আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৭ টি

হাদীস নং: ২১০৬৭
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ بن جبل (رض) یمن تشریف لائے تو " خولان " قبیلے کی ایک عورت ان سے ملنے کے لئے آئی جس کے ساتھ اس کے بارہ بچے بھی تھے اس نے ان کے باپ کو گھر میں ہی چھوڑ دیا تھا اس کے بچوں میں سب سے چھوٹا وہ تھا جس کی ڈاڑھی پوری آچکی تھی، وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے حضرت معاذ (رض) کو سلام کیا اس کے دو بیٹوں نے اسے اس کے پہلوؤں سے تھام رکھا تھا اس نے پوچھا اے مرد ! تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے اس عورت نے کہا کہ اچھا تمہیں نبی کریم ﷺ نے بھیجا ہے اور تم ان کے قاصد ہو تو کیا اے قاصد ! تم مجھے کچھ بتاؤ گے نہیں ؟ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا تم جو کچھ پوچھنا چاہتی ہو، پوچھ لو اس نے کہا یہ بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا کیا حق ہے ؟ انہوں نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو اللہ سے ڈرتی رہے اس کی بات سنتی اور مانتی رہے۔ اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتی ہوں کہ آپ ضرور بتائیے اور صحیح بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا کیا حق ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم اس کی بات سنو اور مانو اور اللہ سے ڈرتی رہو ؟ اس نے کہ کیوں نہیں لیکن آپ پھر بھی مجھے اس کی تفصیل بتائیے کیونکہ میں ان کا بوڑھا باپ گھر میں چھوڑ کر آئی ہوں حضرت معاذ (رض) نے اس سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں معاذ کی جان ہے جب تم گھر واپس پہنچو اور یہ دیکھو کہ جذام نے اس کے گوشت کو چیر دیا ہے اور اس کے نتھنوں میں سوراخ کردیئے ہیں جن سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو اور تم اس کا حق ادا کرنے کے لئے اس پیپ اور خون کو منہ لگا کر پینا شروع کردو تب بھی اس کا حق ادانہ کرسکو گی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ عَلَى الْيَمَنِ فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ فَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهَا أَصْغَرُهُمْ الَّذِي قَدْ اجْتَمَعَتْ لِحْيَتُهُ فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا يُمْسِكَانِ بِضَبْعَيْهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْمَرْأَةُ أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تُخْبِرُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ سَلِينِي عَمَّا شِئْتِ قَالَتْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ تَتَّقِي اللَّهَ مَا اسْتَطَاعَتْ وَتَسْمَعُ وَتُطِيعُ قَالَتْ أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ أَوَمَا رَضِيتِ أَنْ تَسْمَعِي وَتُطِيعِي وَتَتَّقِي اللَّهَ قَالَتْ بَلَى وَلَكِنْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ فَإِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ فِي يَدِهِ لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ وَخَرَقَ مَنْخِرَيْهِ فَوَجَدْتِ مَنْخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا ثُمَّ أَلْقَمْتِيهِمَا فَاكِ لِكَيْ مَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغْتِ ذَلِكَ أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৬৮
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان ذکر اللہ سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں کرتا جو اسے عذاب الہٰی سے نجات دے سکے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا قَطُّ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৬৯
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ میدان جنگ میں دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادوں ؟ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیوں نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔
و قَالَ مُعَاذٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ تَعَاطِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭০
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
ابوادریس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسی مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم ﷺ کے بیس صحابہ کرام (رض) تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل (رض) ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا ! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی ؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) کو سنائی تو انہوں نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَإِذَا فِيهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَهْلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ بَرَّاقُ الثَّنَايَا سَاكِتٌ فَإِذَا امْتَرَى الْقَوْمُ فِي شَيْءٍ أَقْبَلُوا عَلَيْهِ فَسَأَلُوهُ فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَوَقَعَ لَهُ فِي نَفْسِي حُبٌّ فَكُنْتُ مَعَهُمْ حَتَّى تَفَرَّقُوا ثُمَّ هَجَّرْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَائِمٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ فَسَكَتَ لَا يُكَلِّمُنِي فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ فَاحْتَبَيْتُ بِرِدَاءٍ لِي ثُمَّ جَلَسَ فَسَكَتَ لَا يُكَلِّمُنِي وَسَكَتُّ لَا أُكَلِّمُهُ ثُمَّ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ قَالَ فِيمَ تُحِبُّنِي قَالَ قُلْتُ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَأَخَذَ بِحُبْوَتِي فَجَرَّنِي إِلَيْهِ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ أَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ لَا أُحَدِّثُكَ بِمَا حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي الْمُتَحَابِّينَ قَالَ فَأَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُهُ إِلَى الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭১
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مسلمانوں کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہوگا وہ بےریش ہوں گے ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس سال کی عمر کے لوگ ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ الْعِجْلِيُّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْدًا مُرْدًا مُكَحَّلِينَ بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭২
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی کریم ﷺ کی تلاش میں نکلا مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ باہر نکلے ہیں جس کے پاس سے بھی گذرتا وہ یہی کہتا کہ نبی کریم ﷺ ابھی ابھی گذرے ہیں یہاں تک کہ میں نے انہیں ایک جگہ کھڑے نماز پڑھتے ہوئے پالیا میں بھی پیچھے کھڑا ہوگیا نبی کریم ﷺ نے نماز شروع کی تو لمبی پڑھتے رہے حتیٰ کہ جب اپنی نماز سے سلام پھیرا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آج رات تو آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! یہ ترغیب و ترہیب والی نماز تھی، میں نے اس نماز میں اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا جن میں سے دو چیزیں اس نے مجھے دے دیں اور ایک سے انکار کردیا میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ میری امت کو سمندر میں غرق کر کے ہلاک نہ کرے اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی پھر میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ان پر بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے چناچہ میری یہ درخواست بھی اس نے قبول کرلی، پھر میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ وہ ہمیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کرے لیکن اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ فَقِيلَ لِي خَرَجَ قَبْلُ قَالَ فَجَعَلْتُ لَا أَمُرُّ بِأَحَدٍ إِلَّا قَالَ مَرَّ قَبْلُ حَتَّى مَرَرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ خَلْفَهُ قَالَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً طَوِيلَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا لَيْسَ مِنْهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭৩
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اے معاذ ! جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭৪
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے یمن کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ ہر تیس گائے پر ایک سالہ گائے وصول کروں اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے وصول کرلو، ان لوگوں نے مجھے چالیس اور پچاس کے درمیان، ساٹھ اور ستر کے درمیان، اسی اور نوے کے درمیان کی تعداد میں بھی زکوٰۃ وصول کرنے کی پیشکش کی، لیکن میں نے انکار کردیا اور کہہ دیا کہ پہلے نبی کریم ﷺ سے پوچھوں گا۔ چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ واقعہ بتایا، نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ہر تیس گائے پر ایک سالہ گائے ہر چالیس پر دو سالہ گائے، ساٹھ پر ایک سالہ دو عدد گائے، ستر پر ایک دو سالہ اور ایک ایک سالہ گائے، اسی پر دو سالہ گائے، نوے پر تین ایک سالہ گائے سو پر دو سالہ ایک اور ایک سالہ دو گائے ایک سو دس پر دو سالہ دو اور ایک سالہ ایک گائے ایک سو بیس پر تین دو سالہ گائے یا چار ایک سالہ گائے وصول کروں اور یہ حکم بھی دیا کہ ان اعداد کے درمیان اس وقت تک زکوٰۃ وصول نہ کروں جب تک وہ سال بھر کا یا چھ ماہ کا جانور نہ ہوجائے اور بتایا کہ ( " کسر " یا) تیس سے کم میں زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَا ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ حَيْوَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ وَقَالَ مُعَاوِيَةُ عَنْ حَيْوَةَ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَكَمِ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَدِّقُ أَهْلَ الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا قَالَ هَارُونُ وَالتَّبِيعُ الْجَذَعُ أَوْ الْجَذَعَةُ وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً قَالَ فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ آخُذَ مِنْ الْأَرْبَعِينَ قَالَ هَارُونُ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِينَ أَوْ الْخَمْسِينَ وَبَيْنَ السِّتِّينَ وَالسَّبْعِينَ وَمَا بَيْنَ الثَّمَانِينَ وَالتِّسْعِينَ فَأَبَيْتُ ذَاكَ وَقُلْتُ لَهُمْ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَدِمْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنْ السِّتِّينَ تَبِيعَيْنِ وَمِنْ السَّبْعِينَ مُسِنَّةً وَتَبِيعًا وَمِنْ الثَّمَانِينَ مُسِنَّتَيْنِ وَمِنْ التِّسْعِينَ ثَلَاثَةَ أَتْبَاعٍ وَمِنْ الْمِائَةِ مُسِنَّةً وَتَبِيعَيْنِ وَمِنْ الْعَشْرَةِ وَالْمِائَةِ مُسِنَّتَيْنِ وَتَبِيعًا وَمِنْ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ ثَلَاثَ مُسِنَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَةَ أَتْبَاعٍ قَالَ وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا آخُذَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَقَالَ هَارُونُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَبْلُغَ مُسِنَّةً أَوْ جَذَعًا وَزَعَمَ أَنَّ الْأَوْقَاصَ لَا فَرِيضَةَ فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭৫
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) نے شام میں خطبہ کے دوران طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہارے رب کی رحمت انبیاء کی دعاء اور تم سے پہلے نیکوں کی وفات کا طریقہ رہا ہے اے اللہ ! آل معاذ کو بھی اس رحمت کا حصہ عطاء فرما پھر جب وہ منبر سے اترے اور گھر پہنچے اور اپنے صاحبزادے عبدالرحمن کو دیکھا تو (وہ طاعون کی لپیٹ میں آچکا تھا) اس نے کہا کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لہٰذا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں " حضرت معاذ (رض) نے فرمایا انشاء اللہ تم مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِينَ فَقَالَ مُعَاذٌ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ الصَّابِرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭৬
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں دو آدمیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی اور ان میں سے ایک آدمی کو اتنا غصہ آیا کہ اب تک خیالی تصورات میں میں اس کی ناک کو دیکھ رہا ہوں جو غصے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی نبی کریم ﷺ نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جو اگر یہ غصے میں مبتلا آدمی کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہوجائے اور وہ کلمہ یہ ہے " اللہم انی اعوذبک میں الشیطان الرجیم "۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى أَنَّهُ لَيُتَخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّ أَنْفَهُ لَيَتَمَزَّعُ مِنْ الْغَضَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ يَقُولُهَا هَذَا الْغَضْبَانُ لَذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭৭
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص پنج گانہ نماز ادا کرتا ہو بیت اللہ کا حج کرتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور اللہ پر حق ہے خواہ وہ ہجرت کرے یا اسی علاقے میں رہے جہاں وہ پیدا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا معاذ ! انہیں عمل کرتے رہنے دو جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے اور فردوس جنت کا سب سے اعلیٰ اور بہترین درجہ ہے اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اس لئے تم جب اللہ سے سوال کیا کرو تو جنت الفردوس ہی کا سوال کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَحَجَّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَصَامَ رَمَضَانَ وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِهِ أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأُخْبِرُ النَّاسَ قَالَ ذَرْ النَّاسَ يَا مُعَاذُ فِي الْجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ سَنَةٍ وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭৮
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تم شام کی طرف ہجرت کرو گے اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہوجائے گا لیکن وہاں پھوڑے پھنسیوں کی ایک بیماری تم پر مسلط ہوجائے گی جو آدمی کو سیڑھی کے پائے سے پکڑ لے گا اللہ اس کے ذریعے انہیں شہادت عطاء فرمائے گا اور ان کے اعمال کا تزکیہ فرمائے گا اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ معاذ بن جبل نے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو اس کا وافر حصہ عطاء فرماء چناچہ وہ سب طاعون میں مبتلا ہوگئے اور ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہ بچاجب حضرت معاذ (رض) کی شہادت والی انگلی میں طاعون کی گلٹی نمودار ہوئی تو وہ اسے دیکھ دیکھ کر فرماتے تھے کہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ ملنا بھی پسند نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتُهَاجِرُونَ إِلَى الشَّامِ فَيُفْتَحُ لَكُمْ وَيَكُونُ فِيكُمْ دَاءٌ كَالدُّمَّلِ أَوْ كَالْحَرَّةِ يَأْخُذُ بِمَرَاقِ الرَّجُلِ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَهُمْ وَيُزَكِّي بِهَا أَعْمَالَهُمْ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطِهِ هُوَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْهُ فَأَصَابَهُمْ الطَّاعُونُ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ فَطُعِنَ فِي أُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ فَكَانَ يَقُولُ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৭৯
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت ابن ابی لیلیٰ (رض) سے بحوالہ معاذ بن جبل (رض) مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور باسعادت میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے دوسرے سے کہا کہ میں تو فلاں بن فلاں ہوں اور اس نے اپنے آباؤ اجداد میں سے نو افراد کے نام گنوائے اور کہا کہ تو کون ہے ؟ تیری ماں نہ رہے اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس سے آگے کے لوگوں سے میں بری ہوں حضرت موسٰی (علیہ السلام) نے منادی کر کے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا تم دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہے اے نو آدمیوں کی طرف نسبت کرنے والے ! وہ سب جہنم میں ہیں اور دسواں تو خود ان کے ساتھ جہنم میں ہوگا اور اے اپنے والدین کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والے ! تو اہل اسلام میں کا ایک فرد ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ فَقَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ قَالَ قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ فَأَنْتَ فَوْقَهُمْ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮০
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوجائیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر دو بچے ہوں تو ؟ فرمایا ان کا بھی یہی حکم ہے انہوں نے پوچھا اگر ایک ہو تو ؟ فرمایا اس کا بھی یہی حکم ہے پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ أَنَا يَحْيَى التَّيْمِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ اثْنَانِ قَالَ أَوْ اثْنَانِ قَالُوا أَوْ وَاحِدٌ قَالَ أَوْ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮১
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮২
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان باوضو ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات کو سوتا ہے پھر رات کے کسی حصے میں بیدار ہو کر اللہ سے دنیا و آخرت کی جس خیر کا بھی سوال کرتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَثَابِتٌ فَحَدَّثَ عَاصِمٌ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنْ اللَّيْلِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ فَقَالَ ثَابِتٌ قَدِمَ عَلَيْنَا فَحَدَّثَنَا هَذَا الْحَدِيثَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا يَعْنِي أَبَا ظَبْيَةَ قُلْتُ لِحَمَّادٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ عَنْ مُعَاذٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮৩
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پانچ چیزوں کے متعلق ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص وہ کام کرے گا وہ اللہ کی حفاظت میں ہوگا، مریض کی تیماداری کرنے والا، جنازے میں شریک ہونے والا، اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے جانے والا، امام کے پاس جا کر اس کی عزت و احترام کرنے والا، یا وہ آدمی جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے کہ لوگ اس کی ایذاء سے محفوظ رہیں اور وہ لوگوں کی ایذاء سے محفوظ رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيرَهُ وَتَوْقِيرَهُ أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَيَسْلَمُ النَّاسُ مِنْهُ وَيَسْلَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮৪
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اگر نبی کریم ﷺ زوال سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے اور عصر کے وقت دونوں نمازیں ملا کر اکٹھی ادا کرلیتے اور اگر زوال کے بعد کوچ فرماتے تو پہلے ظہر اور عصر دونوں پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد روانہ ہوتے تو نماز عشاء کو پہلے ہی مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے پھر روانہ ہوتے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ يُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮৫
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ بن جبل (رض) جب ملک شام تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے انہوں نے حضرت امیر معاویہ (رض) سے پوچھا کیا بات ہے کہ میں اہل شام کو وتر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھتا ؟ حضرت امیر معاویہ (رض) نے پوچھا کیا یہ ان پر واجب ہے ؟ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا جی ہاں ! میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے رب نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے جس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ الشَّامَ وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ زَادَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ وَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০৮৬
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم ﷺ کا ردیف تھا میرے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان صرف کجاوے کا پچھلا حصہ حائل تھا، نبی کریم ﷺ نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ يَا مُعَاذُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ أَوْ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক: