আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৯ টি

হাদীস নং: ১৯৬০৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قَالَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬০৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ (رض) مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی ﷺ اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چناچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر (رض) سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی ﷺ کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔
وَبِإِسْنَادِهِ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ نُعَزِّيهِ مَعَ زِيَادٍ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا رَأَيْتُ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ فِيهِ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ أَوَّلَهَا فَقَالَ خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ قَالَ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا وَأُخْرِجْنَا فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ عُدْنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَلَمَّا كَانَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ عُدْنَا فَسَأَلَهُ أَيْضًا قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ تَقُولُ إِنَّا مُلُوكٌ قَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬০৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کی مہک پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬০৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے پروردگار ! میرے ساتھی ! ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَيَّ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي فَإِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي فَلَأَقُولَنَّ أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬০৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا فارس کا حکم ران کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا ایک عورت نے فرما دیا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَلِي أَمْرَ فَارِسَ قَالُوا امْرَأَةٌ قَالَ مَا أَفْلَحَ قَوْمٌ يَلِي أَمْرَهُمْ امْرَأَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬০৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تھا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ جِئْتُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ قَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ أَيُّكُمْ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ قُلْتُ أَنَا قَالَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬০৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک اسلم اور غفار قبیلے کے لوگ بنواسد اور بنوغطفان سے بہتر ہوں تو کیا وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ان سے بہتر ہیں پھر فرمایا یہ بتاؤ اگر جہینہ اور مزینہ بنوتمیم اور بنوعامر " جو دونوں حلیف " ہیں سے بہتر ہوں تو کیا بنوتمیم وغیرہ خسارے میں ہوں گے یہ کہہ کر نبی ﷺ نے اپنی آواز کو بلند فرمایا لوگوں نے کہا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا پھر وہ ان سے بہتر ہیں۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ الْحَلِيفَيْنِ مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ يَمُدُّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہ ہوں گے۔
قَالَ وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی ﷺ نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہی ہے میں اسی طرح سمجھتا ہوں۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ وَاللَّهِ لَوْ سَمِعَهَا مَا أَفْلَحَ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَثْنَى أَحَدُكُمْ عَلَى أَحَدٍ فَلْيَقُلْ وَاللَّهِ إِنَّ فُلَانًا وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১২
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کے نزدیک اسلم اور غفار قبیلے کے لوگ بنو اسد اور بنوغطفان سے بہتر ہوں تو کیا وہ نامراد اور خسارے میں رہیں گے لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ان سے بہتر ہیں پھر فرمایا یہ بتاؤ اگر جہینہ اور مزینہ بنوتمیم اور بنوعامر " جو دونوں حلیف " ہیں سے بہتر ہوں تو کیا بنوتمیم وغیرہ خسارے میں ہوں گے یہ کہہ کر نبی ﷺ نے اپنی آواز کو بلند فرمایا لوگوں نے کہا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا پھر وہ ان سے بہتر ہیں۔
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ أَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ مُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَرَفَعَ حَمَّادٌ بِهَا صَوْتَهُ يَحْكِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل اور میکائیل آئے جبرائیل نے مجھ سے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے میکائیل نے کہا کہ اس میں اضافہ کی درخواست کیجئے پھر جبرائیل نے کہا کہ قرآن کریم کو آپ سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں جن میں سے ایک کافی شافی ہے بشرطیکہ آیت رحمت کو عذاب سے یا آیت عذاب کو رحمت سے نہ بدل دیں جیسے تعال اور اقبل ھلم اور اذھب اسرع اور اعجل۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ يَا مُحَمَّدُ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ قَالَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ نَحْوَ قَوْلِكَ تَعَالَ وَأَقْبِلْ وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنت کی مہک سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب سجدے میں جاتے تو امام حسن کود کر نبی ﷺ کی پشت پر سوار ہوجاتے انہوں نے کئی مرتبہ اسی طرح کیا اس پر کچھ لوگ کہنے لگے آپ اس بچے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ ہم نے آپ کو کسی دوسرے کے ساتھ کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا نبی ﷺ نے فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا حسن کہتے ہیں کہ واللہ ان کے خلیفہ بننے کے بعد ایک سینگی میں آنے والی مقدار کا خون بھی نہیں بہایا گیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَن الْحَسَنِ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ عَلَى ظَهْرِهِ وَعَلَى عُنُقِهِ فَيَرْفَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفْعًا رَفِيقًا لِئَلَّا يُصْرَعَ قَالَ فَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ بالْحَسَنِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَهُ قَالَ إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنْ الدُّنْيَا وَإِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَعَسَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔
وَبِهِ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ عَنْ الْحَسَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ تَمْلِكُهُمْ امْرَأَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا وَكِلَاهُمَا يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ صَاحِبَهُ فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَهُمَا فِي النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ لِأَنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَيُونُسُ وَهِشَامٌ وَالْمُعَلَّي بْنُ زِيَادٍ عَن الْحَسَنِ عَن الْأَحْنَفِ عَن أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَهُمَا فِي النَّارِ جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم ہوگا اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِيهِ قَالَ وَصَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ صِفَةَ الدَّجَّالِ وَصِفَةَ أَبَوَيْهِ قَالَ يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ سَنَةً لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا ابْنٌ مَسْرُورٌ مَخْتُونٌ أَقَلُّ شَيْءٍ نَفْعًا وَأَضَرُّهُ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا هَذَا أَعْوَرَ مَسْرُورًا مَخْتُونًا أَقَلَّ شَيْءٍ نَفْعًا وَأَضَرَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬২০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا (کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ کسی دن سوتا رہ جائے)
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ قَالَ قَتَادَةُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ التَّزْكِيَةَ عَلَى أُمَّتِهِ أَوْ يَقُولُ لَا بُدَّ مِنْ رَاقِدٍ أَوْ غَافِلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬২১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كَتَبَ أَبُو بَكْرَةَ إِلَى ابْنِهِ وَهُوَ عَامِلٌ بِسِجِسْتَانَ أَنْ لَا تَقْضِيَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقْضِ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ
tahqiq

তাহকীক: