আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৬ টি

হাদীস নং: ২০৫৫২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر (رض) کے ساتھ تھے کہ ان کا وظیفہ آگیا ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو ان پیسوں سے ان کی ضروریات کا انتظام کرنے لگی اس کے پاس سات سکے بچ گئے حضرت ابوذر (رض) نے اسے حکم دیا کہ ان کے پیسے خرید لے (ریزگاری حاصل کرلے) میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ ان پیسوں کو بچا کر رکھ لیتے تو کسی ضرورت میں کام آجاتے یا کسی مہمان کے آنے پر کام آجاتے انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھے وصیت کی ہے کہ جو سونا چاندی مہر بند کر کے رکھا جائے وہ اس کے مالک کے حق میں آگ کی چنگاری ہے تاوقتیکہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کر دے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي ذَرٍّ وَقَدْ خَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ وَقَالَ مَرَّةً نَقْضِي قَالَ فَفَضَلَ مَعَهُ فَضْلٌ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ سَبْعٌ قَالَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ ادَّخَرْتَهُ لِلْحَاجَةِ تَنُوبُكَ وَلِلضَّيْفِ يَأْتِيكَ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُفْرِغَهُ إِفْرَاغًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৫৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کون سا کلام سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہی جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے منتخب کیا ہے یعنی تین مرتبہ یوں کہنا سبحان اللہ وبحمدہ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ أَبُو مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَا اصْطَفَاهُ لِمَلَائِكَتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا تَقُولُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৫৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
ابن احمس (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر (رض) سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نبی کریم ﷺ کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تمہارے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی نسبت کروں گا جبکہ میں نے وہ بات سنی بھی ہو وہ کون سی حدیث ہے جو تمہیں میرے حوالے سے معلوم ہوئی ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! یہ بات میں نے کہی ہے اور نبی کریم ﷺ سے سنی بھی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چناچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کردے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جوا حسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔ میں نے پوچھا اے ابوذر ! آپ کے پاس کون سا مال ہے ؟ انہوں نے فرمایا تھوڑی سی بکریاں اور چند اونٹ ہیں میں نے عرض کیا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا، سونا چاندی کے متعلق پوچھ رہا ہوں، انہوں نے فرمایا جو صبح ہوتا ہے وہ شام کو نہیں ہوتا اور جو شام کو ہوتا ہے وہ صبح نہیں ہوتا میں نے عرض کیا کہ آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں ان سے دنیا مانگتا ہوں اور نہ ہی دین کے متعلق پوچھتا ہوں اور میں ایسا ہی کروں گا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں، یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ دہرایا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا ذَرٍّ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلَكَ عَنْهُ فَقَالَ قَدْ لَقِيتَ فَاسْأَلْ قَالَ قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ نَعَمْ فَمَا أَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُهَا قَالَ قُلْتُ مَنْ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ مُجَاهِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا وَرَجُلٌ لَهُ جَارٌ يُؤْذِيهِ فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ وَيَحْتَسِبُهُ حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ بِمَوْتٍ أَوْ حَيَاةٍ وَرَجُلٌ يَكُونُ مَعَ قَوْمٍ فَيَسِيرُونَ حَتَّى يَشُقَّ عَلَيْهِمْ الْكَرَى أَوْ النُّعَاسُ فَيَنْزِلُونَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ فَيَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ قَالَ قُلْتُ مَنْ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ قَالَ الْفَخُورُ الْمُخْتَالُ وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ وَالتَّاجِرُ وَالْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا الْمَالُ قَالَ فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ يَعْنِي بِالْفِرْقِ غَنَمًا يَسِيرَةً قَالَ قُلْتُ لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ قَالَ مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ قُرَيْشٍ قَالَ وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৫৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر غفاری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ " جن کی علامت سر منڈوانا ہوگی قرآن کریم تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بدترین مخلوق ہوں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৫৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے کے لئے رکھ لوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أَدَعُ مِنْهُ يَوْمَ أَمُوتُ دِينَارًا أَوْ نِصْفَ دِينَارٍ إِلَّا لِغَرِيمٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৫৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
زید بن وہب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر (رض) کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدْ أَبْرِدْ أَوْ قَالَ انْتَظِرْ انْتَظِرْ وَقَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৫৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
احنف بن قیس (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جسے دیکھتے ہی لوگ اس سے کنی کترانے لگتے تھے میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نبی کریم ﷺ کا صحابی ابوذر (رض) ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ لوگ کیوں آپ سے کنی کترا رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں انہیں مال جمع کرنے سے اسی طرح روکتا ہوں جیسے نبی کریم ﷺ روکتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَقْنَعِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ إِذْ جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَجَعَلُوا يَفِرُّونَ مِنْهُ فَقُلْتُ لِمَ يَفِرَّ مِنْكَ النَّاسُ قَالَ إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنْ الْكَنْزِ الَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৫৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اللہ سے ڈرو خواہ کہیں بھی ہو، برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي حَبِيبٌ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ حَسَنَةً تَمْحُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص مہینے میں تین روزے رکھنا چاہتا ہو اسے ایام بیض کے روزے رکھنے چاہئیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ فِطْرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَامٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم ﷺ نے نماز شروع کی اور ساری رات صبح تک ایک ہی آیت رکوع و سجود میں پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ فِطْرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَامٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے، خوشبو یا تیل لگائے، پھر جمعہ کے لئے آئے کوئی لغوحرکت نہ کرے کسی دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي سَعْدٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبِ أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو ! تم سب کے سب گنہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت عطاء کردوں، اس لئے مجھ سے معافی مانگا کرو میں تمہیں معاف کردوں گا اور جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مجھے معاف کرنے پر قدرت ہے اور وہ میری قدرت کے وسیلے سے مجھ سے معافی مانگتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو میں تم کو ہدایت عطاء کروں گا تم میں سے ہر ایک فقیر ہے سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں، لہٰذا مجھ سے غناء مانگا کرو میں تم کو غناء عطاء کروں گا۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب کے سب میرے سب سے زیادہ شقی بندے کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری حکومت میں سے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کرسکتے اور اگر وہ سب کے سب میرے سب سے زیادہ متقی بندے کے دل پر جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی تمنا پہنچتی ہو اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق مطلوبہ چیزیں دیتا جاؤں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی واقع نہ ہوگی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ساحل سمندر سے گذرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوئے اور پھر نکالے میری حکومت میں اتنی بھی کمی نہ آئیگی کیونکہ میں بےانتہا سخی، بزرگ اور بےنیاز ہوں میری عطاء بھی ایک کلام سے ہوتی ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام سے آجاتا ہے میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو " کن " کہتا ہوں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيَّ عَنْ شَهْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِ وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ يَزِيدُوا فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ وَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مَا سَأَلَ لَمْ يَنْقُصْنِي إِلَّا كَمَا لَوْ مَرَّ أَحَدُكُمْ عَلَى شَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا ذَلِكَ لِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ وَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ عَطَائِي كَلَامِي وَعَذَابِي كَلَامِي إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غروب آفتاب کے وقت میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ مسجد میں تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ! تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ جا کر بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے جو اسے مل جاتی ہے جب اس سے کہا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا اور وہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے تو یہی اس کا مستقر ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے۔ "
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَكَانِهَا وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا قَالَ مُحَمَّدٌ ثُمَّ قَرَأَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس سے گذرے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا غضیف بہترین نوجوان ہے پھر حضرت ابوذر (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھائی ! میرے لئے بخشش کی دعاء کرو غضیف نے کہا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے صحابی ہیں اور آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعاء کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ غضیف بہترین نوجوان ہے اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ مَرَرْتُ بِعُمَرَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا فَتَى ادْعُ اللَّهَ لِي بِخَيْرٍ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ قَالَ قُلْتُ وَمَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَنْتَ أَحَقُّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ نِعْمَ الْغُلَامُ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے " کا مطلب پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا سورج کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا قَالَ مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات کرے گا نہ انہیں دیکھے اور ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتانے والا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৬৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی تو مجھے اس کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دیا چناچہ میں نے اس کے لئے ناف تک گڑھا کھودا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفِرَ لَهَا فَحَفَرْتُ لَهَا إِلَى سُرَّتِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৭০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر (رض) کیا تم نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چناچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یارسول اللہ ! ﷺ نماز کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چا ہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کرلے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ روزے کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ صدقہ کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ سب سے افضل صدقہ کون سا ہے ؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا وہ نبی تھے ؟ فرمایا ہاں، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا : میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ رسول کتنے آئے ؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی ؟ فرمایا آیت الکرسی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ أَنْبَأَنِي أَبُو عُمَرَ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ قُلْتُ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ قَالَ فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةُ قَالَ خَيْرٌ مَوْضُوعٌ مَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الصَّوْمُ قَالَ فَرْضٌ مُجْزِئٌ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالصَّدَقَةُ قَالَ أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ جَهْدٌ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلُ قَالَ آدَمُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَبِيٌّ كَانَ قَالَ نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ الْمُرْسَلُونَ قَالَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا وَقَالَ مَرَّةً خَمْسَةَ عَشَرَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آدَمُ أَنَبِيٌّ كَانَ قَالَ نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ قَالَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৫৭১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک سخت طبیعت دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمیں تو قحط سالی کھاجائے گی نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ایک دوسری چیز کا اندیشہ ہے جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا کاش ! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ قَالَ غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ عِنْدِي عَلَيْكُمْ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تُصَبَّ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا صَبًّا فَلَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ الذَّهَبَ
tahqiq

তাহকীক: