আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩৭ টি
হাদীস নং: ২১১০৭
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں حضرت معاذ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میرے ماں باپ جناب پر قربان ہوں، میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا معاذ ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی فرض نماز کے بعد اس دعاء کو مت چھوڑنا " اے اللہ ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما " حضرت معاذ (رض) نے یہی وصیت اپنے شاگردوں صنابحی سے کی انہوں نے اپنے شاگرد ابو عبدالرحمن (رض) کی اور انہوں نے یہی وصیت اپنے شاگرد عقبہ بن مسلم سے کی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِيبِيَّ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ يَوْمًا ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أُحِبُّكَ قَالَ أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ أَنْ تَقُولَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ قَالَ وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ وَأَوْصَى الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَوْصَى أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১০৮
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ بخدا ! حضرت عمر (رض) جنت میں ہوں گے اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا خواب اور بیداری سب برحق ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ خواب میں میں جنت کے اندر تھا تو میں نے وہاں ایک محل دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب (رض) کا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ إِنْ كَانَ عُمَرُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَا رَأَى فِي يَقَظَتِهِ أَوْ نَوْمِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَإِنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا فِي الْجَنَّةِ إِذْ رَأَيْتُ فِيهَا دَارًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذِهِ فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১০৯
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیت المقدس کا آباد ہوجانا مدینہ منورہ کے بےآباد ہوجانے کی علامت ہے اور مدینہ منورہ کا بےآباد ہونا جنگوں کے آغاز کی علامت ہے اور جنگوں کا آغاز فتح قسطنطنیہ کی علامت ہے اور قسطنطنیہ کی فتح خروج دجال کا پیش خیمہ ہوگی پھر نبی کریم ﷺ نے ان کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا یہ ساری چیزیں اسی طرح برحق اور یقینی ہیں جیسے تمہارا یہاں بیٹھا ہونا یقینی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَهُ أَوْ مَنْكِبِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَاهُنَا أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ يَعْنِي مُعَاذًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১০
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ لوگوں کو لے کر غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے صبح ہوئی تو لوگوں کو نماز فجر پڑھائی اور لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہونے لگے جب سورج نکل آیا تو لوگ رات بھر چلنے کی وجہ سے اونگھنے لگے حضرت معاذ (رض) نبی کریم ﷺ کے پیچھے چلتے ہوئے ان کے ساتھ چمٹے رہے جبکہ لوگ اپنی اپنی سواریوں کو چھوڑ چکے تھے جس کی وجہ سے وہ راستوں میں منتشر ہوگئی تھی اور ادھر ادھر چرتی جا رہی تھی اچانک وہ بدک گئی حضرت معاذ (رض) نے اسے لگام سے پکڑ کر کھینچا تو وہ تیزی سے بھاگ پڑی جس سے نبی کریم ﷺ کی اونٹنی بھی بدک گئی نبی کریم ﷺ نے اپنی چادر ہٹائی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو لشکر میں حضرت معاذ (رض) سے زیادہ کوئی بھی نبی کریم ﷺ کے قریب نہ تھا چناچہ نبی کریم ﷺ نے انہی کو آواز دے کر پکارا معاذ ! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور قریب ہوجاؤ، چناچہ وہ مزید قریب ہوگئے یہاں تک کہ دونوں کی سواریاں ایک دوسرے سے مل گئیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا خیال نہیں تھا کہ لوگ ہم سے اتنے دور ہوں گے حضرت معاذ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! لوگ اونگھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سواریاں انہیں لے کر منتشر ہوگئی ہیں اور ادھر ادھر چرتے ہوئے چل رہی ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونگھ تو مجھے بھی آگئی تھی جب حضرت معاذ (رض) نے نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر بشاشت اور خلوت کا یہ موقع دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر اجازت ہو تو میں ایک سوال پوچھ لوں جس نے مجھے بیمار اور غمزدہ کردیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو، عرض کیا اے اللہ کے نبی ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے ؟ اس کے علاوہ میں آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب (تین مرتبہ) تم نے بہت بڑی بات پوچھی (تین مرتبہ) البتہ جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ فرمالے اس کے لئے بہت آسان ہے پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے جو بات بھی فرمائی اسے تین مرتبہ دہرایا ان کی حرص کی وجہ سے اور اس بناء پر کہ انہیں وہ پختہ ہوجائے، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ پر ایمان لاؤ، آخرت کے دن پر ایمان لاؤ نماز قائم کرو، ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ حتیٰ کہ اسی حال پر تم دنیا سے رخصت ہوجاؤ، معاذ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! اس بات کو دوبارہ دہرا دیجئے، نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ اس بات کو دہرایا، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں اس مذہب کی بنیاد، اسے قائم رکھنے والی چیز اور اس کے کوہانوں کی بلندی کے متعلق بتادوں ؟ معاذ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ضرور بتائیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس مذہب کی بنیاد یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس دین کو قائم رکھنے والی چیز نماز ادا کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد فی سبیل اللہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کرتا رہوں تاوقتیکہ وہ نماز قائم کرلیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں اور توحید و رسالت کی گواہی دیں جب وہ ایسا کرلیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا اور بچا لیا سوائے اس کے کہ اس کلمے کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوگا۔ نیز نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کسی ایسے عمل میں " سوائے فرض نماز کے " جس سے جنت کے درجات کی خواہش کی جاتی ہو، کسی انسان کا چہرہ نہیں کمزور ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے قدم غبارآلود ہوتے ہیں جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں ہوتے ہیں اور کسی انسان کا نامہ اعمال اس طرح بھاری نہیں ہوتا جیسے اس جانور سے ہوتا ہے جسے اللہ کے راستے میں استعمال کیا جائے یا کسی کو اس پر اللہ کے راستہ میں سوار کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا شَهْرٌ حَدَّثَنَا ابْنُ غَنْمٍ عَنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِالنَّاسِ قِبَلَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَكِبُوا فَلَمَّا أَنْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ نَعَسَ النَّاسُ عَلَى أَثَرِ الدُّلْجَةِ وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو أَثَرَهُ وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ تَأْكُلُ وَتَسِيرُ فَبَيْنَمَا مُعَاذٌ عَلَى أَثَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَاقَتُهُ تَأْكُلُ مَرَّةً وَتَسِيرُ أُخْرَى عَثَرَتْ نَاقَةُ مُعَاذٍ فَكَبَحَهَا بِالزِّمَامِ فَهَبَّتْ حَتَّى نَفَرَتْ مِنْهَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفَ عَنْهُ قِنَاعَهُ فَالْتَفَتَ فَإِذَا لَيْسَ مِنْ الْجَيْشِ رَجُلٌ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنْ مُعَاذٍ فَنَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ادْنُ دُونَكَ فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى لَصِقَتْ رَاحِلَتَاهُمَا إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ النَّاسَ مِنَّا كَمَكَانِهِمْ مِنْ الْبُعْدِ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَعَسَ النَّاسُ فَتَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ تَرْتَعُ وَتَسِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا كُنْتُ نَاعِسًا فَلَمَّا رَأَى مُعَاذٌ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَخَلْوَتَهُ لَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَسْأَلْكَ عَنْ كَلِمَةٍ قَدْ أَمْرَضَتْنِي وَأَسْقَمَتْنِي وَأَحْزَنَتْنِي فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْنِي عَمَّ شِئْتَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ لَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهَا قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ بِعَظِيمٍ ثَلَاثًا وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ فَلَمْ يُحَدِّثْهُ بِشَيْءٍ إِلَّا قَالَهُ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَعْنِي أَعَادَهُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا لِكَيْ مَا يُتْقِنَهُ عَنْهُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا حَتَّى تَمُوتَ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعِدْ لِي فَأَعَادَهَا لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ يَا مُعَاذُ بِرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ وَقَوَامِ هَذَا الْأَمْرِ وَذُرْوَةِ السَّنَامِ فَقَالَ مُعَاذٌ بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَأْسَ هَذَا الْأَمْرِ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِنَّ قَوَامَ هَذَا الْأَمْرِ إِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَإِنَّ ذُرْوَةَ السَّنَامِ مِنْهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ اعْتَصَمُوا وَعَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا شَحَبَ وَجْهٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِي عَمَلٍ تُبْتَغَى فِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ كَجِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا ثَقُلَ مِيزَانُ عَبْدٍ كَدَابَّةٍ تَنْفُقُ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১১
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ کہ نماز تین مراحل سے گذر کر آئی ہے پھر انہوں نے ان احوال کی تفصیل بیان فرمائی۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ نماز تین مراحل سے گذری ہے اور روزے بھی تین مراحل سے گذرے ہیں، نماز کے احوال تو یہ ہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سترہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ تحویل قبلہ کا حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرما دیا اور نبی کریم ﷺ کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف کردیا، ایک مرحلہ تو یہ ہوا لوگ نماز کے لئے جمع ہوتے تھے اور دوسروں کو اطلاع دیتے تھے اور اس کے لئے وہ لوگ ناقوس بجانے لگے یا ناقوس بجانے کے قریب ہوگئے پھر ایک انصاری صحابی آئے اور رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا " جبکہ میں نیند اور بیداری کے درمیان تھا " اور جو سبز لباس زیب تن کئے ہوئے تھا اس نے قبلہ رخ کھڑے ہو کر اذان دی، اس کے بعد کچھ وقت بیٹھ کر پھر وہ کھڑا ہوگیا اور اذان کے جو کلمات کہے تھے وہی کلمات کہے البتہ اس میں قد قامت الصلوٰۃ کا اضافہ کیا اور اگر لوگ میری تکذیب نہ کریں تو اچھی طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس وقت جاگ رہا تھا سویا ہوا نہیں تھا یہ سن کر رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم (حضرت) بلال (رض) کو اذان دینے کے لئے یہ کلمات سکھادو چناچہ حضرت بلال (رض) یہ اذان دینے والے پہلے آدمی تھے اتنے میں حضرت عمر فاروق (رض) بھی تشریف لے آئے اور آپ ﷺ سے عرض کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے بھی بالکل یہی خواب دیکھا ہے لیکن انصاری آدمی اپنا خواب مجھ سے پہلے بیان کرچکے تھے یہ دو مرحلے ہوئے راوی کہتے ہیں کہ پہلے جب کوئی مسجد میں اور جماعت ہوتے ہوئے دیکھتا تو وہ یہ معلوم کرتا کہ اب تک کتنی رکعات ہوچکی ہیں اسے اشارے سے بتادیا جاتا، وہ پہلے ان رکعتوں کو پڑھتا، پھر وہ بقیہ نماز میں شرکت کرتا، ایک دن حضرت معاذ بن جبل (رض) آئے اور کہا کہ میں تو آپ ﷺ کو جس حالت میں دیکھوں گا اسی حالت اور کیفیت کو بہر صورت اختیار کروں گا بعد میں اپنی چھوٹی ہوئی نماز مکمل کرلوں گا، کیونکہ جس وقت وہ آئے تو نبی کریم ﷺ کچھ نماز پڑھا چکے تھے چناچہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور جب نبی کریم ﷺ نے نماز مکمل کرلی تو انہوں نے بھی کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرلی، آپ ﷺ نے یہ دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کے لئے معاذ (رض) نے ایک طریقہ مقرر کردیا ہے اس لئے تم ایساہی کیا کرو یہ تین مرحلے ہوگئے۔ روزوں کے مراحل یہ ہیں رسول اکرم ﷺ جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اس وقت ہر مہینے تین روزے اور یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اس کے بعد رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی اے اہل ایمان ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ سو جو چاہتا وہ روزے رکھ لیتا اور جو چاہتا مسکینوں کو کھانا کھلا دیتا اور یہ بھی کافی ہوجاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرما دی کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ تم میں سے جس کو ماہ رمضان المبارک نصیب ہو وہ بہرحال روزہ رکھے اس کے بعد سوائے مریض اور مسافر کے رخصت ختم ہوگئی اور دوسرے کے لئے روزہ رکھنے کا حکم ہوا البتہ وہ عمر رسیدہ آدمی جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے حق میں کھانا کھلانے کی اجازت باقی رہی یہ دو مرحلے ہوئے، ابتداء اسلام میں سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہوتی تھی اور سونے کے بعد، دوسرے دن کے روزے کے روزے کھولنے کے وقت تک کھانا پیناجائز نہ ہوتا اسی طرح ایک انصاری صحابی نے ایک مرتبہ افطار کے بعد کھانے پینے کا ارادہ کرلیا لوگوں نے کہا کہ ٹھہر جاؤ ذرا ہم تمہارے لئے کھانا گرم کردیں وہ انصاری صحابی سوگئے. چناچہ ایک روز حضرت عمر فاروق (رض) نے اہلیہ سے ہمبستری کا ارادہ کیا تو آپ کی اہلیہ مطہرہ نے فرمایا کہ مجھے نیند آگئی تھی حضرت عمر (رض) کو یہ گمان ہوا کہ اہلیہ ہمبستری سے بچنے کے لئے کوئی بہانہ بنا رہی ہے بہرحال حضرت عمر (رض) نے اہلیہ سے صحبت کرلی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بیان کیا۔ جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث (الایۃ البقرہ ، ١٨٧) نازل فرما دی یعنی روزہ کی رات میں بیویوں سے جماع کرنا جائز ہے " اسی طرح نبی کریم ﷺ نے ربیع الاول سے رمضان تک ١٩ ماہ میں ہر ماہ تین روزے رکھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ الصَّلَاةَ أُحِيلَتْ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَذَكَرَ أَحْوَالَهَا فَقَطْ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أُحِيلَتْ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ قَالَ فَوَجَّهَهُ اللَّهُ إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَهَذَا حَوْلٌ قَالَ وَكَانُوا يَجْتَمِعُونَ لِلصَّلَاةِ وَيُؤْذِنُ بِهَا بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا يَنْقُسُونَ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ وَلَوْ قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَكُنْ نَائِمًا لَصَدَقْتُ إِنِّي بَيْنَا أَنَا بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ رَأَيْتُ شَخْصًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَثْنَى مَثْنَى حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْأَذَانِ ثُمَّ أَمْهَلَ سَاعَةً قَالَ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ يَزِيدُ فِي ذَلِكَ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْهَا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ بِهَا فَكَانَ بِلَالٌ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِهَا قَالَ وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ طَافَ بِي مِثْلُ الَّذِي أَطَافَ بِهِ غَيْرَ أَنَّهُ سَبَقَنِي فَهَذَانِ حَوْلَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ بِبَعْضِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ يُشِيرُ إِلَى الرَّجُلِ إِنْ جَاءَ كَمْ صَلَّى فَيَقُولُ وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ فَيُصَلِّيهَا ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ قَالَ فَجَاءَ مُعَاذٌ فَقَالَ لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ أَبَدًا إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَضَيْتُ مَا سَبَقَنِي قَالَ فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِهَا قَالَ فَثَبَتَ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَامَ فَقَضَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَهَكَذَا فَاصْنَعُوا فَهَذِهِ ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ قَالَ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ قَالَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ قَالَ فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الْإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَهَذَانِ حَوْلَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَا لَمْ يَنَامُوا فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صِرْمَةُ ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهَدَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَهَدْتَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَ وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنْ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১২
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم ﷺ نے نماز شروع کی تو اس میں نہایت عمدگی کے ساتھ رکوع و سجود اور قیام کیا میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا ہاں ! یہ ترغیب وترہیب والی نماز تھی، میں نے اس نماز میں اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا جن میں سے دو چیزیں اس نے مجھے دے دیں اور ایک سے انکار کردیا میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ میری امت کو سمندر میں غرق کر کے ہلاک نہ کرے اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی پھر میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ان پر بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے چناچہ میری یہ درخواست بھی اس نے قبول کرلی، پھر میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ وہ ہمیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کرے لیکن اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَحْسَنَ فِيهَا الْقِيَامَ وَالْخُشُوعَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَزَوَى عَنِّي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْعَثَ عَلَى أُمَّتِي عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَجْتَاحَهُمْ فَأَعْطَانِيهِ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْعَثَ عَلَيْهِمْ سَنَةً تَقْتُلُهُمْ جُوعًا فَأَعْطَانِيهِ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১৩
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ کی قسم ! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا معاذ ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی فرض نماز کے بعد اس دعاء کو مت چھوڑنا " اے اللہ ! اپنے ذکر شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما "۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ قَالَ فَإِنِّي أُوصِيكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১৪
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دنیا سے رخصتی کے وقت جس شخص کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১৫
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا اس لالچ سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جو دلوں پر مہر لگنے کی کیفیت تک پہنچا دے، اس لالچ سے بھی پناہ مانگا کرو جو کسی بےمقصد چیز تک پہنچا دے اور ایسی لالچ سے بھی اللہ کی پناہ مانگا کرو جہاں کوئی لالچ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبْعٍ وَمِنْ طَمَعٍ فِي غَيْرِ مَطْمَعٍ وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا مَطْمَعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১৬
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے میں زکوٰۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے لینا اور ہر بالغ ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑا جس کا نام " معافر " ہے وصول کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنْ الْبَقَرِ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً أَوْ قَالَ جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مَعَافِرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১৭
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اس کے علاوہ ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ عَنْ زَبَّانَ عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهَ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১৮
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے یہ ارشاد ربانی منقول ہے میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُ عَنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ فِيَّ وَيَتَجَالَسُونَ فِيَّ وَيَتَبَاذَلُونَ فِيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১৯
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اس کے علاوہ ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اور اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ أَفْضَلُ الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২০
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہیں خیر کے دروازے بتاتا ہوں ؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اسی طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور آدھی رات کو انسان کا نماز پڑھنا باب خیر میں سے ہے پھر نبی کریم ﷺ نے سورت سجدہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عن المضاجع۔۔۔۔۔ یعلمون
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأُنَبِّئُكَ بِأَبْوَابٍ مِنْ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَقِيَامُ الْعَبْدِ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ قَرَأَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২১
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے ایک سفر کے دوران ایک منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا اللہ اکبر اللہ اکبر " تو فرمایا یہ فطرت صحیحہ پر ہے پھر اس نے اشہدان لا الہ الا اللہ " کہا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا حق کی گواہی دی اس نے اشہد ان محمد الرسول اللہ کہا تو فرمایا جہنم سے نکل گیا جا کر دیکھو یا تو تم اسے کوئی چرواہا پاؤ گے جو الگ ہوگیا یا قیدی ہوگا لوگوں نے دیکھا تو وہ ایک چرواہا تھا اور نماز کا وقت آجانے پر اس نے اذان دی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ مِنْ النَّارِ انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مُعْزِبًا وَإِمَّا مُكَلِّبًا فَنَظَرُوهُ فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২২
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ لَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২৩
حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی مرویات
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص (رض) نے لشکریوں سے فرمایا کہ یہ عذاب نازل ہوگیا ہے اس سے بچنے کے لئے گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ حضرت معاذ (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ان کی بات کی تصدیق نہیں کی اور فرمایا کہ بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت اور تمہارے نبی کریم ﷺ کی دعاء ہے اے اللہ ! معاذ اور اس کی اہل خانہ کو اپنی رحمت کا حصہ عطاء فرما۔ ابو قلابہ (رح) کہتے ہیں کہ مجھے شہادت اور رحمت کا مطلب تو سمجھ آگیا لیکن یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ نبی کریم ﷺ کی دعاء سے کیا مراد ہے ؟ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ رات کے وقت نماز پڑھ رہے تھے دعاء کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا " پھر بخار یا طاعون " تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا صبح ہوئی تو اہل خانہ میں سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے رات کو آپ سے یہ دعاء کرتے ہوئے سنا تھا ؟ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا واقعی تم نے وہ دعاء سنی تھی ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کی وجہ سے ہلاک نہ کرے چناچہ پروردگار نے میری یہ دعاء قبول کرلی، پھر میں نے درخواست کی تھی کہ ان پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کا خون ارزاں کر دے چناچہ پروردگار نے میری یہ دعاء بھی قبول کرلی پھر میں نے درخواست کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کیا جائے کہ یہ ایک دوسرے کا مزہ چکھتے رہیں لیکن اس نے یہ درخواست قبول نہیں کی، اس پر میں نے کہا کہ پھر بخار یا طاعون تین مرتبہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنَّ هَذَا الرِّجْزَ قَدْ وَقَعَ فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ فَقَالَ بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ قَالَ وَسَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَأَبَى عَلَيَّ أَوْ قَالَ فَمَنَعَنِيهَا فَقُلْتُ حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
তাহকীক: