আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০ টি
হাদীস নং: ২২০০৯
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ لَمْ يُحَرِّمْهُمَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১০
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ فلاں آدمی کا ایک درخت میرے باغ میں ہے اسے کہہ دیجئے کہ یا تو وہ درخت مجھے بیچ دے یا ہبہ کر دے لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا نبی کریم ﷺ نے اس سے یہاں تک فرمایا کہ تم ایسا کرلو اس کے بدلے تمہیں جنت میں ایک درخت ملے گا لیکن وہ پھر بھی نہ مانا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بخیل انسان ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً فِي حَائِطِي فَمُرْهُ فَلْيَبِعْنِيهَا أَوْ لِيَهَبْهَا لِي قَالَ فَأَبَى الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلْ وَلَكَ بِهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَأَبَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَبْخَلُ النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১১
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم ﷺ تھے اور میں نے غور کیا تو نبی کریم ﷺ کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَمِّهَا قَالَ إِنِّي لَبِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ عَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبُهَا قَالَ فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بِمِخْصَرَةٍ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنَّهُ أَبْقَى وَأَنْقَى فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১২
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم ﷺ تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ خوبصورت چادر ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگرچہ خوبصورت ہو کیا تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ نہیں ہے ؟ اور میں نے غور کیا تو نبی کریم ﷺ کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قُرْمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَمَّتِهِ رُهْمٍ عَنْ عَمِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ بُرْدَةً مَلْحَاءَ أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৩
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک اسلمی صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا بِلَالُ أَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৪
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں وضو کیا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَفِظْتُ لَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৫
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی (رض) آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کی ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ ، بہرحال ! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا سِتَّ سِنِينَ عَلَيْنَا جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَامَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ أَتَيْنَا رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ النَّاسِ فَشَدَّدْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فَقَالَ أَنْذَرْتُكُمْ الْمَسِيحَ وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ الْيُسْرَى يَسِيرُ مَعَهُ جِبَالُ الْخُبْزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ لَا يَأْتِي أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ الْكَعْبَةَ وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَالطُّورَ وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَحْسِبُهُ قَدْ قَالَ يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৬
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم ﷺ نے اس کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنْ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৭
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اچانک گدھا بدک گیا میرے منہ سے نکل گیا کہ شیطان برباد ہو، نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ نہ کہو کیونکہ جب تم یہ جملہ کہتے ہو تو شیطان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی طاقت سے پچھاڑا ہے اور جب تم " بسم اللہ " کہو گے تو وہ اپنی نظروں میں اتنا حقیر ہوجائے گا کہ مکھی سے بھی چھوٹا ہوجائے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَهُ فَعَثَرَتْ بِهِ دَابَّتُهُ فَقَالَ تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّهُ يَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْجَبَلِ وَيَقُولُ بِقُوَّتِي صَرَعْتُهُ وَإِذَا قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৮
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک انصاری صحابی (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کر رہے ہیں بخدا ! نبی کریم ﷺ اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی کریم ﷺ پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا ؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کر رہے تھے حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار قرار دے دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں جواب ضرور دیتے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً فَجَلَسْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قَامَ بِكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ قَالَ أَتَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০১৯
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২০
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک جہنی صحابی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ نماز عشاء کب پڑھا کروں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب رات ہر وادی پر چھا جائے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ قَالَ إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২১
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر اسے پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبُونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبَحْرِ لِلصَّيْدِ فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّفَرِ فَتُدْرِكُهُمْ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَاءِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَقَالَ لَهُمْ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২২
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ابوالعالیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تیس صحابہ کرام (رض) جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ جن نمازوں میں جہری قرأت فرماتے ہیں وہ تو ہمیں معلوم ہیں اور جن میں جہری قرأت نہیں فرماتے تھے انہیں جہری نمازوں پر قیاس نہیں کرسکتے لہٰذا کسی ایک رائے پر متفق ہوجاؤ تو ان میں سے دو آدمی بھی ایسے نہیں تھے جنہوں نے اس بات میں اختلاف کیا ہو کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر تلاوت فرمایا کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف مقدار کے برابر جبکہ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کی قرأت سے نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ وَمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بِمَا يَجْهَرُ بِهِ قَالَ فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৩
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
غالباً حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے اجروثواب میں کہیں زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا کہ ان کی تکالیف پر صبر کرنے کی نوبت آئے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَظُنُّهُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৪
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
بنوسلیم کے ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " سبحان اللہ " نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ جُرَيٍّ قَالَ الْتَقَى رَجُلَانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৫
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
نبی کریم ﷺ کے ایک آزاد کردہ غلام صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں ؟ اور میزان عمل میں کتنی بھاری ہیں ؟ لا الہ اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمدللہ اور وہ نیک اولاد جو فوت ہوجائے اور اس کا باپ اس پر صبر کرے اور فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں ؟ جو شخص ان پانچ، چیزوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ پر ایمان رکھتا ہو، آخرت کے دن پر، جنت اور جہنم پر، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ قَالَ رَجُلٌ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبُهُ وَالِدُهُ خَمْسٌ مَنْ اتَّقَى اللَّهَ بِهِنَّ مُسْتَيْقِنًا دَخَلَ الْجَنَّةَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَيْقَنَ بِالْمَوْتِ وَالْبَعْثِ وَالْحِسَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৬
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے وہ حضرت عمر (رض) کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے تو پھر انسان کے پاس کیا ہو ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور آخرت کے کاموں میں تعاون کرنے والی بیوی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي سَلْمٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ فَحَدَّثَنِي صَاحِبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَاذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৭
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
نبی کریم ﷺ کی زیارت کرنے والے ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২৮
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
متعدد صحابہ کرام (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فقراء مومنین جنت میں مالداروں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے حتیٰ کہ مالدار مسلمان کہیں گے کاش ! میں دنیا میں تنگدست رہتا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمیں ان کا نام بتا دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب پریشان کن حالات آئیں تو انہیں بھیج دیا جائے، اگر مال غنیمت آئے تو دوسروں کو بھیجا جائے اور انہیں، چھوڑ دیا جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے دروازوں سے دور رکھا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِ مِائَةِ عَامٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَقَالَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ مِائَةِ عَامٍ قَالَ حَتَّى يَقُولَ الْغَنِيُّ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ هُمْ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ بُعِثُوا لَهُ وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بُعِثَ إِلَيْهِ سِوَاهُمْ وَهُمْ الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَنْ الْأَبْوَابِ
তাহকীক: