আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابودرداء کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭২ টি
হাদীস নং: ২৬২৯০
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا، نبی نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے " قریب " جانا چاہتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے، یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯১
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ شَيْخٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَهُ مِنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯২
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو ؟ صحابہ کرام یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی ؟ ہم بہت کمزور اور عاجز ہیں، نبی نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تین حصے کئے ہیں اور سورت اخلاص کو ان میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلَّ يَوْمٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَاكَ وَأَعْجَزُ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَائِهِ و حَدَّثَنَاه عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ أَبِي و قَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯৩
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو، تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ مید ان جنگ میں دشمن سے آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادوں ؟ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون سا عمل ہے ؟ نبی نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا لِدَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا رِقَابَهُمْ وَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯৪
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا تَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُشْرَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ وَبُشْرَاهُمْ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯৫
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا میری امت میں سے جو شخص اس طرح مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، یہ حدیث حضرت ابودردا سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اگرچہ ابودردا کی ناک خاک آلود ہوجائے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مِثْلَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا أَنَّ فِيهِ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯৬
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ كَانَ فِينَا رَجُلٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯৭
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ مروان کا بیٹا عبدالمالک حضرت ام دردا کو اپنے یہاں بلا لیتا تھا، وہ اس کی عورتوں کے یہاں رات گذارتی تھیں اور وہ ان سے نبی کے متعلق پوچھتا رہتا تھا ایک رات وہ بیدار ہوا تو خادمہ کو آواز دی، اس نے آنے میں تاخیر کردی تو وہ سے لعنت ملامت کرنے لگا، حضرت ام دردا نے فرمایا لعنت مت کرو کیونکہ ابودردا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی کو کہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لعنت ملامت کرنے والے قیامت کے دن گواہ بن سکیں گے اور نہ ہی سفارش کرنے والے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ وَيَسْأَلُهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَهُ فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَلَعَنَهَا فَقَالَتْ لَا تَلْعَنْ فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯৮
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی سے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے ؟ نبی نے فرمایا ہاں ! تو ایک انصار نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی پھر حضرت ابودردا میری طرف متوجہ ہوئے کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور فرمایا بھتیجے ! میں سمجھتا ہوں کہ جب امام لوگوں کی امامت کرتا ہے تو وہ ان کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرُ بْنُ كُرَيْبٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَبَتْ هَذِهِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২৯৯
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ نے چاندی کا ایک پیالہ اس کی قیمت سے کم و بیش میں خریدا تو حضرت ابودردا نے فرمایا کہ نبی نے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے الاً یہ کہ برابر سرابر ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ اشْتَرَى سِقَايَةً مِنْ فِضَّةٍ بِأَقَلَّ مِنْ ثَمَنِهَا أَوْ أَكْثَرَ قَالَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০০
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০১
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اسی شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کردے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০২
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
ابو سفر کہتے ہیں کہ قریش کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کا دانت توڑ ڈالا اس نے حضرت معاویہ سے قصاص کی درخواست کی وہ قریشی کہنے لگا کہ اس نے میرا دانت توڑا تھا حضرت معاویہ نے فرمایا ہرگز نہیں ہم اسے راضی کریں گے جب اس انصار نے بڑے اصرار سے اپنی بات دہرائی تو حضرت معاویہ نے فرمایا تم اپنے ساتھی سے اپنا بدلہ لے لو، اس مجلس میں حضرت ابودردا بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صدقہ کی نیت کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس انصار نے پوچھا کہ کیا آپ نے خود نبی سے یہ حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میرے کانوں نے اس حدیث کو سنا ہے اور میرے دل نے اسے مخفوظ کیا ہے، چناچہ اس نے اس قریشی کو معاف کردیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ كَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ الْقُرَشِيُّ إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي قَالَ مُعَاوِيَةُ كَلَّا إِنَّا سَنُرْضِيهِ قَالَ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ مُعَاوِيَةُ شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي يَعْنِي فَعَفَا عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০৩
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام پہنچا اور وہاں حضرت ابودردا سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، غالباً وہ اس پر ہنسے بھی تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى قُلْتُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ فَضَحِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০৪
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس سے قیامت کے دن جہنم کی آگ کو دور کرے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০৫
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی نے اپنا روزہ ختم کردیا، پھر ان کے پاس پانی لایا گیا تو انہوں کے وضو کرلیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفْطَرَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০৬
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام دمشق کی جامع میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے مخفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں ؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ قَدِمَ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا قَالَ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى قَالَ عَلْقَمَةُ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى شَكَّكُونِي ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ وَصَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ وَالَّذِي أُجِيرَ مِنْ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبُ الْوِسَادِ ابْنُ مَسْعُودٍ وَصَاحِبُ السِّرِّ حُذَيْفَةُ وَالَّذِي أُجِيرَ مِنْ الشَّيْطَانِ عَمَّارٌ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّامِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০৭
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ كَانَ قَتَادَةُ يَقُصُّ بِهِ عَلَيْنَا قَالَ ثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ عَنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ ثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০৮
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس سے قیامت کے دن جہنم کی آگ کو دور کرے۔ علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام پہنچا۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَقُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩০৯
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ میں ابوالقاسم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے " بقول راوی میں نے انہیں اس سے قبل یا بعد میں نبی کی کنیت ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا " کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ ! میں تمہارے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں، انہیں اگر کوئی خوشی نصیب ہوگی تو وہ حمد و شکر بجا لائیں گے اور اگر کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آئے گی تو وہ اس پر صبر کریں گے اور ثواب کی نیت کریں گے اور کوئی حلم و علم نہ ہوگا، انہوں نے عرض کیا پروردگار ! یہ کیسے ہوگا جبکہ ان کے پاس کوئی حلم و علم نہ ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں انہیں اپنا حلم و علم عطاء کروں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا سَمِعْتُهُ يُكَنِّيهِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ وَشَكَرُوا وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي
তাহকীক: