আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابودرداء کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭২ টি
হাদীস নং: ২৬৩১০
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابودردا کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہے جب ان کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا بھتیجے ! کیسے آنا ہوا ؟ میں نے عرض کیا محض آپ کے اور میرے والد عبداللہ بن سلام کی دوستی کی وجہ سے، انہوں نے فرمایا زندگی کے اس لمحے میں جھوٹ بولنا بہت بری بات ہوگی، میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں مکمل خشوع کے ساتھ پڑھے پھر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو اللہ اسے ضرور بخش دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ لِي يَا ابْنَ أَخِي مَا أَعْمَدَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ أَوْ مَا جَاءَ بِكَ قَالَ قُلْتُ لَا إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا شَكَّ سَهْلٌ يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخُشُوعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَفَرَ لَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهِمَ فِي اسْمِ الشَّيْخِ فَقَالَ سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ وَإِنَّمَا هُوَ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১১
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت معاذ بن جبل کے حوالے سے مروی ہے کہ جب ان کا آخری وقت قریب آیا تو فرمایا لوگوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، لوگ آئے تو فرمایا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، میں تمہیں یہ بات اپنی موت کے وقت بتارہا ہوں اور اس کے گواہ عویمر حضرت ابودردا کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا میرے بھائی نے سچ کہا اور انہوں نے یہ حدیث تم سے اپنی موت کے وقت ہی بیان کرنا تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ إِذْ حُضِرَ قَالَ أَدْخِلُوا عَلَيَّ النَّاسَ فَأُدْخِلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ وَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا عِنْدَ الْمَوْتِ وَالشَّهِيدُ عَلَى ذَلِكَ عُوَيْمِرٌ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَأَتَوْا أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ صَدَقَ أَخِي وَمَا كَانَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ إِلَّا عِنْدَ مَوْتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১২
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا بنا دیتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبُّكَ الشَّيْءَ يُصِمُّ وَيُعْمِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১৩
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام میں دمشق کی جامع مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں ؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ قَالَ أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ اللَّهُمَّ وَفِّقْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ فَإِذَا هُوَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى فَقُلْتُ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا فَمَا زَالَ بِي هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي ثُمَّ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ وَالسِّوَاكِ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ يَعْنِي عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ وَلَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১৪
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت نعیم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم ! تو دن کے پہلے چار حصے میں چار رکعتیں پڑھنے سے اپنے آپ کو عاجز ظاہر نہ کرو، میں دن کے آخری حصے تک تیری کفایت کروں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ ابْنَ آدَمَ لَا تَعْجِزْ مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১৫
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوقاسم ﷺ نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں میں کبھی نہیں چھوڑوں گا، نبی نے مجھے ہر تین مہینے روزے رکھنے کی، وتر پڑھ کر سونے کی اور سفر وحضر میں چاشت کے نوافل پڑھنے کی وصیت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَنْ وَتْرٍ وَسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১৬
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ قَالَ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَاحْفَظْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوْ دَعْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১৭
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جسے نرمی کا حصہ مل گیا، اسے خیر کا حصہ مل گیا اور قیامت کے دن میزان عمل میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَبْلُغُ بِهِ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ الرِّفْقِ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ الْخَيْرِ وَلَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنْ الْخُلُقِ الْحَسَنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১৮
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے شام دمشق کی جامع مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں وما خلق بھی پڑھوں لیکن میں ان کی بات نہیں مانوں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَدِمْنَا إِلَى الشَّامِ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ فَقَالَ أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ فَأَشَارُوا إِلَيَّ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا فَقَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩১৯
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اچھے اخلاق ہوں گے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩২০
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ بُشْرَاهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَبُشْرَاهُ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৩২১
حضرت ابودرداء کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابودرداء کی حدیثیں
حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السُّلْطَانِ فَقَالَ مَا أَتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَكُلْهُ وَتَمَوَّلْهُ قَالَ و قَالَ الْحَسَنُ لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ يُشْرِفْ لَهَا
তাহকীক: