আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯ টি

হাদীস নং: ১৯৫০৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کبیرہ گناہوں کا تذکرہ چل پڑا نبی ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے نبی ﷺ نے ٹیک لگائی ہوئی تھی سیدھے ہو کر بیٹھے پھر کئی مرتبہ فرمایا جھوٹے گواہ جھوٹی بات یہ بات نبی ﷺ نے اتنی مرتبہ فرمائی کہ ہم سوچنے لگے کہ نبی ﷺ خاموش ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ و قَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى فَذَكَرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہم کو چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر سرابر ہی دیکھنے کا حکم دیا تھا اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ چاندی کو سونے کے بدلے اور سونے کو چاندی کے بدلے جیسے چاہیں لے سکتے ہیں۔ کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرَةَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ فِي الذَّهَبِ وَالذَّهَبَ فِي الْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ يَدًا بِيَدٍ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
ابوعثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی ﷺ سے یہ بات میرے ان کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے محفوظ کی ہے جو شخص حالت اسلام میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا باپ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے اور حضرت ابوبکرہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے بھی یہ نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا ہے اور اپنے دل میں محفوظ کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي أَنَّ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کو حرام قرار دیتا ہے اور وہ جنت کی مہک بھی نہیں سن سکے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ الْجَنَّةَ لَمْ يَشُمَّ رِيحَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں ہے کہ آخرت کے عذاب کے ساتھ اس گناہ گار کو دنیا میں بھی فوری سزا دی جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعُقُوبَةَ لِصَاحِبِهِ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَحْسَبُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ شَهْرَا عِيدِ رَمَضَانَ وَذِي الْحِجَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
عیینہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازے میں شریک ہوا تھا ان کے اہل خانہ میں سے کچھ لوگوں نے اپنے چہرے کا رخ جنازہ کی طرف کرلیا اور اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چلنے لگے اور وہ کہتے جا رہے تھے کہ آہستہ چلو اللہ تمہیں برکت دے مربد کے راستے میں حضرت ابوبکرہ (رض) بھی جنازے میں شامل ہوئے جب انہوں نے ان لوگوں کو اور ان کی اس حرکت کو دیکھا تو اپنے خچر کو ان کی طرف بڑھایا اور کوڑا لے کر لپکے اور فرمایا اس کا راستہ چھوڑ دو اس ذات کی قسم جس نے ابوقاسم کے چہرے کو معزز فرمایا میں نے اپنے آپ کو نبی ﷺ کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہم جنازے کو لے کر تیزی کے ساتھ چلتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِهِ يَسْتَقْبِلُونَ الْجِنَازَةَ فَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ قَالَ فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ مِنْ طَرِيقِ المِرْبَدِ فَلَمَّا رَأَى أُولَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى لَهُمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ خَلُّوا فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر ان پڑھ اور پڑھا لکھا آدمی پڑھ لے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ بِعَيْنِ الشِّمَالِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ الْأُمِّيُّ وَالْكَاتِبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১২
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ (رض) کے سامنے شب قدر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا کیونکہ میں اس کے متعلق نبی ﷺ کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔ ٢١ ویں، ٢٣ ویں، ٢٥ ویں شب، یا ٢٧ ویں شب یا آخری رات میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ تِسْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ أَوْ ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے میں نے سارے رمضان قیام کیا اور روزے رکھتا رہا کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کسی دن سوتا رہ جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَصُمْتُهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ أَمْ لَا فَلَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی ﷺ اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی ﷺ اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی ﷺ اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ شاید سمجھے کہ نبی ﷺ اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی ﷺ حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ جس دن جاریہ بن قدامہ نے ابن حضرمی کو آگ میں جلایا تو وہ حضرت ابوبکرہ (رض) کی طرف بڑھے تو کہنے لگے یہ ہیں ابوبکرہ (رض) ، راوی کہتے ہیں حضرت ابوبکرہ (رض) نے فرمایا اگر یہ لوگ میرے پاس آئے تو میں لکڑی سے بھی ان پر حملہ نہ کروں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ غَيْرُ أَبِي عَنْ يَحْيَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ أُفَضِّلُ فِي نَفْسِي حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ بِمِنًى فَقَالَ أَلَا تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَأَبْشَارَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُهُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ فَكَانَ كَذَلِكَ وَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حَرْقِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ فَقَالُوا هَذَا أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ إِلَيْهِمْ بِقَصَبَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز کسوف میں ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی ﷺ کی تو چار رکعتیں ہوگئی اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوگئی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ وَهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلَهُمْ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ جہینہ، اسلم، غفار، غطفان قبیلے کے لوگ بنواسد، بنوتمیم اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ ہم سے بہتر ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ جُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمْ خَيْرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫২০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا نبی ﷺ نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور ایک آدمی بائیں جانب بھی تھا اچانک ہمارے سامنے دو قبریں آگئیں نبی ﷺ نے فرمایا ان دونوں مردوں کو عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا۔ تم میں سے کون میرے پاس ایک ٹہنی لے کر آئے گا ہم دوڑ پڑے میں اس پر سبقت کرگیا اور ایک ٹہنی لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی ﷺ نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ دونوں سرسبز رہیں گے ان پر عذاب میں تخفیف رہے گی۔ اور ان دونوں کو عذاب صرف پیشاب اور غیبت کے معاملے میں ہورہا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ بَحْرِ بْنِ مَرَّارٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ مَنْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةِ نَخْلٍ قَالَ فَاسْتَبَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ آخَرُ فَجِئْنَا بِعَسِيبٍ فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ فَجَعَلَ عَلَى هَذَا وَاحِدَةً وَعَلَى هَذَا وَاحِدَةً ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ سَيُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا كَانَ فِيهِمَا مِنْ بُلُولَتِهِمَا شَيْءٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫২১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب فتنے رونماہوں گے جن میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے سے اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والادوڑنے والے سے بہتر ہوگا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلاجائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں میں چلاجائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلاجائے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ اپنی تلوار پکڑے اور اس کی دھار کو ایک چٹان پردے مارے۔ اور اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے، اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْجَالِسِ وَالْجَالِسُ خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ صَخْرَةً ثُمَّ لِيَنْجُ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫২২
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ ایک علاقے کا ذکر فرمایا اس کا نام بصرہ ہے اور اس کے ایک طرف دجلہ نامی نہر بہتی ہے کثیر باغات والا علاقہ ہے وہاں بنوقنطوراء (ترک) آکر اتریں گے تو لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو اپنی اصل سے جا ملے گا یہ ہلاک ہوگا ایک گروہ اپنے اوپر زیادتی کرکے کفر کرے گا اور ایک گروہ اپنے بچوں کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا۔ ان کے مقتولین شہید ہوں گے اور ان کے ہی بقیہ لوگوں کے ہاتھوں ہی مسلمانوں کی فتح ہوگی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ إِلَى جَنْبِهَا نَهَرٌ يُقَالُ لَهُ دِجْلَةُ ذُو نَخْلٍ كَثِيرٍ وَيَنْزِلُ بِهِ بَنُو قَنْطُورَاءَ فَيَتَفَرَّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِهَا وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا وَكَفَرُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ فَيُقَاتِلُونَ قَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ يَفْتَحُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى بَقِيَّتِهِمْ وَشَكَّ يَزِيدُ فِيهِ مَرَّةً فَقَالَ الْبُصَيْرَةُ أَوْ الْبَصْرَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَنْزِلُنَّ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ أَوْ الْبُصَيْرَةُ عَلَى دِجْلَةَ نَهَرٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ الْعَوَّامُ بَنُو قَنْطُورَاءَ هُمْ التُّرْكُ
tahqiq

তাহকীক: