আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৬৬ টি

হাদীস নং: ৫০৫৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ (بدبوار چیزیں مثلاً ) پیاز ‘ لہسن اور گیندنا کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت
(٥٠٥٦) جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا ہماری مسجد سے الگ رہے یا اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہنڈیا لائی گئی، جس میں سبزیاں تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بو کو پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا جو اس میں سبزیاں تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو اپنے ساتھیوں کے قریب کر دو ۔ جس وقت اس نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند فرمایا ہے تو وہ بھی رک گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کھاؤ میں ان سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم سرگوشی نہیں کرتے۔
(۵۰۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((مَنْ أَکَلَ ثُوْمًا أَوْ بَصَلاً فَلْیَعْتَزِلْنَا أَوْ لِیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا أَوْ لِیَقْعُدْ فِی بَیْتِہِ))۔وَإِنَّہُ أُتِیَ بِقِدْرٍ فِیہِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَہَا رِیحًا۔فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِیہَا مِنَ الْبُقُولِ قَالَ : قَرِّبُوہَا إِلَی بَعْضِ أَصْحَابِہِ کَانَ مَعَہُ، فَلَمَّا رَآہُ کَرِہَ أَکْلَہَا قَالَ : ((کُلْ فَإِنِّی أُنَاجِی مَنْ لاَ تُنَاجِی))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عن سَعِیدِ بْنِ عُفَیْرٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ أُتِیَ بِبَدْرٍ وَقَالَ ابْنُ وَہْبٍ یَعْنِی طَبَقًا فِیہِ خَضِرَاتٌ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
یہ سابقہ حدیث کی ایک سند ہے
(۵۰۵۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ فَذَکَرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
(٥٠٥٨) جابر بن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانا کھاتے اور بچا ہوا کھانا ابو ایوب کی طرف بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کھانے کا پیالہ دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا، کیونکہ اس میں لہسن تھا۔ ابوایوب (رض) آئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرام نہیں، لیکن میں اس کو بو کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔ ابو ایوب کہنے لگے : پھر میں بھی ناپسند کرتا ہوں جس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناپسند کرتے ہیں۔
(۵۰۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أَکَلَ مِنْ طَعَامٍ بَعَثَ بِفَضْلِہِ إِلَی أَبِی أَیُّوبَ۔قَالَ : فَبَعَثَ إِلَیْہِ بِقَصْعَۃٍ لَمْ یَأَْکُلْ مِنْہَا فِیہَا ثُومٌ فَأَتَاہُ أَبُو أَیُّوبَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَحَرَامٌ ہُوَ؟ قَالَ : ((لاَ وَلَکِنِّی کَرِہْتُہُ لِرِیحِہِ))۔قَالَ : فَإِنِّی أَکْرَہُ ما کَرِہْتَ ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۰۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
(٥٠٥٩) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس، لہسن، پیاز اور گیندنے کا ذکر کیا گیا ، عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول ! آپ کو ان میں سب سے زیادہ ناپسند لہسن ہے، کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو حرام قرار دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، تم کھاؤ، لیکن جو کھالے وہ اس مسجد کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو۔
(۵۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ أَنَّ أَبَا التُّجَیْبِ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ حَدَّثَہُ : أَنَّہُ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الثُّومُ وَالْبَصَلُ وَالْکُرَّاثُ وَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَشَدُّ ذَلِکَ کُلِّہِ الثُّومُ أَفَتُحَرِّمُہُ؟ فَقَالَ -ﷺ- : ((کُلُوہُ مَنْ أَکَلَہُ فَلاَ یَقْرَبْ ہَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّی یَذْہَبَ رِیحُہُ مِنْہُ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ ابوداؤد ۳۸۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
(٥٠٦٠) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : جب خیبر فتح ہوا تو ہمیں سبزی ملی جس میں لہسن تھا تو ہم نے خوب کھایا اور بھوکے بھی تھے، پھر ہم مسجد کی طرف چلے، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لہسن کی بو محسوس کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس خبیث درخت سے کھائے وہ مسجد کے قریب نہ آئے تو لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ حرام کردیا گیا، حرام کردیا گیا۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! جو اللہ نے حلال قرار دیا وہ حرام نہیں۔ لیکن میں اس کو بو کی ناپسند کرتا ہوں۔
(۵۰۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ أَخْبَرَنَا الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : لَمْ نَعُدْ أَنْ فُتِحَتْ خَیْبَرُ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْبَقْلَۃِ یَعْنِی الثُّومَ فَأَکَلْنَا مِنْہَا أَکْلاً شَدِیدًا وَنَاسٌ جِیَاعٌ ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ۔فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الرِّیحَ فَقَالَ : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیثَۃِ شَیْئًا فَلاَ یَقْرَبْنَا فِی الْمَسْجِدِ))۔فَقَالَ النَّاسُ : حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : ((أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّہُ لَیْسَ بِی تَحْرِیمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ وَلَکِنَّہَا شَجَرَۃٌ أَکْرَہُ رِیحَہَا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو الناقَدِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
(٥٠٦١) مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں لہسن کھایا۔ میں مسجد میں آیا اور نماز کی ایک رکعت ہوچکی تھی۔ میں نماز میں شامل ہوگیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بو کو پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس خبیث درخت سے کھائے وہ مسجد کے یا فرمایا : نماز کے قریب نہ آئے جب تک ان کی بو ختم نہ ہو۔ میں نے نماز پوری کی، جب میں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنا ہاتھ پکڑائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ پکڑا دیا تو میں نے اپنی قمیص کی آستین میں داخل کر کے اپنے سینے تک لے گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر پٹی بندھی ہوئی پائی تو فرمایا : تیرا عذر ہے۔
(۵۰۶۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو ہِلاَلٍ الرَّاسِبِیُّ وَسُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ وَغَیْرُہُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ : أَکَلْتُ الثُّومَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَیْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَکْعَۃٍ فَدَخَلْتُ مَعَہُمْ فِی الصَّلاَۃِ۔فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رِیحَہُ فَقَالَ : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیثَۃِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا حَتَّی یَذْہَبَ رِیحُہَا))۔فَأَتْمَمْتُ صَلاَتِی فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَمَا أَعْطَیْتَنِی یَدَکَ فَنَاوَلَنِی یَدَہُ فأَدْخَلْتُہَا فِی کُمِّی حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی صَدْرِی فَوَجَدَہُ مَعْصُوبًا۔فَقَالَ : ((إِنَّ لَکَ عُذْرًا أَوْ أَرَی لَکَ عُذْرًا)) [صحیح۔ احمد ۴/۲۵۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
(٥٠٦٢) أبی زیاد جتان بن سلمہ نے عائشہ (رض) سے پیاز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری کھانا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھایا اس میں پیاز تھا۔
(۵۰۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا بَحِیرُ بْنُ سَعْدٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَاریُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی قَالَ أَخْبَرَنَا قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنْ بَحِیرٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی زِیَادٍ حَیَّانَ بْنِ سَلَمَۃَ أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ الْبَصَلِ فَقَالَتْ : إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَکَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- طَعَامٌ فِیہِ بَصَلٌ۔ہَکَذَا فِی الْکِتَابِ حَیَّانُ وَقَالُوا الصَّوَابُ خِیَارٌ قَالَ الشَّیْخُ وَفِی رِوَایَۃِ عِیسَی خِیَارٌ وَکَذَلِکَ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ عَنْ حَیْوَۃَ خِیَارٌ۔ [منکر۔ أبو داؤد ۳۸۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
(٥٠٦٣) ابو راشد فرماتے ہیں : یہ حدیث عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی وفات سے پچھلے جمعہ میں بھنی ہوئی ہنڈیا میں پیاز کھایا۔
(۵۰۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحِرَفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْعَلاَئِ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ عَامِرٍ الزُّبَیْدِیُّ حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا رَاشِدٍ حَدَّثَہُ یَرُدُّہُ إِلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَدْ أَکَلَ الْبَصَلَ فِی الْقِدْرِ مَشْوِیًّا قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ بِجُمُعَۃٍ۔

[منکر۔ الطبرانی فی مسند الشامیین ۱۸۵۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ چیزوں کا کھانا حرام نہیں
(٥٠٦٤) معدان بن ابی طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، اس میں تھا کہ اے لوگو ! تم ان دو خبیث درختوں سے کھاتے ہو یعنی پیاز اور لہسن، حالانکہ میں دیکھتا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس سے ان کی بو پاتے تو اسے بقیع کی طرف نکال دیتے، لیکن جو کھانا چاہے تو ان کی بو پکا کر ختم کرے۔
(۵۰۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ تَأْکُلُونَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لاَ أَرَاہُمَا إِلاَّ خَبِیثَتَیْنِ ہَذَا الْبَصَلِ وَالثُّومِ ، وَلَقَدْ کُنْتُ أَرَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا وَجَدَ رِیحَہُمَا مِنَ الرَّجُلِ أَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ إِلَی الْبَقِیعِ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ آکِلُہُمَا لاَ بُدَّ فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتُوَائِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۵۶۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو ان مذکورہ چیزوں کو کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بدبو ختم کرلے
(٥٠٦٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لہسن کھانے سے منع فرمایا، لیکن فرمایا : پکا کر کھالو۔
(۵۰۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ أَبُو وَکِیعٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ شَرِیکٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نُہِیَ عَنْ أَکْلِ الثُّومِ إِلاَّ مَطْبُوخًا۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ : شَرِیکٌ ہُوَ ابْنُ حَنْبَلٍ۔ [منکر۔ أبو داؤد ۳۸۲۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو ان مذکورہ چیزوں کو کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بدبو ختم کرلے
(٥٠٦٦) معاویہ بن قرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ان دو درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اگر تم نے کھانا ہی ہے تو پکا کر ان کی بو ختم کرلو۔
(۵۰۶۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَبُو حَاتِمٍ وَکَانَ یَنْزِلُ مَکَّۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنْ کُنْتُمْ لاَ بُدَّ آکِلِیہِمَا فَأَمِیتُوہُمَا طَبْخًا))۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جو ان مذکورہ چیزوں کو کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بدبو ختم کرلے
(٥٠٦٧) ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ عائشہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ابوبکر (رض) نرم دل والے ہیں وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو جماعت کروائیں۔ تم تو یوسف (علیہ السلام) کی عورتوں طرح ہو۔ ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں لوگوں کو جماعت کروائی۔
(۵۰۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ الْجُعْفِیُّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِ بِالنَّاسِ))۔فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ مَتَی یَقُومُ مَقَامَکَ لاَ یَسْتَطِیعُ یُصَلِّی بِالنَّاسِ۔فَقَالَ : ((مُرُوا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبَاتُ یُوسُفَ))۔قَالَ : فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حُسَیْنٍ الْجُعْفِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے نماز میں بیٹھنے اور کھڑے ہونے سے متعلقہ احادیث کا بیان

امام کو اپنا نائب مقرر کردینا مستحب ہے جب وہ نماز میں کھڑا ہونے کی طاقت نہ رکھے
(٥٠٦٨) حسین بن علی (رض) نے کچھ الفاظ زائد ذکر کیے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری بڑھ گئی۔
(۵۰۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاشْتَدَّ مَرَضُہُ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام کے نماز میں بیٹھنے اور کھڑے ہونے سے متعلقہ احادیث کا بیان

امام کو اپنا نائب مقرر کردینا مستحب ہے جب وہ نماز میں کھڑا ہونے کی طاقت نہ رکھے
(٥٠٦٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے سے گرپڑے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں جانب زخمی ہوگئی۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیمار داری کے لیے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز پڑھی، ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو فرمایا : امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ ” سمع اللہ لمن حمدہ “ کہے تو تم بھی ” ربنا ولک الحمد “ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
(۵۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ : سَقَطَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّہُ الأَیْمَنُ۔فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ نَعُودُہُ فَصَلَّی قَاعِدًا فَصَلَّیْنَا قُعُودًا ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ۔فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِینَ))

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔

[صحیح۔ بخاری ۳۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کے بیٹھنے کا حکم
(٥٠٧٠) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے پر سوار ہوئے تو گرگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں جانب زخمی ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی نماز بیٹھ کر پڑھائی تو ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھو اور جب وہ ” سمع اللہ لمن حمدہ “ کہے تو تم ” ربنا ولک الحمد “ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
(۵۰۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَکِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْہُ فَجُحِشَ شِقُّہُ الأَیْمَنُ فَصَلَّی صَلاَۃً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَہُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِینَ))۔أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ انظر ما قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کے بیٹھنے کا حکم
(٥٠٧١) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے گھر بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ تم بھی بیٹھ جاؤ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ اپنا سر اٹھالے تو تم بھی سر اٹھالو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور شافعی کی روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار تھے تو بیٹھ کر نماز پڑھی۔
(۵۰۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَیْتِہِ وَہُوَ جَالِسٌ فَصَلَّی وَرَائَ ہُ قَوْمٌ قِیَامًا فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ۔فَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا))۔

زَادَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَتِہِ وَہُوَ شَاکِی فَصَلَّی جَالِسًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔[صحیح۔ بخاری ۶۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کے بیٹھنے کا حکم
(٥٠٧٢) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ کہے : ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ “ تو تم ” اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ “ کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
(۵۰۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخَوَارِزْمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ وَفِی حَدِیثِ شُعَیْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَیْہِ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِینَ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ ، وأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ۔

[صحیح۔ بخاری ۶۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کے بیٹھنے کا حکم
(٥٠٧٣) (الف) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی تو ابوبکر (رض) نے بھی تکبیر کہی، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے تھے۔ وہ ہمیں سنوا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کھڑے ہوئے دیکھا تو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جب نماز پوری کی تو فرمایا : قریب ہے کہ تم بھی وہی کام کرو جو فارس وروم والے اپنے بڑوں کے لیے کرتے تھے۔ تم اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو۔ اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

(ب) داؤد کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور ابوبکر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے تھے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کہتے تو ابوبکر بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنوا دیں۔
(۵۰۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْعَزَائِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَیْدٍ الرُّؤَاسِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَبَّرَ فَکَبَّرَ أَبُو بَکْرٍ خَلْفَہُ لِیُسْمِعَنَا فَبَصُرَ بِنَا قِیَامًا فأَوْمَأَ إِلَیْنَا أَنِ اجْلِسُوا۔فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ : ((کِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ لِعُظَمَائِہِمْ۔ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِکُمْ ، فَإِنْ صَلَّوْا قِیَامًا فَصَلُّوا قِیَامًا ، وَإِنْ صَلَّوْا جُلُوسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا))۔لَفْظُ حَدِیثِ إِسْمَاعِیلَ

وَزَادَ دَاوُدُ فِی حَدِیثِہِ قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الظُّہْرَ وَأَبُو بَکْرٍ خَلْفَہُ ، فَإِذَا کَبَّرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَبَّرَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِیُسْمِعَنَا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ، وأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ فِیہِ : اشْتَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّیْنَا وَرَائَ ہُ وَہُوَ قَاعِدٌ۔ [صحیح۔ مسلم ۴۱۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کے بیٹھنے کا حکم
(٥٠٧٤) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گرگئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ٹخنا نکل گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، عائشہ (رض) کے گھر بیٹھ گئے۔ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیمارداری کے لیے آئے تو ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا کہ نفل نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے اور ہم کھڑے تھے۔ پھر ہم آئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز بیٹھ کر پڑھ رہے تھے، ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا : تم اپنے امام کی پیروی کرو۔ اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور تم ایسا نہ کرو جیسے فارسی اپنے بڑوں کے لیے کرتے تھے۔
(۵۰۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : صُرِعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ فَرَسٍ لَہُ عَلَی جِذْعِ نَخْلَۃٍ فَانْفَکَّتْ قَدَمُہُ ، فَقَعَدَ فِی بَیْتٍ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَأَتَیْنَاہُ نَعُودُہُ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی تَطَوُّعًا فَصَلَّی قَاعِدًا وَنَحْنُ قِیَامٌ ، ثُمَّ أَتَیْنَاہُ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی صَلاَۃً مَکْتُوبَۃً قَاعِدًا قَالَ : فَقُمْنَا فَأَوْمَأَ إِلَیْنَا فَجَلَسْنَا ، ثُمَّ قَالَ : ((ائْتَمُّوا بِالإِمَامِ إِنْ صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ، وَإِنْ صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا ، وَلاَ تَفْعَلُوا کَمَا تَفْعَلُ فَارِسُ بِعُظَمَائِہَا))۔ [صحیح۔ انظر ماقبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کے بیٹھنے کا حکم
(٥٠٧٥) شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے۔
(۵۰۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الضُّبَعِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ رَجُلٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَؤُمَّنَّ أَحَدٌ بَعْدِی جَالِسًا))۔

قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ لَمْ یَرَوْہِ غَیْرُ جَابِرٍ الْجُعْفِیِّ وَہُوَ مَتْرُوکٌ وَالْحَدِیثُ مُرْسَلٌ لاَ تَقُومُ بِہِ حُجَّۃٌ۔[منکر۔ اخرجہ الحارث فی مسند ۱۴۷]
tahqiq

তাহকীক: