আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৯ টি
হাদীস নং: ১৯৫৮৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل سب سے اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بد ترین انسان کون ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل سب سے برا ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قِيلَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৮৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نو راتوں تک نماز عشاء کو تہائی رات میں مؤخر کیا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ یہ نماز جلدی پڑھادیں تو ہمارے لئے قیام اللیل میں سہولت ہوجائے چناچہ اس کے بعد نبی ﷺ اس کو جلدی پڑھانے لگے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ سَبْعَ لَيَالٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ثَمَانِ لَيَالٍ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ سَبْعَ لَيَالٍ وَقَالَ عَفَّانُ تِسْعَ لَيَالٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৮৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کی تعریف کی نبی ﷺ نے فرمایا افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی اور فرمایا اگر تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی اس طرح دکھائی دیتا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کی پاکی بیان نہیں کرتا اور اس کا حقیقی نگہبان اللہ ہی ہے میں اسی طرح سمجھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مَدَحَ صَاحِبًا لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَهُ إِنْ كُنْتَ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَقُلْ أَحْسَبُهُ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَحَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৮৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ (ثواب کے اعتبار سے) کم نہیں ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عِيدٌ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৮৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ (رض) کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا تو وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا حضرت ابوبکرہ (رض) نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اس جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ وَقَالَ بَهْزٌ عَبْدَ رَبِّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَبِي مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرَةَ فِي شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقِمْ الرَّجُلَ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ أَوْ قَالَ إِذَا أَقَامَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ فَلَا يَجْلِسْ فِيهِ وَلَا يَمْسَحْ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৮৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک جہینہ اسلم غفار اور مزینہ قبیلے لے لوگ بنوتمیم اور بنوعامر بن صعصہ سے بہتر ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৮৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا اب اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ نبی ﷺ کو اپنی امت کے متعلق خود ہی اپنی پاکیزگی بیان کرنے میں اندیشہ ہوا یا اس وجہ سے فرمایا کہ ننید اور غفلت سے بھی تو کوئی چھٹکارا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ قَالَ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْلَمُ أَخَشِيَ عَلَى أُمَّتِهِ أَنْ تُزَكِّيَ أَنْفُسَهَا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَخَشِيَ التَّزْكِيَةَ عَلَى أُمَّتِهِ أَوْ قَالَ لَا بُدَّ مِنْ نَوْمٍ أَوْ غَفْلَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نے سارے رمضان قیام کیا ہے (کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ کسی دن سوتا رہ جائے)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ قَالَ قَتَادَةُ فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْلَمُ أَخَشِيَ عَلَى أُمَّتِهِ التَّزْكِيَةَ قَالَ عَفَّانُ أَوْ قَالَ لَا بُدَّ مِنْ رَاقِدٍ أَوْ غَافِلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب فتنے رونما ہوں گے جن میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے سے اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلاجائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ بکریوں میں چلا جائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے اور جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو وہ اپنی تلوار پکڑے اور اس کی دھار کو ایک چٹان پردے مارے۔ اور اگر بچ سکتا ہو تو بچ جائے۔ اے اللہ کیا میں نے پہنچادیا دو مرتبہ کہا ایک آدمی نے پوچھا یا نبی ﷺ اللہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کر کسی صف یا گروہ میں لے جائے وہاں کوئی آدمی مجھ پر تلوار سے حملہ کردے اور مجھے قتل کردے تو میرا کیا بنے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ شخص تمہارا اپنا گناہ لے کر لوٹے گا اور اہل جہنم میں سے ہوجائے گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ ثُمَّ تَكُونُ فِتَنٌ أَلَا فَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي إِلَيْهَا أَلَا وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ فِيهَا أَلَا وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَاعِدِ أَلَا فَإِذَا نَزَلَتْ فَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ أَلَا وَمَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ أَرَأَيْتَ مَنْ لَيْسَتْ لَهُ غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ وَلَا إِبِلٌ كَيْفَ يَصْنَعُ قَالَ لِيَأْخُذْ سَيْفَهُ ثُمَّ لِيَعْمِدْ بِهِ إِلَى صَخْرَةٍ ثُمَّ لِيَدُقَّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لِيَنْجُ إِنْ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ إِذْ قَالَ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ أَرَأَيْتَ إِنْ أُخِذَ بِيَدِي مُكْرَهًا حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ أَوْ إِحْدَى الْفِئَتَيْنِ عُثْمَانُ يَشُكُّ فَيَجْذِفَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ فَيَقْتُلَنِي مَاذَا يَكُونُ مِنْ شَأْنِي قَالَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯২
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نے پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯৩
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں گے اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ أَبُو عُثْمَانَ الشَّحَّامُ فِي مُرَبَّعَةِ الْأَحْنَفِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا اقْتَتَلَ الْمُسْلِمَانِ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯৪
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے پروردگار ! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي فَلَأَقُولَنَّ رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯৫
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی عزت کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی تکریم فرمائے گا اور جو دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ بادشاہ کی توہین کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯৬
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر سرابر ہی بیچنے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ چاندی کو سونے کے بدلے یا سونے کو چاندی کے بدلے میں جیسے چاہیں بیچ سکتے ہیں (کمی پیشی ہوسکتی ہے)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرَةَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّةَ فِي الذَّهَبِ وَالذَّهَبَ فِي الْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯৭
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز خوف میں ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی ﷺ کی تو چار رکعتیں ہوگئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوگئیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِبَعْضِ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَتَأَخَّرُوا وَجَاءَ آخَرُونَ فَكَانُوا فِي مَكَانِهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَصَارَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتِ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯৮
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے لئے اونٹ پر سوار ہوئے ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی پھر نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی ﷺ اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی ﷺ اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی ﷺ اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی ﷺ اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی ﷺ حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَن مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِيهِ وَرَجُلٌ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا أَوْ قَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ثُمَّ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا أَوْ قَالَ أَوَ تَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَتْ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ أَلَا لَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯৯
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے کہ حضرت امام حسن بھی آگئے نبی ﷺ نے انہیں سینے سے لگا لیا سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَخْطُبُ إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَصَعِدَ إِلَيْهِ الْمِنْبَرَ فَضَمَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَقَالَ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬০০
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کون سا انسان سب سے بہتر ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو سائل نہ پوچھا کہ سب سے بدترین انسان کون ہے نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَحُمَيْدٌ وَيُونُسُ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ قَالَ فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَن ثَابِتٍ وَيُونُسَ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَن ثَابِتٍ وَيُونُسَ عَن الْحَسَنِ عَن أَبِي بَكْرَةَ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬০১
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
حضرت ابوبکرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کا باپ ایک لمبے قد کا آدمی ہوگا اور اس کا گوشت ہلتا ہوگا اس کی ناک بھی لمبی ہوگی ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے طوطے کی چونچ اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی عورت ہوگی کچھ عرصے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن عوام اسے دیکھنے کے لئے گئے اس کے والدین کے پاس پہنچے تو نبی ﷺ کا بتایا ہوا حلیہ ان دونوں نے پایا وہ بچہ ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا ہوا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی ہم نے اس کے والدین سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حال میں گزارے کہ ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا پھر ہمارے ہاں یہ ایک کانا بچہ پیدا ہوا جس کا نقصان زیادہ اور نفع کم ہے جب ہم وہاں سے نکلے تو ہم اس کے پاس سے گزرے وہ کہنے لگا تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے ہم نے کہا تم نے وہ باتیں سن لیں ؟ اس نے کہا جی ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا وہ ابن صیاد تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ثُمَّ نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ فَقَالَ أَبُوهُ رَجُلٌ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الثَّدْيَيْنِ قَالَ أَبُو بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَا مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا الْغُلَامُ مُنْجَدَلٌ فِي قَطِيفَةٍ فِي الشَّمْسِ لَهُ هَمْهَمَةٌ قَالَ فَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ مَا قُلْتُمَا قُلْنَا وَهَلْ سَمِعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي قَالَ حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ صَيَّادٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬০২
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ کی مرویات۔
عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ (رض) مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی ﷺ اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چناچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکرہ (رض) سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی ﷺ کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَفَدْنَا مَعَ زِيَادٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو بَكْرَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَسَاءَهُ ذَاكَ ثُمَّ قَالَ خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ قَالَ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبَا لَكَ أَمَا وَجَدْتَ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِذَا حَتَّى أُفَارِقَهُ فَتَرَكَنَا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبَا لَكَ أَمَا تَجِدُ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِهِ حَتَّى أُفَارِقَهُ قَالَ ثُمَّ تَرَكَنَا أَيَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَتَقُولُ الْمُلْكَ فَقَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ
তাহকীক: