আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ام سلمہ کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬০ টি

হাদীস নং: ২৫৩৫০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد میرے پاس آئے تو دو رکعتیں پڑھیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا قَالَ قَدِمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ فَحَبَسُونِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
مطلب بن عبداللہ مخزومی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا بیٹا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے ؟ میں نے عرض کیا اماں جان کیوں نہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنی دو بیٹیوں یا بہنوں یا قریبی رشتہ دار عورتوں پر ثواب کی نیت سے اس وقت تک خرچ کرتا رہے کہ فضل الٰہی سے وہ دونوں بےنیاز ہوجائیں یا وہ ان کی کفایت کرتا رہے تو وہ دونوں اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ أَبُو تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا أُمَّهْ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ عَلَى ابْنَتَيْنِ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ذَوَاتَيْ قَرَابَةٍ يَحْتَسِبُ النَّفَقَةَ عَلَيْهِمَا حَتَّى يُغْنِيَهُمَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ يَكْفِيَهُمَا كَانَتَا لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ماہ شعبان و رمضان کے روزے رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سورت ہود کی یہ آیت اس طرح پڑھی (آگے آیت ہے) ۔ انہ عمل غیر صالح۔ الخ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا فرماتے تھے کہ اے دلوں کو ثابت قدم رکھنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز فجر کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں ( تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَلَمْ تَخْتَمِرْ فَقَالَ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے کہ سامنے سے عبداللہ بن عمر گزرنے لگے نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے، پھر حضرت ام سلمہ کی بیٹی گزرنے لگی تو نبی ﷺ نے اسے بھی روکا لیکن وہ آگے سے گزرگئی، نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے فرمایا عورتیں غالب آجاتی ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا قَالَ فَرَجَعَ قَالَ فَمَرَّتْ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا قَالَ فَمَضَتْ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُنَّ أَغْلَبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৫৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت عائشہ یا ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا میرے گھر میں ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے میرے پاس کبھی نہیں آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا حسین شہید ہوجائے گا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، پھر اس نے سرخ رنگ کی مٹی نکال کر دکھائی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاهُمَا لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے بھی وہی کیفیت پیش آرہی ہے جو دوسری عورتوں کو پیش آتی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ وہی چیز ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی تمام بیٹیوں کے لئے لکھ دی گئی ہے پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آکر نبی ﷺ کے لحاف میں گھس گئی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ قَالَتْ فَانْسَلَلْتُ فَقَالَ أَنُفِسْتِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ قَالَ ذَاكَ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ (رض) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی ﷺ کی نماز اور قرأت کہاں ؟ نبی ﷺ جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی ﷺ کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ فَقَالَتْ مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حسن بن محمد کہتے ہیں کہ مجھے انصار کی ایک عورت نے بتایا ہے وہ اب بھی زندہ ہیں اگر تم چاہو تو ان سے پوچھ سکتے ہو اور میں تمہیں ان کے پاس لے چلتاہوں راوی نے کہا نہیں آپ خود ہی بیان کردیجئے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس گئی تو اسی دوران نبی ﷺ بھی ان کے یہاں تشریف لے آئے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ نبی ﷺ غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین سے پردہ کرلیا، نبی ﷺ نے کوئی بات کی جو مجھے سمجھ نہ آئی میں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے کہا کہ ام المؤمنین میں دیکھ رہی ہوں کہ نبی ﷺ غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں کیا تم نے ان کی بات سنی ہے میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا فرمایا ہے انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے جب زمین میں شرپھیل جائے گا تو اسے روکانہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئے گی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ هِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا قُلْتُ لَا حَدِّثْنِي قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ بِكُمِّ دِرْعِي فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَتْ نَعَمْ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ قُلْتُ وَمَا قَالَ قَالَتْ قَالَ إِنَّ الشَّرَّ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ فَلَمْ يُتَنَاهَ عَنْهُ أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ قَالَتْ قَالَ نَعَمْ وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ثُمَّ يَقْبِضُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرِضْوَانِهِ أَوْ إِلَى رِضْوَانِهِ وَمَغْفِرَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا لَكُمْ الْخَمْسَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی ولی یہاں موجود نہیں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا، انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی ﷺ سے میرا نکاح کرا دو چناچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی ﷺ کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی ﷺ جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی ﷺ کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی ﷺ یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی ﷺ کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی ﷺ نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ فَقَالَتْ يَا عُمَرُ زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أَخَوَاتِكِ رَحْيَيْنِ وَجَرَّةً وَمِرْفَقَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا فَإِذَا رَأَتْهُ أَخَذَتْ زَيْنَبَ ابْنَتَهَا فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا فَيَنْصَرِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمَ ذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ أَخَاهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ فَأَتَاهَا وَقَالَ أَيْنَ هَذِهِ الْمَشْقُوحَةُ الْمَقْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ فَقَالَ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ فَقَالَتْ جَاءَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا فَدَخَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر جس رات نبی ﷺ نے میرے پاس آنا تھا وہ یوم النحر (دس ذی الحجہ) کی رات تھی، چناچہ نبی ﷺ میرے پاس آگئے، اسی دوران میرے یہاں وہب بن زمعہ بھی آگئے جن کے ساتھ آل ابی امیہ کا ایک اور آدمی بھی تھا اور ان دونوں نے قمیصیں پہن رکھی تھیں، نبی ﷺ نے وہب سے پوچھا کہ اے ابو عبداللہ کیا تم نے طواف زیارت کرلیا ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ابھی تو نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر اپنی قمیص اتاردو، چناچہ ان دونوں نے اپنے سر سے کھینچ کر قمیص اتادری، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کر چکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو۔ ام قیس کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عکاشہ بنواسد کے کچھ لوگوں کے ہمراہ میرے یہاں سے نکلے انہوں نے دس ذی الحجہ کی شام کو قمیصیں پہن رکھی تھیں، پھر رات کو وہ میرے پاس واپس آئے تو انہوں نے اپنی قمیص اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں، میں نے عکاشہ سے پوچھا کہ اے عکاشہ جب تم یہاں سے گئے تھے تو قمیصیں پہن رکھی تھیں اور جب واپس آئے تو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس دن ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کر چکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو ہم نے چونکہ طواف نہیں کیا تھا اس لئے تم ہماری قمیصیں اس طرح دیکھ رہی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ قَالَتْ فَصَارَ إِلَيَّ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ قَالَ فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالُوا وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنْ النِّسَاءِ إِذَا أَنْتُمْ أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ عُدْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ ابْنَةُ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ قَالَتْ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا قَالَتْ فَقُلْتُ أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا فَقَالَ أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَيْسٍ كَانَ هَذَا يَوْمًا قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ صِرْنَا حُرُمًا كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ حَتَّى نَطُوفَ بِهِ وَلَمْ نَطُفْ فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنالٹکائیں نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک گزلٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولُ النِّسَاءِ شِبْرٌ قُلْتُ إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذِرَاعٌ لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
ابوقیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کیا نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے ؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان سے کہنا کہ حضرت عائشہ تو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے ؟ چناچہ ابوقیس نے یہ سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا ابوقیس نے حضرت عائشہ کا حوالہ دیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں بوسہ دیا ہو کیونکہ نبی ﷺ ان سے بہت جذباتی محبت فرمایا کرتے تھے البتہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ فَإِنْ قَالَتْ لَا فَقُلْ لَهَا إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ فَسَأَلَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ لَا قُلْتُ إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ لَعَلَّهُ إِيَّاهَا كَانَ لَا يَتَمَالَكُ عَنْهَا حُبًّا أَمَّا إِيَّايَ فَلَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ بَعَثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی ﷺ کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مَخْضُوبٌ أَحْمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৩৬৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا ہماری بیٹھک کو خوب صاف ستھرا کرلو کیونکہ آج زمین پر ایک ایسا فرشتہ اترنے والا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں اترا۔
حَدَّثَنَا سَيَّارٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَبِيبٍ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ الْمَدِينَةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْلِحِي لَنَا الْمَجْلِسَ فَإِنَّهُ يَنْزِلُ مَلَكٌ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ إِلَيْهَا قَطُّ
tahqiq

তাহকীক: