আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৯ টি
হাদীস নং: ১৯৫৪৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس کہیں سے کچھ دینار آئے تھے نبی ﷺ وہ تقسیم فرما رہے تھے وہاں ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا جس کے بال کٹے ہوئے تھے اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) سجدے کے نشان تھے وہ نبی ﷺ کے سامنے آیا اور کہنے لگا کہ بخدا اے محمد آج آپ جب سے تقسیم کر رہے ہیں آپ نے انصاف نہیں کیا اس پر نبی ﷺ کو شدید غصہ آگیا اور فرمایا کہ واللہ میرے بعد تم مجھ سے زیادہ عادل کسی کو نہ پاؤگے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اسے قتل نہ کردیں نبی ﷺ نے فرمایا پھر فرمایا یہ اور اس کے ساتھی دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَقْطُرَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ كَأَنَّهُ يُؤَامِرُ أَحَدًا ثُمَّ يُعْطِي وَرَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ فَقَالَ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهُ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَا يَتَعَلَّقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৪৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ آئے تو نبی ﷺ رکوع میں تھے نبی ﷺ نے ابوبکرہ (رض) کی جوتی کی آواز سنی وہ دوڑ کر رکوع کو حاصل کرنا چاہ رہے تھے نماز سے فارغ ہو کرنی نے پوچھا کون دوڑرہا تھا ؟ انہوں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا بَشَّارٌ الْخَيَّاطُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ نَعْلِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ يَحْضُرُ يُرِيدُ أَنْ يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ السَّاعِي قَالَ أَبُو بَكْرَةَ أَنَا قَالَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৪৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے ابوبکرہ (رض) بھی موجود تھے کہ لوگ ایک حاملہ عورت کو لے کر آئے وہ کہنے لگی کہ اس نے بدکاری کا گناہ کیا ہے لہذا اسے رجم کیا جائے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اللہ کی پردہ پوشی سے فائدہ اٹھاؤ وہ واپس چلی گئی تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ آئی نبی ﷺ اس وقت خچر پر ہی تھے اس نے پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ مجھے رجم کردیجیے۔ نبی ﷺ نے پھر وہی جواب دیا جب وہ تیسری مرتبہ آئی تو اس نے نبی ﷺ کی خچر کی لگام پکڑ لی اور کہنے لگی کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ آپ مجھے رجم کردیجیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اچھا جاؤ یہاں تک کہ بچہ پیدا ہوجائے۔ وہ چلی گئی بچہ پیدا ہوگیا اور وہ دوبارہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور نبی ﷺ سے بات چیت کی نبی ﷺ نے فرمایا یہاں تک کہ دم نفاس سے پاک ہوجاؤ وہ چلی گئی کچھ عرصے بعد دوبارہ آئی اور کہنے لگی کہ وہ پاک ہوگئی ہے نبی ﷺ نے کچھ خواتین کو بلایا اور انہیں اس کی پاکی کے معاملے میں تسلی کرنے کا حکم دیا انہوں نے آکر نبی ﷺ کے سامنے گواہی دی کہ یہ پاک ہوگئی چناچہ نبی ﷺ نے اس کے سینے تک ایک گڑھا کھودنے کا حکم دیا پھر نبی ﷺ مسلمانوں کے ساتھ تشریف لائے اور چنے کے دانے کے برابر ایک کنکری پکڑ کر اسے ماری اور واپس چلے گئے اور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ اب تم اس پر پتھر مارو لیکن چہرے پر مارنے سے گریز کرنا جب وہ ٹھنڈی ہوگئی تو اسے نکالنے کا حکم دیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا کہ اگر اس کا ثواب تمام اہل حجاز پر تقسیم کردیا جائے تو وہ ان سب کو کافی ہوجائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ الْمُقْرِي قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ وَاقِفًا إِذْ جَاءُوا بِامْرَأَةٍ حُبْلَى فَقَالَتْ إِنَّهَا زَنَتْ أَوْ بَغَتْ فَارْجُمْهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتْ الثَّانِيَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ ارْجُمْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ اسْتَتِرِي بِسِتْرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَجَعَتْ ثُمَّ جَاءَتْ الثَّالِثَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ حَتَّى أَخَذَتْ بِلِجَامِ بَغْلَتِهِ فَقَالَتْ أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَلَا رَجَمْتَهَا فَقَالَ اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي فَانْطَلَقَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا ثُمَّ جَاءَتْ فَكَلَّمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَهَا اذْهَبِي فَتَطَهَّرِي مِنْ الدَّمِ فَانْطَلَقَتْ ثُمَّ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ تَطَهَّرَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسْوَةً فَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَسْتَبْرِئْنَ الْمَرْأَةَ فَجِئْنَ وَشَهِدْنَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطُهْرِهَا فَأَمَرَ لَهَا بِحُفَيْرَةٍ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً مِثْلَ الْحِمَّصَةِ فَرَمَاهَا ثُمَّ مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلْمُسْلِمِينَ ارْمُوهَا وَإِيَّاكُمْ وَوَجْهَهَا فَلَمَّا طَفِئَتْ أَمَرَ بِإِخْرَاجِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لَوْ قُسِّمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَسِعَهُمْ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا أَبُو عِمْرَانَ الْبَصْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَكَفَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَوْ قُسِّمَ أَجْرُهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ لَوَسِعَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৪৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایران سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا نبی ﷺ نے اس سے فرمایا میرے رب نے تمہارے رب یعنی کسری کو قتل کردیا ہے اسی دوران کسی نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اب اس کی بیٹی کو اس کا جانشین بنایا گیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ قوم کبھی کام یاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ فَارِسَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ قَتَلَ رَبَّكَ يَعْنِي كِسْرَى قَالَ وَقِيلَ لَهُ يَعْنِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ اسْتَخْلَفَ ابْنَتَهُ قَالَ فَقَالَ لَا يُفْلِحُ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمْ امْرَأَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৪৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ وَيُونُسُ وَأَيُّوبُ وَهِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قِيلَ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالَ الْمَقْتُولِ قَالَ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৪৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو پل صراط پر سوار کیا جائے گا وہ اس کے دونوں کناروں سے اس طرح جہنم میں گریں گے کہ جیسے شمع کے پروانے گرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اپنی رحمت سے نجات دے گا پھر نبیوں اور فرشتوں اور شہیدوں کو سفارش کی اجازت ملے گی چناچہ وہ کئی مرتبہ سفارش کرینگے اور بالآخر جہنم سے ہر اس آدمی کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سُلَيْمَانَ الْعَصَرِيَّ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ صُهْبَانَ قَالَ سَمِعْتْ أَبَا بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَةُ الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ قَالَ فَيُنْجِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ قَالَ ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا فَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ وَزَادَ عَفَّانُ مَرَّةً فَقَالَ أَيْضًا وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৪৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ میں دجال کا رعب داخل نہ ہوسکے گا۔ اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہونگے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہونگے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْهَا مَلَكَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قَالَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يُونُسَ وَحُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ (رض) مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی ﷺ اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چناچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کوئی کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر (رض) سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی ﷺ کی طبیعت پر یہ خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ قَالَ أَبِي قَالَ عَفَّانُ فِيهِ فَاسْتَاءَ لَهَا قَالَ وَقَالَ حَمَّادٌ فَسَاءَهُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫২
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک ایسی قوم بھی آئے گی جو بہت تیز اور سخت ہوگی قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا جب جب تمہارا ان سے سامنا ہو تب تب تم انہیں قتل کرنا کہ ان کے قاتل کو اجروثواب دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ وَسَأَلَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے والد کے پاس سے گذرے جو یہ دعا کررہے تھے کہ اے اللہ میں فقر کفر اور عذاب سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں میں نے یہ دعا یاد کرلی اور ہر نماز کے بعد اسے مانگنے لگا ایک دن والد صاحب میرے پاس سے گذرے تو میں یہی دعا مانگ رہا تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا بیٹا تم نے یہ کلمات کہاں سے سیکھے ہیں میں نے کہا اے اباجان میں نے آپ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگتے ہوئے سنا تھا لہذا میں نے بھی اسے یاد کرلیا تھا انہوں نے فرمایا بیٹا ان کلمات کو لازم پکڑلو کیونکہ نبی ﷺ بھی ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ مَرَّ بِوَالِدِهِ وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْهُ وَكُنْتُ أَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ فَمَرَّ بِي وَأَنَا أَدْعُو بِهِنَّ فَقَالَ يَا بُنَيَّ أَنَّى عَقَلْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ قَالَ يَا أَبَتَاهُ سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ قَالَ فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب سجدے میں جاتے تو امام حسن کود کر نبی ﷺ کی پشت پر سوار ہوجاتے انہوں نے کئی مرتبہ ایسا کیا اس پر کچھ لوگ کہنے لگے آپ اس بچے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ ہم نے آپ کو کسی دوسرے کے ساتھ ایسا نہیں کرتے ہوئے دیکھا نبی ﷺ نے فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا حسن کہتے ہیں کہ واللہ ان کے خلیفہ بننے کے بعد ایک سینگی میں آنے والی مقدار کا خون بھی نہیں بہایا گیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَثِبُ عَلَى ظَهْرِهِ إِذَا سَجَدَ فَفَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالُوا لَهُ وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَفْعَلُ بِهَذَا شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَفْعَلُهُ بِأَحَدٍ قَالَ الْمُبَارَكُ فَذَكَرَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَسَيُصْلِحُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ الْحَسَنُ فَوَاللَّهِ وَاللَّهِ بَعْدَ أَنْ وَلِيَ لَمْ يُهْرَقْ فِي خِلَافَتِهِ مِلْءُ مِحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے بعد گمراہ یا کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ (رض) کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا حضرت ابوبکرہ (رض) نے یہ دیکھ کر فرمایا نبی ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی کہ انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ مَوْلًى لِآلِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى شَهَادَةٍ مَرَّةً فَجَاءَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَأَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ ایک علاقے میں اترے گا جس کا نام بصرہ ہے اس کے ایک جانب دجلہ نہر بہتی ہے کثیر باغات والا علاقہ ہے وہاں بنوقنطوراء ( ترک) آ کر اتریں گے تو لوگ تین گروہ میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو اپنی اصل سے جا ملے گا یہ ہلاک ہوگا ایک گروہ اپنے اوپر زیادتی کرکے کفر کرے گا اور ایک گروہ اپنے بچوں کو پس پشت رکھ قتال کرے گا ان کے مقتولین شہید ہوں گے اور ان ہی کے بقیہ لوگوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی فتح ہوگی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْقَيْسِيُّ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَنْزِلَنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ يَكْثُرُ بِهَا عَدَدُهُمْ وَيَكْثُرُ بِهَا نَخْلُهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْعُيُونِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى جِسْرٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ دِجْلَةُ فَيَتَفَرَّقُ الْمُسْلِمُونَ ثَلَاثَ فِرَقٍ فَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَأْخُذُونَ بِأَذْنَابِ الْإِبِلِ وَتَلْحَقُ بِالْبَادِيَةِ وَهَلَكَتْ وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا فَكَفَرَتْ فَهَذِهِ وَتِلْكَ سَوَاءٌ وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ عِيَالَهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَ فَقَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى بَقِيَّتِهَا حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے ؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا تم میں سے جو موجود ہیں وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادیں کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام دیا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ اسے محفوظ رکھتا ہے پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ہی نبی ﷺ بکریوں کی طرف چل پڑے اور لوگوں کے درمیان انہیں تقسیم کرنے لگے دو آدمیوں کو ایک بکری یا تین آدمیوں کو ایک بکری دینے لگے۔
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَاكَ الْيَوْمُ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَقَالَ فِيهِ أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مَرَّتَيْنِ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ مُبَلِّغٍ مِثْلَهُ ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهُنَّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةُ وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৫৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں سے بھی کروائے گا جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَحُمَيْدٍ فِي آخَرِينَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৬০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی ﷺ کو دشمن کے خلاف اپنے لشکر کی کامیابی کی خوشخبری سنائی اس وقت نبی ﷺ کا سر مبارک حضرت عائشہ کی گود میں تھا نبی ﷺ یہ خوشخبری سن کر سجدے میں گرگئے پھر خوشخبری دینے والے سے مختلف سوالات کرنے لگے اس نے جو باتیں بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ دشمن نے اپنا ایک حکمران ایک عورت کو مقرر کرلیا ہے نبی ﷺ نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا اب مرد ہلاکت میں پڑگئے جب کہ انہوں نے عورتوں کی پیروی کرنا شروع کردی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَهُمْ امْرَأَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآنَ هَلَكَتْ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتْ النِّسَاءَ هَلَكَتْ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتْ النِّسَاءَ ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৬১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شہرت کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے شہرت کے حوالے کردیتا ہے اور جو دکھاوے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے دکھاوے کے حوالے کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا بَكَّارٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ رَايَا رَايَا اللَّهُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৬২
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا الَّذِي رَكَعَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ
তাহকীক: