আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৯৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٦) یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) فرما رہے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ارادہ کیا کہ اپنے نوجوان کو حکم دوں کہ وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کریں۔ پھر میں ایسے لوگوں کی طرف آؤں جو اپنے گھروں میں بغیر عذر کے نماز پڑھتے ہیں اور میں ان کو ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔

(ب) میں نے یزید بن اصم سے کہا : اے ابوعوف ! جمعہ کے بارے میں یا اس کے علاوہ ؟ وہ فرمانے لگے : میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے ابوہریرہ (رض) سے نہ سنا ہو کہ وہ نبی سے نقل فرماتے ہیں اور انھوں نے جمعہ اور اس کے علاوہ کا تذکرہ نہ کیا ہو۔
(۴۹۳۶) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا النُّفَیْلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِیحِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ الأَصَمِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْیَتِی فَیَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ ، ثُمَّ آتِیَ قَوْمًا یُصَلُّونَ فِی بُیُوتِہِمْ لَیْسَتْ بِہِمْ عِلَّۃٌ فَأُحَرِّقُہَا عَلَیْہِمْ))۔

قُلْتُ لِیَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ : یَا أَبَا عَوْفٍ الْجُمُعَۃَ عَنَی أَوْ غَیْرَہَا فَقَالَ : صُمَّتَا أُذُنَایَ إِنْ لَمْ أَکُنْ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا ذَکَرَ جُمُعَۃً وَلاَ غَیْرَہَا۔ [صحیح لغیرہ۔ ابوداؤد ۵۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٧) ابی شعثاء فرماتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ (رض) کے ساتھ تھے، مؤذن نے عصر کی اذان دی تو ایک شخص مسجد سے نکلا۔ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اس نے ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی ہے۔
(۴۹۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُہَاجِرِ عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ قَالَ : کُنَّا مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی الْمَسْجِدِ ، فَنَادَی الْمُنَادِی بالْعَصْرِ فَخَرَجَ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : أَمَّا ہَذَا فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ مسلم ۶۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٨) اشعث بن سلیم محاربی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے ایک شخص کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو فرمانے لگے : یہ کیا ہے ؟ اس نے ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی ہے۔
(۴۹۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہَانِ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَیْمٍ الْمُحَارِبِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ فَرَأَی رَجُلاً یَجْتَازُ بِالْمَسْجِدِ بَعْدَ الأَذَانِ فَقَالَ : أَمَّا ہَذَا فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ-۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٣٩) سعید بن مسیب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اذان کے بعد مسجد سے منافق نکلتا ہے یا وہ شخص جس کو کوئی کام ہے اور وہ واپس آنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
(۴۹۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفِرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَۃَ الأَسْلَمِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَخْرُجُ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ النِّدَائِ إِلاَّ مُنَافِقٌ۔إِلاَّ رَجُلٌ یَخْرُجُ لِحَاجَتِہِ وَہُوَ یُرِیدُ الرَّجْعَۃَ إِلَی الْمَسْجِدِ))۔ [ضعیف۔ مالک ۳۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٠) ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اذان سن کر نماز کے لیے نہیں آتا، اس کی نماز نہیں، لیکن عذر قابلِ قبول ہے۔
(۴۹۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یُجِبْ فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ إِلاَّ مِنْ عُذْرٍ))۔وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَرَوَاہُ الْجَمَاعَۃُ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْقُوفًا عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَرَوَاہُ مَغْرَائُ الْعَبْدِیُّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا ، وَرُوِیَ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ مُسْنَدًا وَمَوْقُوفًا وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ ابوداؤد ۵۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤١) عدی بن ثابت انصاری حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جس نے اذان کو سنا اور اس کو قبول نہ کیا، یعنی نماز کے لیے نہ آیا، اس نے بھلائی کا ارادہ نہیں کیا تو اس سے بھی بھلائی نہیں کی جائے گی۔
(۴۹۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یُجِبْ فَلَمْ یُرِدْ خَیْرًا وَلَمْ یُرَدْ بِہِ۔ [صحیح لغیرہ۔ عبدالرزاق ۱۹۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٢) ابو حیان تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مسجد کے ہمسائے کی نماز مسجد میں ہی ہوگی۔
(۴۹۴۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو حَیَّانَ التَّیْمِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ صَلاَۃَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلاَّ فِی الْمَسْجِدِ۔ [ضعیف۔ عبدالرزاق ۱۹۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٣) ابو حیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) فرماتے تھے کہ مسجد کے ہمسائے کی نماز مسجد میں ہی ہوتی ہے۔ ان سے پوچھا گیا : مسجد کا ہمسایہ کون ہے ؟ فرماتے ہیں : جو اذان کی آواز کو سنتا ہے۔
(۴۹۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَیَّانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: لاَ صَلاَۃَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلاَّ فِی الْمَسْجِدِ۔فَقِیلَ لَہُ : وَمَنْ جَارُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ : مَنْ أَسْمَعَہُ الْمُنَادِی۔ [ضعیف۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٤) حارث حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مسجد کے ہمسایوں میں سے جو اذان کو سنتا ہے اور وہ تندرست ہے اسے کوئی عذر نہیں، پھر بھی نماز کے لیے نہیں آتا تو اس کی کوئی نماز نہیں۔
(۴۹۴۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ مِنْ جِیرَانِ الْمَسْجِدِ۔وَہُوَ صَحِیحٌ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ ، فَلَمْ یُجِبْ فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مَرْفُوعًا وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف۔ الدارقطنی ۱/۴۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٥) ابو سلمہ (رض) ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہی ہوتی ہے۔
(۴۹۴۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ بِالرَّیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْیَمَامِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ صَلاَۃَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلاَّ فِی الْمَسْجِدِ))۔

[منکر۔ حاکم ۱/۳۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٦) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے نماز کے لیے لانے والا کوئی نہیں۔ آپ مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دے دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو رخصت دے دی۔ جب وہ چلا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلایا اور پوچھا : کیا اذان سنتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نماز کے لیے مسجد میں آؤ۔
(۴۹۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَصَمِّ عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ أَعْمَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ لِی قَائِدٌ یَقُودُنِی إِلَی الصَّلاَۃِ فَسَأَلَہُ أَنْ یُرَخِّصَ لَہُ فِی بَیْتِہِ فَأَذِنَ لَہُ فَلَمَّا وَلَّی دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ : ((ہَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ بِالصَّلاَۃِ))۔فَقَالَ لَہُ : نَعَمْ قَالَ : ((فَأَجِبْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٧) کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : میں اذان سنتا ہوں لیکن مجھے لانے والا کوئی نہیں۔ کیا میں اپنے گھر میں مسجد بنا لوں ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اذان سنتے ہو ؟ کہنے لگا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اذان سنتے ہو تو نماز کے لیے مسجد میں آؤ۔
(۴۹۴۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَاتِمٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَعْمَی أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی أَسْمَعُ النِّدَائَ وَلَعَلِّی لاَ أَجِدُ قَائِدًا أَفَأَتَّخِذُ مَسْجِدًا فِی دَارِی ؟ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((تَسْمَعُ النِّدَائَ؟))۔قَالَ : نَعَمْ قَالَ : ((إِذَا سَمِعْتَ النِّدَائَ فَاخْرُجْ))۔(ت) خَالَفَہُ أَبُو عَبْدِ الرَّحِیمِ فَرَوَاہُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْقِلٍ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٨) ابو رزین عمرو بن ام مکتوم (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں بیمار آدمی ہوں۔ میرا گھر دور ہے اور مجھے لانے والا کوئی نہیں جو پابندی کرسکے۔ کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا اذان سنتے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔
(۴۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی رَزِینٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ قَالَ : جِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ا- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کَبِیرٌ ضَرِیرٌ، شَاسِعُ الدَّارِ وَلِی قَائِدٌ لاَ یُلاَوِمُنِی۔فَہَلْ تَجِدُ لِی رُخْصَۃً أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِی؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ النِّدَائَ؟)) قَالَ: نَعَمْ قَالَ: ((مَا أَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً))۔ [صحیح۔ انظرماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٤٩) ابو رزین ابن امِ مکتوم سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔
(۴۹۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عن عَاصِمٍ عَنْ أَبِی رَزِینٍ : أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- الْحَدِیثَ۔

وَرَوَاہُ أَبُو سِنَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی رَزِینٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۹۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٥٠) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ابن ام مکتوم سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مدینہ میں موذی جانور اور درندے بہت زیادہ ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ( (حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ) ) ( (حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ) ) سنتے ہو تو نماز کی طرف آؤ۔

نوٹ :۔ نابینا شخص کا نماز باجماعت میں حاضر ہونا فرض ہے، اس لیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا، یعنی نماز باجماعت میں حاضر ہونا لازم ہے۔
(۴۹۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ یَزِیدَ الْجَرْمِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَبِی الزَّرْقَائِ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ الْمَدِینَۃَ کَثِیرَۃُ الْہَوَامِّ وَالسِّبَاعِ۔فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((تَسْمَعُ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ فَحَیَّ ہَلاَّ))۔

قَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ : لَیْسَ فِی أَمْرِہِ ہَذَا الأَعْمَی بِحُضُورِ الْجَمَاعَۃِ مَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ حُضُورَہَا فَرْضٌ۔لأَنَّہُ قَدْ رَخَّصَ لِعُتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ وَہُوَ أَعْمَی التَّخَلُّفَ عَنْ حُضُورِہَا ۔ فَدَلَّ عَلَی أَنَّ قَوْلَہُ لاَ أَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً أَیْ لاَ أَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً تَلْحَقُ فَضِیلَۃَ مَنْ حَضَرَہَا۔ قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی یُؤَکِّدُ ہَذَا التَّأْوِیلَ مَا۔ [قوی۔ ابوداؤد ۵۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٥١) علاء بن مسیب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن ام مکتوم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے لانے والا موجود ہے لیکن ان دو نمازوں میں وہ مجھے نہیں لاسکتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون سی دو نمازیں ؟ میں نے کہا : ” عشا اور صبح “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لانے والا جان لے کہ ان دو نمازوں کا کیا اجر وثواب ہے تو وہ ان کے وقت ضرور آئے اگرچہ اس کو گھٹنے کے بل آنا پڑے۔
(۴۹۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْقُوبُ بْنُ یُوسُفَ الْمُطَوِّعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَکِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ الْحَنَّاطُ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی قَائِدًا لاَ یَلاَئِمُنِی فِی ہَاتَیْنِ الصَّلاَتَیْنِ۔قَالَ : أَیُّ الصَّلاَتَیْنِ ۔قُلْتُ : الْعِشَائُ ، وَالصُّبْحُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((لَوْ یَعْلَمُ الْقَاعِدُ عَنْہُمَا مَا فِیہِمَا لأَتَوْہُمَا وَلَو حَبْوًا))۔

قَالَ الشَّیْخُ وَاخْتَلَفُوا فِی اسْمِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَقِیلَ عَبْدُ اللَّہِ وَقِیلَ عَمْرٌو۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٥٢) ابواحوص فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : جس کو پسند ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں پر محافظت کرے۔ جب بھی ان کی اذان دی جائے۔ کیونکہ اللہ نے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم ان کو اپنے گھروں میں پڑھنا شروع کر دو جیسے یہ نماز سے پیچھے رہنے والے ہیں تو تم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت چھوڑ بیٹھو گے۔ اگر تم نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف آتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کا ہر درجہ بلند کردیتے ہیں اور ایک غلطی مٹا دیتے ہیں اور ان نمازوں سے پیچھے صرف منافق ہی رہتا تھا جن کا نفاق واضح ہوتا تھا جب کہ مومن مرد کو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا ہے۔
(۴۹۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْحُزَفِیُّ الْحَرْبِیُّ فِی مَسْجِدِ الْحَرْبِیَّۃِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنِی إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَیْسِ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ الأَقْمَرِ یَذْکُرُ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ : مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللَّہَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْیُحَافِظْ عَلَی ہَؤُلاَئِ الصَّلَوَاتِ حَیْثُ یُنَادَی بِہِنَّ۔فَإِنَّ اللَّہَ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ -ﷺ- سُنَنَ الْہُدَی ۔وَإِنَّہُنَّ مِنْ سُنَنِ الْہُدَی ، وَلَوْ أَنَّکُمْ صَلَّیْتُمْ فِی بُیُوتِکُمْ کَمَا یُصَلِّی ہَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِی بَیْتِہِ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ ، وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ۔وَمَا مِنْ رَجُلٍ یَتَطَہَّرُ فَیُحْسِنُ الطُّہُورَ ، ثُمَّ یَعْمِدُ إِلَی مَسْجِدٍ مِنْ ہَذِہِ الْمَسَاجِدِ ، إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوہَا حَسَنَۃً ، وَرَفَعَہُ بِہَا دَرَجَۃً ، وَحَطَّ عَنْہُ بِہَا سَیِّئَۃً ، وَلَقَدْ رَأَیْتُنَا وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا إِلاَّ مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُہُ۔وَلَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ یُؤْتَی بِہِ یُہَادَی بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ حَتَّی یُقَامَ فِی الصَّفِّ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٥٣) عبدالرحمن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق صبح اور عشا کی نماز میں حاضر ہونا ہے۔ وہ ان میں حاضر ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔

نوٹ :۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ کیا تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نفاق کی وجہ سے عشا کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے۔
(۴۹۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْمُنَافِقِینَ شُہُودُ الْعِشَائِ ، وَالصُّبْحِ لاَ یَسْتَطِیعُونَہُمَا))۔أَوْ نَحْوَ ہَذَا۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ فَیُشْبِہُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ہَمِّہُ بِأَنْ یُحَرِّقَ عَلَی قَوْمٍ بُیُوتَہُمْ أَنْ یَکُونَ مَا قَالَہُ فِی قَوْمٍ تَخَلَّفُوا عَنْ صَلاَۃِ الْعِشَائِ لِنِفَاقٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح لغیرہ۔ الشافعی ۲۱۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی وعید کا بیان
(٤٩٥٤) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی کو فجر اور عشا کی نماز میں گم پاتے تو ہمارا گمان ان کے بارے میں برا ہوتا۔
(۴۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِی صَلاَۃِ الْعِشَائِ وَالْفَجْرِ أَسَأْنَا بِہِ الظَّنَّ۔ [صحیح لغیرہ۔ الطبرانی فی الکبیر ۱۳۰۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان
(٤٩٥٥) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز باجماعت اکیلے کی نماز سے ٢٧ درجے افضل ہے۔

امام شافعی کی روایت میں ہے کہ اکیلے کی نماز سے۔
(۴۹۵۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَیَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْخَسْرُوجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْخَسْرُوجَرْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((صَلاَۃُ الْجَمَاعَۃِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَۃِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِینَ دَرَجَۃً))۔وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ ((تَفْضُلُ صَلاَۃَ الْفَذِّ))

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ بخاری ۶۱۹]
tahqiq

তাহকীক: