আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৪৯৭৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے مسجد کی طرف پیدل چل کر آنے کی فضیلت
(٤٩٧٦) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اندھیری راتوں میں مسجد کی طرف چل کر آنے والوں کے لیے قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری ہے۔
(۴۹۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الْمُثَنَّی الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْکَحَّالُ نَحْوَہ

(ح) وَحَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطِّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی : مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنِی دَاوُدُ بْنُ سُلَیْمَانَ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی سُلَیْمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَسْلَمَ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((بَشِّرِ الْمَشَّائِینَ فِی ظُلَمِ اللَّیْلِ إِلَی الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))۔ [صحیح لغیرہ۔ ابن ماجہ ۷۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لیے مسجد کی طرف پیدل چل کر آنے کی فضیلت
(٤٩٧٧) بریدہ اسلمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ اندھیروں میں چل کر مسجد کی طرف آنے والوں کے لیے قیامت کے دنمکمل نور کی خوشخبری ہے۔
(۴۹۷۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْکَحَّالُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((بَشِّرِ الْمَشَّائِینَ فِی الظُّلَمِ إِلَی الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ مِنْ حَدِیثِ الْکَحَّالِ))۔ [صحیح لغیرہ۔ ابوداؤد ۴۷۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دور سے چل کر مسجد کی طرف آنے کی فضیلت اور چلنے میں ثواب کی نیت کا بیان
(٤٩٧٨) ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کے لیے جتنی دور سے چل کر آیا جائے اتنا ہی وہ آدمی تمام لوگوں سے زیادہ اجر پائے گا اور وہ شخص اجر کے اعتبار سے زیادہ ہے جو امام کا انتظار کرتا ہے کہ اس کے ساتھ نماز پڑھے اس شخص سے جو نماز پڑھتا ہے اور سو جاتا ہے۔
(۴۹۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنِی بُرَیْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ جَدِّہِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِی الصَّلاَۃِ أَبْعَدُہُمْ إِلَیْہَا مَمْشًی فَأَبْعَدُہُمْ، وَالَّذِی یَنْتَظِرُ الصَّلاَۃَ حَتَّی یُصَلِّیَہَا مَعَ الإِمَامِ فِی جَمَاعَۃٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِی یُصَلِّیہَا ثُمَّ یَنَامُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔

[صحیح۔ بخاری ۶۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دور سے چل کر مسجد کی طرف آنے کی فضیلت اور چلنے میں ثواب کی نیت کا بیان
(٤٩٧٩) ابو عثمان ابی بن کعب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو مدینہ کا رہائشی تھا۔ اس کا گھر مسجد سے کافی دور تھا، لیکن وہ نمازوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہوتا تھا۔ اس سے کہا گیا : اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تو گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کریں۔ اس نے کہا : میں پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ہو۔ اس کی خبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! پھر میرے قدموں کے نشانات کیسے لکھے جائیں گے اور میرا اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ کر جانا اور واپس آنا یا جیسے اس نے کہا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے دور کے سفر کا اللہ تجھے اجر دے گا اور جو تیری نیت ہے سب کچھ تجھے ملے گا۔
(۴۹۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الدَّقِیقِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّی الْقِبْلَۃَ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنْ الْمَسْجِدِ مِنْہُ فَکَانَ یَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ فَقِیلَ لَہُ : لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا فَرَکِبْتَہُ فِی الرَّمْضَائِ ، وَالظَّلْمَائِ ، فَقَالَ وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِی یَلْزَقُ الْمَسْجِدَ۔فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِذَلِکَ۔ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْمَا یُکْتَبَ أَثَرِی ، وَخَطَایَ وَرُجُوعِی إِلَی أَہْلِی ، وَإِقْبَالِی ، وَإِدْبَارِی أَوْ کَمَا قَالَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَنْطَاکَ اللَّہُ ذَلِکَ کُلَّہُ وَأَعْطَاکَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ))۔أَوْ کَمَا قَالَ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دور سے چل کر مسجد کی طرف آنے کی فضیلت اور چلنے میں ثواب کی نیت کا بیان
(٤٩٨٠) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ بنو سلیمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے دور کے گھر تبدیل کر کے مسجد کے قریب ہوجائیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند کیا کہ تم ان گھروں کو خالی کرو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو سلمہ ! کیا تم کو اپنے نشانات قدم کا ثواب نہیں چاہیے۔ انھوں نے کہا : کیوں نہیں تو انھوں نے وہاں ہی قیام کیا۔
(۴۹۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : الْمُحَمَّدْآبْاذِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ بَنِی سَلِمَۃَ أَرَادُوا أَنْ یَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِہِمْ فَیَدْنُوا مِنَ الْمَسْجِدِ فَکَرِہَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ تُعْرَی الْمَدِینَۃُ فَقَالَ : ((یَا بَنِی سَلِمَۃَ أَلاَ تَحْتَسِبُونَ آثَارَکُمْ)) قَالُوا : بَلَی فَأَقَامُوا۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حُمَیْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دور سے چل کر مسجد کی طرف آنے کی فضیلت اور چلنے میں ثواب کی نیت کا بیان
(٤٩٨١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے مسجد کے قریب آنا چاہا اور جگہ بھی خالی تھی۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو سلمہ ! تم اپنے گھروں کو لازم پکڑو، تمہارے نشانات قدم لکھے جائیں گے۔ وہ وہاں ہی ٹھہرے رہے اور انھوں نے کہا : ہمیں اس بات نے خوش نہیں کیا کہ ہم اپنے گھروں کو تبدیل کرلیں۔
(۴۹۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْفَضْلِ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ سَمِعْتُ کَہْمَسًا یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : أَرَادَ بَنُو سَلِمَۃَ أَنْ یَتَحَوَّلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ وَالْبِقَاعُ خَالِیَۃٌ قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : ((یَا بَنِی سَلِمَۃَ دِیَارَکُمْ فَإِنَّمَا تُکْتَبُ آثَارُکُمْ))۔قَالَ : فَأَقَامُوا وَقَالُوا : مَا یَسُرُّنَا أَنَّا کُنَّا تَحَوَّلْنَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ النَّضْرِ عَنْ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دور سے چل کر مسجد کی طرف آنے کی فضیلت اور چلنے میں ثواب کی نیت کا بیان
(٤٩٨٢) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ مسجد سے گھروں کا دور ہونا بڑے اجر کا سبب ہے۔
(۴۹۸۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا))۔

[حسن لغیرہ۔ ابوداؤد ۵۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٨٣) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام جگہوں سے زیادہ محبوب جگہ اللہ کے ہاں مسجدیں ہیں اور تمام جگہوں سے زیادہ ناپسند جگہ اللہ کے ہاں بازار ہیں۔
(۴۹۸۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ حَدَّثَنِی الْحَارِثُ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِہْرَانَ مَوْلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((أَحَبُّ الْبِلاَدِ إِلَی اللَّہِ مَسَاجِدُہَا ، وَأَبْغَضُ الْبِلاَدِ إِلَی اللَّہِ أَسْوَاقُہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٨٤) محارب بن دثار ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کونسی جگہ بہتر ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نہیں جانتا۔ اس نے کہا : کون سی جگہ بری ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نہیں جانتا، اتنے میں جبرائیل آئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل سے پوچھا : اے جبرائیل ! کون سی جگہ بہتر ہے ؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون سی جگہ بری ہے ؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رب تعالیٰ سے سوال کرو، جبرائیل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دبایا، قریب تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیہوش ہوجاتے اور کہا : میں کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل سے کہا : تجھ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کیا : کون سی جگہ بہتر ہے ؟ آپ نے کہہ دیا : مجھے نہیں معلوم اور انھوں نے تجھ سے سوال کیا کہ کونسی جگہ بری ہے تو آپ نے کہہ دیا : مجھے معلوم نہیں، آپ ان کو خبر دے دیں کہ بہترین جگہیں مساجد ہیں اور بدترین جگہیں بازار ہیں۔
(۴۹۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ فِرَاسٍ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ : عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْطَالَقَانِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الْبِقَاعِ خَیْرٌ؟ قَالَ : ((لاَ أَدْرِی))۔فَقَالَ : أَیُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ قَالَ : ((لاَ أَدْرِی))۔قَالَ فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((یَا جِبْرِیلُ أَیُّ الْبِقَاعِ خَیْرٌ؟))۔قَالَ : لاَ أَدْرِی قَالَ : ((أَیُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟))۔قَالَ : لاَ أَدْرِی قَالَ : ((سَلْ رَبَّکَ))۔قَالَ : فَانْتَقَضَ جِبْرِیلُ انْتِقَاضَۃً کَادَ یُصْعَقُ مِنْہَا مُحَمَّدٌ -ﷺ-۔فَقَالَ : مَا أَسْأَلُہُ عَنْ شَیْئٍ ۔فَقَالَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ لِجِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ : سَأَلَکَ مُحَمَّدٌ أَیُّ الْبِقَاعِ خَیْرٌ؟ فَقُلْتَ لاَ أَدْرِی ، وَسَأَلَکَ أَیُّ الْبِقَاعِ شَرُّ؟ فَقُلْتْ : لاَ أَدْرِی۔فَأَخْبِرْہُ أَنَّ خَیْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ ، وَأَنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الأَسْوَاقُ۔ [حسن لغیرہ۔ ابن حبان ۱۵۹۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٨٥) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی اتنی دیر نماز میں رہتا ہے، جتنی دیر نماز اس کو روکے رکھتی ہے کہ وہ اپنے گھر کی طرف واپس پلٹے۔
(۴۹۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ الإِسْفِرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَقِیلٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَزَالُ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَۃٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَۃُ تَحْبِسُہُ لاَ یَمْنَعُہُ أَنْ یَنْقَلِبَ إِلَی أَہْلِہِ إِلاَ الصَّلاَۃُ))

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ بخاری ۶۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٨٦) قرہ بن خالد فرماتے ہیں کہ ہم نے حسن کا انتظار کیا۔ انھوں نے دیر کردی، پھر وہ آئے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : ہم نے ایک رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کیا تو تقریباً آدھی رات ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے جتنی دیر تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔ حسن کہتے ہیں : لوگ بھلائی میں رہے جتنی دیر بھلائی کا انتظار کرتے رہے۔
(۴۹۸۶) حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ إِمْلاَئً مِنْ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ : انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ فَرَاثَ عَلَیْنَا فَجَائَ وَقَالَ : دَعَانَا جِیرَانُنَا ہَؤُلاَئِ ثُمَّ قَالَ قَالَ أَنَسٌ : انْتَظَرْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتَّی کَانَ شَطْرُ اللَّیْلِ۔فَبَلَغَہُ فَجَائَ فَصَلَّی لَنَا ثُمَّ خَطَبَنَا فَقَالَ : ((أَلاَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا ، وَإِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ))۔قَالَ الْحَسَنُ : وَإِنَّ الْقَوْمَ لَنْ یَزَالُوا فِی خَیْرٍ مَا انْتَظَرُوا الْخَیْرَ۔قَالَ قُرَّۃُ ہُوَ مِنْ حَدِیثِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّبَّاحِ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۱۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٨٧) ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات قسم کے لوگوں کو اللہ اپنا سایہ نصیب کرے گا قیامت کے دن جس دن اس کے سائے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : انصاف کرنے والا حکمران اور وہ جوان جو اللہ کی عبادت میں اپنی جوانی صرف کرتا ہے اور وہ بندہ جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرتا ہے تو آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں اور وہ بندہ جس کا دل مسجد سے لگا ہوا ہے اور دو شخص جو اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور وہ بندہ جس کو حسب و نسب اور جمال والی عورت برائی کی دعوت دے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ بندہ جو صدقہ کرتا ہے اور پوشیدہ رکھتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہیں جو اس کے دائیں نے کیا ہے۔
(۴۹۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَلِیمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْمُونٍ الصَّائِغُ بِمَرْوَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((سَبْعَۃٌ یُظِلُّہُمُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی ظِلِّہِ یَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّہُ إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِی عِبَادَۃِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللَّہَ فِی خَلاَئٍ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ ، وَرَجُلٌ کَانَ قَلْبُہُ مُعَلَّقًا فِی الْمَسْجِدِ ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِی اللَّہِ ، وَرَجُلٌ دَعَتْہُ امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَی نَفْسِہَا فَقَالَ : إِنِّی أَخَافُ اللَّہَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاہَا حَتَّی لَمْ تَعْلَمْ شِمَالُہُ مَا صَنَعَتْ یَمِینُہُ))

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٨٨) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کسی کو مسجد کی طرف جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دے دو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : {إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّہِ مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ } [التوبۃ : ١٨] اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جن کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو۔
(۴۹۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی الْہَیْثَمِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْہَدُوا عَلَیْہِ بِالإِیمَانِ))۔قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّہِ مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ} [التوبۃ : ۱۸]

[ضعیف۔ ترمذی ۲۶۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৮৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٨٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے گھروں کو اللہ والے ہی آباد کرتے ہیں۔
(۴۹۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَیْہِ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ بْنِ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّیُّ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ عُمَّارَ بُیُوتِ اللَّہِ ہُمْ أَہْلُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ))۔

صَالِحٌ الْمُرِّیُّ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [منکر۔ ابو یعلٰی ۳۶۰۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مساجد کی فضیلت، ان کو نماز سے آباد رکھنے اور ان میں نمازوں کا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
(٤٩٩٠) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس غرض سے انسان مسجد میں آتا ہے وہی اس کا حصہ ہے۔
(۴۹۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی عَاتِکَۃِ الأَزْدِیُّ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ ہَانِئٍ الْعَنْسِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ أَتَی الْمَسْجِدَ لِشَیْئٍ فَہُوَ حَظُّہُ))۔ [حسن۔ ابوداؤد ۴۷۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ اس روایت کا تذکرہ جس میں ہے کہ نابینا آدمی اذان سن کر جماعت سے پیچھے نہیں رہ سکتا اور جمعہ کے علاوہ رخصت کا بیان
(٤٩٩١) یزید بن اصم ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : مجھے مسجد لانے والا کوئی نہیں، اس نے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اجازت دے دی۔ جب وہ جانے لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلوایا اور پوچھا : کیا اذان سنتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر مسجد میں آ کر نماز پڑھو۔
(۴۹۹۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ زَکَرِیِّا الْمُطَرِّزُ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَلَفْظُہُ ہَذَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْفَزَارِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصَمُّ عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: جَائَ أَعْمَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: إِنَّہُ لَیْسَ لِی قَائِدٌ یَقُودُنِی إِلَی الصَّلاَۃِ۔فَسَأَلَہُ أَنْ یُرَخِّصَ لَہُ فِی بَیْتِہِ فَأَذِنَ لَہُ، فَلَمَّا وَلَّی دَعَاہُ۔فَقَالَ لَہُ: ((ہَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ بِالصَّلاَۃِ؟))۔فَقَالَ لَہُ : نَعَمْ قَالَ : ((فَأَجِبْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَسُوَیْدٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [تقدم برقم ۴۹۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے نماز کو اپنے گھر میں جمع کیا
(٤٩٩٢) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، جب نماز کا وقت ہوجاتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر میں ہوتے تو چٹائی بچھانے کا حکم فرماتے۔ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیچے ہوتی۔ جھاڑو دیا جاتا، پانی چھڑکا جاتا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوتے، ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوجاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں نماز پڑھا دیتے اور چٹائی کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔
(۴۹۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا فَرُبَّمَا تَحْضُرُہُ الصَّلاَۃُ وَہُوَ فِی بَیْتِنَا فَیَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِی تَحْتَہُ فَیُکْنَسُ ، ثُمَّ یُنْضَحُ ثُمَّ یَقُومُ فَنَقُومُ خَلْفَہُ فَیُصَلِّی بِنَا قَالَ : وَکَانَ بِسَاطُہُمْ مِنْ جَرِیدِ النَّخْلِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ وَأَبِی الرَّبِیعِ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۵۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے نماز کو اپنے گھر میں جمع کیا
(٤٩٩٣) ام فضل بنت حارث فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیماری کے ایام میں اپنے گھر میں ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صرف ایک کپڑا تھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لپیٹا ہوا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے { وَالْمُرْسَلاَتِ } [المرسلات : ١] پڑھی، اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ فوت ہوگئے۔
(۴۹۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوصَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی مَرَضِہِ فِی بَیْتِہِ الْمَغْرِبَ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ قَرَأَ {وَالْمُرْسَلاَتِ}[المرسلات:۱] مَا صَلَّی بَعْدَہَا صَلاَۃً حَتَّی قُبِضَ۔ [قوی۔ نسائی ۹۸۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے نماز کو اپنے گھر میں جمع کیا
یہ سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے
(۴۹۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৯৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جس نے نماز کو اپنے گھر میں جمع کیا
(٤٩٩٥) اسود اور علقمہ فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود کے گھر آئے۔ وہ کہنے لگے : کیا ان لوگوں نے تمہارے بعد نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : نہیں فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔ انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ عبداللہ نے بھی اسود اور علقمہ کے ساتھ ہی نماز پڑھی۔
(۴۹۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ قَالاَ : أَتَیْنَا عَبْدَ اللَّہِ فِی دَارِہِ قَالَ : صَلَّی ہَؤُلاَئِ خَلْفَکُمْ قُلْنَا : لاَ۔فَقَالَ : قُومُوا فَصَلُّوا ، وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صَلاَتِہِ بِہِمَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسٍ فِی ذَلِکَ فِی بَابِ کَرَاہِیَۃِ تَأَْخِیرِ الْعَصْرِ وَسَنَرْوِی إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی قَوْلَ النَّبِیِّ -ﷺ- ((وَلاَ یُؤَمُّ الرَّجُلُ فِی بَیْتِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ))۔ [صحیح۔ مسلم ۵۳۴]
tahqiq

তাহকীক: