আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৭ টি
হাদীস নং: ২১০৪৭
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں کچھ قومیں ایسی آئیں گی جو سامنے بھائیوں کی طرح ہوں گی اور پیٹھ پیچھے دشمنوں کی طرح کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا کسی سے لالچ کی وجہ سے اور کسی کے خوف کی وجہ سے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ قَالَ ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৪৮
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم تو اللہ سے مصیبت کی دعاء مانگ رہے ہو اللہ سے عافیت مانگا کرو ایک اور آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے تمام نعمت کی درخواست کرتا ہوں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابن آدم ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ " تمام نعمت " سے کیا مراد ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ دعاء جو میں نے مانگی تھی اس کی خیر کا امیدوار ہوں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام نعمت یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ پھر ایک آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ " یاذا الجلال والا کرام " کہہ کر دعاء کر رہا تھا، اس سے فرمایا کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی اس لئے مانگو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْوَرْدِ عَنِ اللَّجْلَاجِ حَدَّثَنِي مُعَاذٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ قَالَ سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ قَالَ وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ فَقَالَ ابْنَ آدَمَ هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ قَالَ فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنْ النَّارِ وَدُخُولُ الْجَنَّةِ وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ يَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ قَدْ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৪৯
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
ابو الاسود دیلی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) جس وقت یمن میں تھے تو ان کے سامنے ایک یہودی کی وراثت کا مقدمہ پیش ہوا جو فوت ہوگیا تھا اور اپنے پیچھے ایک مسلمان بھائی چھوڑ گیا تھا حضرت معاذ (رض) نے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام اضافہ کرتا ہے کمی نہیں کرتا اور اس حدیث سے استدلال کر کے انہوں نے اسے وارث قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ أُتِيَ مُعَاذٌ بِيَهُودِيٍّ وَارِثُهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامُ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ فَوَرَّثَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫০
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت معاذ (رض) کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا کوئی عجیب واقعہ ہمیں سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا ایک مرتبہ میں (گدھے پر) نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا نبی کریم ﷺ نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَيْنَا مُعَاذًا فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ فَقَالَ يَا مُعَاذُ فَقُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫১
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرمائیے نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا جہاں بھی ہو، اللہ سے ڈرتے رہو میں نے مزید کی درخواست کی تو فرمایا گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے میں نے مزید کی درخواست کی تو فرمایا لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ أَوْ أَيْنَمَا كُنْتَ قَالَ زِدْنِي قَالَ أَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا قَالَ زِدْنِي قَالَ خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫২
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ اپنے مرض الوفات میں حضرت معاذ بن جبل (رض) نے حاضرین سے فرمایا اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث سن رکھی ہے جو میں اب تک تم سے چھپاتا رہا ہوں (اب بیان کر رہا ہوں) لہٰذاخیمے کے پردے ہٹا دو اور اب تک میں نے یہ حدیث صرف اس لئے نہیں بیان کی تھی کہ تم اس پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا سے رخصتی کے وقت جس شخص کا آخری کلام یقین قلب کے ساتھ " لا الہ الا اللہ " ہو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَنَا مَنْ شَهِدَ مُعَاذًا حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ يَقُولُ اكْشِفُوا عَنِّي سَجْفَ الْقُبَّةِ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً أُخْبِرُكُمْ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ إِلَّا أَنْ تَتَّكِلُوا سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ يَقِينًا مِنْ قَلْبِهِ لَمْ يَدْخُلْ النَّارَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَقَالَ مَرَّةً دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫৩
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی فیصلہ آیا تو تم اسے کیسے حل کرو گے ؟ عرض کیا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں اس کا فیصلہ کروں گا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ اگر اس کا حکم میری سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کو اس چیز کی توفیق عطاء فرما دی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْضِي قَالَ أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫৪
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫৫
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (پیار سے ڈانٹتے ہوئے) فرمایا معاذ ! تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ان کی دوسروں کے متعلق کہی ہوئی باتوں کے علاوہ بھی کوئی چیز اوندھا گرائے گی ؟
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫৬
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
ابوادریس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسی مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم ﷺ کے بیس صحابہ کرام (رض) تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل (رض) ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا ! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی ؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) کو سنائی تو انہوں نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے عرش کے سائے تلے نور کے منبروں پر رونق افروز ہوں گے جبکہ عرش کے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ أَتَيْتُ مَسْجِدَ أَهْلِ دِمَشْقَ فَإِذَا حَلْقَةٌ فِيهَا كُهُولٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا شَابٌّ فِيهِمْ أَكْحَلُ الْعَيْنِ بَرَّاقُ الثَّنَايَا كُلَّمَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ رَدُّوهُ إِلَى الْفَتَى فَتًى شَابٌّ قَالَ قُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ فَجِئْتُ مِنْ الْعَشِيِّ فَلَمْ يَحْضُرُوا قَالَ فَغَدَوْتُ مِنْ الْغَدِ قَالَ فَلَمْ يَجِيئُوا فَرُحْتُ فَإِذَا أَنَا بِالشَّابِّ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ فَرَكَعْتُ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ إِلَيْهِ قَالَ فَسَلَّمَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ فَمَدَّنِي إِلَيْهِ قَالَ كَيْفَ قُلْتَ قُلْتُ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ يَقُولُ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَالْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عَطَاءٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَإِذَا حَلْقَةٌ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ فَتًى شَابٌّ أَكْحَلُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫৭
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کے وقت ہم لوگ نبی کریم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے لیکن نبی کریم ﷺ کافی دیر تک نہ آئے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ شاید اب نبی کریم ﷺ نہیں آئیں گے اور بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھ چکے ہیں اس لئے وہ اب نہیں آئیں گے تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ باہر تشریف لے آئے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب آپ تشریف نہیں لائیں گے اور ہم میں سے کچھ لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں اس لئے باہر نہیں آئیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ نماز پڑھو کیونکہ تمام امتوں پر اس نماز میں تمہیں فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ رَقَبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَاحْتَبَسَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَنْ يَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَنَنَّا أَنَّكَ لَنْ تَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ سَمِعْتُ مُعَاذًا يَقُولُ إِنَّا رَقَبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي انْتَظَرْنَاهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫৮
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے دوران سفر ایک دن مجھے نبی کریم ﷺ کا قرب حاصل ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی البتہ جس کے لئے اللہ آسان کر دے اس کے لئے بہت آسان ہے نماز قائم کرو اور اللہ سے اس حال میں ملو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہو۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کے کوہان کی بلندی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیوں نہیں فرمایا اس دین و مذہب کی بنیاد اسلام ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتادوں ؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے اور آدھی رات کو انسان کا نماز پڑھنا باب خیر میں سے ہے پھر نبی کریم ﷺ نے سورت سجدہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عن المضاجع۔۔۔۔۔ یعلمون " پھر فرمایا کیا میں تمہیں ان چیزوں کا مجموعہ نہ بتادوں ؟ اسی دوران سامنے سے کچھ لوگ آگئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ نبی کریم ﷺ کو اپنی طرف متوجہ نہ کرلیں اس لئے میں نے نبی کریم ﷺ کو ان کی بات یاد دلائی تو نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک کر رکھو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ کیا جائے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے (پیار سے ڈانٹتے ہوئے) فرمایا معاذ ! تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ان کی دوسروں کے متعلق کہی ہوئی باتوں کے علاوہ بھی کوئی چیز اوندھا گرائے گی ؟
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ النَّزَّالِ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ خَلِيًّا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ وَهُوَ يَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى رَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ أَمَّا رَأْسُ الْأَمْرِ فَالْإِسْلَامُ فَمَنْ أَسْلَمَ سَلِمَ وَأَمَّا عَمُودُهُ فَالصَّلَاةُ وَأَمَّا ذُرْوَةُ سَنَامِهِ فَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ وَقِيَامُ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يُكَفِّرُ الْخَطَايَا وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَمْلَكِ ذَلِكَ لَكَ كُلِّهِ قَالَ فَأَقْبَلَ نَفَرٌ قَالَ فَخَشِيتُ أَنْ يَشْغَلُوا عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَمْلَكِ ذَلِكَ لَكَ كُلِّهِ قَالَ فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ لِي الْحَكَمُ وَحَدَّثَنِي بِهِ مَيْمُونُ بْنُ أَبِي شَبِيبٍ و قَالَ الْحَكَمُ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫৯
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے حق میں تین آدمی گواہی دیں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت معاذ (رض) نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ اگر دو ہوں تو ؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي رَمْلَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَوْجَبَ ذُو الثَّلَاثَةِ فَقَالَ مُعَاذٌ وَذُو الِاثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَذُو الِاثْنَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬০
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر صحابہ کرام (رض) نبی کریم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے تو نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھا دیتے تھے اور واپس پہنچ جاتے پھر اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز بھی پڑھا دیتے ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا انشاء اللہ کل تم چشمہ تبوک پر پہنچ جاؤ گے اور جس وقت تم وہاں پہنچو گے تو دن نکلا ہوا ہوگا جو شخص اس چشمے پر پہنچے وہ میرے آنے تک اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔ چنانچہ جب ہم وہاں پہنچے تو دو آدمی ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے اس چشمے میں تسمے کی مانند تھوڑا سا پانی رس رہا تھا نبی کریم ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا کیا تم دونوں نے اس پانی کو چھوا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے انہیں سخت سست کہا اور جو اللہ کو منظور ہوا، وہ کہا پھر لوگوں نے ہاتھوں کے چلو بنا کر تھوڑا تھوڑا کر کے اس میں سے اتنا پانی نکالا کہ وہ ایک برتن میں اکٹھا ہوگیا جس سے نبی کریم ﷺ نے اپناچہرہ اور مبارک ہاتھ دھوئے، پھر وہ پانی اسی چشمے میں ڈال دیا دیکھتے ہی دیکھتے چشمے میں پانی بھر گیا اور سب لوگ اس سے سیراب ہوگئے پھر نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے معاذ ! ہوسکتا ہے کہ تمہاری زندگی لمبی ہو اور تم اس جگہ کو باغات سے بھرا ہوا دیکھو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ وَأَخَّرَ الصَّلَاةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوا بِهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا فَقَالَا نَعَمْ فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتْ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ فَاسْتَقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَاءً هَاهُنَا قَدْ مَلَأَ جِنَانًا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬১
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہیں یہ بھی بتاسکتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مؤمنین سے سب سے پہلے کیا کہے گا اور وہ سب سے پہلے اسے کیا جواب دیں گے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ فرمایا اللہ تعالیٰ مؤمنین سے فرمائے گا کہ کیا تم مجھ سے ملنے کو پسند کرتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے جی پروردگار ! وہ پوچھے گا کیوں ؟ مؤمنین عرض کریں گے کہ ہمیں آپ سے درگذر اور معافی کی امید تھی وہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارے لئے اپنی مغفرت واجب کردی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍ حَدَّثَهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي فَيَقُولُونَ نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ لِمَ فَيَقُولُونَ رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ فَيَقُولُ قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬২
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک گدھے پر " جس کا نام یعفور تھا اور جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی " سوار ہوئے اور فرمایا معاذ ! اس پر سوار ہوجاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ چلئے نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا تم بھی اس پر سوار ہوجاؤ جونہی میں پیچھے بیٹھا تو گدھے نے ہمیں گرا دیا نبی کریم ﷺ ہنستے ہوئے کھڑے ہوگئے اور مجھے اپنے اوپر افسوس ہونے لگا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم ﷺ سوار ہوگئے اور چل پڑے تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے میری کمر پر کوڑے کی ہلکی سے ضرب لگائی اور میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر تھوڑی دور چل کر میری پیٹھ پر ضرب لگائی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کر دے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ وَهُوَ الَّذِي بَعَثَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الشَّامِ يُفَقِّهُ النَّاسَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَكِبَ يَوْمًا عَلَى حِمَارٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْفُورٌ رَسَنُهُ مِنْ لِيفٍ ثُمَّ قَالَ ارْكَبْ يَا مُعَاذُ فَقُلْتُ سِرْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ارْكَبْ فَرَدَفْتُهُ فَصُرِعَ الْحِمَارُ بِنَا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ وَقُمْتُ أَذْكُرُ مِنْ نَفْسِي أَسَفًا ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَرَكِبَ وَسَارَ بِنَا الْحِمَارُ فَأَخْلَفَ يَدَهُ فَضَرَبَ ظَهْرِي بِسَوْطٍ مَعَهُ أَوْ عَصًا ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ سَارَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَخْلَفَ يَدَهُ فَضَرَبَ ظَهْرِي فَقَالَ يَا مُعَاذُ يَا ابْنَ أُمِّ مُعَاذٍ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ يُدْخِلَهُمْ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬৩
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اے معاذ ! اگر کسی مشرک آدمی کو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں ہدایت عطاء فرما دے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ عَلَى يَدَيْكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬৪
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے دس چیزوں کی وصیت فرمائی ہے۔ (١) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا خواہ تمہیں قتل کردیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے۔ (٢) والدین کی نافرمانی نہ کرنا خواہ وہ تمہیں تمہارے اہل خانہ اور مال میں سے نکل جانے کا حکم دے دیں۔ (٣) فرض نماز جان بوجھ کر مت چھوڑنا کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر فرض نماز کو ترک کردیتا ہے اس سے اللہ کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ (٤) شراب نوشی مت کرنا کیونکہ یہ ہر بےحیائی کی جڑ ہے۔ (٥) گناہوں سے بچنا کیونکہ گناہوں کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی اترتی ہے۔ (٦) میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے سے بچنا خواہ تمام لوگ مارے جائیں۔ (٧) کسی علاقے میں موت کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو وہیں ثابت قدم رہنا۔ (٨) اپنے اہل خانہ پر اپنا مال خرچ کرتے رہنا۔ (٩) انہیں ادب سکھانے سے غافل ہو کر لاٹھی اٹھا نہ رکھنا۔ (١٠) اور ان کے دلوں میں خوف اللہ پیدا کرتے رہنا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخَطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنْ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ وَإِذَا أَصَابَ النَّاسَ مُوتَانٌ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬৫
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی بھی شعبے میں لوگوں کا حکمران بنے اور کمزور اور ضرورت مندوں سے پردے میں رہے قیامت کے دن اللہ اس سے پردہ فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنِ الْوَالِبِيِّ صَدِيقٌ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَاحْتَجَبَ عَنْ أُولِي الضَّعَفَةِ وَالْحَاجَةِ احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬৬
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت " اصحاب الیمین " اور " اصحاب الشمال " تلاوت فرمائی اور دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر فرمایا (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) یہ مٹھی اہل جنت کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ مٹھی اہل جہنم کی ہے اور مجھے ان کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ الْغَنَوِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ أَصْحَابُ الْيَمِينِ وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ فَقَبَضَ بِيَدَيْهِ قَبْضَتَيْنِ فَقَالَ هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَذِهِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي
তাহকীক: