَ : ((أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّیَ لَکَ مِنْ بَیْتِکَ))۔فَأَشَرْتُ لَہُ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِی أُحِبُّ أَنْ یُصَلِّیَ فِیہِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَکَبَّرَ وَصَفَفْنَا خَلْفَہُ وَصَلَّی لَنَا رَکْعَتَیْنِ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِیہِ أَطْوَلَ مِنْ ہَذَا وَذَکَرَ فِیہِ ہَذِہِ الأَلْفَاظَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ معنی فی الذی قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز کی جماعت کا حکم
(٤٩٢٦) ثابت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور گھر میں، میں، میری والدہ اور خالہ ام حرام تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ ایک شخص نے ثابت سے کہا : تو انس (رض) کہاں کھڑے ہوئے ؟ فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھر والوں کے لیے دنیا، آخرت کی بھلائیوں کی دعا کی۔ میری ماں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چھوٹا خادم ہے اس کے لیے بھی دعا کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے بھی ہر بھلائی کی دعا کی۔ آخری جو دعا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے کی یہ تھی اے اللہ ! تو اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور اس کے لیے اس میں برکت عطا فرما۔
(۴۹۲۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنَا وَأُمِّی وَخَالَتِی أُمُّ حَرَامٍ۔فَقَالَ : ((قُومُوا فَلأُصَلِّی بِکُمْ وَذَاکَ فِی غَیْرِ وَقْتِ الصَّلاَۃِ))۔فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ : فَأَیْنَ جَعَلَ أَنَسًا؟ قَالَ : عَنْ یَمِینِہِ قَالَ : فَدَعَا لَنَا أَہْلُ الْبَیْتِ بِکُلِّ خَیْرٍ مِنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ۔فَقَالَتْ أُمِّی : یَا رَسُولَ اللَّہِ خُوَیْدِمُکَ ادْعُ اللَّہَ لَہُ ، فَدَعَا لِی بِکُلِّ خَیْرٍ۔فَکَانَ آخِرَ مَا دَعَا لِی اللَّہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہُ وَوَلَدَہُ وَبَارِکْ لَہُ فِیہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۳۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز کی جماعت کا حکم
(٤٩٢٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ (رض) کے پاس رات گزاری۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کرلیا۔
(۴۹۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ وَیَعْقُوبُ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُونَۃَ فَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ یَعْنِی فَقُمْتُ أُصَلِّی مَعَہُ فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ ، فَأَخَذَ بِرَأْسِی فَأَقَامَنِی عَنْ یَمِینِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔

وَقَدْ رُوِّیْنَا فِی قِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ عَنْ عَائِشَۃَ وَغَیْرِہَا مَا دَلَّ عَلَی جَوَازِ النَّافِلَۃِ بِالْجَمَاعَۃِ۔ وَعَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا دَلَّ عَلَی اسْتِحْبَابِہَا۔وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَیْفَۃَ فِی قِیَامَہُمَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا دَلَّ عَلَی ذَلِکَ۔وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ فِعْلِہِ مَا دَلَّ عَلَی ذَلِکَ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جماعت کی فضیلت کے ابواب اور جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان

جمعہ کے علاوہ جماعت کی فرضیت کی کیفیت
(٤٩٢٨) مالک بن حویرث (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ہم ایک جیسے نوجوان تھے۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیس راتیں ٹھہرے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحم فرمانے والے اور نرم مزاج تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گمان کیا کہ ہم اپنے گھر والوں سے بھاگے ہوئے ہیں۔ ہم نے سوال کیا جو ہم نے اپنے گھر والے چھوڑے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ۔ ان کے پاس ٹھہرو اور ان کو تعلیم دو اور ان کو حکم دو جب اذان کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تمہارا بڑا تمہاری امامت کروائے۔
(۴۹۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ وَاللَّفْظُ لَہُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُوخَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ یَعْنِی ابْنَ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ : أَتَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَہُ عِشْرِینَ لَیْلَۃً ، قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَحِیمًا رَفِیقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَہْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا مِنْ أَہْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((ارْجِعُوا إِلَی أَہْلِیکُمْ فَأَقِیمُوا عِنْدَہُمْ وَعَلِّمُوہُمْ وَمُرُوہُمْ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ۔[صحیح۔ بخاری ۶۰۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جماعت کی فضیلت کے ابواب اور جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان

جمعہ کے علاوہ جماعت کی فرضیت کی کیفیت
(٤٩٢٩) ابودردا (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس بستی یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور وہاں نماز قائم نہ کی جاتی ہو، اس جگہ شیطان کا غلبہ ہوتا ہے۔ تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا دور رہنے والی (بکری) کو کھا جاتا ہے۔
(۴۹۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَیْشٍ الْکَلاَعِیُّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیِّ قَالَ قَالَ لِی أَبُو الدَّرْدَائِ : أَیْنَ مَسْکَنُکَ؟ فَقُلْتُ : فِی خَرْبَۃٍ دُوَیْنَ حِمْصَ۔فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَا مِنْ ثَلاَثَۃٍ فِی قَرْیَۃٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِیہِمُ الصَّلاَۃُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطَانُ۔فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَإِنَّمَا یَأْکُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ))۔

قَالَ السَّائِبُ یَعْنِی بِالْجَمَاعَۃِ الْجَمَاعَۃَ فِی الصَّلاَۃِ۔ [حسن۔ ابن حبان ۲۱۰۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٠) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں۔ پھر میں کسی کو نماز کا حکم دوں، اذان کہی جائے اور میں کسی ایک کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو جماعت کروائے۔ پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں اور ان کے گھروں کو ان سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے ایک بھی جان لے کہ وہ موٹی ہڈی پائے گا یا وہ دو عمدہ ہڈیاں پائے گا تو وہ عشا کی نماز میں ضرور حاضر ہوگا۔
(۴۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَۃِ فَیُؤَذَّنَ لَہَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُہُمْ أَنَّہُ یَجِدُ عَظْمًا سَمِینًا ، أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَہِدَ الْعِشَائَ ))۔لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣١) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عشا اور فجر کی نمازیں منافقین پر بھاری ہیں۔ اگر وہ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر وثواب ہے تو وہ گھٹنوں کے بل بھی چل کر آئیں اور میں نے ارادہ کیا کہ نماز قائم کرنے کا حکم دوں۔ پھر میں ایک شخص کو حکم دوں تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر میں کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر جن کے پاس لکڑیوں کا گٹھا ہو۔ ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے تو ان سمیت ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔
(۴۹۳۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُورٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّہَّانُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاَۃِ عَلَی الْمُنَافِقِینَ صَلاَۃُ الْعِشَائِ ، وَصَلاَۃُ الْفَجْرِ ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِیہِمَا لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَلَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَۃِ فَتُقَامَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَیُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِی بِرِجَالٍ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی قَوْمٍ لاَ یَشْہَدُونَ الصَّلاَۃَ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ بِالنَّارِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا گٹھا تیار کریں، پھر میں ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں ان گھروں کو جلا دوں اور جو لوگ ان میں ہیں۔
(۴۹۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَانِی أَنْ یَسْتَعِدُّوا لِی حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً یُصَلِّی بِالنَّاسِ ، ثُمَّ أُحَرِّقَ بُیُوتًا عَلَی مَنْ فِیہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٣) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دوں، پھر میں نوجوانوں کو حکم دوں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور میں لوگوں کے گھروں کو ان کے سمیت جلا دوں جو اذان سن کر نماز کو نہیں آتے۔
(۴۹۳۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ یَزِیدَ الأَصَمِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَۃِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ بِفِتْیَانٍ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ وَأُحَرِّقَ عَلَی قَوْمٍ دُورَہُمْ یَسْمَعُونَ النِّدَائَ ثُمَّ لاَ یَأْتُونَ الصَّلاَۃَ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنے نوجوانوں کو حکم دوں، وہ میرے لیے لکڑی کے گٹھے جمع کریں، پھر میں ان کو لے کر چلوں اور لوگوں کے گھر ان کے سمیت جلا دوں جو جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے۔
(۴۹۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ یَزِیدَ الأَصَمِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَانِی أَنْ یَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ۔ثُمَّ أَنْطَلِقَ فَأُحَرِّقَ عَلَی قَوْمٍ بُیُوتَہُمْ لاَ یَشْہَدُونَ الْجُمُعَۃَ))۔کَذَا قَالَ الْجُمُعَۃَ۔

وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ سَائِرُ الرِّوَایَاتِ أَنَّہُ عَبَّرَ بِالْجُمُعَۃِ عَنِ الْجَمَاعَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ معنی تخریجہ سالفاً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٥) عبداللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے لیے جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں میرا ارادہ یہ ہے کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر جمعہ سے پیچھے رہ جانے والے مردوں کو جلا دیا جائے۔
(۴۹۳۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ لِقَوْمٍ یَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَۃِ : ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً یُصَلِّی بِالنَّاسِ أَوْ لِلنَّاسِ ، ثُمَّ یُحَرِّقَ عَلَی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَۃِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۵۲]
tahqiq

তাহকীক: