আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৫০৩৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی موجودگی اور اس کی طرف رغبت کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٣٦) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو کھانے سے ابتدا کرو۔ یہ الفاظ ابن عیاض کے ہیں۔
(۵۰۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الطُّوسِیُّ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّاذْیَاخِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا وُضِعَ الْعَشَائُ وَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَابْدَئُ وا بِالْعَشَائِ))۔وَہَذَا لَفْظُ ابْنِ عِیَاضٍ۔أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۱۴۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی موجودگی اور اس کی طرف رغبت کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٣٧) عبداللہ بن أبی عتیق فرماتے ہیں : میں اور قاسم بن محمد عائشہ (رض) کے پاس باتیں کر رہے تھے اور قاسم بن محمد کی آواز عمدہ تھی اور یہ ام ولد کے بیٹے تھے۔ عائشہ (رض) فرمانے لگیں : اے قاسم ! تم بات چیت نہیں کرتے جیسے میرا یہ بھیجتا بات کر رہا۔ میں جانتی ہوں تو کہاں سے آیا ہے۔ اس کو تربیت اس کی والدہ نے دی اور تجھے تیری والدہ نے۔ عبداللہ کہتے ہیں : قاسم بن محمد ناراض ہوگئے اور اس پر رنجیدہ ہوئے۔ جب اس نے عائشہ (رض) کا دسترخوان دیکھا کہ کھانا لایا گیا ہے تو اٹھ کھڑے ہوئے۔ عائشہ (رض) نے پوچھا : کہاں ؟ قاسم کہنے لگے : میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ عائشہ (رض) نے فرمایا : بیٹھ جا۔ وہ کہنے لگے : میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں، عائشہ (رض) نے فرمایا : بیٹھ جا دھوکے باز۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ کھانے کی موجودگی اور بول وبراز کو روکنے کے وقت نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
(۵۰۳۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ مُجَاہِدٍ أَبِی حَزْرَۃَ عَنْ أَبِی عَتِیقٍ کَذَا قَالَ وَہُوَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی عَتِیقٍ قَالَ : تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عِنْدَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا حَدِیثًا وَکَانَ الْقَاسِمُ رَجُلاً لَحَّانَۃً ، وَکَانَ لأُمِّ وَلَدٍ۔فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ : مَا لَکَ لاَ تَتَحَدَّثُ کَمَا یَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِی ہَذَا ، أَمَا إِنِّی قَدْ عَلِمْتُ مِنْ أَیْنَ أُتِیتَ۔ہَذَا أَدَّبَتْہُ أُمُّہُ ، وَأَنْتَ أَدَّبَتْکَ أُمُّکَ قَالَ فَغَضِبَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وأَضَبَّ عَلَیْہَا۔فَلَمَّا رَأَی مَائِدَۃَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أُتِیَ بِہَا قَامَ فَقَالَتْ : أَیْنَ؟ قَالَ : أُصَلِّی قَالَتْ : اجْلِسْ قَالَ : إِنِّی أُصَلِّی قَالَتِ : اجْلِسْ غُدَرُ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((لاَ صَلاَۃَ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ وَلاَ وَہُوَ یُدَافِعُہُ الأَخْبَثَانِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ وَقَالَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَتِیقٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۰]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ وَقَالَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَتِیقٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی موجودگی اور اس کی طرف رغبت کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٣٨) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کی اقامت ہوجائے تو ابتدا کھانے سے کرو اور جلدی نہ کرو حتیٰ کہ کھانے سے فارغ ہو جاؤ۔
(۵۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا وُضِعَ عَشَائُ أَحَدِکُمْ ، وَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَابْدَئُ وا بِالْعَشَائِ ، وَلاَ تَعْجَلُوا حَتَّی یُفْرَغَ مِنْہُ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۴۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৩৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی موجودگی اور اس کی طرف رغبت کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٣٩) (الف) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کی اقامت ہوجائے تو کھانے سے فراغت کے بعد اٹھو۔
(ب) مسدد نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ عبداللہ کے سامنے کھانا رکھ دیا جاتا یا کھانا آجاتا تو کھانے سے فراغت کے بعد اٹھتے اگرچہ وہ اقامت سن رہے ہوتے یا امام کی قرأت۔
(ب) مسدد نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ عبداللہ کے سامنے کھانا رکھ دیا جاتا یا کھانا آجاتا تو کھانے سے فراغت کے بعد اٹھتے اگرچہ وہ اقامت سن رہے ہوتے یا امام کی قرأت۔
(۵۰۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارَیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا وُضِعَ عَشَائُ أَحَدِکُمْ وَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ یَقُومُ حَتَّی یَفْرُغَ))۔زَادَ مُسَدَّدٌ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُہُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُہُ لَمْ یَقُمْ حَتَّی یَفْرُغَ وَإِنْ سَمِعَ الإِقَامَۃَ وَإِنْ سَمِعَ قِرَائَ ۃَ الإِمَامِ۔ [صحیح۔ أبو داؤد ۳۷۵۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی موجودگی اور اس کی طرف رغبت کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٤٠) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کھانا کھانے بیٹھو تو اپنی ضرورت کے مطابق سیر ہو کر کھاؤ، اگرچہ نماز کی اقامت کہہ دی جائے۔
(۵۰۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مِہْرَانَ الْجَمَّالُ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ عَلَی الطَّعَامِ فَلاَ یَعْجَلَنَّ حَتَّی یَقْضِیَ حَاجَتَہُ مِنْہُ وَإِنْ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ))۔
وَبِہَذَا الْلَفْظِ رَوَاہُ زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ وَوَہْبُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَأَشَارَ الْبُخَارِیُّ إِلَی رِوَایَتِہِمَا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ ابن خزیمۃ ۹۳۶]
وَبِہَذَا الْلَفْظِ رَوَاہُ زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ وَوَہْبُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَأَشَارَ الْبُخَارِیُّ إِلَی رِوَایَتِہِمَا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ ابن خزیمۃ ۹۳۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی موجودگی اور اس کی طرف رغبت کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٤١) حمید بیان کرتے ہیں کہ ہم انس (رض) کے پاس تھے، مؤذن نے مغرب کی اذان کہی اور کھانا بھی آگیا تو انس (رض) نے فرمایا : پہلے کھانا کھاؤ، ہم نے کھانا کھایا، پھر نماز پڑھی اور ان کا شام کا کھانا تھوڑا سا ہوتا تھا۔
(۵۰۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طاہرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِالْمَغْرِبِ وَقَدْ حَضَرَ الْعَشَائُ ۔فَقَالَ أَنَسٌ : ابْدَئُ وا بِالْعَشَائِ فَتَعَشَّیْنَا مَعَہُ ثُمَّ صَلَّیْنَا وَکَانَ عَشَاؤُہُ خَفِیفًا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی موجودگی اور اس کی طرف رغبت کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٤٢) عمرو بن امیہ فرماتے ہیں کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بکرے کے کندھے کا گوشت کاٹ رہے تھے، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھا۔ پھر نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوشت اور چھری رکھ دی، جس کے ساتھ گوشت کاٹ رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے، نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(۵۰۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارَیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ وَیَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ الْمِصْرِیَّانِ أَنَّ لَیْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَہُمَا عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّ أَبَاہُ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَحْتَزُّ مِنْ کَتِفِ شَاۃٍ فِی یَدِہِ ثُمَّ دُعِیَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَأَلْقَاہَا وَالسِّکِّینَ الَّتِی کَانَ یَحْتَزُّ بِہَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔[صحیح۔ بخاری ۲۰۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔[صحیح۔ بخاری ۲۰۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو اقامت کے بعد نماز کے لیے اٹھا اور اس کو کھانے کی ضرورت ہے
(٥٠٤٣) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کو کھانے یا کسی دوسری وجہ سے مؤخر نہیں کیا جائے گا۔
(۵۰۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَیْمُونٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یُؤَخِّرُ الصَّلاَۃَ لِطَعَامٍ وَلاَ لِغَیْرِہِ۔ [منکر۔ أبو داؤد ۳۷۵۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو اقامت کے بعد نماز کے لیے اٹھا اور اس کو کھانے کی ضرورت ہے
(٥٠٤٤) عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں ابن زبیر کے دور میں اپنے باپ کے ساتھ عبداللہ بن عمر کے پہلو میں تھا، عباد بن عبداللہ بن زبیر کہنے لگے : ہم نے سنا کہ نماز سے پہلے کھانے کی ابتدا کرتے تھے تو عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : افسوس تجھ پر ان کا کھانا ہی کیا ہوتا تھا ! کیا تو اپنے باپ کے کھانے کی طرح سوچ سکتا ہے۔
(۵۰۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارَیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی فِی زَمَانِ ابْنِ الزُّبَیْرِ إِلَی جَنْبِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ : إِنَّا سَمِعْنَا أَنَّہُ یُبْدَأُ بِالْعَشَائِ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : وَیْحَکَ مَا کَانَ عَشَاؤُہُمْ؟ أَتُرَاہُ کَانَ مِثْلَ عَشَائِ أَبِیکَ۔[جید۔ أبو داؤد ۳۷۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو اقامت کے بعد نماز کے لیے اٹھا اور اس کو کھانے کی ضرورت ہے
(٥٠٤٥) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن نماز کے لیے نہ نکلے۔ اقامت کے بعد ابوبکر (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ اٹھایا تو ہم نے اس سے زیادہ خوبصورت منظر کبھی نہیں دیکھا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ ہمارے سامنے تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو اشارہ کیا کہ وہ جماعت کروائیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ لٹکایا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات تک نہیں آسکے۔
(۵۰۴۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ یُوسُفَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ صُہَیْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمْ یَخْرُجْ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثًا فَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَذَہَبَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَرَفَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- الْحِجَابَ۔فَمَا رَأَیْنَا مَنْظَرًا أَعْجَبَ إِلَیْنَا مِنْہُ حِینَ وَضَحَ لَنَا وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔فَأَوْمَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی أَبِی بَکْرٍ أَنْ یَتَقَدَّمَ وَأَرْخَی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْحِجَابَ فَلَمْ یُوصَلْ إِلَیْہِ حَتَّی مَاتَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۴۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ وأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ خوف اور بیماری کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٤٦) انس بن مالک (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خدمت گار اور صحابی تھے فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیماری کے ایام میں ان کو نماز پڑھائی جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے۔ سوموار کے دن جب نماز کی صفیں درست ہوگئیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ ہٹایا اور کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھ رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ کھلے ہوئے قرآن کے اوراق جیسا تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیکھنے کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے۔ ابوبکر اپنی ایڑیوں کے بل واپس پلٹے تاکہ صف میں مل سکیں اور ان کا گمان تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے آئیں گے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کا اشارہ کیا کہ تم اپنی نماز پوری کرو۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرہ میں داخل ہوئے اور پردہ لٹکا لیا، پھر اسی دن فوت ہوگئے۔
(۵۰۴۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الأَنْصَارِیُّ وَکَانَ تَبِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- وَخَدَمَہُ وَصَحِبَہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی بِہِمْ فِی وَجَعِ النَّبِیِّ -ﷺ- الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ الاثْنَیْنِ وَہُمْ صُفُوفٌ فِی الصَّلاَۃِ کَشَفَ النَّبِیُّ -ﷺ- سِتْرَ الْحُجْرَۃِ یَنْظُرُ إِلَیْنَا وَہُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْہَہُ وَرَقَۃُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ فَضَحِکَ قَالَ: فَہَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ فِی الصَّلاَۃِ مِنْ فَرَحٍ بِرُؤْیَۃِ رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ- وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَیْہِ لِیَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَارِجٌ إِلَی الصَّلاَۃِ قَالَ : فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَیْنَا بِیَدِہِ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَکُمْ ثُمَّ دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَأَرْخَی السِّتْرَ فَتُوُفِّیَ مِنْ یَوْمِہِ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [انظر ما قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ خوف اور بیماری کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٤٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اذان کو سنا اور بغیر کسی عذر کے نماز کے لیے نہیں آیا تو اس کی وہ نماز قبول نہ کی جائے گی جو اس نے پڑھی ہے، انھوں نے کہا : عذر کیا ہے ؟ فرمایا : خوف یا بیماری
(۵۰۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارَیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ أَبِی جَنَابٍ عَنْ مَغْرَائَ الْعَبْدِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِیَ فَلَمْ یَمْنَعْہُ مِنِ اتِّبَاعِہِ عُذْرٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْہُ الصَّلاَۃُ الَّتِی صَلَّی))۔قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ : ((خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ تقدم برقم ۴۹۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ خوف اور بیماری کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٤٨) قتیبہ بن سعید نے اسی طرح ذکر کیا ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں کہ انھوں نے کہا : عذر کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خوف بیماری اور فرمایا : وہ نماز جو اس نے پڑھ لی ہے۔
(۵۰۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ دِینَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ : قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ قَالُوا : مَا عُذْرُہُ؟ قَالَ : خَوْفٌ ، أَوْ مَرَضٌ ۔وَقَالَ : تِلْکَ الصَّلاَۃُ الَّتِی صَلاَّہَا۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ابن عدی فی الکامل ۷/۲۱۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৪৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ خوف اور بیماری کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنا
(٥٠٤٩) (الف) نافع ابن عمر (رض) سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خیبر میں فرمایا : جو اس درخت سے کھائے وہ مساجد میں نہ آئے ۔
(ب) احمد کی روایت میں ہے کہ وہ مساجد کے قریب نہ آئے۔
(ج) مسدد نے زیادتی کی ہے کہ لہسن کھا کر بھی وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔
(ب) احمد کی روایت میں ہے کہ وہ مساجد کے قریب نہ آئے۔
(ج) مسدد نے زیادتی کی ہے کہ لہسن کھا کر بھی وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔
(۵۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارَیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ وَالْحَدِیثُ لأَبِی الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ فَلاَ یَأْتِیَنَّ الْمَسَاجِدَ ۔ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ وَابْنِ الْمُثَنَّی وَفِی حَدِیثِ أَحْمَدَ : فَلاَ یَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ ۔
وَلَیْسَ فِیہِ فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ وَہُوَ فِی حَدِیثِ مُسَدَّدٍ وَزَادَ یَعْنِی الثُّومَ وَقَالَ : فَلاَ یَأْتِی مَسْجِدَنَا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ وَالْحَدِیثُ لأَبِی الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ فَلاَ یَأْتِیَنَّ الْمَسَاجِدَ ۔ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ وَابْنِ الْمُثَنَّی وَفِی حَدِیثِ أَحْمَدَ : فَلاَ یَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ ۔
وَلَیْسَ فِیہِ فِی غَزْوَۃِ خَیْبَرَ وَہُوَ فِی حَدِیثِ مُسَدَّدٍ وَزَادَ یَعْنِی الثُّومَ وَقَالَ : فَلاَ یَأْتِی مَسْجِدَنَا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ (بدبوار چیزیں مثلاً ) پیاز ‘ لہسن اور گیندنا کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
(٥٠٥٠) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس سبزی (یعنی لہسن) سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو۔
(۵۰۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عُبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الْبَقْلَۃِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّی یَذْہَبَ رِیحُہَا)) یَعْنِی الثُّومَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، وَرَوَاہُ أَیْضًا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ وَغَیْرُہُمَا۔
[صحیح۔ مسلم ۵۶۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، وَرَوَاہُ أَیْضًا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ وَغَیْرُہُمَا۔
[صحیح۔ مسلم ۵۶۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ (بدبوار چیزیں مثلاً ) پیاز ‘ لہسن اور گیندنا کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
(٥٠٥١) عبد العزیز بن صہیب فرماتے ہیں کہ ہم نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا : آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لہسن کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ انس فرمانے لگے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ تو وہ ہماری مسجد کے قریب آئے اور نہ ہی ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔
(۵۰۵۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ قَالَ قُلْنَا لأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ فِی الثُّومِ؟ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ فَلاَ یَقْرَبْنَا ، وَلاَ یُصَلِّیَنَّ مَعَنَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَیْرِہِ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
[صحیح۔ بخاری ۸۱۸]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَیْرِہِ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
[صحیح۔ بخاری ۸۱۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ (بدبوار چیزیں مثلاً ) پیاز ‘ لہسن اور گیندنا کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
(٥٠٥٢) (الف) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس درخت (یعنی لہسن ) سے کھائے وہ ہمیں ہماری مسجدوں میں تکلیف نہ دے۔
(ب) ابو رافع کی حدیث میں ہے کہ وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو کی وجہ سے تکلیف نہ دے۔
(ب) ابو رافع کی حدیث میں ہے کہ وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو کی وجہ سے تکلیف نہ دے۔
(۵۰۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَہَذَا حَدِیثُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ یَعْنِی الثُّومَ فَلاَ یُؤْذِینَا فِی مَسْجِدِنَا))۔
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ رَافِعٍ : ((فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، وَلاَ یُؤْذِینَا بِرِیحِ الثُّومِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۲]
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ رَافِعٍ : ((فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، وَلاَ یُؤْذِینَا بِرِیحِ الثُّومِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ (بدبوار چیزیں مثلاً ) پیاز ‘ لہسن اور گیندنا کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
(٥٠٥٣) جابر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے لہسن کھایا، پھر فرمایا : جس نے لہسن، پیاز اور گیندنا کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
(۵۰۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو ابْنُ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ الثُّومِ ۔قَالَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ الثُّومِ : وَالْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَلاَ یَقْرَبْنَا فِی مَسْجِدِنَا فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ تَتَأَذَّی مِمَّا یَتَأَذَّی مِنْہُ الإِنْسَانُ))۔لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔[صحیح۔ مسلم ۵۶۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ الثُّومِ ۔قَالَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ الثُّومِ : وَالْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَلاَ یَقْرَبْنَا فِی مَسْجِدِنَا فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ تَتَأَذَّی مِمَّا یَتَأَذَّی مِنْہُ الإِنْسَانُ))۔لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔[صحیح۔ مسلم ۵۶۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ (بدبوار چیزیں مثلاً ) پیاز ‘ لہسن اور گیندنا کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
(٥٠٥٤) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیاز اور گیند نا کھانے سے منع فرمایا، لیکن ضرورت کے وقت ہم اس کو کھاتے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس خبیث درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
(۵۰۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ الأَصَمُّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتُوَائِیُّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ ۔فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَۃُ فَأَکَلْنَا مِنْہُ۔فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیثَۃِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ تَتَأَذَّی مِمَّا یَتَأَذَّی مِنْہُ الإِنْسَانُ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৫৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ (بدبوار چیزیں مثلاً ) پیاز ‘ لہسن اور گیندنا کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
(٥٠٥٥) حذیفہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قبلے کی جانب تھوکاتو قیامت کے دن اس کا تھوک اس کی آنکھوں کے درمیان ہوگا اور جس نے اس خبیث سبزی سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ تین بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔
(۵۰۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارَیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عن عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَظُنُّہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ تَفَلَ تِجَاہَ الْقِبْلَۃَ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَفْلُہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ ، وَمَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الْبَقْلَۃِ الْخَبِیثَۃِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا))۔ثَلاَثًا۔
তাহকীক: