আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابودرداء کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭২ টি

হাদীস নং: ২৬২৭০
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو ؟ صحابہ کرام پر بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی ؟ ہم بہت کمزور اور عاجز ہیں، نبی نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تین حصے کئے ہیں اور سورت اخلاص کو ان میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَا أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالُوا نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ وَأَعْجَزُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭১
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی نے پاس بیٹھے آئندہ پیش آنے والے حالات پر مذاکرہ کر رہے تھے کہ نبی نے فرمایا اگر تم یہ بات سنو کہ ایک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے تو اس کی تصدیق کرسکتے ہو لیکن اگر یہ بات سنو کہ کسی آدمی کے اخلاق بدل گئے ہیں تو اس کی تصدیق نہ کرنا کیونکہ وہ پھر اپنی فطرات کی طرف لوٹ جائے گا۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوا وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ وَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭২
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقُلْتُ مَنْ أَغْضَبَكَ قَالَ وَاللَّهِ لَا أَعْرِفُ فِيهِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭৩
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقُلْتُ لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ مَا أَعْرِفُ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الصَّلَاةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭৪
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی نے اپنا روزہ ختم کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نبی کے آزاد غلام حضرت ثوبان سے دمشق کی مسجد میں ملا اور ان سے عرض کیا کہ حضرت ابودردا نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کو قئی آئی تو نبی نے اپنا روزہ ختم کردیا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابودردا نے سچ فرمایا ہے، نبی کے لئے پانی میں نے ہی انڈیلا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭৫
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک آدمی کے پیٹ میں جہاد فی سبیل اللہ کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں فرمائے گا، جس شخص کے قدم راہ اللہ میں غبار آلود ہوجائیں، اللہ اس کے سارے جسم کو آگ پر حرام قرار دے دے گا، جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھ لے، اللہ اس سے جہنم کو ایک ہزار سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے جو ایک تیز رفتار سوار طے کرسکے، جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہدا کی مہر لگ جاتی ہے، اولین و آخرین اسے اس کے ذریعے پہچان کر کہیں گے کہ فلاں آدمی پر شہدا کی مہر اور جو مسلمان آدمی راہ اللہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر قتال کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ بْنَ عُثْمَانَ الْكِلَابِيَّ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ دُرَيْكٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانَ جَهَنَّمَ وَمَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ وَمَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِلِ وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَتَمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ يَعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ يَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭৬
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی اور حضرت عبداللہ بن رواحہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْنَا فِي بَعْضِ أَسْفَارِنَا وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ عُثْمَانُ بْنُ حَيَّانَ وَحْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭৭
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
ثاقب یا ابوثاقب سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما، میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودردا نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ اگر تم یہ دعاء صدقے دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کو قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم و اندازہ ہوگا یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ ثَابِتٍ أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي وَارْحَمْ غُرْبَتِي وَارْزُقْنِي جَلِيسًا حَبِيبًا صَالِحًا فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ الظَّالِمُ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ فَذَلِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭৮
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا ایک دن دمشق میں ایک پودا لگا رہے تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کہ آپ نبی کے صحابی ہو کر یہ کام کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا جلد بازی سے کام نہ لو، میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی پودا لگائے، اسے جو انسان یا اللہ کی کوئی مخلوق کھائے، وہ اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ مَوْلَى بَنِي يَزِيدَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي قَالَ الْأَشْجَعِيُ يَعْنِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي زِيَادٍ دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭৯
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا اے ابودرداء دوسری راتوں کو چھوڑ کر صرف شب جمعہ کو قیام کے لئے اور دوسرے دنوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ کے دن کو روزے کے لئے مخصوص نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ لَا تَخْتَصَّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ دُونَ اللَّيَالِي وَلَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ دُونَ الْأَيَّامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮০
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور زکوٰۃ سے افضل درجے کا عمل نہ بتاؤں ؟ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ نبی نے فرمایا جن لوگوں میں جدائیگی ہوگئی ہو، ان میں صلح کروانا، جبکہ ایسے لوگوں میں پھوٹ اور فساد ڈالنا مونڈنے والی چیز ہے (جو دین کو مونڈ کر رکھ دیتی ہے) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮১
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی آدمی کی کوئی بات سنے اور وہ یہ نہ چاہتا ہو کہ اس بات کو اس کے حوالے سے ذکر کیا جائے تو وہ امانت ہے، اگرچہ وہ سے مخفی رکھنے کے لئے نہ کہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمِعَ مِنْ رَجُلٍ حَدِيثًا لَا يَشْتَهِي أَنْ يُذْكَرَ عَنْهُ فَهُوَ أَمَانَةٌ وَإِنْ لَمْ يَسْتَكْتِمْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮২
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮৩
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
ابو عبد الرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی والدہ اس کے پیچھے پڑی رہتی تھی کہ شادی کرلو، جب اس نے شادی کرلی تب اس کی ماں نے اسے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے (اس نے انکار کردیا) پھر وہ آدمی حضرت ابودردا کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں تمہیں اسے طلاق دینے کا مشورہ دیتا ہوں اور نہ ہی اپنے پاس رکھنے کا، البتہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو ، وہ آدمی چلا گیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ كَانَ فِينَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِهِ أُمُّهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ حَتَّى تَزَوَّجَ ثُمَّ أَمَرَتْهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ بِالشَّامِ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي لَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ ثُمَّ أَمَرَتْنِي أَنْ أُفَارِقَ قَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُفَارِقَ وَمَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُمْسِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوْ احْفَظْهُ قَالَ فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮৪
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسًیب سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی قوم تو اسے کھاتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا، اس پر وہاں موجود ایک آدمی نے کہا کہ میں نے حضرت ابودردا سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبی نے ہر اس جانور سے منع فرمایا ہے جو لوٹ مار سے حاصل ہو، جسے اچک لیا گیا ہو یا ہر وہ درندہ جو اپنے کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو، حضرت سعید بن مسیًب نے اس کی تصدیق فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ قَالَ أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي أَنْ أَسْأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ سِنَانٍ يُحَدِّدُونَهُ وَيُرَكِّزُونَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُصْبِحُ وَقَدْ قَتَلَ الضَّبُعَ أَتُرَاهُ ذَكَاتَهُ قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَإِذَا عِنْدَهُ شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِي وَإِنَّكَ لَتَأْكُلُ الضَّبُعَ قَالَ قُلْتُ مَا أَكَلْتُهَا قَطُّ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي لَيَأْكُلُونَهَا قَالَ فَقَالَ إِنَّ أَكْلَهَا لَا يَحِلُّ قَالَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي خِطْفَةٍ وَعَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ وَعَنْ كُلِّ مُجَثَّمَةٍ وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ قَالَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ صَدَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮৫
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا معدان کو قرآن پڑھاتے تھے، کچھ عرصے تک وہ غائب رہا، ایک دن " دابق " میں وہ انہیں ملا تو انہوں نے پوچھا معدان ! اس قرآن کا کیا بنا جو تمہارے پاس تھا ؟ تم اور قرآن آج کیسے ہو ؟ اس نے کہا اللہ جانتا ہے اور خوب اچھی طرح، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے ؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت ِ نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا تم جماعت ِ مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھڑیا کھا جاتا ہے، ارے معدان ! مدائن شہر کو لازم پکڑو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ قَالَ كَانَ رَجُلٌ بِالشَّامِ يُقَالُ لَهُ مَعْدَانُ كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَفَقَدَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَلَقِيَهُ يَوْمًا وَهُوَ بِدَابِقٍ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَا مَعْدَانُ مَا فَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِي كَانَ مَعَكَ كَيْفَ أَنْتَ وَالْقُرْآنُ الْيَوْمَ قَالَ قَدْ عَلِمَ اللَّهُ مِنْهُ فَأَحْسَنَ قَالَ يَا مَعْدَانُ أَفِي مَدِينَةٍ تَسْكُنُ الْيَوْمَ أَوْ فِي قَرْيَةٍ قَالَ لَا بَلْ فِي قَرْيَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ مَهْلًا وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ خَمْسَةِ أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يُؤَذَّنُ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ وَتُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَوَاتُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ وَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ فَعَلَيْكَ بِالْمَدَائِنِ وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮৬
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے ؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت ِ نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا تم جماعت ِ مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھڑیا کھا جاتا ہے، ارے معدان ! مدائن شہر کو لازم پکڑو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ وَوَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ عَنِ السَّائِبِ قَالَ وَكِيعٌ ابْنِ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قَالَ قُلْتُ فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ فَلَا يُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَوَاتُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ فِي الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮৭
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا کہ تم مقیم ہو کہ ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں یا مسافر ہو کہ تمہیں زاد راہ دیں ؟ اس نے کہا مسافر ہوں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایک ایسی چیز زاد راہ کے طور پر دیتا ہوں جس سے افضل اگر کوئی چیز مجھے ملتی تمہیں وہی دیتا، ایک مرتبہ میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مالدار دنیا اور آخرت دونوں لے گئے، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں البتہ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے، نبی نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم سے پہلے والا کوئی تم سے آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے والا تمہیں نہ پا سکے، الاً یہ کہ کوئی آدمی تمہاری ہی طرح عمل کرنے لگے، ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُمَرَ الصِّينِيَّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ إِذَا كَانَ نَزَلَ بِهِ ضَيْفٌ قَالَ يَقُولُ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ مُقِيمٌ فَنُسْرِجُ أَوْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ قَالَ فَإِنْ قَالَ لَهُ ظَاعِنٌ قَالَ لَهُ مَا أَجِدُ لَكَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ شَيْءٍ أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ يَحُجُّونَ وَلَا نَحُجُّ وَيُجَاهِدُونَ وَلَا نُجَاهِدُ وَكَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ جِئْتُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا يَجِيءُ بِهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ تُكَبِّرُوا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮৮
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص سورت کہف کی آخری دس آیات یاد کرلے وہ دجال کے فتنے سے مخفوظ رہے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالَ حَجَّاجٌ مَنْ قَرَأَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮৯
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اخلاق ہوں گے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ حَدَّثَنَاه يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْكَيْخَارَانِيِّ
tahqiq

তাহকীক: